امریکی تجارتی عدالت نے ٹرمپ کے 10 فیصد عالمی ٹیرف مسترد کر دیے

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکہ کی ایک وفاقی تجارتی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ 10 فیصد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ٹیرف 1974 کے تجارتی قانون کے تحت جائز نہیں۔

امریکی عدالتِ تجارت نے ان چھوٹے کاروباری اداروں کے حق میں فیصلہ دیا ہے جنہوں نے ان ٹیرف کے خلاف درخواست دائر کی تھی، یہ ٹیرف 24 فروری سے نافذ کیے گئے تھے، تین رکنی بنچ میں سے دو ججوں نے ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا جبکہ ایک جج نے اختلافی نوٹ لکھا۔

درخواست گزار کاروباری اداروں کا مؤقف تھا کہ نئی درآمدی ڈیوٹیاں سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بچنے کی کوشش تھیں جس میں 2025 میں نافذ کیے گئے بعض ٹیرف کالعدم قرار دیے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے فروری میں 1974 کے تجارتی قانون کی شق 122 کا سہارا لیتے ہوئے یہ ٹیرف نافذ کیے تھے، اس شق کے تحت حکومت کو محدود مدت کے لیے اضافی ڈیوٹیاں لگانے کا اختیار حاصل ہے تاکہ تجارتی خسارے یا ڈالر کی قدر میں ممکنہ کمی کو روکا جا سکے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جس تجارتی خسارے کو بنیاد بنایا، اس کے لیے یہ قانون استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

کھلونا ساز کمپنی بیسک فن کے چیف ایگزیکٹو جے فورمین نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ٹیرف کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ امریکا کو سالانہ 1.2 ٹریلین ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے، تاہم کئی ماہرین معیشت اور تجارتی قوانین کے ماہرین نے اس دعوے کو مبالغہ قرار دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں