پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز میں پیمنٹ کا چیپٹر ہی نہیں ،جسٹس محسن اختر

پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز میں پیمنٹ کا چیپٹر ہی نہیں ،جسٹس محسن اختر

فل کورٹ سے ایک روز قبل 596صفحات کے رولز دیکرکہا گیا بند بک منظور کرانی ججز تو نااہل ہیں ہی، عدالتیں بھی مردہ ، خود جیل بھجواتے پھر ہڑتال کر دیتے :ریمارکس

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ہائیکورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولزجس نے بنائے کمال کے بنائے ،اب تو سیکرٹ ڈاکومنٹ ہے ہی نہیں، ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ ہوگئے ، 596صفحات پر مشتمل ڈاکومنٹس پورا پڑھ لیا ہے ،وکلا کو معلوم تو ہوا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ہیں لیکن اُس میں ہے کچھ نہیں۔ وکیل نے کہا یہ تو لاہور ہائیکورٹ کے رولز کو کاپی پیسٹ کیا ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا اتنی محنت کی ہے بنانے والوں نے آپ اپنی ہائیکورٹ پر الزام لگا رہے ہیں، ان رولز میں پیمنٹ کا چیپٹر ہی نہیں، جسٹس میاں گل حسن کے بنائے گئے رولز میں پورا چیپٹر تھا جو کمیٹی کو دیکھنا تھا، لگتا ہے skip ہوگیا ہوگا، پریکٹس اینڈ پروسجیر رولز بنانے اور نافذ کرنے کا ایک طریقہ کار ہے ،فل کورٹ پڑھ کر منظور کرتی ہے ،فل کورٹ سے ایک روز قبل 596 صفحات پر مشتمل رولز دے دیئے گئے ،میں نے اعتراض منظوری پر کیا،فل کورٹ میں کہا گیا کہ بند بک منظور کرانی ہے ۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیسز کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار کی ہڑتال پر اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا آج وکلا کی ہڑتال ہے ؟ خود جیل بھجواتے ہیں پھر ہڑتال کر دیتے ہیں، میڈل ملنا چاہیے ، ججز تو نااہل ہیں ہی، اب عدالتیں بھی مردہ ہو گئی ہیں، بار تو خود جیل چھوڑ کر آئی ہے ، بغیر قانون کے جج نے کمال کا فیصلہ دے دیا ہے ۔ علاوہ ازیں جسٹس محسن اختر کیانی نے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی پر کیسز کے التوا پر این سی سی آئے اے حکام کو حکم دیا کہ آپ ہدایات دیں گے جب پراسیکیوٹر بیان لکھوا لے تو مدعی کا وکیل کیس آگے بڑھائے گا۔ ایڈیشنل ڈی جی این سی سی آئی اے عارف شہباز وزیر پیش ہوئے ۔ مزید برآں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث ان کی عدالت کی کازلسٹ منسوخ کر دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں