اصل کام اب شروع ہوگا،مذاکرات کی کامیابی اصل چیلنج
پاکستانی معاملات جنگ بندی تک ، اب امن کیلئے سب کا اپنا اپنا کردار ہے
(تجزیہ: سلمان غنی)
امریکا ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے وہ عام خطرات اور خدشات تو ختم ہوئے جو دنیا کو درپیش تھے اور اس کا بڑا کریڈٹ پاکستان کے حصہ میں آیا لیکن یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ، فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے ۔ اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر ہیں، امر یکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیووٹکوف، ایران کی جانب سے سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گے ، فریقین اپنے اپنے نکات کے ساتھ مذاکرات
کی میز پر بیٹھیں گے ، مذاکراتی عمل کے پیچھے چین، سعودی عرب سمیت اور کئی قوتیں موجود ہوں گی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اصل کام اب شروع ہو گا اور مذاکرات کی کامیابی اصل چیلنج ہے تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ لہٰذا اب اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ جنگ بندی کے بعد مذاکراتی عمل کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں ۔ بلاشبہ امریکا ایران کے درمیان جنگی صورتحال نہایت پیچیدہ اور حساس مسئلہ تھا ، بظاہر نظر نہیں آ رہا تھا کہ جنگ بندی ممکن ہو سکے گی لیکن یہ کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا ، نوبت یہاں تک آ چکی تھی کہ فریقین یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہوسکیں،پاکستان نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے امر یکا اور ایران کی مجبوریوں کا خیال کیا اور یہ گنجائش دی کہ دونوں ہی جیتے نظر آ سکیں ،بلاشبہ اس عمل کے پیچھے چین کی مددومعاونت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کی یہ بڑی کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ جب نیت نیک، مشن جنگ بندی کا خاتمہ اور امن کا قیام ہو اور ٹیم ورک پر یقین ہو تو کامیابی ملتی ہے ، یہ سلسلہ مئی 2025 سے شروع ہوا، اس وقت پاکستان کا مقابلہ بھارت سے تھا ،دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان ناقابل تسخیر بن کر ابھرا اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان کی عالمی حیثیت قائم کی۔ غزہ کے ایشو پر امر یکا میں پاکستان قیادت کی موجودگی پر صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں اہم فیصلے اب پاکستان کی مرضی سے ہوں گے اور اب یہ منظر اس کی تائید کرتا نظر آ رہا ہے ۔ وزیراعظم نے جنگ بندی کیلئے ٹویٹ کا سہارا لیا تو اس کا اثر گلوبل مارکنگ میں گرین کی صورت میں سامنے آیا۔ صرف معیشت پر ہی اچھے اثرات ظاہر ہوتے نظر نہیں آئے بلکہ تیل کی عالمی قیمتیں نوے ڈالرز فی بیرل تک آ پہنچیں ، عالمی میڈیا پاکستان کی لیڈرشپ کی ستائش کر تا نظر آ رہا ہے ،صرف ایک بھارت ہے جو پاکستان کا تاریخی کردار ہضم نہیں کر پا رہا، جنگ بندی کا عظیم عمل اور اسلام آباد میں فریقین کے درمیان مذاکرات کا اعلان نئی دہلی پر بم بن کر گرا، آج دنیا کو پاکستان کی شکل میں ایک قابل اعتبار اور معاملہ فہم ثالث ملا ہے جس پر دنیا کی طاقتیں اعتماد کرسکتی ہیں لیکن اب مذاکرات کا چیلنج درپیش ہے ، اسرائیل نہیں چاہے گا کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنا ر ہوں ، پاکستانی معاملات جنگ بندی تک ہیں، اب امن کیلئے سب کا اپنا اپنا کردار ہے ، جہاں تک امن کے نوبیل انعام بارے ہونے والی چہ میگوئیوں کا سوال ہے تو اگر میرٹ پر فیصلہ ہوا تو پاکستان سے زیادہ کوئی حقدار نہیں ہوسکتا جس نے وہ جنگ روک کر دکھائی جس نے سب کچھ روک دیا تھا۔