اُردو کا مقام ، تعین کب ہو گا؟

اُردو کا مقام ،  تعین کب ہو گا؟

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


قیام پاکستان کے بعد تادم تحریر ’’زبانوں کی سیاست‘‘ کے ذریعے حزب ِاقتدار و حزب ِختلاف نے خوب نام کمایا۔ پاکستان کے پہلے وزیرتعلیم فضل الرحمن تو شریف آدمی تھے کہ انہوں نے پہلی تعلیمی کانفرنس منعقدہ نومبر 1947ء میں برملا نومولود پاکستانی ثقافت کو صوبوں میں بولی جانے والی قدیمی و تاریخی مادری زبانوں، ثقافت اور صوبوں کے تاریخی تسلسل سے نتھی کر دیا تھا۔ اپنی تقریر میں ان کا استدلال تھا کہ پنجابی، بنگالی، سندھی، پشتو اور بلوچ زبانوں کے سوتوں سے فیض پا کر ہی ’’پاکستانی ثقافت‘‘ تشکیل پائے گی، مگر قائداعظم کی وفات کے بعد سرکار کو آئی سی ایس افسران کی کھیپ نے ’’اُردو زبان‘‘ کو استعمال کرنے کا درس دیا۔ قائداعظم کی مشرقی بنگال میں کی گئی مشہور تقریر کو اپنے مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا حالانکہ اس تقریر میں قائداعظم نے اُردو کو ’’واحد قومی زبان‘‘ نہیں بلکہ ’’رابطہ کی زبان‘‘ کہا تھا جبکہ مشرقی بنگال کی اسمبلی کے صوبہ میںدفتری، تعلیمی و کاروباری سطح پر وہی زبان اختیار کرنے کے حق میں بات کی تھی جو اسمبلی منظور کرے۔ یہ وہی ویژن تھا ،جو خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال 1930ء میں دے چکے تھے۔ خطبہ الٰہ آباد میں لسانی و ثقافتی رنگارنگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ریکارڈ کا حصہ ہے، مگر آئین کے پہلے ڈرافٹ1950ء اور دوسری تعلیمی پالیسی1951ء منعقدہ کراچی میں اُردو کو واحد قومی زبان بنانے کی بات کی گئی، جو اقبال و جناح کے خیالات سے متصادم تھا۔ اس کے ردعمل میں بنگالی زبان کی تحریک نے جنم لیا ،جسے حزبِ اختلاف نے بوجوہ بڑھاوا دیا۔ مشرقی بنگال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ’’جگتو فرنٹ‘‘ بنایا، جس نے بنگالی کو اُردو کے ہمراہ تخت پر بٹھانے کی بات کی۔ 1954ء میں محمد علی فارمولا پر بالآخر سمجھوتہ ہوا ،جس میں بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی سمیت جگتو فرنٹ والے بھی شریک تھے۔ اس میں ایک طرف ون یونٹ اور دوسری اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو تخت نشینی دینے پر اتفاق ہوا۔ 1956ء کے آئین میں اس سمجھوتے کو قانون کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس سے پاکستانی مادری زبانوں کا مسئلہ سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی چلا گیا۔ وجہ صاف تھی کہ ملک میں ایک سے زیادہ مادری زبانیں تھیں۔دو قومی زبانوں والے فیصلہ سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ جو زبان زیادہ ’’کھپ‘‘ ڈالے گی اسے تخت شاہی میں جگہ مل جائے گی۔ مرکزیت پسند اور انگریزی زبان کے حمایتی اس لڑائی میں تیل ڈالتے رہے کہ اُردو اور پاکستانی مادری زبانوں میں جتنے اختلافات ہوں گے اس کے نتیجہ میں بیوروکریسی اور انگریزی زبان کی حاکمیت کی طرف تو کوئی دیکھے گا ہی نہیں۔ دوسری طرف اُردو کے منچلے تھے، جو جناح و اقبال کے خیالات سے رجوع کرنے کی بجائے محض اُردو کی حاکمیت کے لیے اسے واحد قومی زبان کے طور پر بحال کروانا چاہتے تھے۔ تیسری طرف پاکستانی مادری زبانوں کے حمایتی تھے ،جن میں سب سے طاقتور گروہ بنگالی زبان کے حمایتیوں کا تھا۔ یہ گروہ اُردو کے ساتھ بنگالی کی تخت نشینی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا ،مگر پاکستانی مادری زبانوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا ویژن ان میں بھی مفقود تھا۔ یہ تو محض اپنی سیاست کو بڑھاوا دینے کے لیے ’’لسانی کھاتے‘‘ استعمال کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں بھارت نے 1948ء میں ’’ڈار کمیشن‘‘ بنایا، جس نے بھارتی آئین ساز اسمبلی کو ایک طرف یہ بتایا گیا کہ بھارت میں کتنی مادری زبانیں بولی جاتی ہیں تو دوسری طرف ان مادری زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد بتائی گئی۔ اس رپورٹ کے تحت اسمبلی نے فیصلہ دیا کہ بھارت میں 96 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں 26 ایسی ہیں ،جن کے بولنے والے 5 ہزار سے زیادہ ہیں، ان زبانوں میں پرائمری تعلیم دی جا سکتی ہے۔ البتہ انگریزی کی حاکمیت کو ’’ڈار کمیشن‘‘ بھی بوجوہ چیلنج نہ کر سکا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ انگریزی کی حاکمیت کے حوالے سے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش بوجوہ ایک ہی جیسے مخمصوں کا شکار ہیں۔ البتہ ’’ڈار کمیشن‘‘ سے بھارتی قوم پرستی مضبوط ہوئی، مگر ہمارے ہاں مادری زبانوں کے حوالے سے تحفظات ہی رہے۔ 1971ء میں بنگالیوں سے ہماری جان ’’چھڑوا‘‘ دی گئی، مگر مادری زبانوں کے حوالے سے ریاست کا ’’خلل‘‘ برقرار رہا اور اس پر سیاستیں بھی جاری رہیں۔ اب انہوں نے سوچا کہ باقی ماندہ پاکستان میں بنگالی زبان جیسی تحریک پیدا ہی نہ ہو کہ اس کے لیے مادری زبانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا اور زبانوں و لہجوں کے درمیان منافرت کو بڑھانا اولیت قرار دیا گیا۔ ضیاء الحق کے زمانے سے پیپلز پارٹی کے تیسرے دور حکومت تک یہ سیاست برقرار رہی اور تاحال یہ مسئلہ وفاق پاکستان کی درد سر بنا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پی کے کی پچھلی سرکار نے صوبہ کی زبانوں کے حوالے سے جو قانون بنایا تھا ،وہ بھی جگتو فرنٹ کی طرح محض ردعمل کی پیداوار تھا، جس نے خود صوبہ میں اختلافات کو بڑھایا ہی۔ پاکستانی مادری زبانوں کو سلجھانے کے لیے جس ویژن کی ضرورت تھی۔ وہ اے این پی کی گذشتہ حکومت میں بھی مفقود رہا۔ پاکستانی زبانوں کے مسئلہ کو صوبہ کی سطح کی بجائے وفاق کی سطح پر حل کرنے ہی سے بات آگے بڑھے گی۔ اس کا حل یہی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی معاونت کے لیے پاکستانی زبانوں کے حوالہ سے قومی کمیشن بنایا جائے ،جو ایک طرف پاکستانی مادری زبانوں کی نشاندہی کرے، ان کے اعدادوشمار بتائے اور انگریزی اور اردو کے مقام کا تعین بھی کرے۔دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جہاں ایک سے زیادہ قومی زبانیں ہیں اور ایسے بہت سے ممالک بھی جو ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ حل تو یہی ہے کہ آپ گہری سوچ بچار کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے اس دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ایسے حل کریں کہ کوئی طالع آزما یا قبضہ گیر اسے مستقبل میں استعمال نہ کر سکے۔ پارلیمان کی معاونت کے لیے اعلیٰ کمیشن بنایا جائے ،جس میں پاکستانی مادری زبانوں اور ان سے منسلک ثقافتوں کے ماہرین بھی ہوں اور اُردو و انگریزی کے ماہرین بھی، تعلیم سے وابستہ محقق بھی اور انتظامیہ کے نمائندے بھی، کمیشن لسانیات کے بین الاقوامی ماہرین سے بھی مدد لے کہ پھر اس رپورٹ کی بنیاد پر پارلیمان فیصلہ کرے اور اسے آئین کا حصہ بنائے۔ اس سے پاکستان نہ صرف ایک دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ختم کر سکے گا بلکہ وفاق پاکستان بھی مضبوط ہوگا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
طویل ترین سائنسی تجربہ

طویل ترین سائنسی تجربہ

تقریباََایک صدی سے جاری پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ کیا ہے؟سائنس کی دنیا میں اکثر تجربات چند دنوں، ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند برسوں میں مکمل ہو جاتے ہیں مگر بعض تجربات ایسے بھی ہیں جو وقت کے ساتھ خود تاریخ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک حیران کن اور صبر آزما تجربہ دنیا میں تقریباً ایک صدی سے جاری ہے، جسے ''پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی مادے کی نوعیت اور وقت کی رفتار پر سوالات اٹھاتا ہے۔یہ تجربہ 1927ء میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں شروع کیا گیا۔ اس کے بانی طبیعیات دان تھامس پارنیل (Thomas Parnel) تھے جن کا مقصد طلبہ کو یہ سمجھانا تھا کہ بعض مادے جو بظاہر ٹھوس دکھائی دیتے ہیں درحقیقت مائع بھی ہو سکتے ہیں،بس ان کے بہنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔پچ کیا ہے؟پچ ایک سیاہ، چپچپا مادہ ہے جو تارکول یا اسفالٹ سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ عام درجہ حرارت پر یہ مکمل طور پر سخت دکھائی دیتا ہے، حتیٰ کہ اگر اس پر ہتھوڑا مارا جائے تو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ لیکن سائنسی اعتبار سے یہ ایک انتہائی زیادہ گاڑھا مائع ہے۔ ماہرین کے مطابق پچ پانی کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ گاڑھا ہوتا ہے، اسی لیے اس کی حرکت انسانی آنکھ کو نظر نہیں آتی۔تجربے کا آغازتھامس پارنیل نے پچ کو گرم کر کے ایک شیشے کے قیف میں ڈالا اور اسے تین برس تک چھوڑ دیا تاکہ اس میں موجود ہوا کے بلبلے نکل جائیں۔ 1930ء میں قیف کے نچلے حصے کو کھولا گیا اور یوں تجربہ باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ اس کے بعد بس انتظار تھا،انتہائی طویل انتظار۔پچ کا پہلا قطرہ ٹپکنے میں آٹھ برس لگے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ پچ واقعی ایک مائع ہے، اگرچہ اس کی رفتار ناقابلِ تصور حد تک سست ہے۔ تب سے لے کر آج تک تقریباً ایک صدی میں صرف نو قطرے ٹپکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی سائنسدان یا طالب علم اپنی آنکھوں سے پچ کو ٹپکتے نہیں دیکھ سکا۔ ہر بار ایسا ہوا کہ یا تو کوئی موجود نہیں تھا یا کیمرہ بند تھا یا لمحہ آنکھ جھپکنے سے بھی تیز گزر گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تجربہ سائنسی دنیا میں ایک طرح کی علامت بن چکا ہے،صبر، تسلسل اور وقت کی طاقت کی علامت۔جدید دور میں نگرانیوقت کے ساتھ اس تجربے کی ذمہ داری مختلف سائنسدانوں کے پاس رہی۔ 2014ء میں نویں قطرے کے گرنے کے بعد اس تجربے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ اب اس پر ویب کیمروں کے ذریعے چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے تاکہ اگلا قطرہ گرتے ہوئے ریکارڈ کیا جا سکے۔ اس کے باوجود اب تک یہ تاریخی لمحہ کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہی رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دسواں قطرہ اسی دہائی میں کسی وقت گر سکتا ہے مگر اس کی درست تاریخ بتانا تقریباً ناممکن ہے۔سائنسی اہمیتیہ تجربہ محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ مادے کی حالت کے بارے میں ہماری روایتی سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ عام طور پر ہم مادے کو ٹھوس، مائع یا گیس میں تقسیم کرتے ہیں مگر پچ جیسے مادے اس تقسیم کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ یہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ کسی مادے کی حالت کا تعین صرف اس کے ظاہر سے نہیں کیا جا سکتا۔وقت اور انسان''پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ‘‘ انسانی زندگی کے مقابلے میں وقت کے پیمانے کو بھی واضح کرتا ہے۔ جو تجربہ ایک پروفیسر نے شروع کیا وہ نہ خود اس کے انجام کو دیکھ سکا اور نہ ہی اس کے بعد آنے والی کئی نسلیں۔ یہ تجربہ آج بھی جاری ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ سو برس تک بھی جاری رہے۔یہ تجربہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ سائنس میں ہر کامیابی فوری نہیں ہوتی۔ بعض سوالات کے جواب دہائیوں یا صدیوں مانگتے ہیں۔ آج کے تیز رفتار دور میں جہاں ہر چیز فوری چاہیے پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ ہمیں صبر، تسلسل اور طویل مدتی سوچ کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پچ کے یہ آہستہ آہستہ ٹپکتے قطرے صرف ایک مادے کی حرکت نہیں بلکہ وقت کے خاموش بہاؤ کی علامت ہیں۔ایسا بہاؤ جو ہمیں نظر تو نہیں آتامگر مسلسل جاری رہتا ہے۔

