آج تم یاد بے حساب آئے!جاوید کوڈو پستہ قد کے بڑے اداکار (2025-1960ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!جاوید کوڈو پستہ قد کے بڑے اداکار (2025-1960ء)

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭...7جنوری 1960ء کو پیدا ہوئے، اصل نام محمد جاوید تھااور وہ جاوید کوڈو کے نام سے مشہور ہوئے۔
٭...وہ پیدائشی طور پر بونا پن کے عارضہ میں مبتلا تھے۔
٭...فنکارانہ کریئر کا آغاز 1981ء میں ڈرامہ ''سودے باز‘‘ سے کیا۔
٭...پی ٹی وی کی ڈرامہ سیریل ''خواہش‘‘ میں اپنے کردار کی وجہ سے شہرت پائی۔
٭...سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والی بچوں کیلئے بنائی گئی ڈرامہ سیریز ''عینک والاجن‘ ‘میں بھی ان کے کردار کو بہت پسند کیا گیا۔
٭...جاوید کوڈو 45 سال میڈیا انڈسٹری کے ساتھ وابستہ رہے۔
٭... انھوں نے 150 سٹیج ڈراموں، فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔
٭...جن فلموں میں انہوں نے اداکاری کے جوہر دکھائے ان میں ''ہیرو، باکسر، جادو نگری، دیساں دا راجہ، پگڑی سنبھال جٹا‘‘ نمایاں ہیں۔
٭...زندگی کے آخری کئی برس صحت کے مختلف مسائل کا شکار رہے۔ 2016 میں دماغ کی شریان میں خرابی کے باعث ہسپتال میں داخل رہے، بعد ازاں ٹریفک حادثے میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے سے بستر سے لگ گئے۔اہل خانہ کے مطابق وہ شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا تھے۔
٭...ان کا انتقال بیماری کے ساتھ ایک طویل جنگ کے بعد 13 اپریل 2025ء کو لاہور میں ہوا۔
٭...ان کا بیٹاشیرا بھی اداکاری سے وابستہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

انقلابی پیش رفت ماحول دوست،توانائی بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہےسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے، اور اب روشنی کے حصول کے روایتی ذرائع بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں نے ایسے پودے تیار کرنے کی کوشش شروع کی ہے جو جگنوؤں کی طرح خود روشنی پیدا کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں گلیوں، پارکوں اور شہروں کو روشن کرنے کیلئے بجلی پر انحصار نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ انقلابی پیش رفت نہ صرف ماحول دوست ہوگی بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو آج کے دور کا ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے ایسے جینیاتی طور پر تیار شدہ پودے متعارف کرائے ہیں جو اندھیرے میں خود روشنی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پودے نہ صرف سیاحت کیلئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ شہری زندگی میں بھی ایک نئی جہت متعارف کرا سکتے ہیں۔ رات کے وقت پارکوں، باغات اور عوامی مقامات پر ان پودوں کی مدھم روشنی ایک پرسکون اور دلکش ماحول پیدا کر سکتی ہے، جو مصنوعی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدرتی اور خوشگوار ہوگا۔ان حیاتیاتی روشنی خارج کرنے والے پودوں کو تیار کرنے کیلئے سائنسدانوں نے جگنوؤں اور چمکتی ہوئی فنگس کے جینز کو پودوں کے خلیات میں منتقل کیا ہے۔ اس عمل کو جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف جانداروں کی خصوصیات کو ایک دوسرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے اب تک بیس سے زائد پودوں کی اقسام کو اندھیرے میں چمکنے کے قابل بنایا جا چکا ہے، جن میں آرکڈ، سورج مکھی اور گلابی چمبیلی جیسی خوبصورت اور مقبول نباتات شامل ہیں۔ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ‘‘میجک پین بائیو'' کے بانی لی رین ہان نے اس منصوبے کو ایک تخیلاتی دنیا سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ان پودوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو رات کے وقت چمکتے ہوئے باغات اور وادیاں کسی دوسرے سیارے کا منظر پیش کریں گی۔ انہوں نے اس تصور کو مقبول سائنس فکشن فلمAvatar سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہوگا جیسے فلمی دنیا کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہو۔ اس طرح کے مناظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیں گے۔2024ء میں فائر فلائی پیٹونیا نامی پودے کے اجرا نے اس میدان میں ایک نئی دلچسپی پیدا کی تھی۔ یہ پودا ایک امریکی کمپنی لائٹ بائیونے متعارف کرایا تھا، جسے بھی بائیولومینیسینٹ مشروم کے جینز شامل کر کے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم چینی سائنسدانوں کی حالیہ کامیابیاں اس سے ایک قدم آگے ہیں، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک بلکہ متعدد پودوں کی اقسام کو چمکدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں پورے باغات اور پارکس کو قدرتی روشنی سے منور کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ پودے ابھی مکمل طور پر سٹریٹ لائٹس کا متبادل نہیں بن سکتے، لیکن شہر کے ان حصوں میں جہاں روشنی کی کمی ہو یا جہاں ماحول کو قدرتی انداز میں برقرار رکھنا مقصود ہو، وہاں یہ ایک بہترین حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پودے توانائی کی بچت، کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کے بحران کے پیش نظر اس طرح کی ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔چین کے محققین نے اس میدان میں ایک اور منفرد طریقہ بھی آزمایا ہے، جس میں پودوں کے پتوں میں دھاتی نینو ذرات داخل کیے گئے ہیں۔ یہ ذرات دن کے وقت سورج کی روشنی کو جذب کر کے چارج ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جینیاتی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ ایک نسبتاً سادہ اور محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، مختلف دھاتوں کے امتزاج سے روشنی کے رنگ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ان ٹیکنالوجیز کو مزید بہتر بنایا جائے تو یہ شہری منصوبہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ مستقبل کے شہر ایسے ہو سکتے ہیں جہاں بجلی سے چلنے والی روشنیوں کی جگہ قدرتی طور پر چمکنے والے پودے لے لیں۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ شہری ماحول بھی زیادہ صحت مند اور دلکش بن جائے گا۔تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودوں کے ماحولیاتی اثرات، ان کی حفاظت اور عوامی قبولیت جیسے مسائل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان پودوں کی روشنی کی شدت کو بڑھانا بھی ایک اہم مرحلہ ہے تاکہ یہ عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بائیولومینیسینٹ پودوں کی یہ ترقی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی جدت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی عکاس ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری دنیا واقعی ایک چمکتی ہوئی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی۔

مسولیس کا مقبرہ

مسولیس کا مقبرہ

قدیم دنیا کے عجائبات میں سے ایک مسولیس کا مقبرہ، تعمیراتی حسن، محبت اور لافانیت کی ایسی داستان ہے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔ یہ سنگ مرمر سے تراشا گیا ایسا خواب تھا جس نے مقبرہ کی اصطلاح کو جنم دیا، جو آج بھی دنیا بھر میں عظیم الشان مزارات کیلئے استعمال ہوتی ہے۔چوتھی صدی قبل مسیح میں جب فارس کی ہخامنشی سلطنت کا عروج تھا، مسولیس کاریا کے علاقے کا گورنر تھا۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر فارسی سلطنت کے ماتحت تھا لیکن عملاً وہ آزاد بادشاہ کی طرح حکومت کرتا تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کا دارالحکومت ہالی کارناسس موجودہ ترکی کا شہر بودرم منتقل کیا اور اسے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں بدلنے کا عزم کیا۔مسولیس نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لیے ایسے مقبرے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی جو رہتی دنیا تک اس کے نام اور مرتبے کی گواہی دے۔ تاہم، 353 قبل مسیح میں اس کے انتقال کے وقت یہ مقبرہ نامکمل تھا۔ اس کی بیوہ ملکہ آرٹیمیسیا دوم، نے اپنے شوہر کی یاد میں اس عظیم منصوبے کو جاری رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ آرٹیمیسیا اپنے شوہر کی موت سے اس قدر غمگین تھی کہ اس نے مسولیس کی راکھ کو شراب میں ملا کر پی لیا تھا تاکہ وہ ہمیشہ اس کے وجود کا حصہ رہے۔مسولیس کا مقبرہ اپنی بلندی، وسعت اور فنکارانہ باریکیوں کی وجہ سے منفرد تھا۔ اس کی تعمیر کیلئے اس وقت کے مشہور ترین یونانی معماروں پیتھیوس اور ستایرس کو مدعو کیا گیا تھا۔مقبرے کی اونچائی تقریباً 45 میٹر تھی اور اسے تین اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نچلا حصہ بہت بڑا مستطیل چبوترہ تھا جس کی دیواریں یونانی دیومالائی کہانیوں کے نقوش اور جنگی مناظر سے مزین تھیں۔ چبوترے کے اوپر 36 بلند و بالا ستون نصب تھے، جو مندر نما ڈھانچے کو سہارا دیتے تھے۔ سب سے اوپر 24 سیڑھیوں پر مشتمل اہرام نما چھت تھی، جس کی چوٹی پر عظیم الشان سنگ مرمر کا رتھ موجود تھا جسے چار گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ اس رتھ پر مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے نصب تھے۔اس مقبرے کو شہرت اس کے مجسموں اور سنگ تراشی کی وجہ سے ملی۔ اس زمانے کے چار عظیم ترین سنگ تراشوں سکاپاس، لیوچاریس، برایکسس اور تیموتھیئس میں سے ہر ایک کو مقبرے کی ایک ایک سمت کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری دی گئی تھی۔دیواروں پر کندہ کی گئی تصویروں میں ایمیزونز جنگجو خواتین اور لیپتھس کے درمیان لڑائی کے مناظر اتنے جاندار تھے کہ وہ زندہ مناظر محسوس ہوتے تھے۔ یہ فن پارے اس وقت کے یونانی اور اناطولیہ کے کلچر کو ظاہر کرتے تھے۔مسولیس کا مقبرہ تقریباً 1600 سال تک اپنی اصل حالت میں موجود رہا۔ سکندر اعظم کی فتوحات، رومی سلطنت کا عروج و زوال اور کئی جنگیں اسے نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن 12ویں سے 15ویں صدی کے درمیان آنے والے پے درپے زلزلوں نے اس عظیم عمارت کی کمر توڑ دی۔1402ء میں جب نائٹس آف سینٹ جان نے اس علاقے پر قبضہ کیا، تو انہوں نے مقبرے کے ملبے کو بودرم قلعہ بنانے کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے مقبرے کے قیمتی سنگ مرمر کو جلا کر چونا بنایا اور خوبصورت تراشے ہوئے پتھروں کو دیواروں میں چن دیا۔ اس طرح، دنیا کا یہ ساتواں عجوبہ انسانی ضرورتوں اور قدرتی آفات کی نذر ہو گیا۔19ویں صدی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ چارلس نیوٹن نے مقبرے کی باقیات دریافت کیں۔ اس نے کھدائی کے دوران مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے اور رتھ کے پہیے تلاش کیے، جو آج برٹش میوزیم، لندن میں محفوظ ہیں۔مسولیس کے مقبرے نے فنِ تعمیر کی دنیا کو نیا لفظ مقبرہ دیا۔ آج واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل ہو یا پیرس کا پینتھین، ان سب کے ڈیزائن میں کہیں نہ کہیں مسولیس کے مقبرے کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کا تاج محل بھی اسی روایت کا ایک حصہ مانا جا سکتا ہے جہاں عظیم محبت کو پتھروں میں قید کر کے لافانی بنا دیا گیا۔مسولیس کا مقبرہ انسانی عزم، بے پناہ محبت اور فنی کمال کا سنگ میل تھا۔ اگرچہ آج اس کی جگہ چند ٹوٹے ہوئے ستون اور بنیادیں باقی ہیں لیکن اس کا تصور آج بھی معماروں اور تاریخ دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ مقبرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بادشاہ اور سلطنتیں فنا ہو جاتی ہیں لیکن فن اور محبت کی یادگاریں صدیوں تک زندہ رہتی ہیں۔

کالج کے طلبہ

کالج کے طلبہ

کالج کے جن طلبہ کے متعلق میرا ایمان تھا کہ وہ زبردست شخصیتو ں کے مالک ہیں، ان کی زندگی کچھ ایسی نہ تھی کہ والدین کے سامنے بطور نمونے کے پیش کی جا سکے۔ ہر وہ شخص جسے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جانتا ہے کہ ''والدینی اغراض‘‘ کیلئے واقعات کو ایک نئے اور اچھوتے پیرائے میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، لیکن اس نئے پیرائے کا سوجھ جانا الہام اور اتفائی پر منحصر ہے۔ بعض روشن خیال بیٹے والدین کو اپنے حیرت انگیز اوصاف کا قائل نہیں کر سکتے اور بعض نالائق طالب علم والدین کو اس طرح مطمئن کر دیتے ہیں کہ ہر ہفتے ان کے نام منی آرڈر پہ منی آرڈر چلا آتا ہے۔جب ہم ڈیڑھ مہینے تک شخصیت اور ہاسٹل کی زندگی پر اس کا انحصا ر، ان دومضمونوں پر وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، تو ایک دن والد نے پوچھا: ''تمہارا شخصیت سے آخر مطلب کیا ہے؟‘‘میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض و معروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا ''دیکھئے نہ! مثلاً ایک طالب علم ہے۔ وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے۔ ایک اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے ہی، لیکن ان کے علاوہ وہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی گویا پہچانا جاتا ہے۔ میں اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہوااور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو لیکن پھر بھی اس کی شخصیت۔ نہ خیر دماغ تو بے کار نہیں ہونا چاہئے، ورنہ انسان خبطی ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر ہو بھی، تو بھی، گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ ٹھہریئے، میں ابھی ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں‘‘۔ایک منٹ کے بجائے والد نے مجھے آدھے گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ تین چار دن بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مجھے شخصیت نہیں سیرت کہنا چاہئے۔ شخصیت ایک بے رنگ سا لفظ ہے۔ سیرت کے لفظ سے نیکی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ میں سیرت کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے ''کیا سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟‘‘۔میں نے کہا، ''کہ چال چلن ہی کہہ لیجیے‘‘۔ ''تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علاوہ چال چلن بھی اچھا ہونا چاہئے؟‘‘۔میں نے کہا، ''بس یہی تو میرا مطلب ہے‘‘۔ ''اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہو جاتا ہے؟‘‘۔میں نے نسبتاً نحیف آواز سے کہا،''جی ہاں‘‘۔''یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نماز روزے کے زیادہ پابند ہوتے ہیں۔ ملک کی زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ سچ زیادہ بولتے ہیں۔ نیک زیادہ ہوتے ہیں‘‘۔میں نے کہا،''جی ہاں‘‘کہنے لگے، ''وہ کیوں؟‘‘اس سوال کا جواب ایک بار پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اے کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا۔اس کے بعد پھر سال بھر میں ماموں کے گھر میں ''زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں گے دن‘‘ گاتا رہا۔ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا۔ لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ ہر سال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا لیکن اگلے سال گرمیوں کی چھٹی میں پہلے سے بھی زیادہ شد ومد کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا۔ ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا، نئی نئی مثالیں کام میں لاتا۔ جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چلا تو اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل میں رہنے سے پروفیسروں کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں اور ان ''بیرون ازکالج''ملاقاتوں سے انسان پارس ہو جاتا ہے۔اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بڑی اچھی ہوتی ہے، صفائی کا خاص طور سے خیال رکھا جاتا ہے۔ مکھیاں اور مچھر مارنے کیلئے کئی کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا ہوا کہ جب بڑے بڑے حکام کالج کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ سے فرداً فرداً ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس سے رسوخ بڑھتا ہے، لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا میری تقریروں میں جوش بڑھتا گیا۔ معقولیت کم ہوتی گئی۔شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر والد مجھ سے باقائدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے یک لفظی انکار کا رویہ اختیار کیا۔ پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے اور آخر میں یہ نوبت آن پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی ایک طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا حکم دے دیا کرتے تھے۔ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگائیے کہ ان کی شفقت کچھ کم ہو گئی تھی۔ ہر گز نہیں۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھر میں میرا اقتدار کچھ کم ہو گیا تھا۔اتفاق یہ ہوا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ بی،اے کا امتحان دیا تو فیل ہو گیا۔ اگلے سال ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی جب تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی،اے میں پے در پے فیل ہونے کی وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آ گیا تھا لیکن کلام میں وہ پہلے جیسی شوکت اور میری رائے کی وہ پہلے جیسی وقعت اب نہ رہی تھی۔میں زمانہ طالب علمی کے اس دور کا حال ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اس سے ایک تو آپ میری زندگی کے نشیب وفراز سے اچھی طرح واقف ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ اس سے یونیورسٹی کی بعض بے قاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہو جائے گا۔

حکایات سعدیؒ:بھید

حکایات سعدیؒ:بھید

ایک بادشاہ نے اپنے غلاموں سے ایک راز کی بات کہی اور انہیں منع کیا کہ اس بات کو کسی دوسرے پرظاہر نہ کرنا۔ایک سال تک تو خیریت رہی پھر غلاموں میں سے ایک نے کسی دوست کے سامنے بھید ظاہر کر دیا اور اسے تاکید کی کہ یہ کسی دوسرے کو نہ بتانا۔ اس کے دوست نے بھی اسی طرح کسی دوسرے کو یہ بات بتا دی۔ آہستہ آہستہ بات ہر طرف پھیل گئی۔ بادشاہ کو علم ہوا تو اس نے غضب ناک ہو کر حکم دیا کہ ان غلاموں کے سرقلم کردو۔ ان میں سے ایک نے امان چاہی اور عرض کی کہ اے بادشاہ اپنے غلاموں کو قتل نہ کر کہ اس خطا کی ابتدا تجھی نے کی ہے۔ تو نے شروع میں چشمے کا منہ کیوں بند نہ کیا۔ جب وہ سیلاب بن گیا تو اس کے آگے بند باندھنے کا کیا فائدہ۔ تو نے جب تک بات منہ سے نہیں نکالی تیرا اس پر قابو ہے۔ جب منہ سے نکال دی تو وہ تیرے اوپر قابو پا لے گی۔

آج کا دن

آج کا دن

سانحہ جلیانوالہ باغ13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج نے ایک نہایت سفاکانہ کارروائی کرتے ہوئے نہتے اور پُرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے۔ جنرل ڈائر کے حکم پر فوجیوں نے بغیر کسی وارننگ کے گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں 379 افراد شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس المناک واقعے نے برصغیر میں آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دی اور برطانوی ظلم و بربریت کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔''اپالو 13‘‘حادثہ 1970ء میں آج کے روز ناسا کو اس وقت ایک خلائی حادثے کا سامنا کرنا پڑا، جب ''اپالو 13‘‘ مشن کے دوران آکسیجن ٹینک پھٹ گیا۔ جس نے کمانڈ ماڈیول کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں خلابازوں کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوئی،بجلی اور پانی کی کمی ہو گئی جبکہ چاند پر اترنے کا منصوبہ بھی ترک کرنا پڑا۔ ناسا کے خلانوردوں کو ''ہوسٹن، ہمیں مسئلہ ہے‘‘ (Houston we have a problem) کہنا پڑا۔ یہ مشن بعد میں ایک کامیاب ریسکیو مشن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ویانا پر سوویت قبضہ1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے آخری مراحل میں سوویت یونین اور بلغاریہ کی افواج نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پر قبضہ کر لیا۔ یہ کارروائی نازی جرمنی کے خلاف اتحادی طاقتوں کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ شدید لڑائی کے بعد شہر جرمن افواج کے کنٹرول سے نکل گیا، جس سے یورپ میں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ ویانا کی فتح نے نہ صرف جرمنی کی دفاعی پوزیشن کو کمزور کیا بلکہ مشرقی یورپ میں سوویت اثر و رسوخ کو بھی مضبوط بنایا، جو بعد ازاں سرد جنگ کے تناظر میں اہم ثابت ہوا۔سوویت جاپان معاہدہ1941ء میں آج کے دن سوویت اور جاپان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا، جسے ''جاپان سوویت عدم جارحیت کا معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جاپان اور سوویت سلطنت نے سرحدی جنگ کے اختتام کے دو سال بعد 13 اپریل 1941ء کو اس معاہدے پر دستخط کئے۔ 1945ء میں عالمی جنگ کے آخر میں سوویت یونین نے معاہدہ ختم کر دیا اور جاپان کے خلاف اتحادیوں سے مل گیا۔ٹرانزٹ سسٹم1960ء میں آج کے دن ٹرانزٹ سسٹم کو آپریشنل کیا گیا۔ جسے بحری نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ ریڈیو نیوی گیشن سسٹم کو بنیادی طور پر امریکی بحریہ نے اپنی پولارس بیلسٹک میزائل آبدوزوں کو مقام کی درست معلومات فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔ یہ بحریہ کے سطحی جہازوں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروگرافک سروے اور جیوڈیٹک سروے کیلئے نیوی گیشن سسٹم کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ لاپوا فیکٹری دھماکہ13 اپریل 1976ء کو گولہ بارود بنانے والی فیکٹری لاپوا، فن لینڈ میں دھماکہ ہوا۔اسے فن لینڈ کی تاریخ میں بدترین صنعتی تباہی سمجھا جاتا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعہ میں 40 مزدور ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ دھماکہ کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ دھماکے کی آواز 20 کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ زخمی ہونے والے زیادہ افراد فیکٹری کے اندر موجود تھے ۔

’’انسانی خلائی پرواز کاعالمی دن‘‘

’’انسانی خلائی پرواز کاعالمی دن‘‘

انسانی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے عہد کو بدل دیتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے نئی راہیں بھی متعین کرتے ہیں۔ 12 اپریل 1961ء کا دن بھی ایسا ہی ایک تاریخی سنگِ میل ہے جب انسان نے پہلی بار زمین کی حدود سے نکل کر خلا کی وسعتوں میں قدم رکھا۔ اس عظیم کارنامے کی یاد میں ہر سال 12 اپریل کو دنیا بھر میں ''انسانی خلائی پرواز کا بین الاقوامی دن‘‘ منایا جاتا ہے،جو انسانی تاریخ کے اس یادگار لمحے کی یاد تازہ کرتا ہے جب انسان نے پہلی بار زمین کی سرحدوں کو عبور کر کے خلا کی وسعتوں میں قدم رکھا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان نے اپنی محدود زمینی زندگی سے آگے بڑھ کر لامحدود کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی اور ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ خلائی تحقیق نہ صرف سائنسی میدان میں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی بلکہ اس نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک مشترکہ خواب،کائنات کی تسخیرمیں یکجا بھی کیا۔یہ دن نہ صرف سائنسی ترقی کا جشن ہے بلکہ انسانی عزم، جستجو اور کائنات کو سمجھنے کی بے پناہ خواہش کی علامت بھی ہے۔ 1961ء میں اس دن سوویت یونین کے خلا باز یوری گاگارین (Yuri Gagarin)نے خلا میں پہلی انسانی پرواز کر کے تاریخ رقم کی اور یوں انسان کیلئے ایک نئے دور''خلائی دور‘‘کا آغاز ہوا۔خلائی تحقیق کی تاریخ دراصل انسانی تجسس کی داستان ہے۔ صدیوں پہلے انسان آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا اور ان کے راز جاننے کی خواہش رکھتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی، اور وہ خواب حقیقت میں بدلنے لگے جو کبھی ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ راکٹ ٹیکنالوجی کی ترقی، مصنوعی سیاروں کی تیاری اور جدید کمپیوٹر سسٹمز نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ خلا کی وسعتوں تک رسائی حاصل کر سکے۔یوری گاگارین کی تاریخی پرواز محض ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس نے پوری دنیا کے انسانوں کو ایک نئی امید اور حوصلہ دیا۔ اس کے بعد خلائی دوڑ نے تیزی پکڑی اور مختلف ممالک نے خلا میں تحقیق کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی مقابلہ بالآخر 1969ء میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب انسان نے پہلی بار چاند پر قدم رکھا۔ یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب انسان عزم اور محنت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو کوئی بھی منزل دور نہیں رہتی۔خلائی تحقیق کے اثرات صرف خلا تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے زمین پر زندگی کو بھی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے مواصلات، موسمیاتی پیش گوئی، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔ آج ہم موبائل فون، جی پی ایس اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے جو فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان میں خلائی تحقیق کا بنیادی کردار ہے۔ اسی طرح قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی بھی خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔یہ دن ہمیں اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کرواتا ہے کہ خلا پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے، جسے صرف پرامن مقاصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلائی تحقیق میں تعاون کو فروغ دیا جائے اور اس کے فوائد تمام ممالک تک پہنچائے جائیں۔ اس حوالے سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) ایک بہترین مثال ہے جہاں مختلف ممالک کے سائنس دان مل کر تحقیق کر رہے ہیں اور علم کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔انسانی خلائی پرواز کا بین الاقوامی دن نوجوان نسل کیلئے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ یہ دن انہیں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کی طرف راغب کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ بھی مستقبل میں خلا کے رازوں کو جاننے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ تعلیم اور تحقیق پر توجہ دے کر خلائی میدان میں اپنی جگہ بنائیں۔تاہم خلائی تحقیق کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ خلا میں بڑھتا ہوا ملبہ ، تحقیق کے اخراجات اور تکنیکی پیچیدگیاں ایسے مسائل ہیں جن کا حل عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ خلا کے عسکری استعمال کے خدشات بھی موجود ہیں، جنہیں روکنے کیلئے عالمی قوانین اور معاہدوں کی ضرورت ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسانی خلائی پرواز کا بین الاقوامی دن ہمیں نہ صرف ماضی کی عظیم کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ مستقبل کی بے شمار امکانات کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر انسان متحد ہو کر علم اور تحقیق کے راستے پر گامزن رہے تو وہ نہ صرف خلا کی وسعتوں کو تسخیر کر سکتا ہے بلکہ زمین کو بھی ایک بہتر، پرامن اور خوشحال جگہ بنا سکتا ہے۔