سپرٹیکس کی جامع تعریف قابل تحسین، ابہام دور : آئینی عدالت
2022تک 114ارب وصول اور 117ارب خرچ کیے :ممبرلیگل ایف بی آر سماعت ملتوی،ایف بی آر کے وکلا انکم ٹیکس آرڈیننس سیکشن فور سی پر دلائل دینگے
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپر ٹیکس کی مدلل وضاحت پر آئینی عدالت نے ایف بی آر کو سراہتے ہوئے کہاکہ مذکورہ ٹیکس کی جامع تعریف قابل تحسین ہے ۔ وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان پہلی بار وفاقی آئینی عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔دورانِ سماعت مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کے ذریعے 2015 میں ابتدائی طور پر 80 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ 2015 سے 2022 کے دوران سپر ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 114 ارب روپے جمع کیے گئے ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسی عرصے میں سپر ٹیکس کے تحت جمع ہونے والی رقم میں سے تین ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔
مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے جو آئین کے منافی ہے ۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور بی کے حوالے سے ایڈووکیٹ مخدوم علی خان کی جانب سے جواب الجواب مکمل کر لیا گیا۔اس موقع پر عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس بارے استفسار پر ممبر لیگل ایف بی آر میر بادشاہ نے آگاہ کیا کہ سپر ٹیکس کے نام سے واضح ہے کہ یہ عمومی ٹیکس نہیں بلکہ یہ اضافی ٹیکس ہے جوکہ ایک خاص مقصد کے لیے خاص مدت تک وصول کرنا قرار پایا تھا۔انہوں نے آگاہ کیاکہ ایف بی آر کی جانب سے وصول کیے جانے والے عمومی ٹیکسز خدمات کے بدلے لیے جاتے ہیں تاہم سپر ٹیکس کا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی سے بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے یہ فنڈز استعمال کیے جانے تھے ۔اس ضمن میں اس ٹیکس کا اطلاق 2015میں کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر ایک سال کیلئے 80ارب روپے کی رقم کا ہدف تخمینہ مقرر کیاگیا تھا تاہم ہدف کی عدم تکمیل پر مذکورہ ٹیکس کا تسلسل برقرار رکھا گیا۔ 2022تک سپر ٹیکس کی مد میں 114ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں 117ارب روپے خرچ کئے گئے ۔
دوسری جانب بینکنگ سیکٹر پر مذکورہ ٹیکس کے غیر مساوی یا غیر امتیازی ہونے بارے اعتراض پر انہوں نے عدالت کو آگاہ کیاکہ تمام بینکوں کے لیے ایک ہی شرح مقرر کی گئی ہے ، امتیازی تو اس صورت میں ہوتا جب ایک بینک سے ایک شرح کے حساب سے وصولی کی جائے اور کسی دوسرے بینک سے اس شرح سے کم یا زیادہ وصول کی جائے ۔ آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کی مدلل وضاحت کو قابل ستائش قرار دیا اور کہاکہ سپر ٹیکس بارے ابہام دور ہوگئے ہیں ۔ عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز منگل سے کیا جائے گا۔سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد اور شاہنواز میمن نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے ۔ سماعت کے اختتام پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا وہ کچھ مزید کہنا چاہتے ہیں۔اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تمام وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے نکات پیش کریں گے اور واضح کیا کہ وہ اس مقدمے میں فیڈریشن کو سپورٹ کر رہے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت میں ایف بی آر کے وکلا انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز کریں گے ۔