طنزومزاح: نجات کا طالب غالب
اسپیشل فیچر
''ہاہاہا۔ میرا پیارامیر مہدی آیا۔ غزلوں کا پشتارہ لایا۔ ارے میاں بیٹھو، شعر و شاعری کا کیا ذکر ہے۔ یہاں تو مکان کی فکر ہے۔ یہ مکان چار روپے مہینے کا ہر چند کہ ڈھب کا نہ تھا لیکن اچھا تھا۔ شریفوں کا محلہ ہے۔ پہلے مالک نے بیچ دیا۔ نیا مالک اسے خالی کرانا چاہتا ہے۔ مدد لگا دی ہے۔ پاڑ باندھ دی ہے۔ اسی دوگز چوڑے صحن میں رات کو سوتا ہوں۔ پاڑ کیا ہے۔ پھانسی کی کٹکر نظر آتی ہے۔ منشی حبیب اللہ ذکا نے ایک کوٹھی کا پتہ دیا تھا جو شہر سے باہر ہے۔ سوار ہوا۔ گیا۔ مکان تو پر فضا تھا۔ احاطہ بھی، چمن اور گل بوٹے بھی۔ لیکن حویلی اور محل سرا الگ الگ نہ تھے۔ ڈیوڑھی بھی نہ تھی۔ بس ایک پھاٹک تھا۔ کمرے اور کوٹھریاں خاصی۔ کمروں کے ساتھ کولکیوں میں چینی مٹی کے چولہے سے بھی بنے تھے۔ معلوم ہوا بیت الخلاء ہیں۔ صاحبان انگریزان پر چڑھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک زنجیر کھینچتے ہی پانی کا تریڑا آتا ہے۔ سب کچھ بہالے جاتا ہے۔
عجیب کارخانہ ہے۔ میں نے کرایہ پوچھا اور جھٹ کہا پانچ روپے منظور۔ ایک روپیہ زائد کی کچھ ایسی بات نہیں۔ لیکن مالک مکان کا کارندہ ہنسا اور بولا۔ پانچ روپے نہیں مرزا صاحب! پانچ سوروپے۔ میں نے کہا۔ خریدنا منظورنہیں۔ کرائے پر لینا ہے۔ وہ مردک سر ہلا کر کہنے لگا۔ پانچ سو کرایہ ہے اور دوسال کا پیشگی چاہیے یعنی بارہ ہزار دو اور آن اترو۔
یہاں چتلی قبر کے پاس دھنا سیٹھ نے حویلی ڈھاکر اونچا اونچا ایک مکان بنایا ہے۔ دو دو تین تین کمرے کے حصے ہیں۔ کلیان کو بھیجا تھا۔ خبر لایا کہ وہ پگڑی مانگتے ہیں۔ میں حیران ہوا۔ تمہیں معلوم ہے، میں پگڑی عمامہ کچھ نہیں باندھتا۔ ٹوپی ہے ورنہ ننگے سر۔ لوہارو والوں کے ہاں سے جو پگڑی پارسال ملی تھی، وہ نکلوا کے بھجوادی کہ دیکھ لیں اور اطمینان کرلیں کہ مکان ایک مرد معزز کو مطلوب ہے۔ وہ الٹے پاؤں آیا کہ یہ دستار نہیں چاہیے رقم مانگتے ہیں دس ہزار۔ کرایہ اس کے علاوہ ساٹھ روپے مہینہ۔ بڑے بدمعاملہ لوگ ہیں۔ آخر پگڑی پھر صندوق میں رکھوا دی۔ یہ مالک مکان کل آتا ہے۔ دیکھیے کیا کہتا ہے۔
میرن صاحب آئیں۔ شوق سے آئیں۔ لیکن یہ گانے بجانے والوں میں نوکری کا خیال ہمیں پسند نہیں۔ میں نے دیکھا نہیں لیکن معلوم ہوا ہے کہ ایک کوٹھی میں مشینیں لگا کر اس کے سامنے لوگ گاتے ناچتے ہیں۔ شعر پڑھتے ہیں۔ تقریریں کرتے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں ایک ڈبا سامنے رکھ کر سن لیتے ہیں بلکہ اب تو اور ترقی ہوئی ہے۔ ایک نیا ڈبہ انگریز کاریگروں نے نکالا ہے۔ اس میں ایک گھنڈی ہے، اسے مروڑنے پر سننے کے علاوہ ان ارباب نشاط کی شکلیں بھی گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔
ایک خط ان میں سے ایک جگہ سے میرے پاس بھی آیا تھا۔ آدمی تو یہیں کے ہیں لیکن انگریزی میں لکھتے ہیں۔ بہت دنوں رکھا رہا۔ آخر ایک انگریزی خواں سے پڑھوایا۔ مشاعرے کادعوت نامہ تھا۔ کچھ حق الخدمت کا بھی ذکر تھا۔ میں تو گیا نہیں۔ دوبارہ انہوں نے یاد کیا نہیں۔ چونکہ پیسے دیتے ہیں۔ سرکاروں درباروں کی جگہ ان لوگوں نے لے لی ہے۔ جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں۔ میرن صاحب مجھے جان سے عزیز لیکن ان لوگوں سے سفارش کیا کہہ کر کروں کہ سید زادہ ہے؟ اردو فارسی کا ذوق رکھتا ہے؟ اسے نوکر رکھو۔ اچھا رکھ بھی لیا تو کاپی نویسوں میں رکھیں گے۔ میر مہدی یہ وہ زمانہ نہیں۔ اب تو انگریز کی پوچھ ہے یا پھر سفارش چاہیے۔
خط لکھ لیا۔ اب محل سرا میں جاؤں گا۔ ایک روٹی شوربے کے ساتھ کھاؤں گا۔ شہر کا عجب حال ہے۔ باہر نکلنا محال ہے۔ ابھی ہرکارہ آیا تھا۔ خبر لایا کہ ہڑتال ہو رہی ہے۔ ہاٹ بازار سب بند۔ لڑکے جلوس نکال رہے ہیں۔ نعرے لگا رہے ہیں۔ کبھی کبھی لڑکوں اور برقندازوں میں جھڑپ بھی ہوجاتی ہے۔ میر مہدی معلوم نہیں اس شہر میں کیا ہونے والا ہے۔ میرن کو وہیں روک لو۔ میر سرفراز حسین اور میر نصیر الدین کو دعا۔