لاپتہ جنگی جہازکا ملبہ دریافت
اسپیشل فیچر
ایک صدی پرانا راز بے نقاب
پہلی جنگ عظیم کے ایک دیرینہ راز سے آخرکار پردہ اُٹھ گیا، برطانوی غوطہ خوروں نے ایک صدی سے زائد عرصے بعد امریکی جنگی جہاز کے ملبے کو دریافت کر لیا ہے۔ یہ جہاز 1918ء میں جرمن آبدوز کے تارپیڈو حملے کے نتیجے میں تباہ ہو کر سمندر کی گہرائیوں میں گم ہو گیا تھا۔
حالیہ دریافت کارن وال (Cornwall) کے ساحل کے قریب عمل میں آئی، جس نے نہ صرف تاریخ کے ایک اہم باب کو دوبارہ زندہ کر دیا بلکہ اُن درجنوں جانوں کی یاد بھی تازہ کر دی جو اس سانحے میں ضائع ہو گئی تھیں۔ یہ پیشرفت سمندری تحقیق اور تاریخی کھوج کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ کا جہاز108 سال قبل سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔اب اسے نیوکی (Newquay) کے ساحل سے تقریباً 50 میل دور گہرے سمندر میں غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے تلاش کیا ہے۔اس جہاز پر موجود تمام 131 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ برطانوی شہری بھی شامل تھے۔
غوطہ خور ٹیم کے 54 سالہ رکن ڈومینک روبنسن کہتے ہیں کہ وہ پچھلے تین سال سے اس جہاز کی تلاش میں تھے ۔ٹیم نے اس جہاز کو تلاش کرنے کیلئے برطانیہ کے ہائیڈروگرافک آفس سے حاصل کردہ معلومات، بشمول سمندر کی تہہ کے ڈیٹا کا استعمال کیا۔انہوں نے جرمن ریکارڈز کا بھی تجزیہ کیا جو اس آبدوز سے متعلق تھے جس نے یہ جہاز تباہ کیا تھا، اور پچھلے تین سالوں میں متعدد غوطے لگا کر اس کی تلاش جاری رکھی۔ 26 اپریل کو بالآخر انہیں یہ حیران کن کامیابی حاصل ہوئی۔
ٹیم نے اپنی دریافت کے نتائج امریکی کوسٹ گارڈ کے سامنے پیش کر دیے ہیں، اور مسٹر رابنسن کا کہنا ہے کہ انہیںپورا یقین ہے کہ انہوں نے ''ٹامپا‘‘(TAMPA) کو ہی دریافت کیا ہے۔اصل میں ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہم نے ہر ممکن جگہ دیکھ لی ہے جہاں یہ ہو سکتا تھا اور ہم تقریباً ہار ماننے ہی والے تھے، لیکن پھر ہم مزید نیچے گئے اور اسے تلاش کر لیا۔انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاز کا ملبہ پانی کے نیچے صرف ایک جہاز ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سیلٹک سمندر میں، یہ جہاز کارن وال اور آئرلینڈ کے درمیان، 100 سال سے زیادہ عرصے سے پڑا ہوا ہے، اس لیے اسے طوفانوں اور ایک صدی سے زائد عرصے نے بری طرح متاثر کیا ہے۔جبکہ اسے پہلے تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ جس چیز کی تلاش میں تھے ان میں لنگر، بڑے پتھر، انجن شامل تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس جہاز پر بندوقیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی موجود تھا۔یہ ایک مضبوط اور اعلیٰ معیار کا بنایا گیا جہاز تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مختلف جہازوں کی تلاش میں غوطے لگائے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کس دور میں استعمال ہوتے تھے۔ ہم نے برتن بھی دیکھے جن پر ''نیو جرسی‘‘ لکھا ہوا تھا، جو فوراً امریکہ سے تعلق کی ایک واضح نشانی تھی۔
''ٹامپا‘‘ جہاز پہلی جنگ عظیم کے دوران قافلوں کی حفاظت کیلئے تعینات تھا، تاکہ جرمن آبدوزوں سے ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ جہاز جبرالٹر اور انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے درمیان سمندری راستے پر ڈیوٹی انجام دیتا تھا۔26 ستمبر 1918ء کو TAMPA نے ایک قافلے کو چھوڑا ہی تھا کہ اسے تارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ رابنسن کے مطابق وہ دن کافی دھندلا تھا اور قافلے سے الگ ہونے کے تقریباً چار گھنٹے بعد انہوں نے ایک بڑا دھماکہ سنا اور اس کے بعد TAMPA دوبارہ کبھی نظر نہیں آیا۔چونکہ موسم دھندلا تھا اور کوئی واضح سراغ نہیں ملا، اس لیے اس کا مقام ہمیشہ غیر واضح رہا۔
انہوں نے مزید بتایاکہ امریکہ نے بعد میں بھی TAMPA نام کا ایک جہاز سروس میں رکھا۔بہت سے لوگوں نے TAMPA کو تلاش کرنے کی کوشش کی، جن میں ہم بھی شامل ہیں ۔یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ کوئی ایک دن کی کامیابی نہیں بلکہ تین سال کی مسلسل محنت اور بہت سے دوسرے غوطہ خوروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
رابنسن کا کہنا تھا کہ اس قسم کی غوطہ خوری انتہائی سخت نوعیت کی ہوتی ہے ۔چونکہ یہ ملبہ تقریباً 100 میٹر کی گہرائی میں موجود تھا، اس لیے ٹیم کو سمندر کی تہہ میں صرف تقریباً 20 منٹ گزارنے کی اجازت ہوتی تھی، جس کے بعد انہیں سطح پر آہستہ آہستہ واپس آنے کیلئے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک ڈی کمپریشن (decompression) کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ہم نے یہ تمام معلومات جمع کیں اور امریکی کوسٹ گارڈ کو پیش کیں، جنہوں نے ویڈیو اور تصاویر کا جائزہ لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ہم نے TAMPA ہی کو تلاش کیا ہے۔