وزارت خزانہ کے اندازے غلط ثابت،مہنگائی بلند ترین سطح پر
کھانے پینے کی اشیا،ٹرانسپورٹ کرائے ،پانی ،بجلی ،گیس ،کپڑے ،جوتے مہنگے چاول ،بیکری آئٹمز ،دودھ،چکن ،پھلوں کی قیمتو ں میں اضافہ:ادارہ شماریات
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) وفاقی وزارت خزانہ کے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے تخمینے غلط ثابت ہوگئے ہیں،وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ کے ساتھ 10 اعشاریہ 89 فیصد اور مہنگائی کی سالانہ شرح 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ، وزارت خزانہ نے ایک روز قبل جاری اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں اپریل میں مہنگائی 8 سے 9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا،وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30 فیصد تک بڑھ گئے ، ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7 اعشاریہ 63فیصد تک اضافہ ہوا ہے ، جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیا 10 اعشاریہ 20فیصد، ایک سال میں ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس 16 اعشاریہ 84فیصد، کپڑے اور جوتے سالانہ بنیاد پر 6 اعشاریہ 20فیصد مہنگے ہوگئے ہیں،ہوٹل ریسٹورنٹ چارجز میں 5 اعشاریہ 28فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، اپریل میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد سے زیادہ، سبزیوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں، انڈے 14 فیصد، پیاز 9 فیصد اور آلو 4 فیصد مہنگے ہوئے ، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا،اسی طرح چکن اور گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، چاول، دال ماش اور بیکری آئٹمز بھی مہنگے ہو گئے ،گندم کی قیمت میں 9 فیصد کمی ہوئی، آٹے کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مچھلی، تازہ پھل اور چینی سستی ہوئی، بیسن، دالوں اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، ایل پی جی کی قیمت میں 38 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ سروسز 27 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد مہنگی ہوئیں، کرایوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