70 فیصد انٹرنیٹ کی بندش، دنیا بھر میں ہنگامی حالتکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ہی دن میں دنیا بھر کی 70فیصد سے زائد ویب سائٹس یا تو بند ہونے پر مجبور ہو جائیں یا سائبر حملوں کے شدید خطرے کی زد میں آ جائیں؟ یہ حالیہ ڈیجیٹل بحران اس وقت پیدا ہوا جب انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ ایسی سنگین نقائص اور کمزوریاں سامنے آئیں جن سے پہلے دنیا غافل تھی۔ اس واقعہ نے نہ صرف عالمی سطح پر کاروباری اداروں، حکومتوں اور عام صارفین کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی کتنی نازک ڈور سے بندھی ہے۔ جیسے ہی یہ خامیاں آشکار ہوئیں، دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ 21اکتوبر کو دنیا بھر میں سرکاری پورٹلزاور ہزاروں ویب سائٹس بند ہو گئیں، کیونکہ ویب سائٹ آپریٹرز دو انتہائی اہم سوفٹ ویئر خامیوں سے بچاؤ کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہے تھے۔ یہ خلل ''پی ایچ پی‘‘ (PHP) نامی پروگرامنگ لینگویج میں موجود کمزوریوں کے باعث پیدا ہوا، جو دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ حملے کے خدشات کے پیش نظر نیدرلینڈز، فن لینڈ، فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک میں ویب سائٹس اور آن لائن خدمات کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا۔امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) اور ایف بی آئی (FBI) نے پی ایچ پی استعمال کرنے والی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ سکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال نہیں کر سکتیں، تو وہ متاثرہ سسٹمز کو آف لائن کر دیں۔ امریکہ کی بڑی ویب سائٹس اور آن لائن سروسز، بشمول ایٹسی (Etsy)، ویکیپیڈیا (Wikipedia) اور ناسا (NASA) پی ایچ پی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہیں، جو شاپنگ، معلومات اور سرکاری خدمات میں اس سافٹ ویئر کی وسیع رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور برطانیہ کی سائبر سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی پی ایچ پی صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں یا فکسز (Fixes) لگانے تک متاثرہ ویب سائٹس کو آف لائن کر دیں۔ان خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز کسی پاس ورڈ یا اکاؤنٹ کے بغیر متاثرہ سرورز کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک کامیاب حملہ مجرموں کو سرور پر ذخیرہ شدہ معلومات چوری کرنے یا کسی قابلِ اعتماد ویب سائٹ کو اس کے وزٹرز پر حملے کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ''کلاؤڈ فلیئر‘‘ (Cloudflare) نے سائبر حملوں کے شواہد کی اطلاع دی ہے، جبکہ دوسری جانب ویب سائٹ آپریٹرز سکیورٹی فکسز (Security Fixes) انسٹال کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ڈروپال ایسوسی ایشن(Drupal Association) کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فیرس(Tiffany Farriss) کے مطابق ''پچھلے 20 سالوں میں جاری ہونے والے ''پی ایچ پی‘‘ کے کسی بھی ورژن کو استعمال کرنے والے تمام سرورز اس خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ مسئلہ انٹرنیٹ کے ایک بہت بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے‘‘۔ انٹرنیٹ انٹیلی جنس فرم ''سینسز‘‘ (Censys) کے اعداد و شمار کے مطابق، 26 لاکھ ہوسٹس میں سے تقریباً 15 لاکھ نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ پی ایچ پی کا ایسا ورژن چلا رہے ہیں جس کی اصلاح کیلئے فی الحال کوئی اپ ڈیٹ موجود نہیں ہے۔ یہ دونوں خامیاں اس بات سے متعلق ہیں کہ پی ایچ پی سرور کی میموری کو کس طرح ہینڈل کرتا ہے۔ ان میں سے ایک خامی میموری کا مسئلہ پیش آنے پر سافٹ ویئر کو معلومات کی غلط پروسیسنگ پر مجبور کر سکتی ہے، جبکہ دوسری خامی سافٹ ویئر کو میموری کی اس معلومات کو دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے جو پہلے ہی جاری کی جا چکی ہو۔اگرچہ سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم ''پیچ سٹیک‘‘ (Patchstack) کا کہنا ہے کہ اسے سائبر حملوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، لیکن ان حملوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ایچ پی کی دیکھ بھال کرنے والی سکیورٹی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پیچز (Patches) جاری کر دیے ہیں۔ اب ویب سائٹ آپریٹرز کو ہیکرز سے پہلے ان اپ ڈیٹس کو انسٹال کرنے کی ریس کا سامنا ہے، کیونکہ ہیکرز مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان اپ ڈیٹس کا تجزیہ کر کے ان سسٹمز پر حملے کرنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں جو ابھی تک غیر محفوظ ہیں۔ ان کمزوریوں کو دریافت کرنے والی سکیورٹی کمپنی ''کیلف‘‘ (Calif) کے چیف ایگزیکٹو تھائی ڈونگ نے ''دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کو بتایا کہ ٹوئٹر (ایکس) پر کوئی بھی شخص ان پیچز کو اٹھا کر اس پر AI کا استعمال کر سکتا ہے اور حملے کا کوئی طریقہ پوسٹ کر سکتا ہے۔اس کے بعد ایک آفت یا تباہی مچ جائے گی۔یورپی یونین کی تکنیکی سائبر سیکیورٹی مشاوارتی باڈی ''سرٹ ای یو‘‘ (CERT-EU) کے مطابق ''تنظیموں کو چاہیے کہ جب تک اصلاحی اپ ڈیٹ (Fix) دستیاب نہ ہو، وہ انٹرنیٹ سے منسلک ایپلی کیشنز کو پبلک نیٹ ورکس سے الگ کرنے پر غور کریں۔نیدرلینڈز میں، قومی سائبر سکیورٹی سینٹر کی پیروی کرتے ہوئے متعدد تنظیموں نے عوام کی رسائی والی ویب سائٹس کو آف لائن کر دیا۔ان میں روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل Overheid.nl، قومی فٹبال ایسوسی ایشن (KNVB)، ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد ہسپتالوں کی ویب سائٹس شامل تھیں۔ڈنمارک کی میونسپل آئی ٹی کمپنی ''کومبٹ‘‘ (Kombit) کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے قومی اسکول کمیونیکیشن پلیٹ فارم سمیت متعدد خدمات کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔یہ خلل فن لینڈ میں اور بھی زیادہ وسیع تھا، جہاں سرکاری آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والے ادارے ''والٹوری‘‘ (Valtori) نے کہا کہ حفاظتی تدبیر کے طور پر حکومت کی عوامی نیٹ ورک خدمات کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اپ ڈیٹ کا انتظار کرتے ہوئے مقامی حکومتی انتظامی ویب سائٹس کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا ہے۔ کنگز کالج لندن کے وزٹنگ سینئر ریسرچ فیلو، لوکاس اولیجونک کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بڑھنے والے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیے جانے والے ہیکنگ کے حملے اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔پی ایچ پی (PHP) ایک ایسی پروگرامنگ لینگویج ہے جو ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ جب کوئی وزٹر کوئی پیج لوڈ کرتا ہے، تو PHP چلانے والا سرور مواد کو یکجا کرتا ہے اور اسے براؤزر پر بھیجتا ہے۔