فوج مسلسل حالت جنگ میں، قومی سلامتی پر سمجھوتا ناممکن
بھارت کیساتھ جنگیں،دہشتگردی، عالمی طاقتوں کی صف بندیاں متحرک رکھے ہوئے
(تجزیہ: سلمان غنی)
مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے معرکہ حق کے ایک سال کی تکمیل پر اپنی فوجی تیاریوں کے ضمن میں یہ اعلان کہ ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیارہیں ، مسلح افواج کے پاک سرزمین کے تحفظ اور اپنی پیشہ ورانہ اہلیت و صلاحیت کا بھرپور عکاس ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ فوج دشمن کو کسی خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ، دیکھنا ہوگا کہ کیا بھارت پاکستانی فوج کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھی جارحیت کی پوزیشن میں ہے اور دنیا معرکہ حق کو کس نظر سے دیکھتی ہے ؟ پاکستان کی ریاستی ساخت میں فوج صرف دفاعی ادارہ ہی نہیں بلکہ قومی استحکام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اور پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں بھارت افغانستان ایران اور چین جیسے اہم ممالک ہیں خصوصاً بھارت کے ساتھ کئی جنگوں ،کشمیر تنازع ،سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے خطرات نے فوج کو ہمیشہ ہائی الرٹ پر رکھا ہے اس لئے فوج اپنے کردار کو محض روایتی دفاع تک محدود نہیں رکھتی ،گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی ،خودکش حملوں اور فرقہ ورانہ تشدد جیسے مسائل نے فوج کو اندرونی سلامتی میں بھی متحرک رکھا ہے ۔
آپریشن ضرب عضب، ردالفساد ، غضب للحق اورمعرکہ حق جیسی کارروائیوں نے فوجی قیادت کے احساس کو پختہ کیا ہے کہ ریاستی رٹ کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے فوج کے تربیتی نظام میں جہاد فی سبیل اﷲ اور قومی وحدت کے تصورات پر زور دیا جاتا۔ اس وجہ سے فوج اپنے آپ کو صرف عسکری قوت نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی محافظ کے طور پر دیکھتی ہے ، بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال ،مشرق وسطیٰ میں تنازعات اور عالمی طاقتوں کی صف بندیاں بھی فوج کو متحرک رکھے ہوئے ہیں، اس لئے عسکری قیادت بار بار قومی سلامتی کو وسیع تر تناظر میں پیش کرتی ہے جس میں معیشت سائبر سکیورٹی اور داخلی استحکام بھی شامل ہے لہٰذا اس تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس کو ٹائمنگ اور ایشوز پر قومی موقف کے حوالے سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے یہ واضح اعلان کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ظاہر کرتا ہے کہ فوج اپنی آئینی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر کاربند ہے اور یہی اس کی طاقت ہے ۔مسلح افواج داخلی سلامتی کو وقتی مہم کے بجائے مسلسل جنگ کے طور پر دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ قومی سلامتی پر سمجھوتاکرنے کے لئے تیار نہیں۔