جھیلوں کی سرزمین:سانگھڑ تاریخ اور ثقافت کا امتزاج

جھیلوں کی سرزمین:سانگھڑ تاریخ اور ثقافت کا امتزاج

جھیلوں کی سرزمین کہلانے والا ضلع سانگھڑ نہ صرف قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے بلکہ تاریخی ورثے کا بھی خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سانگھڑ کی سب سے دلکش پہچان چوٹیاری ڈیم ہے جو محض ایک جھیل نہیں بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی بن چکا ہے۔ یہاں صوبائی محکمہ سیاحت و ثقافت کی جانب سے ریسٹ ہاؤس اور موٹر بوٹ کی سہولت دی گئی ہے جو سیاحوں کو پانی کے سفر کے دوران حیرت انگیز مناظر دکھاتی ہے۔سانگھڑ کی مشہور سوغات مچھلی ہے جو مختلف انداز سے پکائی جاتی ہے۔ چوٹیاری ڈیم کے پانی کے کنارے بیٹھ کر مچھلی کی لذت اور جھیل کے حسین مناظر کا لطف ایک الگ ہی تجربہ ہیں۔جزیرے اور صحرائی خوبصورتیچوٹیاری ڈیم دراصل 120 جھیلوں کا مجموعہ ہے جو سانگھڑ، نوابشاہ اور خیرپور تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ کبھی مکھی جنگل کہلاتا تھا، جہاں کا شہد خاص شہرت رکھتا تھا۔ ڈیم کی تعمیر کے بعد کئی علاقے زیرِ آب آگئے مگر کچھ بلند ریتلے ٹیلے جزیرے بن گئے جو آج سانگھڑ کی خوبصورتی میں ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔اسی ڈیم کے ایک جزیرے ‘ بقار جھیل کے بلند ٹیلے پر تقریباً ایک صدی پرانی حویلی موجود ہے جو جیسلمیر (بھارت) کے جونیجو خاندان کی ملکیت رہی۔ تین منزلہ یہ عمارت فنِ تعمیر کا شاہکار ہے جس کے داخلی حصے میں خوبصورت راہداری اور دالان واقع ہیں۔ اگرچہ کھڑکیاں، دروازے، الماریاں اور چھتیں وقت کے ساتھ اُتر گئیں مگر دیواروں کا ڈھانچہ آج بھی اپنی شان دکھاتا ہے۔ موٹر بوٹ کے ذریعے سیاح صرف تیس منٹ میں جزیرے تک پہنچ سکتے ہیں اور راستے میں صحرائی ٹیلوں اور پانی کے حسین مناظر سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔کلاچ اور بوتار جھیلیںچوٹیاری ڈیم کے اچھڑے تھر میں واقع کلاچ جھیل مگرمچھوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ روایت کے مطابق حضرت شاہ مردان شاہ جب یہاں نہانے آتے تو مگرمچھ اُن کے اردگرد جمع ہو جاتے اور وہ ان پر سواری بھی کیا کرتے تھے۔ اسی علاقے میں بوتار جھیل ہے جو میٹھے پانی کا ذخیرہ ہے اور کنول کے پھولوں سے سجی ہوئی یہ جھیل قدرتی ماحول میں ایک جنت کی مانند نظر آتی ہے۔بقارجھیل سے نارا کینال تک کا پانی جب بل کھا کر سفر کرتا ہے تو اژدہے کی طرح کا منظر پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کے لیے انتہائی دلکش اور یادگار تجربہ ہے۔تاریخی مقامات اور ورثہسانگھڑ میں تاریخی ورثے کا بھی ایک وسیع سلسلہ موجود ہے۔ میاں نور محمد کلہوڑو کی زوجہ مائی جاماں نے سرائیں اور مساجد بنوائیں جو آج تزئین و آرائش کے بعد محفوظ ہیں۔ گوٹھ سرنواری میں واقع مسجدِ تجل تقریباً تین سو سال پرانی ہے جس کے گنبد زمین بوس ہو چکے ہیں۔ اسی مسجد کے احاطے میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی عمر کا آخری حصہ گزارا اور قریب واقع تکیے پر وہ اشعار تخلیق ہوئے، جو آج بھی راگ راہن کی محفلوں میں پڑھے جاتے ہیں۔سانگھڑ شہر کے حُر مجاہد قبرستان میں مختلف دور کے مقبرے موجود ہیں جو وقت کے ساتھ مخدوش ہو رہے ہیں۔ تلہ شاہ خراسانی قبرستان سپہ سالار کی یادگار کے طور پر اہمیت رکھتا ہے جہاں زائرین کی آمد و رفت سے میلے کا سماں رہتا ہے۔ اسی قبرستان میں مری بلوچ کے بڑے مقابر بھی موجود ہیں جو کلہوڑو دور میں عسکری ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ ان مقبروں کی تعداد کبھی تیس تھی مگر اب صرف نو باقی ہیں اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے انہیں محفوظ بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔سانگھڑ قدرت، تاریخ اور ثقافت کا امتزاجچوٹیاری ڈیم کے جھیلوں سے لے کر صحرائی جزائر، قدیم حویلیاں، مساجد اور مقبرے سانگھڑ کو ایک منفرد پہچان دیتے ہیں۔ یہ ضلع نہ صرف سیاحوں کے لیے دلچسپی کا مرکز ہے بلکہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کا بھی ایک زندہ گواہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت رکھتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

