چناب کی 79سالہ تاریخ میں 15بڑے سیلابوں سے تباہی
ہر سیلاب کے بعد تباہی کا حساب کیا گیا لیکن مستقل حل کی منصوبہ بندی نہ ہو سکی
علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر)دریائے چناب کی 79سالہ سیلابی تاریخ میں تقریباً 15بڑے سیلاب آئے مگر پانی ذخیرہ کرنے کا مؤثر نظام آج بھی خواب ہے ۔دریائے چناب کی بے رحم موجیں گزشتہ 79برس کے دوران تقریباً 15مرتبہ چھوٹے بڑے سیلابی ریلوں کی صورت میں آبادیوں، فصلوں اور انسانی زندگیوں کے لیے تباہی کا پیغام لاتی رہیں مگر ہر سیلاب کے بعد تباہی کا حساب تو کیا گیا لیکن مستقل حل کی منصوبہ بندی نہ ہو سکی۔ 2025 کے سیلاب نے کئی ریکارڈ پیچھے چھوڑ د ئیے جس نے ایک بار پھر سیلابی خطرات، ناقص منصوبہ بندی اور پانی ذخیرہ نہ کرنے کے قومی المیے کو نمایاں کر دیا۔دریائے چناب پاکستان کے اہم اور نسبتاً زیادہ سیلابی مزاج رکھنے والے دریاؤں میں شمار ہوتا ہے ۔ اس کے پانی کا بڑا حصہ جموں و کشمیر اور بالائی کیچمنٹ علاقوں سے آنے والے دریائی ریلوں، برف پگھلنے اور مون سون کی شدید بارشوں کے باعث اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ جب معاون ندی نالے بھی بپھر جائیں تو چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو جاتی ہے جس سے اس کے کناروں پر آباد بستیاں، زرعی زمینیں اور انفراسٹرکچر براہ راست خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں۔ 1892 میں ہیڈ خانکی کے مقام سے نہری نظام نکالا گیا جو وسیع زرعی علاقے کو سیراب کرنے کا ذریعہ بنا۔ بعد ازاں برطانوی دور حکومت میں 1912 میں ہیڈ مرالہ بیراج تعمیر کیا گیا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments