بابراعظم اور فخر زمان کی انجری،عاقب جاوید کا تحقیقات کا اعلان

بابراعظم  اور فخر زمان کی انجری،عاقب جاوید کا تحقیقات کا اعلان

ورلڈکپ میں جیساچاہتے تھے ویساپرفارم نہ کرسکے ، پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمے داری ،میراکوئی حصہ نہیں :سرفرازاورمصباح کیساتھ پریس کانفرنس

لاہور(سپورٹس ڈیسک )قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کہاہے کہ بابر اعظم انجرڈ ہیں اس لیے وہ بنگلہ دیش سیریز میں شامل نہیں جبکہ فخر زمان بھی انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے دو پلیئرز ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے ۔لاہور میں قومی سلیکشن کمیٹی کے ارکان سرفراز احمد اور مصباح الحق کیساتھ پریس کانفرنس میں عاقب جاوید نے کہا کہ یہ جاننا ہے کہ کیا وہ ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے ، ورلڈ کپ سے بڑی امیدیں تھیں مگر ہم اس طرح پرفارم نہیں کرسکے جیسا کرنا چاہیے تھا۔ بھارت کے ساتھ رزلٹ اب تک 8 صفر ہے اس میں سب شامل ہیں مگر انڈیا کا میچ الگ کر دیں باقی آپ ایک میچ ہارے ہیں۔ ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا اور سیمی فائنل میں باہر ہو جاتے ہیں، اس پر سب کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ سب ختم ہو گیا یہ کر دیں وہ کر دیں۔

بابر اعظم سمیت کسی کے ورلڈ کپ کے جانے نہ جانے کے حوالے سے ملکر فیصلہ ہوا جبکہ بنگلہ دیش میں ہم نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے ۔ بابر اعظم ، فخر زمان اور سلمان مرزا کھیلنے کے لیے فٹ نہیں ہیں اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر فائنل میں پہنچ جاتے تو یہ کیا کھیلنے کیلئے فٹ ہوتے ۔ ہمیں امید تھی کہ سیمی فائنل میں پہنچیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہ طے ہے پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمے داری ہے ، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر 11 پلیئرز کا فیصلہ کریں، پلیئنگ الیون کی تشکیل میں میرا کوئی حصہ نہیں۔ یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ہونی چاہیے انہوں نے گراونڈ میں لڑانا ہوتا ہے ، ورلڈ کپ کی پلئینگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا اور یہ وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا۔

ہر سٹیک ہولڈر کی جو ذمے داری بنتی ہے وہ لینی چاہیے ، ہم ہر ایونٹ کے بعد کہتے ہیں سکروٹنی ہونی چاہیے سب بدل دو، چیئرمین بدل دو، سلیکٹرز بدل دو ،کپتان بدل دو ،یہ سب ہم ہر ہار کے بعد کہتے ہیں۔ ہم نے سب سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں ،میں سمجھتا ہوں کہ ڈویلپمنٹ نہیں ہورہی اور 2009 کے بعد ہماری ڈیویلپمنٹ اس طرح نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے ۔ جیسن گلیسپی نے کہا تھا کہ 15 رکنی ٹیم میں تبدیلی نہیں ہو گی لہٰذا تب فیصلہ ہوا تھا کہ سلیکشن کمیٹی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ ہماری انڈر سٹینڈنگ یہی تھی کہ کوچ کوفری ہینڈ بھی ملنا چاہیے ، ہم نے اس مرتبہ بھی 20 پلیئرز د یئے اور اس میں سے وہ دیکھے کہ کمبی نیشن کے لیے کیا مناسب ہیں۔

ہ انٹرنیشنل ایونٹس کی مناسبت سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس نہیں ہوتے مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ایونٹ کی بنیاد پر انٹرنیشنل ایونٹ کیلئے منتخب کرلیں۔  دوسری جانب سرفراز احمد نے کہا کہ تین چار وکٹ کیپرز پائپ لائن میں ہیں جن میں حسیب اللہ اور روحیل نذیر بھی شامل ہیں جبکہ غازی غوری کی حالیہ فارم اچھی رہی ہے ڈویلپمنٹ کے طور پر غازی غوری اچھا آپشن تھے ، شامل حسین کی ڈومیسٹک پرفارمنس شاندار رہی ہیں۔قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کو کہاں کس پلیئر کی ضرورت ہے ، میرے پاس اس وقت جو ذمہ داری ہے اسی پر فوکس ہے ۔ جب بھی موقع ملتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاؤں، کپتانی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن غلطیاں کھیل کا حصہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں