رمضان کے مشروب وپکوان

رمضان کے مشروب وپکوان

اسپیشل فیچر

تحریر :


پنجابی چھولے مسالہ
اجزا
:2کھانے کے چمچ گھی،3 لونگ،2 سبز الائچی،2 کالی الائچی،2 تیز پات، چائے کا چمچ زیرہ،2 سرخ پیاز،5 لہسن کے جوئے باریک کٹے ہوئے ،ادرک کا ایک انگوٹھے کے سائز کا ٹکڑا کدوکش کیا ہوا،3 ٹماٹر کٹے ہوئے،1 کھانے کا چمچ گرم مسالہ،1 کھانے کا چمچ دھنیا پاؤڈر،2 چائے کے چمچ لال مرچ پاؤڈر،1 چائے کا چمچ امچور،آدھا چائے کا چمچ ہلدی پاؤڈر،400 گرام چنے،1 مٹھی بھر تازہ دھنیا،آدھا لیموں۔
ترکیب:ایک بڑے ساس پین میں گھی گرم کریں، پھر اس میں لونگ، سبز اور کالی الائچی، اور تیز پات ڈال کر 2 منٹ تک بھونیں، یہاں تک کہ خوشبو آنے لگے۔ زیرہ اور پیاز ڈال کر 15 منٹ تک پکائیں، یہاں تک کہ پیاز کا رنگ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے اور سنہری بھورا ہو جائے۔پیاز کو پین کے ایک طرف کریں، پھر لہسن اور ادرک ڈال کر 4 منٹ تک بھونیں یہاں تک کہ لہسن کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہو جائے۔ ٹماٹر اور 1 کپ پانی ڈال کر مکس کریں، ڈھکن سے ڈھانپیں، پھر ہلکی آنچ پر 15 منٹ تک پکائیں۔ ٹماٹروں کو ٹوٹ کر ایک سوس بن جانا چاہیے ۔ پسے ہوئے مصالحہ جات ڈال کر اچھی طرح مکس کریں۔ آدھے چنے ڈالیں، ساتھ ہی تقریباً آدھا کپ پانی ڈالیں۔ 10 منٹ تک پکائیں یہاں تک کہ چنے نرم ہو جائیں، پھر لکڑی کے چمچ کے پچھلے حصے سے انہیں کچل لیں۔ یہ سوس کو گاڑھا کرنے اور ساخت دینے میں مدد کرے گا۔ باقی چنے ڈالیں اور مزید 10 منٹ تک ڈھکن کھول کر پکائیں تاکہ اضافی نمی بخارات بن کر اڑ جائے۔آخر میں، دھنیا کی فراخ دلی سے چھڑکیں اور لیموں نچوڑیں۔
لیچی لیمونیڈ
اجزا: لیچی (کٹی ہوئی) 1 کپ،کالا نمک آدھا چائے کا چمچ،سوڈا واٹر 2 کپ،لیموں کا رس 1 ٹیبل سپون،آئس کیوب حسب ضرورت۔
ترکیب: بلینڈر میں لیچی، چینی، کالا نمک، سوڈا واٹر، لیموں کا رس ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کریں۔ایک گلاس میں برف کے کیوبز، لیچی لیمونیڈ اور کٹی ہوئی لیچی ڈالیں۔ آپ کا لیچی لیمونیڈ تیار ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

 چولستان کے صحرا میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلکپنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع چولستان کے وسیع و عریض صحرا میں قلعہ دراوڑ اپنی شان و شوکت کے باعث صدیوں سے سیاحوں اور مؤرخین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس عظیم الشان قلعے کے قریب واقع مسجد جسے عام طور پر عباسی مسجد یا قلعہ دراوڑ کی شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورت مغل طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث خطے کی نمایاں مذہبی و ثقافتی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔قلعہ دراوڑ اگرچہ دسویں صدی میں تعمیر ہوا اور وقتاً فوقتاً اس کی ازسرِ نو تعمیر ہوتی رہی تاہم عباسی مسجد نسبتاً بعد کی تعمیر ہے۔ اس کی بنیاد 1835ء میں ریاست بہاولپور کے حکمران نواب بہاول خان سوم نے رکھی۔ بعض تاریخی حوالوں میں اس کی تعمیر 1849ء بتائی جاتی ہے، مگر عمومی طور پر 1835ء کو ہی اس کا سنِ تعمیر مانا جاتا ہے۔نواب بہاول خان سوم ریاست بہاولپور کے پانچویں حکمران تھے اور ان کا تعلق عباسی خاندان سے تھا، جس نے بہاولپور کو مضبوط اور خوشحال ریاست کے طور پر قائم رکھا۔ برطانوی دور کے سرکاری گزٹ میں ان کی شخصیت کو خاصی تعریف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انہیں سخی بہاول خان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی سخاوت اور رعایا پروری کی وجہ سے مشہور تھے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات بھی تاریخ میں درج ہیں خصوصاً ملتان کی مہم کے دوران انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔مغل طرزِ تعمیر کی جھلکعباسی مسجد کو عموماً دہلی کی معروف جامع مسجد کی طرز پر تعمیر شدہ مسجد قرار دیا جاتا ہے۔ دہلی کی یہ عظیم مسجد سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ انیسویں صدی تک مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور اس کا اقتدار عملاً محدود ہو گیا تھا تاہم مغل طرزِ تعمیر اب بھی اقتدار، وقار اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے برصغیر کی مختلف ریاستوں کے حکمران اپنی عمارتوں میں مغل طرز کو اپنانا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ عباسی مسجد کی تعمیر بھی اسی روایت کا تسلسل ہے۔ یہ مسجد ایک وسیع صحن کے سامنے پانچ محرابی دروازوں والی سیدھی قطار میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس طرزِ تعمیر کی مثالیں دہلی کے قدیم دورِ لودھی کی مساجد میں بھی ملتی ہیں۔ مسجد کے دونوں اطراف پر بلند و بالا مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو عمارت کو مزید شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔یہ مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں جو لاہور کی مسجد وزیر خان میں پہلی مرتبہ نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں یہی طرز برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں عام ہو گیا۔گنبد اور ساختمسجد کے تین بڑے گنبد اونچی بنیاد پر قائم ہیں اور دور سے دیکھنے پر نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ مغل دور کی بعض ابتدائی مساجد میں گنبدوں کو عمارت کے اگلے حصے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی جیسا کہ فتح پور سیکری کی بعض مساجد میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن عباسی مسجد میں گنبدوں کو نمایاں انداز میں بلند رکھا گیا ہے تاکہ وہ آسمان کی طرف ابھرتے ہوئے دکھائی دیں۔داخلی دروازے اور خطاطیاس مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت اس کے نسبتاً چھوٹے دروازے ہیں۔ عمارت کے سامنے والے بڑے اور بلند حصے کے مقابلے میں یہ دروازے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو اس دور کی کچھ دیگر مساجد میں بھی نظر آتا ہے مگر دراوڑ مسجد میں یہ تناسب خاصا منفرد ہے۔معماروں نے اگلے حصے کی خالی جگہ کو خوبصورت محرابی طاقچوں اور خطاطی کے پینلوں سے بھر دیا ہے۔ مرکزی دروازہ خاص طور پر نہایت نفیس انداز میں بنایا گیا ہے جس میں دو تہہ دار محرابیں ہیں۔ ان محرابوں کے گرد قرآن مجید کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ خوبصورت خطاطی میں کندہ کیے گئے ہیں۔چھت کے کناروں پر شعلہ نما محرابی کنگرے بنائے گئے ہیں۔مغربی دیوار کا منفرد جھروکہمسجد کی مغربی دیوار میں ایک منفرد جھروکہ نما کھڑکی بھی موجود ہے جو محراب کے مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔ برصغیر کی اکثر مساجد میں مغربی دیوار سادہ رکھی جاتی ہے کیونکہ یہ قبلہ کی سمت ہوتی ہے اور عام طور پر وہاں سے آمد و رفت نہیں ہوتی مگر عباسی مسجد کے معماروں نے اس حصے کو بھی آرائشی انداز دیا۔ماہرینِ تعمیرات کے مطابق اس جھروکے کا مقصد شاید یہ تھا کہ جب نواب قلعے سے نماز کے لیے مسجد آتے تو امام یہاں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کر سکتے تھے۔ چونکہ مسجد قلعہ دراوڑ کے مشرق میں واقع ہے اس لیے مغربی دیوار قلعے کی سمت پڑتی ہے اور اس پر آرائش کرنا ضروری سمجھا گیا۔صحرا میں عظیم مسجد کی تعمیرچولستان کے سنسان صحرا کے کنارے اتنی خوبصورت اور بڑی مسجد کی تعمیر بظاہر حیران کن معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس کی وجہ اس علاقے میں عباسی خاندان کی موجودگی تھی۔ قلعہ دراوڑ کے قریب عباسی حکمرانوں کے مقبرے بھی موجود ہیں جو اس جگہ کی سیاسی اور روحانی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نواب بہاول خان اور ان کا خاندان قلعے کے اندر ایک وسیع رہائش گاہ بھی رکھتے تھے۔وقت گزرنے کے باوجود عباسی مسجد آج بھی کافی اچھی حالت میں ہے۔ قلعہ دراوڑ کی کہنہ سال فصیلیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہیں مگر مسجد کی عمارت نسبتاً محفوظ اور مضبوط نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسے بعد کے دور میں تعمیر کیا گیا اور اس کی دیکھ بھال بھی نسبتاً بہتر رہی۔یہ مسجد نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہے بلکہ برصغیر کی اسلامی فنِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔ اس کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ بہاولپور کے نواب خود کو مغل سلطنت کی تہذیبی و سیاسی روایت کا وارث سمجھتے تھے اور اسی طرزِ تعمیر کو اپناتے ہوئے اپنی حکمرانی کی شان و شوکت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔یوں چولستان کے خاموش صحرا میں عباسی مسجد تاریخ، فنِ تعمیر اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ آج بھی جب سیاح قلعہ دراوڑ کی فصیلوں کے سائے میں اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو انہیں ماضی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جب ریاست بہاولپور اپنی شان و شوکت کے عروج پر تھی اور اس کے حکمران فن و ثقافت کے سرپرست سمجھے جاتے تھے۔

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

سوشل میڈیا کے دعوئوں اور سائنسی حقائق کا جائزہحالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختلف غذاؤں کو ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ انہی میں ایک نئی غذا کالے تل بھی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سفید تل کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں، بلڈ پریشر کم کرتے ہیں، دل کی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور حتیٰ کہ سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سائنس ان دعوؤں کی تائید کرتی ہے؟ کالے تل کیا ہیں؟تل ایک قدیم غذائی جزو ہے جو صدیوں سے ایشیائی کھانوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سفید اور کالے رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ ذائقے کے اعتبار سے کالے تل ہلکی سی خوشبودار اور مغزی ذائقہ رکھتے ہیں اور انہیں میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ غذائیت کے لحاظ سے تل ایک توانائی سے بھرپور غذا ہے۔ ان میں تقریباً 50 سے 64 فیصد تک چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان سے تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور مختلف وٹامنز اور معدنیات کا بھی اچھا ذریعہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض غذائی اجزاکالے تل میں سفید تل کے مقابلے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں چکنائی، پروٹین اور کئی معدنیات کی مقدار قدرے زیادہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے انہیں بعض لوگ زیادہ صحت بخش سمجھتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس اور صحتانسانی جسم میں روزمرہ کے عمل جیسے سانس لینے، حرکت کرنے اور سورج کی شعاعوں کے اثر سے فری ریڈیکلز بنتے ہیں۔ یہ نقصان دہ مرکبات خلیوں، پروٹین اور ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تل میں ایسے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جنہیں اینٹی آکسیڈنٹس کہا جاتا ہے۔ یہ مرکبات فری ریڈیکلز کو بے اثر کرکے جسم کو ممکنہ نقصان سے بچاتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کالے تل میں فینولز اور لِگنین نامی اینٹی آکسیڈنٹس سفید تل کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک اہم مرکب سیسامِن (Sesamin) بھی تل میں پایا جاتا ہے۔ لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں اور یہ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق ان تجربات کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کچھ سائنسی مطالعات میں تل کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک جائزے میں چھ مختلف مطالعات کے 465 افراد کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ تل کے استعمال سے جسمانی وزن کے اشاریے (BMI)، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مطالعات میں کئی کمزوریاں موجود تھیں، اس لیے سائنسدانوں نے ان نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا اور مزید مضبوط تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک چھوٹی تحقیق میں کالے تل کے کیپسول چار ہفتے تک استعمال کرنے سے ہلکے بلند بلڈ پریشر والے افراد میں سسٹولک بلڈ پریشر میں کچھ کمی دیکھی گئی مگر یہ نتیجہ بھی محدود پیمانے پر حاصل ہوا۔ کیا کالے تل سفید بال سیاہ کر سکتے ہیں؟سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مشہور دعویٰ یہی ہے کہ کالے تل سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بنا سکتے ہیں لیکن موجودہ سائنسی تحقیق اس بات کی تائید نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق اب تک ایسی کوئی معتبر تحقیق سامنے نہیں آئی جس میں ثابت ہو کہ کسی خاص غذا یا سپلیمنٹ سے سفید بال دوبارہ سیاہ ہو سکتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق کالے تل ایک غذائیت سے بھرپور غذا ضرور ہیں تاہم انہیں کسی جادوئی دوا یا ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم عموماً تل بہت کم مقدار میں کھاتے ہیں مثلاً سالن، روٹی یا میٹھے پر چھڑک کر،اس لیے کالے اور سفید تل کے درمیان فرق سے صحت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔ اصل اہمیت متوازن اور متنوع غذا کی ہے جس میں مختلف غذائی اجزا شامل ہوں۔ اگر آپ کو کالے تل کا ذائقہ پسند ہے تو انہیں اپنی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن سفید بالوں کو سیاہ کرنے یا بیماریوں کے مکمل علاج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

تبت میں بغاوت 10 مارچ 1959ء کوتبت میں بغاوت کا آغاز ہوا جو تبت کی جدید تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن واقعہ تھا۔بغاوت اس وقت شروع ہوئی جب افواہ پھیلی کہ چینی حکام تبت کے روحانی پیشوا کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔چینی افواج نے بغاوت کو سختی سے کچلنے کے لیے فوجی کارروائی کی۔ اس صورتحال کے بعد دلائی لامہ کو خفیہ طور پر تبت سے نکل کر بھارت میں پناہ لینا پڑی جہاں انہوں نے جلاوطن حکومت قائم کی۔ پہلی ٹیلی فون کال 10 مارچ 1876ء کو سائنس اور مواصلات کی تاریخ میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا جب الیگزینڈر گراہم بیل نے دنیا کی پہلی کامیاب ٹیلی فون کال کی۔ یہ تجربہ امریکی شہر بوسٹن میں کیا گیا تھا۔بیل نے اسی سال ٹیلی فون کا پیٹنٹ حاصل کیا جس کے بعد مواصلات کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا۔ اس ایجاد نے کاروبار، حکومت اور ذاتی روابط کے طریقوں کو مکمل طور پر بدل دیا۔ ٹوکیو فضائی حملہدوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں 10 مارچ 1945ء کوجاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پر بمباری کا خوفناک واقعہ پیش آیا۔ اس حملے کو جنگ کی تاریخ کے سب سے تباہ کن فضائی حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس زمانے میں ٹوکیو کے بیشتر مکانات لکڑی کے بنے ہوئے تھے اس لیے چند گھنٹوں میں ہی شہر کا بڑا حصہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس حملے میں تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور شہر کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ یورینس، حلقوں کی دریافت 10 مارچ 1977ء کو فلکیات میں ایک اہم دریافت ہوئی جب سائنسدانوں نے سیارے یورینس کے گرد حلقوں کی موجودگی دریافت کی۔ یہ دریافت اس وقت ہوئی جب سائنسدان ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے یورینس کے گزرنے کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ جب سیارہ ستارے کے سامنے آیا تو روشنی میں اچانک کئی بار کمی دیکھی گئی جس سے اندازہ ہوا کہ سیارے کے گرد باریک حلقے موجود ہیں۔مارٹن لوتھر کنگ ، قتل کا اعتراف 10 مارچ 1969ء کو امریکی تاریخ کے ایک اہم عدالتی مرحلے میں جیمز ارل رے نے شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل کا اعتراف جرم کر لیا۔ انہیں 4 اپریل 1968ء کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امریکہ میں افریقی نژاد شہریوں کے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کی علامت تھے۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلائی اور 1963 کی تاریخی تقریر ''I Have a Dream‘‘کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔

برسا جامع مسجد

برسا جامع مسجد

سلجوقی و عثمانی عظمت کا سنگمترکی کے تاریخی شہر برسا(Bursa) میں واقع برسا جامع مسجد جسے مقامی طور پر ''اولو کامی‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی فن تعمیر کا ایک درخشاں شاہکار ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 14ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی اور اسے ابتدائی عثمانی دور کی نمایاں ترین یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلجوقی اور عثمانی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج نے اس مسجد کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے، جو آج بھی ہزاروں زائرین اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔برسا، جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا، تاریخی ورثے سے مالا مال شہر ہے۔ اسی شہر کے قلب میں قائم یہ جامع مسجد اپنی سادگی اور جلال کے باعث ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ روایت ہے کہ اس کی تعمیر سلطان بایزید اوّل کے دور میں مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عثمانی سلطنت اپنی بنیادیں مضبوط کر رہی تھی اور فن تعمیر میں نئی جہتیں متعارف ہو رہی تھیں۔ اولو کامی اسی ارتقائی مرحلے کی عکاس ہے۔مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 20 گنبد ہیں جو قطار در قطار ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ گنبد چھت کے وسیع ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں اور اندرونی حصے کو ایک منفرد توازن اور ہم آہنگی عطا کرتے ہیں۔ دو بلند مینار مسجد کی شان بڑھاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والوں کو اس کے روحانی وقار کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میں بیک وقت تقریباً پانچ ہزارافراد نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اس کے وسیع و عریض ہال کی گواہی دیتا ہے۔مسجد کا اندرونی منظر نہایت دلکش ہے۔ دیواروں اور ستونوں پر آویزاں خطاطی کے شاہکار اسے ایک روحانی عجائب گھر کا درجہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں موجود قرآنی آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی مختلف ادوار کے نامور خطاطوں کے فن کا نمونہ ہے۔ یہی خطاطی اولو کامی کو دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ بڑے بڑے ستون، کشادہ فرش اور گنبدوں سے چھنتی روشنی عبادت گزاروں کے دلوں میں سکون اور خشوع پیدا کرتی ہے۔مسجد کے اندر موجود ایک خوبصورت فوارہ بھی اس کی انفرادیت کا حصہ ہے۔ عموماً فوارے صحن میں ہوتے ہیں، مگر اولو کامی میں یہ اندرونی حصے میں واقع ہے، جو ایک منفرد طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف وضو کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ پانی کی مدھم آواز ایک روح پرور فضا قائم رکھتی ہے۔ یہ عنصر سلجوقی طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں پانی کو جمالیاتی اور روحانی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔برسا جامع مسجد کی تعمیر میں مضبوط پتھر اور سادہ مگر باوقار ڈیزائن اختیار کیا گیا۔ اس کی بیرونی دیواریں سادگی کا تاثر دیتی ہیں، جبکہ اندرونی حصہ نفیس آرائش اور خطاطی سے مزین ہے۔ یہی تضاد اسے ایک متوازن اور پْراثر عمارت بناتا ہے۔ یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی بلکہ صدیوں تک علمی و سماجی سرگرمیوں کا محور بھی بنی رہی۔آج بھی اولو کامی برسا کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ مقامی افراد کیلئے یہ روحانی مرکز ہے جہاں جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں آکر نہ صرف نماز ادا کرتے ہیں بلکہ اس کے فن تعمیر اور تاریخی پس منظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مسجد کے اطراف قائم بازار اور تاریخی عمارات اس علاقے کو مزید پرکشش بناتے ہیں، جس سے یہ مقام ایک ثقافتی مرکز کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ترکی میں موجود دیگر عظیم مساجد کی طرح برسا جامع مسجد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے فن تعمیر میں کس قدر بلندی حاصل کی۔ سلجوقی سادگی اور عثمانی عظمت کا امتزاج اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ یہ مسجد ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ حال کا زندہ روحانی مرکز بھی ہے۔مختصراً، برسا جامع مسجد یا اولو کامی صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور فن کا حسین امتزاج ہے۔ اس کے 20 گنبد، دو مینار، دلکش خطاطی اور وسیع ہال اسے ترکی کی نمایاں ترین مساجد میں شامل کرتے ہیں۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود اس کی شان و شوکت برقرار ہے اور یہ آج بھی اسلامی فن تعمیر کی عظمت کا روشن استعارہ ہے۔

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

اجزاء:دہی آدھا کلو، آلو ابلے ہوئے تین عدد، پیاز باریک لمبوتری کٹی ہوئی ایک پیالی، کھیرا دو عدد، نمک کالی مرچ( پسی ہوئی) حسب ذائقہ، مرغی( ابلی ہوئی) تقریباً 125گرام۔ ترکیب: مرغی کے باریک ٹکڑے کر لیں، ابلے ہوئے آلو کش کر لیں۔ ایک عدد کھیرا کش کر لیں۔ دوسرے کھیرے کے پتلے ٹکڑے کر لیں۔ ایک کھلے منہ کے پیالے میں دہی ڈال کر پھینٹ لیں۔ دہی میں آلو اور کٹی ہوئی پیاز ڈال کر پھینٹیں۔ ساتھ نمک اور کالی مرچ شامل کر دیں۔ دہی میں مرغی کے ٹکڑے اور کش کیا ہوا کھیرا ڈال کر یکجا کریں۔ ڈش میں دہی کا آمیزہ ڈالیں۔ دہی کے آمیزے پر کٹا ہوا کھیرا رکھ دیں۔ عمدہ ترین اور لذت سے بھرپور سلاد تیار ہے۔ تناول فرمائیں۔چکن قیمہ پکوڑااجزا:باریک کٹی چکن 250 گرام،پھینٹے ہوئے انڈے 2 عدد، بیسن 4کھانے کے چمچے، پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، کٹی ہری مرچ 2 عدد،ہلدی ایک چوتھائی چائے کا چمچ، بیکنگ پائوڈر آدھا چائے کا چمچ،نمک ایک چائے کا چمچ،کٹا ہرا دھنیا حسب ضرورت، چاٹ مصالحہ آدھا کھانے کا چمچ ،باریک کٹی ہری پیاز آدھا کپ۔ترکیب: بیسن ،بیکنگ پائوڈرپسی لال مرچ اور ہلدی،نمک، کپ پانی،باریک کٹی چکن،کٹی ہری مرچ اور کٹا ہرادھنیا ڈال کر ایک پیالے میں مکس کرکے 30 منٹ کیلئے رکھ دیں، اب پین میں تیل گرم کرکے اس کو پکوڑے کی شکل میں خستہ اور گولڈن ہونے تک فرائی کرلیں، لیجئے مزیدا ر چکن قیمہ پکوڑے تیار ہیں ۔اپنے افطار دسترخوان کی رونق بڑھائیں۔

آج کا دن

آج کا دن

باربی ڈول متعارف کرائی گئی1959ء میں آج کے روز معروف کارٹون اور کھلونا گڑیا باربی ڈول کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا گیا۔ اس گڑیا کو امریکی کھلونا ساز کمپنی نے جرمن گڑیا''بائلڈ لی لی‘‘ سے متاثر ہو کر بنایاتھا۔ باربی ڈول کا شمار دنیا کے مشہورترین کرداروں میں ہوتا ہے۔اب یہ گڑیا ایک فیملی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس فیملی کے اراکین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی معروف ماڈلز سے مماثلت رکھنے والی باربی ڈولز بھی بنائی جا چکی ہیں۔ہٹلر کا نئی فضائیہ بنانے کا اعلان9مارچ1935ء کوایڈولف ہٹلر نے جرمنی کیلئے نئی فضائیہ بنانے کا اعلا ن کیا۔ہٹلر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ورسائیلس معاہدے کی خلاف ورزی پر جرمنی کی فوجی طاقت کو دوبارہ مضبوط کیا جائے گا۔اسی عرصے میں دنیا دوسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی تھی اور عالمی حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے۔ ہٹلر نے تقریباً5لاکھ فوجی بھرتی کرنے اور جرمنی کیلئے ایک نئی فضائیہ بنانے کا اعلان بھی اسی دوران کیا۔ایستونیا پر بمباریدوسری عالمی جنگ کے دوران ایستونیا پر متعدد مرتبہ بمباری کی گئی۔ پہلی بمباری 1941ء میں کے دوران کی گئی جو آپریشن باربروسہ کا حصہ تھی۔ اس کے بعد ایستونیا کے دارالحکومت تالین پر 9مارچ 1944ء کو سوویت یونین کی جانب سے کی جانے والی بمباری سب سے زیادہ تباہ کن تھی۔یہ بمباری جنگ ناروا کے دوران کی گئی، اسے ''مارچ بمباری‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سوویت یونین نے دو دن کے دوران تالین پر ہزاروں بم برسائے۔