سندھ کے پرائمری اساتذہ کا5 سال سے سروس اسٹرکچر التوا کاشکار
احتجاج کابھی نوٹس نہیں لیا گیا، ہزاروں اساتذہ حق کیلئے دربدر ہیں، یونین رہنما
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن سٹی حیدرآباد کے صدر محمد روشن مشوری نے پریس کانفرنس میں کہاہے کہ محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری شعبے کے اساتذہ کو دیوار سے لگا دیا۔ اساتذہ اپنے منظور شدہ سروس اسٹرکچر 2021کے لیے گزشتہ پانچ برس سے سراپا احتجاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکنڈری سائیڈ کے افسران اور اساتذہ کی ترقیوں کا ہر چھ ماہ بعد اعلان کیا جاتا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے ، جو قابل تعریف اقدام ہے ، تاہم سندھ سیکریٹریٹ میں ایک مخصوص لابی اساتذہ کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ان کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائمری تعلیم معاشرے کی بنیاد ہیں، مگر محکمہ تعلیم سندھ کی وزارت نے ان کے مسائل کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ میرٹ پر بھرتی اساتذہ تنخواہوں کے حصول کے لیے کراچی تک احتجاج پر مجبور ہیں، مگر سندھ حکومت اور محکمہ تعلیم کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ تنخواہیں جاری نہ ہونے کے باوجود نئے اساتذہ قرض لے کر باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ تعلیم نے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کر رکھا ہے جبکہ پرائمری اساتذہ اور معلمات ذہنی دبا کا شکار ہیں۔ انہوں نے پ ٹ الف کے مرکزی صدر حاجی شفیع سیو اور جنرل سیکریٹری سکندر جتوئی سے بھی اپیل کی کہ سروس اسٹرکچر 2021کے لیے میدان میں آئیں۔ انہوں نے کہا ہمیں خودسوزی پر مجبور کیا جارہا ہے۔