انقلابی پیش رفت ماحول دوست،توانائی بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہےسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے، اور اب روشنی کے حصول کے روایتی ذرائع بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں نے ایسے پودے تیار کرنے کی کوشش شروع کی ہے جو جگنوؤں کی طرح خود روشنی پیدا کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں گلیوں، پارکوں اور شہروں کو روشن کرنے کیلئے بجلی پر انحصار نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ انقلابی پیش رفت نہ صرف ماحول دوست ہوگی بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو آج کے دور کا ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے ایسے جینیاتی طور پر تیار شدہ پودے متعارف کرائے ہیں جو اندھیرے میں خود روشنی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پودے نہ صرف سیاحت کیلئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ شہری زندگی میں بھی ایک نئی جہت متعارف کرا سکتے ہیں۔ رات کے وقت پارکوں، باغات اور عوامی مقامات پر ان پودوں کی مدھم روشنی ایک پرسکون اور دلکش ماحول پیدا کر سکتی ہے، جو مصنوعی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدرتی اور خوشگوار ہوگا۔ان حیاتیاتی روشنی خارج کرنے والے پودوں کو تیار کرنے کیلئے سائنسدانوں نے جگنوؤں اور چمکتی ہوئی فنگس کے جینز کو پودوں کے خلیات میں منتقل کیا ہے۔ اس عمل کو جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف جانداروں کی خصوصیات کو ایک دوسرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے اب تک بیس سے زائد پودوں کی اقسام کو اندھیرے میں چمکنے کے قابل بنایا جا چکا ہے، جن میں آرکڈ، سورج مکھی اور گلابی چمبیلی جیسی خوبصورت اور مقبول نباتات شامل ہیں۔ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ‘‘میجک پین بائیو'' کے بانی لی رین ہان نے اس منصوبے کو ایک تخیلاتی دنیا سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ان پودوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو رات کے وقت چمکتے ہوئے باغات اور وادیاں کسی دوسرے سیارے کا منظر پیش کریں گی۔ انہوں نے اس تصور کو مقبول سائنس فکشن فلمAvatar سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہوگا جیسے فلمی دنیا کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہو۔ اس طرح کے مناظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیں گے۔2024ء میں فائر فلائی پیٹونیا نامی پودے کے اجرا نے اس میدان میں ایک نئی دلچسپی پیدا کی تھی۔ یہ پودا ایک امریکی کمپنی لائٹ بائیونے متعارف کرایا تھا، جسے بھی بائیولومینیسینٹ مشروم کے جینز شامل کر کے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم چینی سائنسدانوں کی حالیہ کامیابیاں اس سے ایک قدم آگے ہیں، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک بلکہ متعدد پودوں کی اقسام کو چمکدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں پورے باغات اور پارکس کو قدرتی روشنی سے منور کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ پودے ابھی مکمل طور پر سٹریٹ لائٹس کا متبادل نہیں بن سکتے، لیکن شہر کے ان حصوں میں جہاں روشنی کی کمی ہو یا جہاں ماحول کو قدرتی انداز میں برقرار رکھنا مقصود ہو، وہاں یہ ایک بہترین حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پودے توانائی کی بچت، کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کے بحران کے پیش نظر اس طرح کی ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔چین کے محققین نے اس میدان میں ایک اور منفرد طریقہ بھی آزمایا ہے، جس میں پودوں کے پتوں میں دھاتی نینو ذرات داخل کیے گئے ہیں۔ یہ ذرات دن کے وقت سورج کی روشنی کو جذب کر کے چارج ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جینیاتی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ ایک نسبتاً سادہ اور محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، مختلف دھاتوں کے امتزاج سے روشنی کے رنگ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ان ٹیکنالوجیز کو مزید بہتر بنایا جائے تو یہ شہری منصوبہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ مستقبل کے شہر ایسے ہو سکتے ہیں جہاں بجلی سے چلنے والی روشنیوں کی جگہ قدرتی طور پر چمکنے والے پودے لے لیں۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ شہری ماحول بھی زیادہ صحت مند اور دلکش بن جائے گا۔تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودوں کے ماحولیاتی اثرات، ان کی حفاظت اور عوامی قبولیت جیسے مسائل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان پودوں کی روشنی کی شدت کو بڑھانا بھی ایک اہم مرحلہ ہے تاکہ یہ عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بائیولومینیسینٹ پودوں کی یہ ترقی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی جدت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی عکاس ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری دنیا واقعی ایک چمکتی ہوئی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی۔