لوئی شانزدہم کی سزا21 جنوری 1793 کو فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم کو عوامی عدالت کے فیصلے کے بعد پیرس میں گیلوٹین کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا سب سے فیصلہ کن اور علامتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔لوئی شانزدہم پر الزام تھا کہ اس نے عوام کے مفادات کے خلاف کام کیا، غیر ملکی طاقتوں سے سازباز کی اور انقلاب کو کچلنے کی کوشش کی۔ انقلاب کے بعد بننے والی نیشنل کنونشن نے اسے غدار قرار دے کر سزائے موت سنائی۔اس کی سزا نے یورپ بھر کے شاہی خاندانوں میں خوف کی لہر دوڑا دی اور فرانس کے خلاف جنگوں کا آغاز ہوا۔ لینن کی وفات 21 جنوری 1924ء کو ولادیمیر الیچ لینن جو سوویت یونین کا بانی اور بالشویک انقلاب کا قائد تھا، انتقال کر گیا۔لینن نے 1917 ء کے روسی انقلاب کی قیادت کی اور زار شاہی نظام کا خاتمہ کر کے اشتراکی ریاست قائم کی۔ اس کی قیادت میں مزدوروں، کسانوں اور فوجیوں کو اقتدار میں شریک کیا گیا جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک نیا سیاسی و معاشی ماڈل پیش کیا گیا۔لینن کی موت کے بعد سوویت قیادت میں طاقت کی کشمکش شروع ہوئی جس کا نتیجہ آخرکار جوزف سٹالن کے اقتدار میں آنے کی صورت میں نکلا۔ لینن کو دنیا بھر میں انقلابی سیاست، اشتراکیت اور سامراج مخالف تحریکوں کی ایک بڑی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ پہلی ایٹمی آبدوز21 جنوری 1954ء کو امریکہ نے دنیا کی پہلی ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوز USS Nautilus کو سمندر میں اتارا۔ اس سے قبل آبدوزیں ڈیزل یا بیٹری پر انحصار کرتی تھیں جس کی وجہ سے انہیں بار بار سطحِ سمندر پر آنا پڑتا تھا لیکن ایٹمی توانائی نے آبدوزوں کو مہینوں تک زیرِ آب رہنے کے قابل بنا دیا۔ USS Nautilus نے سرد جنگ کے دوران امریکہ کو سٹریٹجک برتری فراہم کی۔1958ء میں اس آبدوز نے شمالی قطب کے نیچے سے گزر کر ایک اور تاریخ رقم کی۔21 جنوری 1954ء کو شروع ہونے والا یہ سفر جدید بحری جنگ، ایٹمی توازن اور عالمی طاقت کی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت بن گیا۔ویتنام محاصرہ21 جنوری 1968ء کو ویتنام جنگ کے دوران ایک اہم اور خونریز مرحلہ شروع ہوا جسے خے سان محاصرہ کہا جاتا ہے۔ شمالی ویتنامی افواج نے جنوبی ویتنام میں واقع امریکی فوجی اڈے کا محاصرہ کر لیا۔یہ محاصرہ تقریباً 77 دن جاری رہا اور اسے ویتنام جنگ کی سب سے شدید جھڑپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ یہ محاصرہ 1954ء کی فرانسیسی شکست جیسا ثابت ہو سکتا ہے اس لیے اس نے بے پناہ فضائی بمباری اور فوجی وسائل استعمال کیے۔اگرچہ امریکی افواج نے آخرکار اڈا برقرار رکھا لیکن بھاری جانی و مالی نقصان نے امریکہ کے اندر جنگ کے خلاف عوامی رائے کو مزید مضبوط کر دیا۔کونکورڈ کی پرواز21 جنوری 1976ء کو دنیا کے پہلے سپرسونک مسافر طیارے کونکورڈ نے اپنی باقاعدہ پروازوں کا آغاز کیا۔ برطانیہ اور فرانس کے اشتراک سے تیار کیا گیا یہ طیارہ لندن سے بحرین اور پیرس سے ریو ڈی جنیرو روانہ ہوا۔کونکورڈ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا تھا جس سے بین الاقوامی سفر کے اوقات آدھے رہ گئے۔ یہ طیارہ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور انسانی جدت کی شاندار مثال تھا۔ 2003ء میں اس کی سروس ختم ہو گئی مگر اس کی تاریخی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔

ڈائنوسار کے آخری دن:نئی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟

ڈائنوسار کے آخری دن:نئی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟

ڈائنوسار کی معدومی ہمیشہ سے سائنسی دنیا کا ایک پُراسرار اور بحث طلب موضوع رہی ہے۔ برسوں تک یہ تصور عام رہا کہ ڈائنوسار اپنی زندگی کے آخری دور میں بتدریج کمزور ہو چکے تھے، اُن کی انواع گھٹ رہی تھیں اور وہ کسی بڑے قدرتی سانحے سے پہلے ہی زوال کا شکار تھے۔ تاہم ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس نظریے کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ڈائنوسار اپنی معدومی سے عین قبل نہ صرف زندہ اور متحرک تھے بلکہ ماحولیاتی طور پر مکمل طور پر مستحکم بھی تھے۔یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیل سائنس اور ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ SciTechDailyنے شائع کی۔ تحقیق میں شمال مغربی نیو میکسیکو کے ایک اہم فوسل مقام کرٹ لینڈ فارمیشن کے نیشوبیٹو ممبر (Naashoibito member) سے حاصل ہونے والے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ یہ وہ چٹانی تہیں ہیں جو تقریباً چھ کروڑ60 لاکھ سال پرانی ہیں، یعنی وہی دور جب زمین پر ایک عظیم الشان شہابیے کے ٹکرانے سے ڈائنوسار کا اچانک خاتمہ ہوا۔اس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ ڈائنوسار اپنی آخری سانسوں میں نہیں تھے بلکہ وہ بھرپور انداز میں زندگی گزار رہے تھے۔ فوسلز سے پتا چلتا ہے کہ اُس دور میں مختلف اقسام کے گوشت خور اور گھاس خور ڈائنوسار موجود تھے جن میں ٹائرینوسارس جیسے بڑے شکاری اور ٹرائیسراٹاپس جیسے چرنے والے جانور شامل تھے۔ یہ حیاتیاتی تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈائنوسار کی آبادی صحت مند تھی اور ماحولیاتی نظام متوازن تھا۔ماضی میں سائنسدانوں نے فوسل ریکارڈ میں کمی کو ڈائنوسار کے زوال کی علامت سمجھا مگر نئی تحقیق کے مطابق یہ کمی دراصل فوسل محفوظ ہونے کے عمل کی وجہ سے تھی۔ یعنی جہاں فوسلز کم ملے وہاں یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ جانور بھی کم ہو گئے تھے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔جدید تحقیق کے طریقےاس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے جدید ریڈیومیٹرک ڈیٹنگ اور چٹانی تہوں کے تفصیلی تجزیے سے کام لیا۔ اس سے یہ تعین کیا گیا کہ دریافت ہونے والے ڈائنوسار فوسلز شہابیے کے زمین سے ٹکرانے سے صرف چند لاکھ سال پہلے کے ہیں، جو ارضیاتی وقت کے پیمانے پر لمحوں کے برابر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈائنوسار تقریباً آخری لمحے تک زمین پر حکمرانی کر رہے تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت زمین پر مختلف بائیو پروونسز (bioprovinces) موجود تھے یعنی ایسے خطے جہاں درجہ حرارت اور ماحول کے مطابق مختلف اقسام کے ڈائنوسار پائے جاتے تھے۔ یہ صورتحال کسی عالمی ماحولیاتی بحران کی نہیں بلکہ ایک فعال اور متنوع دنیا کی عکاسی کرتی ہے۔شہابیے کا فیصلہ کن کرداریہ تحقیق ایک بار پھر اس نظریے کو تقویت فراہم کرتی ہے کہ ڈائنوسار کی معدومی کی بنیادی وجہ وہی عظیم شہابیے کا ٹکراؤ تھا جو آج کے میکسیکو کے علاقے یوکاتان (Yucatán) میں ہوا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں زمین پر شدید زلزلے، آتش فشانی سرگرمیاں، سونامی اور فضامیں گرد و غبار کے بادل چھا گئے جنہوں نے سورج کی روشنی کو روک دیا۔ اس کے بعد درجہ حرارت میں اچانک کمی، پودوں کی تباہی اور خوراک کے سلسلے کے ٹوٹنے سے ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار ختم ہو گئے۔نئی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ اگر یہ شہابیے کا حادثہ پیش نہ آتا تو ممکن ہے کہ ڈائنوسار مزید لاکھوں سال تک زمین پر حکمرانی کرتے رہتے۔ممالیہ جانوروں کا عروجتحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈائنوسار کے خاتمے کے بعد زمین کا ماحولیاتی نظام تیزی سے بدلا۔ تقریباً تین لاکھ سال کے اندر اندر ممالیہ جانوروں نے ان خالی ماحولیاتی کرداروں کو سنبھالنا شروع کر دیا جو ڈائنوسار کے جانے سے پیدا ہوئے تھے۔ یہی عمل آگے چل کر انسان کے ظہور کی بنیاد بنا۔سائنسی تاریخ میں اہم تبدیلییہ تحقیق نہ صرف ڈائنوسار کے بارے میں ہمارے تصور کو بدلتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ فوسل ریکارڈ کو سمجھنے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی دور میں فوسلز کی کمی کا مطلب لازمی طور پر حیاتیاتی زوال نہیں ہوتا۔ یہ دریافت مستقبل میں دیگر معدوم انواع کے مطالعے کے لیے بھی نئے سوالات اور نئے راستے کھولتی ہے۔ ڈائنوسار کی کہانی اب ایک طویل، سست اور کمزور انجام کی نہیں رہی بلکہ یہ ایک طاقتور، کامیاب اور متنوع حیات کی کہانی ہے جسے ایک اچانک اور تباہ کن کائناتی حادثے نے لمحوں میں ختم کر دیا۔ سائنس کی یہ نئی تعبیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین کی تاریخ میں تبدیلیاں اکثر اچانک اور غیر متوقع ہوتی ہیں اور شاید یہ سبق آج کے انسان کے لیے بھی سب سے اہم ہے۔

پورس،سکندر اور معرکہ جھلم:فتح، وقار اور مزاحمت کی کہانی

پورس،سکندر اور معرکہ جھلم:فتح، وقار اور مزاحمت کی کہانی

پنجاب کی سرزمین صدیوں سے تہذیب، ثقافت اور جدوجہد کی علامت رہی ہے۔ دریائے جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج کے درمیان پھیلا یہ خطہ قدیم زمانے میں برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم مرکز تھا۔ اگرچہ ''پنجاب‘ ‘کا نام بعد کے فارسی ادوار میں رائج ہوا تاہم یہ علاقہ بہت پہلے سے طاقتور ریاستوں، جنگجو قبائل اور عظیم تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔اسی سرزمین سے ایک ایسا کردار ابھرا جس کا نام تاریخ میں ہمیشہ جرأت، خودداری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ تھاراجہ پورس۔راجہ پورس کون تھا؟یونانی مورخین اریان، پلوٹارک اور ڈیودورس کے مطابق پورس ایک مقامی حکمران تھا جو ''پورو‘‘ یا ''پوروَو‘‘ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی سلطنت دریائے جہلم (Hydaspes) اور دریائے چناب (Acesines) کے درمیان واقع تھی۔ بعد کے ادوار میں بعض مورخین نے اسے جاٹ، راجپوت یا گجر قبائل سے جوڑنے کی کوشش بھی کی تاہم ان نسبتوں کے بارے میں قطعی تاریخی شواہد دستیاب نہیں۔قدیم ہندو کتاب رِگ وید میں ''پورو‘‘ نامی قبیلے کا ذکر ضرور ملتا ہے مگر اس قبیلے اور راجہ پورس کے درمیان براہِ راست تعلق کو یقینی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ پورس اپنے وقت کا ایک طاقتور اور خود مختار حکمران تھا۔سکندر کی پنجاب کی طرف پیش قدمی327 قبلِ مسیح میں مقدونیہ کا فاتح سکندرِ اعظم فارس کو زیر کرنے کے بعد برصغیر کی طرف بڑھا۔ اس وقت پنجاب مختلف چھوٹی ریاستوں اور قبائلی سرداروں میں منقسم تھا۔ ٹیکسلا کے حکمران امبھی (آمبھی) نے سکندر سے اتحاد کر لیا مگر راجہ پورس نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مقابلے کا فیصلہ کیا۔یوں326 قبلِ مسیح میں دریائے جہلم کے کنارے وہ معرکہ برپا ہوا جسے تاریخ Battle of the Hydaspes کے نام سے جانتی ہے۔ جدید محققین کے مطابق یہ جنگ موجودہ ضلع منڈی بہاؤالدین اور جہلم کے درمیان کسی مقام پر لڑی گئی۔ اگرچہ اس کی حتمی جگہ پر اختلاف موجود ہے۔یونانی ماخذ کے مطابق راجہ پورس کی فوج میں ہزاروں پیادہ، ہزاروں سوار اور جنگی ہاتھی شامل تھے جو اُس جنگ کا سب سے خوفناک ہتھیار تھے۔ اس کے برعکس سکندر کی فوج تعداد میں کم تھی اور اس کے پاس ہاتھی نہیں تھے البتہ جنگی حکمت عملی کا تجربہ غیر معمولی تھا۔سکندر نے ایک طوفانی رات میں چالاکی سے دریا عبور کیا اور اچانک حملہ کر دیا۔ جنگ کے آغاز میں ہی پورس کا ایک بیٹا مارا گیا مگر اس کے باوجود پورس نے خود میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔یہ جنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ ابتدا میں پورس کے ہاتھیوں نے سکندر کی فوج میں خوف پھیلا دیا، مگر بعد ازاں یونانی فوج نے نیزوں اور تیراندازی کے ذریعے ہاتھیوں کو بدحواس کر دیا جس سے پورس کی صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد راجہ پورس گرفتار کر لیا گیا۔ایک بادشاہ کا جوابگرفتاری کے بعد سکندر نے پورس سے پوچھا''تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟‘‘پورس کا مختصر مگر تاریخ ساز جواب دیا: ''وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔‘‘یہ جواب سکندر کو اس قدر متاثر کر گیا کہ اُس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ اس کی سلطنت بھی واپس لوٹا دی اور اسے اپنے زیرِ اثر ایک خود مختار حکمران کے طور پر برقرار رکھا۔سکندر کی آخری بڑی جنگ جہلم کی یہ جنگ سکندرِ اعظم کی آخری بڑی جنگ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد جب وہ دریائے ستلج کی طرف بڑھنا چاہتا تھا تو اس کی فوج نے مزید پیش قدمی سے انکار کر دیا۔ تھکے ہوئے اور مسلسل جنگوں سے نڈھال سپاہیوں نے واپس لوٹنے پر زور دیا اور یوں سکندر کو واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔323 قبلِ مسیح میں بابل میں سکندرِ اعظم کا انتقال ہو گیا۔راجہ پورس کا انجامراجہ پورس کے آخری ایام کے بارے میں تاریخی روایات واضح نہیں۔ بعض یونانی ماخذ کے مطابق 317 قبل مسیح کے قریب سکندر کے ایک یونانی جرنیل نے اُسے قتل کر دیا تاہم اس بارے میں مکمل یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔تاریخ کا خاموش بابیہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ سکندرِ اعظم کی ہندوستانی مہم کا ذکر مقامی قدیم ہندوستانی ماخذ میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ اگر یونانی مورخین نے اس مہم کو قلم بند نہ کیا ہوتا تو شاید جہلم والی تاریخی جنگ جیسا عظیم واقعہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ نہ رہ پاتا۔بہر حال راجہ پورس اور سکندرِ اعظم کا یہ معرکہ آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ طاقت سے زیادہ وقار، خودداری اور مزاحمت تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ پنجاب کی سرزمین نے ایک ایسے بادشاہ کو جنم دیا جس نے دنیا کے سب سے بڑے فاتح کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا اور یہی اس کی اصل فتح تھی۔

آج کا دن

آج کا دن

وانزی کانفرنس ''فائنل سلوشن‘‘20 جنوری 1942 ء کو نازی جرمنی کے دارالحکومت برلن کے قریب ایک علاقے وانزی (Wannsee) میں ایک خفیہ اجلاس میں نازی جرمنی کے اعلیٰ حکام نے یورپ بھر میں موجود یہودیوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔اس اجلاس کی صدارت رائن ہارڈ ہائیڈرِش نے کی جو ایس ایس (SS) کا ایک اعلیٰ افسر تھا جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے اس میں شریک تھے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا تھا کہ یورپ میں موجود تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ یہودیوں کو کس طرح مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ اس منصوبے کو ''فائنل سلوشن‘‘ کا نام دیا گیا۔کینیڈی کی حلف برداری 20 جنوری 1961ء کو جان ایف کینیڈی نے امریکہ کے 35ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ اس وقت امریکہ کے سب سے کم عمر منتخب صدر تھے اور ان کی آمد کو امریکی سیاست میں ایک نئی نسل اور نئی سوچ کی علامت سمجھا گیا۔کینیڈی کی حلف برداری کی تقریب اس لیے بھی تاریخی حیثیت رکھتی ہے کہ ان کی تقریر کو امریکی تاریخ کی بہترین تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا مشہور جملہ تھا ''یہ مت پوچھیں کہ آپ کا ملک آپ کے لیے کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ پوچھیں کہ آپ اپنے ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں‘‘۔کینیڈی کے دور میں کیوبا میزائل بحران، خلائی دوڑ اور نسلی امتیاز کے خلاف تحریک جیسے اہم واقعات پیش آئے۔ ریگن کی حلف برداری 20 جنوری 1981ء کو رونالڈ ریگن نے امریکہ کے 40ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ریگن کی حلف برداری کے ساتھ ہی امریکہ میں قدامت پسند سیاست کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ انہوں نے معیشت میں ریگن اکنامکس کے نام سے مشہور پالیسی متعارف کرائی جس میں ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کنٹرول، اور آزاد منڈی پر زور دیا گیا۔خارجہ پالیسی کے میدان میں ریگن نے سوویت یونین کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ۔ بعد میں انہی کے دور میں سرد جنگ کے خاتمے کی بنیاد پڑی، خاص طور پر مخائیل گورباچوف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے۔ اوباما کی پہلی حلف برداری 20 جنوری 2009ء کو باراک حسین اوباما نے امریکہ کے 44ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔اوباما نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب امریکہ شدید معاشی بحران اور افغانستان و عراق کی جنگوں میں الجھا ہوا تھا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اتحاد، امید اور تبدیلی کا پیغام دیا۔ ان کا نعرہYes, we can دنیا بھر میں مقبول ہوا۔اوباما کی حلف برداری نے خاص طور پر نوجوانوں اور اقلیتوں میں سیاسی شعور اور اعتماد کو فروغ دیا۔آذربائیجان کا ''بلیک جنوری‘‘20 جنوری 1990ء کو آذربائیجان کی تاریخ کا ایک المناک دن پیش آیا، جسے بلیک جنوری کہا جاتا ہے۔ اس دن سوویت فوج نے دارالحکومت باکو میں داخل ہو کر آزادی کے حق میں مظاہرے کرنے والے شہریوں پر طاقت کا شدید استعمال کیا۔ سوویت قیادت کا مقصد آذربائیجان میں بڑھتی قوم پرست تحریک کو کچلنا تھا، مگر اس کے برعکس یہ واقعہ آزادی کی تحریک کو مزید مضبوط کر گیا۔بلیک جنوری نے سوویت یونین کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا اور چند ہی برسوں بعد آذربائیجان نے مکمل آزادی حاصل کر لی۔ آج بھی 20 جنوری کو آذربائیجان میں قومی سوگ کا دن منایا جاتا ہے۔