پنجاب اسمبلی:36 گھنٹے بجٹ بحث، 209 ارکان کا اظہار خیال

 پنجاب اسمبلی:36 گھنٹے بجٹ بحث، 209 ارکان کا اظہار خیال

اپوزیشن لیڈر کی ایک گھنٹہ 25 منٹ کی تقریر،وزیر خزانہ پونے 2گھنٹے بولے بجٹ اجلاس تاریخی رہا، ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا مکمل موقع دیا گیا:رانا ارشد

لاہور (سیاسی نمائندہ) پنجاب اسمبلی کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس کے اہم اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 371 رکنی ایوان میں سے 209 ارکان نے بجٹ بحث میں حصہ لیا، جو ایوان کے 56 فیصد سے زائد ارکان بنتے ہیں۔بجٹ پر مجموعی طور پر تقریباً 36 گھنٹے بحث جاری رہی، جس کے بعد اپوزیشن کی تقریباً 41 کٹوتی کی تحریکیں مسترد کر دی گئیں اور ایوان نے کثرت رائے سے بجٹ منظور کر لیا۔بجٹ بحث میں حکومتی بینچوں کے 139 جبکہ اپوزیشن کے 70 ارکان نے اظہار خیال کیا۔ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بجٹ سے متعلق اپنے اپنے مو قف، تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے ایک گھنٹہ 25 منٹ طویل بجٹ تقریر کی، جبکہ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے ایک گھنٹہ 45 منٹ کی اختتامی تقریر کرتے ہوئے بجٹ بحث سمیٹی۔دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ رانا ارشد نے بجٹ اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں یہ ایک اہم اجلاس تھا، جس میں مجموعی طور پر 36 گھنٹے تک بجٹ پر تقاریر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کئی مواقع پر رات 11 بجے تک بھی جاری رہا تاکہ تمام ارکان کو اظہار خیال کا مکمل موقع فراہم کیا جا سکے ۔ اجلاس کے اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جس اپوزیشن رکن نے بجٹ بحث میں حصہ لینا چاہا، اسے تقریر کا پورا موقع دیا گیا اور کسی ایک بھی رکن کو وقت کی کمی یا کسی اور وجہ سے اظہار خیال سے نہیں روکا گیا۔ حکومت نے بجٹ اجلاس جمہوری روایات کے مطابق چلایا اور حکومت و اپوزیشن، دونوں کو برابر کا موقع فراہم کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں