کھاد کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ،کسان پریشان

کھاد کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ،کسان پریشان

کھاد کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ،کسان پریشان قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی بھی شکایات

سرگودھا (سٹاف رپورٹر) حکومت کی عدم توجہی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث کھاد کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا، جس سے پہلے ہی مہنگائی اور مہنگے زرعی مداخل کے بوجھ تلے دبے کسانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 5 ہزار روپے تک اضافہ ہوچکا ہے ، جبکہ یوریا کے نرخ بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔کسانوں کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ مارکیٹ میں مصنوعی قلت اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر فروخت کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔ مبینہ طور پر بعض ڈیلرز اور کمپنیوں کی جانب سے قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسانوں سے اوورچار جنگ کی جارہی ہے ، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔کسانوں کا کہنا ہے کہ چاول اور کماد کی فصلیں تیاری کے اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں اور اس وقت کھاد کا استعمال ناگزیر ہے ، مگر عین ضرورت کے موقع پر نرخوں میں اضافے نے ان پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے ۔

ایک طرف کھاد، بیج، زرعی ادویات، بجلی اور ڈیزل سمیت تمام زرعی مداخل مسلسل مہنگے ہورہے ہیں جبکہ دوسری جانب فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے سے پیداواری لاگت پوری کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔کسان تنظیموں اور کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا فوری نوٹس لے کر نرخوں کو کنٹرول کیا جائے ، سبسڈی بحال کی جائے ۔اور ذخیرہ اندوزی و اوورچارجنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے ۔کسانوں نے خبردار کیا کہ فصلوں کی تیاری کے حساس مرحلے پر کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور حکومتی اداروں کی عدم توجہی کے اثرات صرف کسانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زرعی پیداوار، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور ملکی فوڈ سکیورٹی پر بھی براہ راست اثر پڑ سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...