’’انسانی خلائی پرواز کاعالمی دن‘‘

’’انسانی خلائی پرواز کاعالمی دن‘‘

اسپیشل فیچر

تحریر : اظہر عبادت


انسانی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے عہد کو بدل دیتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے نئی راہیں بھی متعین کرتے ہیں۔ 12 اپریل 1961ء کا دن بھی ایسا ہی ایک تاریخی سنگِ میل ہے جب انسان نے پہلی بار زمین کی حدود سے نکل کر خلا کی وسعتوں میں قدم رکھا۔ اس عظیم کارنامے کی یاد میں ہر سال 12 اپریل کو دنیا بھر میں ''انسانی خلائی پرواز کا بین الاقوامی دن‘‘ منایا جاتا ہے،جو انسانی تاریخ کے اس یادگار لمحے کی یاد تازہ کرتا ہے جب انسان نے پہلی بار زمین کی سرحدوں کو عبور کر کے خلا کی وسعتوں میں قدم رکھا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان نے اپنی محدود زمینی زندگی سے آگے بڑھ کر لامحدود کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی اور ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ خلائی تحقیق نہ صرف سائنسی میدان میں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی بلکہ اس نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک مشترکہ خواب،کائنات کی تسخیرمیں یکجا بھی کیا۔
یہ دن نہ صرف سائنسی ترقی کا جشن ہے بلکہ انسانی عزم، جستجو اور کائنات کو سمجھنے کی بے پناہ خواہش کی علامت بھی ہے۔ 1961ء میں اس دن سوویت یونین کے خلا باز یوری گاگارین (Yuri Gagarin)نے خلا میں پہلی انسانی پرواز کر کے تاریخ رقم کی اور یوں انسان کیلئے ایک نئے دور''خلائی دور‘‘کا آغاز ہوا۔
خلائی تحقیق کی تاریخ دراصل انسانی تجسس کی داستان ہے۔ صدیوں پہلے انسان آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا اور ان کے راز جاننے کی خواہش رکھتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی، اور وہ خواب حقیقت میں بدلنے لگے جو کبھی ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ راکٹ ٹیکنالوجی کی ترقی، مصنوعی سیاروں کی تیاری اور جدید کمپیوٹر سسٹمز نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ خلا کی وسعتوں تک رسائی حاصل کر سکے۔
یوری گاگارین کی تاریخی پرواز محض ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس نے پوری دنیا کے انسانوں کو ایک نئی امید اور حوصلہ دیا۔ اس کے بعد خلائی دوڑ نے تیزی پکڑی اور مختلف ممالک نے خلا میں تحقیق کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی مقابلہ بالآخر 1969ء میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب انسان نے پہلی بار چاند پر قدم رکھا۔ یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب انسان عزم اور محنت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو کوئی بھی منزل دور نہیں رہتی۔
خلائی تحقیق کے اثرات صرف خلا تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے زمین پر زندگی کو بھی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے مواصلات، موسمیاتی پیش گوئی، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔ آج ہم موبائل فون، جی پی ایس اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے جو فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان میں خلائی تحقیق کا بنیادی کردار ہے۔ اسی طرح قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی بھی خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔
یہ دن ہمیں اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کرواتا ہے کہ خلا پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے، جسے صرف پرامن مقاصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلائی تحقیق میں تعاون کو فروغ دیا جائے اور اس کے فوائد تمام ممالک تک پہنچائے جائیں۔ اس حوالے سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) ایک بہترین مثال ہے جہاں مختلف ممالک کے سائنس دان مل کر تحقیق کر رہے ہیں اور علم کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔
انسانی خلائی پرواز کا بین الاقوامی دن نوجوان نسل کیلئے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ یہ دن انہیں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کی طرف راغب کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ بھی مستقبل میں خلا کے رازوں کو جاننے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ تعلیم اور تحقیق پر توجہ دے کر خلائی میدان میں اپنی جگہ بنائیں۔
تاہم خلائی تحقیق کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ خلا میں بڑھتا ہوا ملبہ ، تحقیق کے اخراجات اور تکنیکی پیچیدگیاں ایسے مسائل ہیں جن کا حل عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ خلا کے عسکری استعمال کے خدشات بھی موجود ہیں، جنہیں روکنے کیلئے عالمی قوانین اور معاہدوں کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسانی خلائی پرواز کا بین الاقوامی دن ہمیں نہ صرف ماضی کی عظیم کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ مستقبل کی بے شمار امکانات کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر انسان متحد ہو کر علم اور تحقیق کے راستے پر گامزن رہے تو وہ نہ صرف خلا کی وسعتوں کو تسخیر کر سکتا ہے بلکہ زمین کو بھی ایک بہتر، پرامن اور خوشحال جگہ بنا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
شوگر کے خاتمے کا ممکنہ حل دریافت

شوگر کے خاتمے کا ممکنہ حل دریافت

نیا انجیکشن اس مرض کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےدنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری شوگر (Diabetes) ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جس نے کروڑوں انسانوں کی زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ اس مرض کے باعث نہ صرف مریضوں کو روزمرہ زندگی میں سخت احتیاط برتنی پڑتی ہے بلکہ یہ دل، گردوں اور آنکھوں سمیت کئی اہم اعضا کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں طبی ماہرین کی جانب سے ایک ایسی انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے۔ماہرین کے مطابق ایک نئی قسم کا انجیکشن تیار کیا جا رہا ہے جو نہ صرف خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر یہ تحقیق کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ طب کی دنیا میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، کیونکہ اب تک ذیابیطس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے صرف قابو میں رکھنے کی کوششیں ہی کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پیش رفت لاکھوں مریضوں کیلئے ایک نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہے اور صحت کے عالمی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ ایک بار دیا جانے والا علاج ایساہوگا کہ جسم خود ہی خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو جائے گاا ور ممکنہ طور پر اس کا اثر زندگی بھر قائم رہے گا۔ماہرین کے مطابق مریضوں کو ایک جین تھراپی دی جائے گی، جو پٹھوں کو طویل عرصے تک انسولین بنانے والا ذریعہ بنا دے گی اور اس کے اثرات کئی سال بلکہ دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔انگلینڈ میں ذیابیطس کے قومی ماہر مشیر ڈاکٹرپارتھاکر(Dr Partha Kar) نے اس طریقۂ علاج کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ''فعال علاج‘‘ بننے کی صلاحیت موجود ہے، اور اگر یہ کامیاب ہو گیا تو یہ بہت سے لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔نیا علاج، جسے ''KRIYA-839‘‘ کا نام دیا گیا ہے، ایک بالکل مختلف طریقہ اختیار کرتا ہے۔انسولین کو باہر سے دینے کے بجائے، اس کا مقصد مریض کے اپنے پٹھوں کو ایک مستقل ''انسولین فیکٹری‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ ران (thigh) میں ایک ہی انجیکشن کے بعد پٹھوں کے خلیات انسولین اور دیگر شوگر کو کنٹرول کرنے والے پروٹین بنانا شروع کر دیں گے،جس سے روزانہ علاج کی ضرورت یا تو ختم ہو جائے گی یا نمایاں حد تک کم ہو جائے گی۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ محققین کے مطابق یہ علاج جین ایڈیٹنگ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی شخص کے ڈی این اے میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ عضلاتی خلیات میں جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے، جس سے وہ وقت کے ساتھ ایک منظم انداز میں انسولین پیدا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ابتدائی حیوانی مطالعات میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں یہ علاج چار سال تک مؤثر رہا۔اب پہلی بار اس کا تجربہ انسانوں پر کیا جائے گا۔یہ ٹرائل، جو اس سال کی بین الاقوامی کانفرنس برائے جدید ٹیکنالوجیز اور ذیابیطس کے علاج میں پیش کیا گیا، ایسے بالغ افراد کو شامل کرے گا جن کا بلڈ شوگر مناسب طور پر کنٹرول میں نہیں اور جو پہلے ہی خودکار انسولین فراہمی کے نظام استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے سائنسدانوں کو یہ قریب سے جانچنے کا موقع ملے گا کہ یہ علاج کتنی مقدار میں انسولین پیدا کرتا ہے اور گلوکوز کی سطح کو کس حد تک مستحکم رکھتا ہے۔شرکاء کو ایک ہی آؤٹ پیشنٹ سیشن کے دوران، جو ایک گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے، دونوں رانوں میں انجیکشن دیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس علاج کو مکمل اثر دکھانے میں دو سے تین ماہ لگیں گے۔اس کے ساتھ ایک مختصر مرحلہ ''امیون موڈیولیشن‘‘ کا بھی ہوگا، جس میں مدافعتی نظام کو عارضی طور پر کمزور کیا جائے گا تاکہ علاج خلیات میں مؤثر طریقے سے داخل ہو سکے۔محققین کے مطابق یہ مرحلہ کامیابی کیلئے نہایت اہم ہے۔اگر یہ علاج کامیاب ہوا تو اس کے اثرات کئی سال بلکہ ممکنہ طور پر پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے اینڈوکرائنولوجسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر جیریمی پیٹس نے کہا کہ یہ شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ٹائپ 1 ذیابیطس کی کمیونٹی میں ہم عموماً سنتے آئے ہیں کہ یہ سب کچھ 10 سے 15 سال میں ہوگا اور شاید کسی دن ممکن ہو، لیکن آج یہاں کھڑے ہو کر یہ کہنا بہت پرجوش ہے کہ یہ کام اب حقیقت میں جاری ہے اور ہو رہا ہے۔ڈاکٹرپارتھاکر نے کہا کہ اس علاج کے ممکنہ اثرات انقلابی ہو سکتے ہیں، چاہے یہ انسولین کی مکمل ضرورت کو ختم نہ بھی کرے۔اگر آپ یہ کہیں کہ ہم آپ کی انسولین کی ضرورت کا 75 فیصد پورا کر سکتے ہیں، تو یقیناً آپ کہیں گے کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جزوی کامیابی بھی مریضوں کو زیادہ مقدار میں انسولین لینے سے نجات دلانے یا پمپ اور مسلسل مانیٹرنگ سسٹمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی کئی اہم سوالات باقی ہیں،خصوصاً یہ کہ یہ علاج کتنی مقدار میں انسولین پیدا کرے گا اور اس کے اثرات کتنے عرصے تک برقرار رہیں گے۔اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ بہت سے لوگوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ میں اسے مثبت پیش رفت سمجھتا ہوں اور میں یقینی طور پر اس پر گہری نظر رکھوں گا۔دیگر ماہرین نے بھی احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

یونین فلیگ کا تاریخی نفاذ1606ء میں آج کے روز یونین فلیگ کو انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے بحری جہازوں کے پرچم کے طور پر اختیار کیا گیا۔ یہ پرچم دراصل دونوں سلطنتوں کے اتحاد کی علامت تھا، جس میں انگلینڈ کے صلیب نما نشان اور اسکاٹ لینڈ کے ترچھے صلیب نما نشان کو یکجا کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور علامتی ہم آہنگی کو ظاہر کرنا تھا۔ یونین فلیگ بعد میں برطانیہ کی پہچان بن گیا اور آج بھی ایک اہم قومی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ برائن لاراکا عالمی ریکارڈ12 اپریل 2004ء کو ویسٹ انڈیز کے بلے باز برائن لارا نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ سر انجام دیا۔لارا نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 400 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کھیلی۔یہ اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی، اور یہ ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لارا نے اس سے پہلے بھی 1994ء میں 375 رنز بنا کر انفرادی اننگز کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو بعد میں آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے 2003 ء میں 380 رنز بنا کر توڑا۔لیکن پھر برائن لارا نے ایک سال بعد 2004ء میں اپنا ہی ریکارڈ واپس لے لیا، اور 400 ناٹ آؤٹ کے ساتھ دنیا کو حیران کر دیا۔''سٹریٹ چلڈرن ڈے‘‘سڑکوں پر رہنے والے بچوں کا عالمی دن (International Day for Street Children) ہر سال 12 اپریل کو منایا جاتا ہے۔2011ء میں شروع ہونے والے اس دن کو منانے کا مقصدسڑکوں پر رہنے والے بچوں کے مسائل کو اجاگر کرنا،حکومتوں اور اداروں کو ان بچوں کے حقوق دلانے کیلئے توجہ دلانا اور دنیا بھر میں ایسے بچوں کو تعلیم، صحت، تحفظ، اور ایک بہتر زندگی کا حق دلانے کی کوشش کرناہے۔'' سٹریٹ چلڈرن ‘‘انہیں کہا جاتا ہے جوبچے اپنے خاندانوں سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں اور سڑکوں، پارکوں یا فٹ پاتھوں پر وقت گزارتے ہیں۔برازیل فضائی حادثہ12اپریل 1980ء کو ٹرانس برازیل فلائٹ 303، جو ایک بوئنگ 727 طیارہ تھا، برازیل کے شہر فلوریانوپولِس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ المناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ خراب موسمی حالات میں رَن وے کے قریب پہنچ رہا تھا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارہ تباہ ہو گیا اور اس میں سوار 58 افراد میں سے 55 جاں بحق ہو گئے، جبکہ صرف چند افراد معجزانہ طور پر زندہ بچ سکے۔ اس سانحے نے ہوابازی کی تاریخ میں ایک افسوسناک باب کا اضافہ کیا اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔یورو ڈزنی ریزورٹ کا افتتاح 1992ء میں آج کے روز یورو ڈزنی ریزورٹ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا، جس کے مرکزی تھیم پارک کو یورو ڈزنی لینڈ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تفریحی مقام فرانس کے شہر پیرس کے قریب قائم کیا گیا اور اسے یورپ میں ڈزنی کے تجربے کو متعارف کرانے کیلئے بنایا گیاتھا۔ افتتاح کے وقت دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں پہنچی اور اسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں اس ریزورٹ اور اس کے پارک کا نام تبدیل کر کے ڈزنی لینڈ ریزورٹ پیرس رکھ دیا گیا، تاکہ اس کی شناخت کو مزید واضح اور عالمی سطح پر نمایاں کیا جا سکے۔ یہ مقام آج بھی یورپ کے اہم سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

چاند نے سورج کو چھپایا  Earthset نے دل لبھایا

چاند نے سورج کو چھپایا Earthset نے دل لبھایا

NASA نے ''آرٹیمیس II مشن‘‘ کی پہلی تصاویر عام کر دیںخلائی تحقیق کے شائقین اور سائنس کے دلدادہ افراد کیلئے ایک حیرت انگیز لمحہ آیا ہے، جب ناسا (NASA) نے اپنے آرٹیمیس II مشن کی پہلی تصاویر عام کیں۔ ان تصاویر میں سے ایک خاص طور پر دلکش منظر پیش کرتی ہے، جس میں چاند سورج کو جزوی طور پر چھپاتے ہوئے نظر آ رہا ہے، ایک ایسا نادر اور خوبصورت لمحہ جو خلا کی خوبصورتی اور کائنات کے اسرار کو سامنے لاتا ہے۔اس تصویر کے ساتھ Earthset کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو 1968ء میں اپالو مشن کے دوران کھینچی گئی مشہورEarthrise تصویر کی یاد دلاتا ہے، جب زمین افق سے ابھرتی ہوئی دکھائی دی تھی۔ اس سے نہ صرف خلائی مشنز کی ترقی اور تکنیکی مہارت کی جھلک ملتی ہے بلکہ یہ انسانی جستجو اور خلا کی وسعتوں کو سمجھنے کی لگن کا بھی مظہر ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انسان نے خلا سے زمین یا سورج کے دلچسپ مناظر دیکھے ہوں، مگر آرٹیمیس II کی یہ تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید دور کے خلائی مشن کس حد تک تکنیکی اور بصری اعتبار سے متاثر کن ہیں، اور انسانی تاریخ میں خلا کی تحقیق کے نئے ابواب کھول رہے ہیں۔ناسا نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آرٹیمیس II کے عملے نے 6 اپریل 2026ء کو چاند کے گرد پرواز کرتے ہوئےEarthset کا یہ منظر قید کیا۔ یہ تصویر اس مشہور Earthrise تصویر کی یاد دلاتی ہے جو 58 سال قبل اپالو 8 کے عملے نے لی تھی۔ دوسری تصویر کا عنوانThe Artemis II Eclipse ہے، اور یہ لمحہ دکھاتی ہے جب چاند سورج کو جزوی طور پر چھپاتا ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایکس پر اس تصویر کے ساتھ کہاکہ کل وقتی تاریکی، زمین سے باہر۔ چاند کے مدار سے، چاند سورج کو eclipses کرتا ہے، ایک ایسا منظر دکھاتا ہے جو انسانی تاریخ میں بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے۔یہ تصاویر اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جاری کی گئی ہیں کہ جب ناسا کے خلا نوردوں نے پچاس سال بعد پہلی بار چاند کے دور دراز حصے کے گرد سفر کیا۔ تیسری تصویر میںOrientale basin کے حلقے دکھائے گئے ہیں۔ناسا کے مطابق Orientale basin کے 10 بجے کی پوزیشن پر دو چھوٹے گڑھے ہیں، جنہیں آرٹیمیس II کے عملے نے Integrity اور Carroll نام دینے کی تجویز دی ہے۔ چھ گھنٹے کی چاند کی پرواز کے دوران، آرٹیمیس II کے عملے نے زمین سے 252,756 میل (406,771 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کیا، جو اپالو مشنز کے فاصلے سے زیادہ ہے اور ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔اس دوران، وہ نصف صدی بعد پہلے انسان بن گئے جنہوں نے چاند کے دور دراز حصے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چاند کی سطح سے 41,072 میل (66,098 کلومیٹر) اوپر سے دیکھا گیا منظر ایسا تھا جیسے چاند آپ کے بازو کے فاصلے پر رکھا گیا باسکٹ بال ہو۔وائٹ ہاؤس نےEarthset تصویر شیئر کرنے کے بعد، سوشل میڈیا صارفین نے اسے بے حد خوبصورت قرار دیا۔ ایک صارف نے کہا:یہ اب تک کی سب سے خوبصورت تصویر ہے جو میں نے دیکھی۔ایک اور صارف نے لکھا: ہم بہت چھوٹے ہیں، یہ واقعی ناقابل یقین ہے۔ ایک صارف نے مزید کہا:انسانیت کو زمین کو یاد رکھنے کیلئے ہمیشہ زمین چھوڑنی پڑتی ہے۔ایک اور نے کہا: بالکل غیر حقیقی،چاند کے مدار سے سورج کو چاند کے پیچھے غائب ہوتے دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جو صرف چند ہی انسانوں نے دیکھا ہے۔ ایک نے مزاحیہ انداز میں کہا:یہ واقعی دماغ ہلا دینے والا منظر ہے، لگتا ہی نہیں کہ یہ حقیقت ہو۔ یہ بہادر خلا نورد ابھی اپنے خوابوں کی زندگی گزار رہے ہیں، بہت رشک آ رہا ہے۔جب خلا نورد چاند کے دور دراز حصے کے اوپر سے گزرے، تو انہوں نے نیچے کی سطح کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کیں، تصاویر کھینچیں، خاکے بنائے اور اپنی مشاہدات کی آڈیو ریکارڈنگ بھی کی۔چاند کا دور دراز حصہ زمین سے نظر آنے والے قریب والے حصے سے بالکل مختلف لگتا ہے، یہاں زمین سے دکھائی دینے والے تاریک آتش فشانی میدانوں کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ سطح پر گہرے گڑھے اور موٹی کرسٹ نمایاں ہیں۔ جب خلا نورد اوریون کیپسول میں دور دراز حصے کے اوپر سے گزرے، تو انہوں نے دلچسپ جیومیٹری نما نمونے دیکھے، گھومتی ہوئی شکلیں جنہیں انہوں نے ''squiggles‘‘ کہا، اور اونچی ویران سطح پر غیر متوقع سبز اور بھورے رنگ کے شیڈز بھی دیکھے۔اگرچہ مصنوعی سیارے (satellites) چاند کے دور دراز حصے کی تصاویر لے چکے ہیں، لیکن ان خصوصیات کو انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔خاص طور پر، خلا نوردوں نے چاند کی سطح پر نئے بنے ہوئے گڑھے دیکھے جو چھوٹے چھوٹے سوراخ کی طرح نمایاں تھے، جیسے کسی لیمپ شیڈ پر چھوٹے سوراخ ہوں۔

 109 سالہ خاتون کی ناقابلِ یقین اڑان!

109 سالہ خاتون کی ناقابلِ یقین اڑان!

ایما کا گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کا عالمی ریکارڈ تاحال قائمانسانی عزم، حوصلے اور جستجو کی داستانیں ہمیشہ سے تاریخ کے اوراق کو روشن کرتی آئی ہیں، مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف حیران کن ہوتے ہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کے تصور کو بھی نئی وسعت عطا کرتے ہیں۔109سالہ امریکی خاتون نے گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کر نے کا جوعالمی ریکارڈ قائم کیاتھا، جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت اور تحسین میں مبتلا کر دیاتھا، تاحال برقرار ہے۔ اس غیر معمولی کارنامے نے یہ ثابت کیا تھاکہ عمر محض ایک عدد ہے اور اگر ارادے مضبوط ہوں تو آسمان کی بلندیوں کو بھی چھوا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف بزرگ افراد کیلئے ایک نئی امید اور حوصلے کا پیغام بنا بلکہ نوجوان نسل کیلئے بھی ایک روشن مثال تھا کہ خوابوں کی تعبیر کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔کیا آپ نے کبھی ہمت کی ہے کہ زمین سے میلوں بلند فضا میں جائیں اور نیچے پھیلی دنیا کو دیکھیں؟ خیر، گنیز ورلڈ ریکارڈ میں ہمیں یہ دیکھنا بہت پسند ہے کہ لوگ ریکارڈ قائم کرنے کیلئے کس قدر حیرت انگیز بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔امریکی ریاست اوٹاوہ سے تعلق رکھنے والی ایما کیرل (Emma Carrol ) نے 27 جولائی 2004ء کو انسانیت کیلئے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ انہوں نے خود کو چیلنج کرنے اور کچھ نیا کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی لمحے انہوں نے طے کیا کہ گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کرنا اس مقصد کیلئے بہترین انتخاب ہو گا۔ایما کی پیدائش 18 مئی 1895ء کو ہوئی تھی، اور 109 سال اور 70 دن کی عمر میں انہوں نے گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کرنے والی دنیا کی معمر ترین شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس تاریخی موقع پر، ایما تقریباً ایک گھنٹہ فضا میں رہیں اور اپنے آبائی ریاست کے اوپر معلق رہتے ہوئے اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہوئیں۔ایما کے مطابق یہ وہ کام تھا جو میں ہمیشہ سے کرنا چاہتی تھی۔ ایک آدمی اور اس کی بیوی مجھے (پائلٹ برائن بینیٹ کے ساتھ) لے گئے۔ ہم فضا میں آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ہم اتنی بلندی پر ہیں۔ یہ میرے تمام تجربات سے بڑھ کر تھا۔ اگر ممکن ہوتا تو میں یہ دوبارہ ضرور کرتی!۔عمر نے کبھی بھی ایما کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اپنی 100ویں سالگرہ کے بعد انہوں نے صرف گرم ہوا کے غبارے میں پرواز ہی نہیں کی بلکہ سڑکوں پر موٹر سائیکل کی سواری کا بھی لطف اٹھایا۔ 105 سال کی عمر میں ایما کیرل آئیوا کے وسٹا ووڈز کیئر سینٹر لووا کی رہائشی بن گئیں۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی کے سنہری دور میں داخل ہو چکی تھیں، لیکن وہ خود کو مصروف رکھنے کا سلسلہ جاری رکھتی تھیں اور ہفتے میں دو بار نگہداشت مرکز کیلئے تولیے تہہ کرنے میں مدد دیتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے کام کرنا اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنا پسند ہے۔ اس سے میرے ہاتھ فعال رہتے ہیں، لچکدار رہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کام کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔10 جولائی 2007ء کو، 112 سال اور 53 دن کی عمر میں، ایما اسی نگہداشت مرکز میں انتقال کر گئیں، لیکن ان کی یادیں اور کارنامے آج بھی زندہ ہیں۔اتنے برس گزر جانے کے باوجود آج تک کوئی بھی ان کا یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکا۔ وہ ہمیشہ اپنی حیرت انگیز فضائی پرواز کے باعث یاد رکھی جائیں گی، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور ہمیں ہمیشہ خود کو نئے اور غیر متوقع چیلنجز کیلئے تیار رکھنا چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!احمد رشدی عظیم پلے بیک گلو کار (1983-1934ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!احمد رشدی عظیم پلے بیک گلو کار (1983-1934ء)

٭...24اپریل 1934ء کو حیدر آباد دکن میں پیداہوئے، پورا نام سید احمد رشدی تھا۔ ٭...ابتداء میں حیدرآباد دکن میں موسیقی کی ایک اکیڈمی میں داخلہ لیا۔بعد میں استاد نتھو خان سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔٭...پاکستان آنے کے بعد موسیقی کے پروگرامز میں حصہ لینا شروع کیا۔ پھر ریڈیو پاکستان پر گانا شروع کر دیا۔ ٭...انہوں نے اپنا پہلا غیر فلمی گانا ''بندر روڈ سے کیماڑی‘‘ گایاجو ریڈیو پاکستان کے شو ''بچوں کی دنیا‘‘ میں پیش کیاگیا۔ اس گانے کے بعد انہیں فلموں میں گیت گانے کی پیشکش کی گئی۔٭...1954ء میں انہوں نے دیگر گلوکاروں کے ساتھ پاکستان کا قومی ترانہ ریکارڈ کرایا۔٭...1956ء میں فلم ''انوکھی‘‘ کیلئے احمد رشدی کے گائے ہوئے نغمات بہت مشہور ہوئے۔٭...1959ء میں فلم ''راز‘‘ میں بھی انہوں نے بہت دلکش گیت گائے جن میں ''چھلک رہی ہیں مستیاں‘‘ اور ''چل نہ سکے گی 420‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔٭...1961ء میں فلم ''سپیرن‘‘ کا گیت ''چاند سا مکھڑا گورا بدن‘‘ گایا جو بے پناہ مقبول ہوا۔ جس پر انہیں بہترین پلے بیک سنگر کا نگار ایوارڈ ملا۔ ٭...1962ء میں مقبول عام گیت '' گول گپے والا آیا، گول گپے لایا‘‘ گایا،یہ گیت علائو الدین پر فلمبند کیا گیا۔ ٭...1966ء میں فلم '' ارمان‘‘کا گیت ''کوکوکورینا‘‘ گایا۔ اس گیت نے پورے ملک میں دھوم مچا دی۔ ٭...1950ء کی دہائی میں انہیں مقبولیت ملنا شروع ہوئی جو 1980ء تک جاری رہی۔ ٭...وہ پاکستانی سینما کی تاریخ میں سب سے زیادہ فلمی گیت گانے والے گلوکار ہیں۔٭... انہوں نے 583 فلموں کیلئے تقریباً 5ہزار گیت گائے۔ ان میں اردو، انگریزی، پنجابی، بنگالی، سندھی اور گجراتی زبان کے گیت شامل ہیں۔٭...رشدی کو اونچے اور دھیمے سروں میں گانے پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ ٭...ان کے گائے ہوئے گیت وحید مراد، ندیم، محمد علی، سنتوش کمار، درپن، حبیب، رحمان، شاہد، قوی خان، غلام محی الدین اور راحت کاظمی پر پکچرائز کئے گئے۔٭...1963ء میں فلم ''جوکر‘‘ کیلئے حبیب جالب کی غزل ''شوق آوارگی‘‘ اور فلم ''خاموش رہو‘‘ میں ''میں نہیں مانتا‘‘ گائی۔ ٭...1970ء میں ندیم کی پہلی فلم ''چکوری‘‘ ریلیز ہوئی۔ احمد رشدی نے روبن گھوش کی موسیقی میں چار گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔٭...1983ء میں11اپریل کو یہ بے مثل گلوکار 48برس کی عمر میں انتقال کر گیا۔ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ مقبول گیت(1)اے ابر کرم آج اتنا برس کے وہ جا نہ سکیں(2)جان تمنا خط ہے تمہارا(3)کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے(4)زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم(5)اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم (6)جب رات ڈھلی تم یاد آئے(7)کوئی یوں بھی روٹھتا ہے(8)اے ماں پیاری ماں(9)حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتاہے(10)دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری

آج کا دن

آج کا دن

''ایپل ون‘‘ کمپیوٹر کی ایجادمعروف موبائل ساز کمپنی کا مشہور زمانہ ''ایپل ون‘‘ کمپیوٹر1976ء میں آج کے دن بنایا گیا۔''ایپل ون‘‘ دراصل ایپل کمپیوٹر کے نام سے جاری کیا گیا تھالیکن بعد میں اس کا نام ایپل ون رکھ دیا گیا۔یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھا۔اسے سٹیو ووزنیاک نے ڈیزائن کیا تھا۔ کمپیوٹر کو فروخت کرنے کا خیال ووزنیاک کے دوست اور شریک بانی سٹیو جابز نے پیش کیا۔'' ایپل ون‘‘ ایپل کمپنی کی پہلی پروڈکٹ تھا اور اس کی تخلیق کیلئے مالی اعانت کیلئے جابز نے اپنی واحد موٹرائزڈمائیکرو بس کو چند سو ڈالر میں فروخت کیا ۔ ''اپالو13‘‘کی چاند کی جانب پرواز 1970ء میں آج کے دن معروف خلائی مشن ''اپالو 13‘‘ نے چاند کی طرف اڑان بھری۔ اس مشن کے دوران خلائی جہاز میں 3خلاباز سوار تھے۔ ''اپالو 13‘‘ کو حادثے کا سامنا اس وقت کرنا پڑاجب اس میں موجود ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکہ ہوا۔ٹینک کے پھٹنے سے ''اپالو13‘‘ میں متعدد تکنیکی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ ''اپالو 13‘‘ چھ دن بعد اپنے عملے کے ہمراہ واپس آگیا اور خوش قسمتی سے عملے کے کسی بھی فرد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام 1919ء کو آج کے دن انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام عمل میں آیا۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اقوام متحدہ کا مخصوص ادارہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کے حقوق اور محنت و مشقت کے متعلق کام کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مزدوروں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم ہے۔ اس کے مرکزی دفتر کے علاوہ سیکرٹریٹ بھی قائم ہے جو عالمی دفتر برائے محنت کے نام سے موسوم ہے۔امریکہ کا بوخن کیمپ پر حملہ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے بوخن والڈ حراستی کیمپ پر حملہ کرکے وہاں موجود قیدیوں کو آزاد کروایا۔بوخن والڈ جولائی 1937ء میں جرمنی کے شہر ویمار کے قریب پہاڑی پر قائم کیا گیا ایک نازی حراستی کیمپ تھا۔ اس وقت کی جرمن سرحدوں میں یہ سب سے بڑا حراستی کیمپ تھااور یہاں پر قیدیوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔یہاں پر قید لوگوں کو یورپ اور سوویت یونین سے لایا گیا تھا جن میں زیادہ تر بیمار، معذور اور کمزور افراد تھے۔ ان تمام قیدیوں سے اسلحہ ساز فیکٹریوں میں جبری طور پر کام کروایا جا رہا تھا۔امیر عبداللہ کا تاریخی اقدام1921ء میں عبداللہ اوّل بن الحسین نے نو قائم شدہ برطانوی زیر سرپرستی علاقے ٹرانس جارڈن میں پہلی مرکزی حکومت قائم کی۔ یہ اقدام اس خطے میں باقاعدہ نظم و نسق کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔ برطانوی حکومت کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس حکومت نے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور مقامی سطح پر حکمرانی کے نظام کو منظم کیا۔ بعد ازاں یہی علاقہ ترقی کرتے ہوئے موجودہ اردن کی شکل اختیار کر گیا، اور امیر عبداللہ اس کے پہلے حکمران اور بانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