آج کا دن
اسپیشل فیچر
ہیٹی کا تباہ کن زلزلہ
12 جنوری 2010ء کو ہیٹی میں ایک ہولناک زلزلہ آیا جس کی شدت 7ریکارڈ کی گئی۔ یہ زلزلہ ملک کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے گردونواح میں آیا اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنا۔تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے۔ سکولوں اورہسپتالوں سمیت سیکڑوں عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔ہیٹی جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی مشکلات کا شکار تھا، اس سانحہ کے بعد مزید بحرانوں میں گھر گیا۔یہ زلزلہ دنیا کی تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔
استنبول دھماکہ
2016ء میں ترکی کے شہر استنبول میں تاریخی نیلی مسجد کے قریب ایک خوفناک بم دھماکہ ہوا۔ اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق، 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔ دھماکہ ایک مصروف سیاحتی علاقے میں ہوا جہاں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح موجود تھے۔اس حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور ترکی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
پاکستان :مردم شماری
پاکستان کی دوسری مردم شماری 12 جنوری سے یکم فروری 1961ء تک ہوئی تھی۔ جس کے مطابق پورے ملک کی کل آبادی 9 کروڑ ، 28 لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ اس میں سے موجودہ پاکستان کی آبادی 4 کروڑ، 28 لاکھ، 80 ہزار افراد پر مشتمل تھی جبکہ پانچ کروڑ کی آبادی مشرقی پاکستان کی تھی جہاں شرح خواندگی 21.5 فیصد اور مغربی پاکستان میں 17 فیصد تھی۔
انسانی کلوننگ پر پابندی
یورپی ممالک نے 12 جنوری 1998ء کو انسانی کلوننگ پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد انسانی زندگی کے وقار اور اخلاقی اصولوں کی حفاظت کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انسانی جنین کی کلوننگ کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ڈولی نامی بھیڑ کی کامیاب کلوننگ (1996ء) کے بعد انسانی کلوننگ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔
خلائی مشن کی روانگی
1997ء میں آج کے روز ناسا کا خلائی شٹل مشن ''ایس ٹی ایس81‘‘ لانچ کیا گیا۔ یہ مشن ناسا اور روسی خلائی ایجنسی کے درمیان تعاون کی علامت تھا، جس نے بعد میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے قیام کی بنیاد رکھی۔اس مشن کے دوران ''شٹل‘‘ اور ''میر‘‘ کے درمیان تقریباً 3ہزار کلوگرام سامان کا تبادلہ کیا گیا۔یہ مشن 10 دن، 4 گھنٹے، 56 منٹ کے دوارنئے پر محیط تھا۔ مشن میں 5 خلاباز شامل تھے۔
مِنی پِٹ حادثہ
مِنی پِٹ حادثہ ایک کوئلہ کی کان کا المناک سانحہ تھا جو 12 جنوری 1918ء کو ہالمر اینڈ، اسٹافورڈشائر میں پیش آیا۔ اس حادثے میں 155 کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ فائرڈیمپ کے باعث ہونے والے دھماکے کی وجہ سے رونما ہوا اور اسے نارتھ اسٹافورڈشائر کوئلہ فیلڈ کی تاریخ کا بدترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔تحقیقات کے باوجود یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آتش گیر گیسوں کو بھڑکانے کا اصل سبب کیا تھا۔