اٹھارہ ہزاری:کئی ماہ سے سرکاری آٹا غائب

  اٹھارہ ہزاری:کئی ماہ سے سرکاری آٹا غائب

آٹے کی عدم فراہمی سے غریب اور متوسط طبقہ شدید پریشان،فوری نوٹس لینے کامطالبہ

 اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا) تحصیل اٹھارہ ہزاری میں کئی ماہ سے سرکاری آٹے کی مسلسل عدم دستیابی نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تحصیل بھر کے کسی بھی سرکاری سیل پوائنٹ یا مجاز دکان پر سرکاری آٹا دستیاب نہیں، جس کے باعث ہزاروں خاندان مہنگے داموں پر نجی آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔شہریوں کے مطابق حکومت کی جانب سے 20 کلوگرام سرکاری آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ہزار 810 روپے مقرر ہے ، جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہی تھیلا دو ہزار 800 روپے تک فروخت ہو رہا ہے ۔ قیمتوں کے اس نمایاں فرق نے مہنگائی سے متاثرہ عوام کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے ، جبکہ کم آمدن والے خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود سرکاری آٹے کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی، جس سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری آٹے کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق افراد حکومتی سبسڈی سے حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر فیصل آباد، ڈپٹی کمشنر جھنگ، اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین عوامی مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحصیل اٹھارہ ہزاری میں سرکاری آٹے کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنائیں تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو فوری ریلیف مل سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...