اُردو کا مقام ، تعین کب ہو گا؟

اُردو کا مقام ،  تعین کب ہو گا؟

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


قیام پاکستان کے بعد تادم تحریر ’’زبانوں کی سیاست‘‘ کے ذریعے حزب ِاقتدار و حزب ِختلاف نے خوب نام کمایا۔ پاکستان کے پہلے وزیرتعلیم فضل الرحمن تو شریف آدمی تھے کہ انہوں نے پہلی تعلیمی کانفرنس منعقدہ نومبر 1947ء میں برملا نومولود پاکستانی ثقافت کو صوبوں میں بولی جانے والی قدیمی و تاریخی مادری زبانوں، ثقافت اور صوبوں کے تاریخی تسلسل سے نتھی کر دیا تھا۔ اپنی تقریر میں ان کا استدلال تھا کہ پنجابی، بنگالی، سندھی، پشتو اور بلوچ زبانوں کے سوتوں سے فیض پا کر ہی ’’پاکستانی ثقافت‘‘ تشکیل پائے گی، مگر قائداعظم کی وفات کے بعد سرکار کو آئی سی ایس افسران کی کھیپ نے ’’اُردو زبان‘‘ کو استعمال کرنے کا درس دیا۔ قائداعظم کی مشرقی بنگال میں کی گئی مشہور تقریر کو اپنے مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا حالانکہ اس تقریر میں قائداعظم نے اُردو کو ’’واحد قومی زبان‘‘ نہیں بلکہ ’’رابطہ کی زبان‘‘ کہا تھا جبکہ مشرقی بنگال کی اسمبلی کے صوبہ میںدفتری، تعلیمی و کاروباری سطح پر وہی زبان اختیار کرنے کے حق میں بات کی تھی جو اسمبلی منظور کرے۔ یہ وہی ویژن تھا ،جو خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال 1930ء میں دے چکے تھے۔ خطبہ الٰہ آباد میں لسانی و ثقافتی رنگارنگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ریکارڈ کا حصہ ہے، مگر آئین کے پہلے ڈرافٹ1950ء اور دوسری تعلیمی پالیسی1951ء منعقدہ کراچی میں اُردو کو واحد قومی زبان بنانے کی بات کی گئی، جو اقبال و جناح کے خیالات سے متصادم تھا۔ اس کے ردعمل میں بنگالی زبان کی تحریک نے جنم لیا ،جسے حزبِ اختلاف نے بوجوہ بڑھاوا دیا۔ مشرقی بنگال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ’’جگتو فرنٹ‘‘ بنایا، جس نے بنگالی کو اُردو کے ہمراہ تخت پر بٹھانے کی بات کی۔ 1954ء میں محمد علی فارمولا پر بالآخر سمجھوتہ ہوا ،جس میں بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی سمیت جگتو فرنٹ والے بھی شریک تھے۔ اس میں ایک طرف ون یونٹ اور دوسری اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو تخت نشینی دینے پر اتفاق ہوا۔ 1956ء کے آئین میں اس سمجھوتے کو قانون کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس سے پاکستانی مادری زبانوں کا مسئلہ سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی چلا گیا۔ وجہ صاف تھی کہ ملک میں ایک سے زیادہ مادری زبانیں تھیں۔دو قومی زبانوں والے فیصلہ سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ جو زبان زیادہ ’’کھپ‘‘ ڈالے گی اسے تخت شاہی میں جگہ مل جائے گی۔ مرکزیت پسند اور انگریزی زبان کے حمایتی اس لڑائی میں تیل ڈالتے رہے کہ اُردو اور پاکستانی مادری زبانوں میں جتنے اختلافات ہوں گے اس کے نتیجہ میں بیوروکریسی اور انگریزی زبان کی حاکمیت کی طرف تو کوئی دیکھے گا ہی نہیں۔ دوسری طرف اُردو کے منچلے تھے، جو جناح و اقبال کے خیالات سے رجوع کرنے کی بجائے محض اُردو کی حاکمیت کے لیے اسے واحد قومی زبان کے طور پر بحال کروانا چاہتے تھے۔ تیسری طرف پاکستانی مادری زبانوں کے حمایتی تھے ،جن میں سب سے طاقتور گروہ بنگالی زبان کے حمایتیوں کا تھا۔ یہ گروہ اُردو کے ساتھ بنگالی کی تخت نشینی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا ،مگر پاکستانی مادری زبانوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا ویژن ان میں بھی مفقود تھا۔ یہ تو محض اپنی سیاست کو بڑھاوا دینے کے لیے ’’لسانی کھاتے‘‘ استعمال کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں بھارت نے 1948ء میں ’’ڈار کمیشن‘‘ بنایا، جس نے بھارتی آئین ساز اسمبلی کو ایک طرف یہ بتایا گیا کہ بھارت میں کتنی مادری زبانیں بولی جاتی ہیں تو دوسری طرف ان مادری زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد بتائی گئی۔ اس رپورٹ کے تحت اسمبلی نے فیصلہ دیا کہ بھارت میں 96 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں 26 ایسی ہیں ،جن کے بولنے والے 5 ہزار سے زیادہ ہیں، ان زبانوں میں پرائمری تعلیم دی جا سکتی ہے۔ البتہ انگریزی کی حاکمیت کو ’’ڈار کمیشن‘‘ بھی بوجوہ چیلنج نہ کر سکا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ انگریزی کی حاکمیت کے حوالے سے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش بوجوہ ایک ہی جیسے مخمصوں کا شکار ہیں۔ البتہ ’’ڈار کمیشن‘‘ سے بھارتی قوم پرستی مضبوط ہوئی، مگر ہمارے ہاں مادری زبانوں کے حوالے سے تحفظات ہی رہے۔ 1971ء میں بنگالیوں سے ہماری جان ’’چھڑوا‘‘ دی گئی، مگر مادری زبانوں کے حوالے سے ریاست کا ’’خلل‘‘ برقرار رہا اور اس پر سیاستیں بھی جاری رہیں۔ اب انہوں نے سوچا کہ باقی ماندہ پاکستان میں بنگالی زبان جیسی تحریک پیدا ہی نہ ہو کہ اس کے لیے مادری زبانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا اور زبانوں و لہجوں کے درمیان منافرت کو بڑھانا اولیت قرار دیا گیا۔ ضیاء الحق کے زمانے سے پیپلز پارٹی کے تیسرے دور حکومت تک یہ سیاست برقرار رہی اور تاحال یہ مسئلہ وفاق پاکستان کی درد سر بنا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پی کے کی پچھلی سرکار نے صوبہ کی زبانوں کے حوالے سے جو قانون بنایا تھا ،وہ بھی جگتو فرنٹ کی طرح محض ردعمل کی پیداوار تھا، جس نے خود صوبہ میں اختلافات کو بڑھایا ہی۔ پاکستانی مادری زبانوں کو سلجھانے کے لیے جس ویژن کی ضرورت تھی۔ وہ اے این پی کی گذشتہ حکومت میں بھی مفقود رہا۔ پاکستانی زبانوں کے مسئلہ کو صوبہ کی سطح کی بجائے وفاق کی سطح پر حل کرنے ہی سے بات آگے بڑھے گی۔ اس کا حل یہی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی معاونت کے لیے پاکستانی زبانوں کے حوالہ سے قومی کمیشن بنایا جائے ،جو ایک طرف پاکستانی مادری زبانوں کی نشاندہی کرے، ان کے اعدادوشمار بتائے اور انگریزی اور اردو کے مقام کا تعین بھی کرے۔دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جہاں ایک سے زیادہ قومی زبانیں ہیں اور ایسے بہت سے ممالک بھی جو ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ حل تو یہی ہے کہ آپ گہری سوچ بچار کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے اس دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ایسے حل کریں کہ کوئی طالع آزما یا قبضہ گیر اسے مستقبل میں استعمال نہ کر سکے۔ پارلیمان کی معاونت کے لیے اعلیٰ کمیشن بنایا جائے ،جس میں پاکستانی مادری زبانوں اور ان سے منسلک ثقافتوں کے ماہرین بھی ہوں اور اُردو و انگریزی کے ماہرین بھی، تعلیم سے وابستہ محقق بھی اور انتظامیہ کے نمائندے بھی، کمیشن لسانیات کے بین الاقوامی ماہرین سے بھی مدد لے کہ پھر اس رپورٹ کی بنیاد پر پارلیمان فیصلہ کرے اور اسے آئین کا حصہ بنائے۔ اس سے پاکستان نہ صرف ایک دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ختم کر سکے گا بلکہ وفاق پاکستان بھی مضبوط ہوگا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘

’’موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘

فتح علی خان بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، اُسے بار بار یاد دلاتے ''موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘نصرت فتح علی خان کی برسی کے حوالے سے ایک بچے کی مختصرداستان جسے قوالی سے دُور رکھا جاتا تھاسُر کے سفر پر روانگی بہت آسان لیکن سفر بہت جان لیوا ہوتا ہے۔ ہر گانے والے کو منزل بہت نزدیک نظر آتی ہے، لیکن جب قدم بڑھا کر قریب جانا چاہتا ہے تو فاصلہ کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس بحر بیکراں کا ماہر پیراک بھی کبھی کبھی ایک معمولی لہریا موج کے بھنور میں پھنس کر دم توڑ دیتا ہے۔ موسیقی کی دنیا آئینے کا وہ نازک کمرہ ہے جہاں فنکار کی آواز ذرا بھی سر سے لاتعلقی ظاہر کرتے تو یہ کمرہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ نصرت نے موسیقی کو کھیل سمجھ کر نہیں کھیلا۔ پورے جسم کو کان بنا کر اس کے اصول و قواعد کو رگ و پے میں اتارا ۔ فتح علی خان نے زمین میں ہل چلا کر اسے بھر بھرا کر دیا تھا۔ مبارک علی خان اور سلامت علی خان کی تربیت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔فتح علی خان اور مبارک علی خان کی وفات کے بعد اس گھرانے سے قوالی کا سلسلہ بند نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کے بعد سلامت علی خان قوالی کو لیڈکرتے تھے۔ نصرت قوالی میں شامل ہوتے لیکن ان کی حیثیت کرکٹ کے بارھویں کھلاڑی جیسی تھی۔ قوالی کے شروع میں نصرت ایک آدھ سولوپروگرام کرتے۔ اس کے بعد ان سے کہا جاتا کہ گاڑی میں جا کر سو جائو۔ قوالی تمہارے بس کا روگ نہیں، ہم خود کر لیں گے۔نصرت اپنے نام کا مطلب جانتے تھے۔ اسے یقین تھا کہ فتح ان کی ہو گی لیکن کب ہو گی اس کا انہیں پتہ نہ تھا۔ انہیں صرف یہ پتہ تھا کہ انہیں محنت اور ریاض تیز اور طویل کردینا چاہیے تاکہ فتح کا لمحہ قریب تر ہو جائے۔ نصرت فتح علی خان استاد فتح علی خان کے بیٹے ضرور تھے لیکن انہوں نے شہرت کمانے کیلئے بہت پاپڑ بیلے۔ نصرت کے آغاز کا زمانہ دراصل غلام فرید صابری کے عروج کا زمانہ تھا۔ ہر طرف اس کا نام اور کام داد حاصل کر رہا تھا۔ نیشنل آرٹ کونسل اسلام آباد کا ''جشن امیر خسرو‘‘ قوالی کا ایک یاد گار جلسہ تھا۔ اس تقریب میں قوالی کی 700سالہ روایت کوبھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ بھٹو عہد میں ہونے والی یہ تقریب اسلامی ممالک کی کانفرنس کی طرح بڑی خوبصورت اور پروقار تقریب تھی۔ پورے ملک کے نامور قوال اس میں شرکت کر رہے تھے۔ منظور نیازی، بہائوالدین اور غلام فرید صابری ان میں پیش پیش تھے۔ نصرت فتح علی خان کو دعوت نامہ ملا مگر ذرا تاخیر کے ساتھ۔ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ وہاں پہنچے تو عجیب سماں تھا، سب قوال پارٹیاں دو دو تین تین دن پہلے پہنچ چکی تھیں اور اپنے اپنے آئٹم منتخب کر لئے تھے۔ شرط یہ تھی کہ صرف حضرت امیر خسرو کا کلام گایا جائے۔ نصرت جس آئٹم کا نام لیتے،جواب ملتا ''یہ منظور نیازی گائیں گے‘‘۔وہ کوئی اور نام لیتے تو جواب آیا۔''یہ غلام فرید صابری گائیں گے‘‘۔ایک ایک کرکے سب آئٹم لوگوں کے حصے میں آ گئے۔ نصرت سوچ میں پڑ گئے لیکن گھبرائے نہیں۔خاندانی قوال تھے۔ یادداشت کے اوراق پلٹے۔ خاندانی ورثے کی طرف نظر دوڑائی جو بزرگوں سے سیکھا تھا اس کا جائزہ لیا۔ پرانی بندشوں کو یاد کیا اور پھر ایک ایسا گوہر نایاب سامنے رکھ دیا جو کسی قوال نے پہلے نہیں دیکھا تھا اور جو صرف نصرت فتح علی خان کے خاندان کو یاد تھا۔ یہ امیر خسرو کا ایک نایاب شاہکار تھا:''میں تو پیا سے نیناں ملا آئی رے‘‘بقول تقریب کے سیکرٹری ملک سجاد حیدر نصرت نے جو گایا وہ سب لوگوں اور قوال حضرات کیلئے بھی بالکل نئی چیز تھی۔ اس کے بعد نصرت فتح علی خان نے راگ ساز گیری گایا۔ ہال بے خود ہو گیا۔ لوگ نصرت کو سٹیج سے جانے نہیں دے رہے تھے، یہاں نصرت نے قوالی شروع کی تو سننے والے بے قابو ہو گئے۔ ایک روحانی اثر چاروں طرف پھیل گیا۔ امیر خسرو، موسیقی اور نصرت فتح علی خان کے انداز نے سب کو گرویدہ بنا لیا۔ اب نصرت اس منزل کے بالکل قریب آ گئے تھے جس کی طرف انہوں نے استاد فتح علی خان کے چہلم پر پہلا قدم بڑھایا تھا۔اب ذرا نصرت کے گھر چلتے ہیں۔استاد فتح علی خان نے اس گھر کو پوری آرائشوں اور سہولتوں سے آراستہ کیا تھا۔ ہر قسم کی نعمت اپنے بچوں کو دی۔ نصرت کی چار بہنیں اور ایک بھائی فرخ (راحت کے والد جو نصرت کے ساتھ قوالی میں سنگت کرتے تھے) آرام سے رہ رہے تھے۔ فتح علی خان نے نصرت کو بار بار احساس دلایا تھا ''موسیقی تمہارے لئے شجر ممنوعہ ہے۔ اس کے پاس نہ جانا، میں تمہیں گویا نہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘‘۔ نصرت نے یہ بات غور سے سنی لیکن اندر رہی اندر شجر ممنوعہ کے پھل کی لذت آرزو بن کر پروان چڑھتی رہی۔ نصرت چپکے چپکے طبلے اور ہارمونیم پر موسیقی کے ابتدائی اسباق دھراتے رہے۔ فتح علی خان بڑے بارعب انسان تھے۔ گھر میں داخل ہوتے تو ہنستے چہرے سنجیدہ ہو جاتے تھے۔ بچوں پر ان کا بڑا رعب تھا، ان کی موجودگی میں کوئی ہوں تک نہیں کرتا تھا۔ ایک دن نصرت ہار مونیم پر دل بہلا رہے تھے۔ سروں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں اس بات کا بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کے والد پیچھے کھڑے سب کچھ سن رہے ہیں۔ جب کسی نے اشارے سے فتح علی خان کی موجودگی کا احساس دلایا تو نصرت ہارمونیم چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ فتح علی خان کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ مچلی، بیٹے کے شوق کو سراہا۔ کبھی کبھی موسیقی سے دل بہلانے کی اجازت دی لیکن یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں، گویا نہیں۔باپ کی اجازت سے نصرت کے اندر موسیقی کے سوتے پھوٹنے لگے اور وہ فارغ وقت میں موسیقی کا ریاض کرنے لگے۔ فتح علی خان بیٹے کے اندر چھپے ذوق کو دیکھ کر اسے گاہے بگاہے کلاسیکل موسیقی کا سبق دیتے رہے اور پھر نصرت نے جی جان سے موسیقی کی طرف دھیان دینا شروع کردیا اور اپنے والد کو یقین دلا دیا کہ میں غبی نہیں۔ کچھ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتا ہوں ۔کلکتے کا ایک مشہور گائیک پنڈت وینا ناتھ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ سارا پاکستان گھوم کر وہ فیصل آباد آ گیا۔ فتح علی خان سے اس کی شناسائی تھی، اس کے پاس آکر ٹھہرا۔باتوں باتوں میں فتح علی خان نے پنڈت سے پوچھا ''سنایئے پنڈت جی، کیسا رہا پاکستان کا دورہ۔‘‘پنڈت نے جواب دیا۔''بالکل فضول، بکار، سُرگلے میں تڑپ رہے ہیں، گانے کو ترس گیا ہوں۔‘‘''کیوں پنڈت جی؟‘‘۔''ارے فتح علی خان۔ کیا گائوں، کوئی طبلے پر سنگت کی حامی بھرے تو گائوں، گانا شروع کرتا ہوں تو طبلے والا، طبلے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ بس اپنی گائیکی جیسی لایا تھا۔ واپس کلکتے لے کر جا رہا ہوں...‘‘پنڈت جی یہ کہہ کر سونے چلے گئے۔ فتح علی خاں سوچ میں پڑ گئے کہ پنڈت کیا کہہ گیا۔ وہ اسی سوچ میں گم تھے کہ نصرت سکول سے واپس آ گیا۔ فتح علی خان نے بیٹے کو دیکھا۔ بالکل اس طرح جیسے ایک مالی کیاری میں لگے پودے کو پروان چڑھتے دیکھتا ہے۔ چند لمحے اسے غور سے دیکھتے رہے۔ فتح علی خان کو پتہ تھا کہ نصرت ہار مونیم کے ساتھ ساتھ طبلے پر بھی ریاضت کرتا ہے۔ اسے قریب بٹھایا اور کہنے لگے۔ ''پنڈت دینا ناتھ کہتے ہیں کوئی طبلے والا ان کے ساتھ سنگت نہیں کر سکتا۔‘‘نصرت نے جواب دیا۔''آپ کی اجازت ہو تو میں حاضر ہوں۔‘‘فتح علی خان کا سینہ خوشی سے پھول گیا۔ بیٹے کو دو چار گُر کی باتیں بتائیں۔ نصرت نے مشق کرکے انہیں ذہن نشین کر لیا۔ شام کو پنڈت جی سے گانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے کہا،'' مگر طبلے پر سنگت کون کرے گا‘‘ ۔فتح علی خان نے نصرت کی طرف اشارہ کیا۔ پنڈت ہنس کر کہنے لگے۔''ارے، موٹو نصرت۔‘‘۔''ہاں، ہے موٹو مگر ذہن بہت باریک ہے‘‘۔باپ نے جواب دیا۔پنڈت نے یہ سوچ کر گانا شروع کر دیا کہ فتح علی خان کا بیٹا ہے ہاتھ چلا ہی لے گا۔ مچھلی کا بچہ پانی سے تھوڑا بہت تو واقف ہوتا ہی ہے۔ گانا شروع ہوا تو پنڈت کو محسوس ہوا کہ وہ سخت الجھن میں ہے۔ نصرت نے سوچا پہلی بار باپ نے میدان میں چھوڑا ہے ناکام ہواتو ساری عمر اعتماد قائم نہیں کر سکے گا۔ نصرت کی انگلیاں بجلی کی طرح طبلے کے پڑوں پر تھرک رہی تھیں وہ پنڈت کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ میدان میں تمہارے مد مقابل عظیم فتح علی خان کا بیٹا ہے، سنبھل کے بول پکڑنا۔ اور پنڈت گانا روک کر حیرت بھری نظروں سے نصرت کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے نصرت کو گلے لگایا، چوما، داد دی اور فتح علی خان سے کہنے لگا:'' میں ہارا فتح علی خان۔ تیرا یہ چھوٹا سا بیٹا بڑا گُنی ہے‘‘مستقبل کے بڑے فنکار نصرت کی یہ پہلی کامیابی اور جیت تھی۔مقبول قوالیاں و گیت٭... اللہ ھو ٭... وہی خدا ہے٭...میری زندگی ہے تو،٭... کسی دا یار نا وچھڑے، ٭...تم اک گورکھ دھندا ہو،٭... یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، نصرت کی گائی ہوئی غزلیں٭...نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے(قمر جلالوی)٭...میرے رشک قمر(فنا بلند شہری)٭...سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا(صبا اکبرآبادی)٭...ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے(فنا بلند شہری)٭...ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو(فنا نظامی کانپوری)٭...آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں(فنا بلند شہری)٭...آج کوئی بات ہو گئی(پرنم الہ آبادی)٭...سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا٭...ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی(قمر جلالوی)٭...شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں(بشیر فاروقی)٭...پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہے٭...مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے٭...میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیںانعامات اور لقب٭...1987ء میں انھیں صدر پاکستان کی طرف سے ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کا ایوارڈ ملا۔٭...1995ء میں انھیں یونیسکو میوزک پرائز ملا۔٭... 1996ء میں انہیں '' فوکوکا ایشین کلچر پرائز‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...جاپان میں انھیں بڈائی یا ''سنگنگ بدھا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔٭...1997ء میں دو گریمی ایوارڈز لوک البم اور ورلڈ میوزک البم کیلئے نامزد ہوئے۔٭... 1998ء میں پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٭...2001ء تک ان کے پاس ''سب سے زیادہ قوالی ریکارڈنگز‘‘کا گنیز ورلڈ ریکارڈ تھا۔٭...2005ء میں بعد از مرگ ''یو کے ایشین میوزک ایوارڈز‘‘ میں ''لیجنڈزایوارڈ‘‘ ملا۔ ٭...6 نومبر 2006ء کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے شمارہ''ایشیائی ہیروز کے 60 سال‘‘میں انھیں 60 سالوں میں سرفہرست 12 فنکاروں میں درج کیاگیا۔ ٭... 2010ء میں این پی آر کی 50 عظیم آوازوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔٭...2010ء: سی این این کی 50 سال کے 20 نامور موسیقاروں کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ٭...اپنے والد کی برسی کے موقع پر کلاسیکی موسیقی پیش کرنے کے بعد استاد کا خطاب دیا گیا۔

کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن: دنیا کا تنہا ترین تحقیقی مرکز

کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن: دنیا کا تنہا ترین تحقیقی مرکز

منفی 80 ڈگری درجہ حرارت، چار ماہ کی تاریکی آخری حد پر قائم سائنس کی ایک حیرت انگیز تجربہ گاہزمین پر اگر کوئی مقام انسانی بر د ا شت ، عزم اور سائنسی جستجو کی حقیقی آزمائش سمجھا جاتا ہے تو وہ بلاشبہ انٹارکٹیکا ہے۔ برف سے ڈھکا یہ وسیع و عریض براعظم نہ صرف کرہ ارض کا سرد ترین خطہ ہے بلکہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی صحرا بھی ہے۔ اسی بے رحم ماحول میں واقع ''کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن‘‘ (Concordia research station) جدید سائنس کا ایک ایسا منفرد تحقیقی مرکز ہے جہاں انتہائی دشوار حالات کے باوجود سائنس دان انسانی فلاح اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے مسلسل تحقیق میں مصروف رہتے ہیں۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن انٹارکٹیکا کے ایک بلند برفانی سطح مرتفع پر سطح سمندر سے تقریباً 3,200 میٹر کی بلندی پر قائم ہے۔ یہ اسٹیشن فرانس اور اٹلی کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے اور دنیا کے دور افتادہ ترین تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ایک وقت میں تقریباً 16 سائنس دان اور ماہرین پورا سال قیام کرتے ہیں تاکہ موسم، ماحول، فلکیات، انسانی جسم اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہم تحقیقات انجام دے سکیں۔اس تحقیقی مرکز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہاں کا انتہائی سخت موسم ہے۔ موسمِ سرما میں درجہ حرارت منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، جبکہ سال بھر کا اوسط درجہ حرارت تقریباً منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس شدت کی سردی میں چند لمحوں کیلئے بھی غیر محفوظ رہنا انسانی جان کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسٹیشن سے باہر نکلنے والے افراد کو کئی تہوں پر مشتمل خصوصی حفاظتی لباس پہننا پڑتا ہے اور ان کی بیرونی سرگرمیوں کا دورانیہ بھی محدود رکھا جاتا ہے۔ کونکورڈیا کا جغرافیائی محل وقوع اسے مزید منفرد بناتا ہے۔ چونکہ یہ زمین کے انتہائی جنوبی حصے کے قریب واقع ہے، اس لیے موسمِ سرما میں سورج تقریباً چار ماہ تک طلوع نہیں ہوتا اور پورا علاقہ مسلسل تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے برعکس گرمیوں میں سورج کئی ماہ تک غروب نہیں ہوتا۔ سورج کی روشنی اور اندھیرے کے اس غیر معمولی نظام کا انسانی جسم، ذہنی صحت اور حیاتیاتی گھڑی پر گہرا اثر پڑتا ہے، جس کا مطالعہ بھی یہاں ہونے والی تحقیق کا اہم حصہ ہے۔بلند مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کی فضا بھی انتہائی پتلی ہے اور آکسیجن کی مقدار معمول سے کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے آنے والے افراد کو سانس لینے میں دشواری، تھکن اور بلندی سے متعلق دیگر جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی حالات اس مقام کو خلائی مشنوں کی تیاری کیلئے ایک مثالی تجربہ گاہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ یہاں کا ماحول کئی حوالوں سے مریخ جیسے سیارے سے مشابہت رکھتا ہے۔شدید سردیوں کے دوران کونکورڈیا دنیا سے تقریباً مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔ خراب موسم کے باعث نہ تو کوئی ہوائی جہاز یہاں اتر سکتا ہے اور نہ ہی زمینی راستے سے کسی قسم کی امداد پہنچ سکتی ہے۔ اگر اس دوران کوئی طبی یا تکنیکی مسئلہ پیدا ہو جائے تو عملے کو اپنی مہارت اور دستیاب وسائل کی مدد سے خود ہی اس کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تعینات افراد کا انتخاب انتہائی سخت معیار کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ان غیر معمولی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔کونکورڈیا دنیا کے سب سے بڑے صحرا، یعنی انٹارکٹک برفانی صحرا، میں واقع ہے۔ اگرچہ یہاں ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ خطہ انتہائی خشک ہے۔ ہوا میں نمی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس کے باعث عملے کے ہونٹ مسلسل پھٹے رہتے ہیں، جلد خشک ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں نہ کوئی درخت ہے، نہ پودے، نہ پرندے اور نہ ہی جنگلی جانور۔ یہاں تک کہ بہت سے بیکٹیریا بھی اس سخت ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے۔اس اسٹیشن کی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریب ترین انسانی آبادی روس کے ووستوک ریسرچ اسٹیشن میں موجود ہے، جو تقریباً 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی لیے ماہرین کونکورڈیا کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے بھی زیادہ تنہا اور دور افتادہ مقام قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلانوردوں کی نفسیاتی، جسمانی اور سماجی تیاری کے حوالے سے بھی یہاں مختلف تجربات کیے جاتے ہیں۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر ہونے والی تحقیقات موسمیاتی تبدیلی، برفانی تہوں کی تاریخ، زمین کے ماحول، فلکیات، انسانی صحت اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ یہاں جمع ہونے والا سائنسی ڈیٹا عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے، زمین کے ماضی کا مطالعہ کرنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ علم کی جستجو انسان کو زمین کے دشوار ترین مقامات تک لے جا سکتی ہے۔ شدید سردی، طویل تاریکی، تنہائی اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کام کرنے والے سائنس دان اس عزم کے ساتھ تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ان کی کاوشیں نہ صرف زمین بلکہ مستقبل میں دوسرے سیاروں پر انسانی زندگی کی راہیں بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن دراصل اس انسانی عزم کی علامت ہے جو نامساعد حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے علم کی نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔ برف، تنہائی، شدید سردی اور طویل تاریکی کے باوجود یہاں جاری تحقیق ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی جستجو کی کوئی حد نہیں۔ کونکورڈیا کی خاموش برفانی دنیا میں ہونے والی سائنسی کاوشیں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ عزم، حوصلے اور تحقیق کے ذریعے انسان ناممکن دکھائی دینے والے راستوں کو بھی امکانات میں تبدیل کر سکتا ہے۔بلاشبہ، کونکورڈیا صرف ایک تحقیقی مرکز نہیں بلکہ انسانی ہمت، سائنسی لگن اور علم دوستی کی ایک روشن مثال ہے۔

ورزش میں سستی صحت پر بھاری پڑ سکتی ہے

ورزش میں سستی صحت پر بھاری پڑ سکتی ہے

بڑھتی عمر میں جسمانی سرگرمی میں کمی کو معمول سمجھنا صحت کیلئے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے: تحقیق صحت مند زندگی کیلئے ورزش کو ہمیشہ اہم قرار دیا جاتا ہے، مگر عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی کو معمول سمجھنا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ ورزش کے دورانیے میں محض چند منٹ کی کمی بھی عمر رسیدگی کے دوران کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف جسم کو متحرک رکھتی ہے بلکہ کئی سنگین بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ سخت جسمانی ورزش میں صرف چند منٹ کی کمی بھی کینسر کے خطرے میں 15 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بس پکڑنے کیلئے دوڑنے سے گریز کرنا یا جم جانے کے بجائے ٹی وی کے سامنے وقت گزارنا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو عمر بڑھنے کے باوجود اپنی جسمانی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں اور ورزش میں کمی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ جسمانی سرگرمی میں معمولی کمی بھی صحت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے ''بی ایم سی میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے۔ محققین نے شہریوں کے طرزِ زندگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ماڈلنگ کے ذریعے جسمانی سرگرمی اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا بھی مطالعہ کیا۔ تحقیق میں 59,218 افراد شامل تھے، جن میں 55 فیصد خواتین تھیں۔ شرکاء کی اوسط عمر 61.7 سال تھی اور وہ یو کے بائیوبینک کے رکن تھے، جو طبی تحقیق میں حصہ لینے والے تقریباً پانچ لاکھ افراد کا ڈیٹا بیس ہے۔ آٹھ سالہ فالو اَپ کے دوران شرکاء میں کینسر کے 2,385 کیسز سامنے آئے۔ ماہرین نے یہ جائزہ لیا کہ لوگ روزانہ کتنا وقت سونے، بیٹھنے یا ٹی وی دیکھنے، کھڑے رہنے اور مختلف شدت کی جسمانی سرگرمی میں گزارتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمی جتنی زیادہ ہو، کینسر کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نیند یا بیٹھے رہنے کے وقت میں سے 15منٹ کم کرکے اتنا ہی وقت کسی بھی جسمانی سرگرمی میں صرف کرنے سے کینسر کے خطرے میں دو فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس، 30منٹ کی جسمانی سرگرمی کو 30 منٹ کی غیر متحرک سرگرمی سے تبدیل کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد بڑھ گیا۔تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ڈاکٹر جان مچل(Dr John Mitchell) نے کہا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فعال زندگی گزارنے والے افراد اگر اپنی جسمانی سرگرمی کم کر دیں تو ان میں بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ روزانہ کینسر کے خطرے میں 15 فیصد اضافے کے حوالے سے ڈاکٹر جان مچل نے بتایا کہ روزانہ صرف دو سے تین منٹ کی سخت جسمانی سرگرمی کم کرکے اس کی جگہ بیٹھنے، سونے یا ہلکی پھلکی سرگرمی کو دینے سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سخت ورزش سے مراد ایسی جسمانی سرگرمی ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو اور پسینہ آنے لگے۔ کھیلوں میں حصہ لینا، تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا اور گھر کیلئے بھاری سودا اٹھا کر لانا اس کی مثالیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد پہلے ہی متحرک طرزِ زندگی گزار رہے ہیں، ان کیلئے عمر بڑھنے کے ساتھ اپنی جسمانی سرگرمی کی سطح برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی مضبوط شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ زیادہ جسمانی سرگرمی کئی اقسام کے کینسر کے کم خطرے سے منسلک ہے، جن میں مثانے، چھاتی اور آنتوں کا کینسر شامل ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ کی سخت جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ تیز رفتاری سے پیدل چلنا، روزمرہ سائیکل چلانا اور بیڈمنٹن معتدل ورزش کی مثالیں ہیں، جبکہ پیدل پہاڑی سفر، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا اور ٹینس سخت جسمانی سرگرمی میں شامل ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستانی کابینہ کی حلف برداری 15 اگست 1947ء کو 27 رمضان المبارک اور جمعۃ الوداع ہونے کے ساتھ پاکستان کی آزادی کا پہلا دن تھا۔صبح 9 بجے دارالحکومت کراچی میں دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پہلی حکومت کے اراکین نے حلف اٹھائے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔ ان سے یہ حلف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے لیا تھا ۔ایپل کا آئی میک متعارف1998ء میں آج کے روز میں معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنا نیا کمپیوٹر آئی میک (iMac) متعارف کرایا۔ اس جدید کمپیوٹر کو سادہ ڈیزائن، دلکش ظاہری شکل اور صارف دوست خصوصیات کے باعث خاص توجہ حاصل ہوئی۔ آئی میک نے ذاتی کمپیوٹرز کے ڈیزائن کے حوالے سے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ اس کی آمد نے صارفین میں بھی خاصا جوش و خروش پیدا کیا۔جاپان نے ہتھیار ڈالےدوسری عالمی جنگ کے دوران 15اگست1945ء کو جاپان کی جانب سے ہتھیار ڈالے گئے۔ جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے۔امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملو ں کے بعد جاپان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بجے ان نشریات کا آغاز کیا گیا جس میں شہنشاہ نے باقاعدہ ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور اس کی وجہ ایٹمی حملے بتائے گئے۔تبت زلزلہ15اگست1950ء کو تبت میں ایک خوفناک زلزلہ آیا جسے ''آسام زلزلہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس زلزلے کی شدت 8.6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز ہندوستان میں مشمی پہاڑیوں میں واقع تھا۔ یہ علاقہ اب اروناچل پردیش کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہاں پرآنے والا اب تک کا یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے جس میں تقریباً 4ہزار800 افراد ہلاک ہوئے۔ پراسرار ''واو! سگنل‘‘ 1977ء میں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ریڈیو آبزرویٹری کے ریڈیو دوربین بگ ائیر نے SETI منصوبے کے تحت گہری خلا سے ایک غیر معمولی ریڈیو سگنل وصول کیا۔ یہ سگنل تقریباً 72 سیکنڈ تک جاری رہا اور اپنی غیر معمولی شدت کے باعث سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ منصوبے کے ایک رضاکار نے سگنل کی نشاندہی کرتے ہوئے کاغذ پر ''Wow!‘‘ لکھا، جس کے باعث اسے ''واو! سگنل‘‘ کا نام دیا گیا۔بحرین برطانیہ سے آزاد ہوا15اگست 1971ء کو خلیجی ریاست بحرین نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ برطانوی حکومت کے ساتھ طویل عرصے تک معاہداتی تعلقات کے بعد بحرین نے اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔ اس تاریخی پیش رفت کے بعد بحرین ایک آزاد ریاست کے طور پر عالمی برادری میں شامل ہوا۔ ملک میں ہر سال آزادی کا دن قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت ایک ’’ مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر سکتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت ایک ’’ مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر سکتی ہے؟

ان دنوں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگ اکثر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ایک ''مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر دے گی۔ Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں سال ایک مضمون میں اس امکان کا حوالہ دیا اور اندازہ لگایا کہ اگلے پانچ سالوں میں دفتری شعبے کی ابتدائی سطح کی تقریباً 50 فیصد ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس خیال کی بنیاد کچھ یوں ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے قریب پہنچیں گے ٹیکنالوجی کے ایک چھوٹے سے اونچے طبقے کے پاس وہ AI پلیٹ فارم، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے ذرائع ہوں گے جو معیشت کے ایک بڑے حصے کو چلائیں گے۔ Agentic AIیعنی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام جو خود مختار انداز میں کام انجام دے سکتے ہیں اور جدید روبوٹکس انسانی محنت کی جگہ لے سکتے ہیں اور زیادہ تر ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔سان فرانسسکو کے اس تصور کے مطابق آبادی کی اکثریت کے پاس بہت کم اثاثے رہ جائیں گے اور انہیں اپنی محنت بیچ کر مناسب آمدنی حاصل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔کیا اس نظریے پر یقین کرنا چاہیے؟ماہرینِ معاشیات کو ایسے بڑے دعوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جن کے پیچھے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے خیالات فی الحال زیادہ تر قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ محنت کی منڈی کے اعداد و شمار بھی ابھی تک AI کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بارے میں محدود اور غیر حتمی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ بعض ممتاز ماہرینِ معاشیات کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات اس سے کہیں زیادہ محدود ہوں گے،لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ AI کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔''مستقل محروم طبقے‘‘ کا نظریہ اگرچہ شاید مبالغہ آمیز ہو لیکن یہ کچھ ایسی تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ ضرور کر سکتا ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر AI سے حاصل ہونے والے فوائد بنیادی طور پر سرمایہ رکھنے والے افراد اور چند ماہر کارکنوں تک محدود ہو جائیں تو محنت کی منڈی کی حرکیات دوسرے کارکنوں کی مہارتوں کو کم اہم بنا سکتی ہیں اور ان کی محنت کی قیمت کم کر سکتی ہیں۔اگر کم اجرت والے کارکنوں کی تعلیم، تربیت اور انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بھی اسی وجہ سے کم ہو جائے تو معاشرہ کسی حد تک اس صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا تصور ٹیکنالوجی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔کیا آٹومیشن محنت کی منڈی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے؟تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹومیشن محنت کی منڈی میں دو مختلف قسم کے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ڈیوڈ آٹور اور نیل تھامسن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق آٹومیشن یا تو کم مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں اضافہ کر سکتی ہے یا پھر زیادہ مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ایسے کارکن جن کے پاس ایسی معلومات اور مہارت ہو جنہیں مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ان کی اجرتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس دوسرے کارکنوں کی مہارتیں غیر اہم ہو سکتی ہیں وہ اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں اور اپنی روزی کمانے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ Anthropicکی ایک حالیہ تحقیق نے بھی اسی طرح یہ ظاہر کیا ہے کہ Claude Code سے سب سے زیادہ فائدہ زیادہ مہارت رکھنے والے صارفین کو حاصل ہوا۔AI کی پیداواری صلاحیت کے فوائد کس کو ملیں گے؟جیسے جیسے مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی جدت سے حاصل ہونے والے فوائد ممکنہ طور پر ان لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ مرتکز ہو سکتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور مہارت موجود ہے۔یہاں ''مہارت‘‘ سے مراد انسانی سرمایہ یاہیومن کیپٹل ہے۔2000ء کی دہائی کے آغاز میں دائر کیے گئے پیٹنٹس پر ہونے والی ایک تحقیق اس امکان کے کچھ شواہد فراہم کرتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق کسی نئی ایجاد سے پیدا ہونے والی ہر ایک ڈالر کی اضافی قدر میں سے تقریباً 30 سینٹ کارکنوں کو ملے جبکہ 70 سینٹ منافع بن گئے۔اور کارکنوں کو ملنے والی اضافی آمدنی کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین کو حاصل ہوا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس زیادہ مہارت تھی،لہٰذا ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اگر AI سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا بڑا حصہ ان لوگوں کو ملے جو بڑے ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین AI ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ماہرینِ معاشیات عموماً یہ فرض کرتے ہیں کہ طویل مدت میں پیداوار میں محنت اور سرمایہ کا حصہ تقریباً مستقل رہتا ہے۔لیکن ٹیکنالوجی حلقوں کا اصرار ہے کہAgentic AI محنت کی جگہ سرمائے کو استعمال کرے گی اور اس روایتی تصور کو تبدیل کر دے گی۔کم ہنر والے کارکنوں پر دوسرا اثرAI کے محنت کی منڈی پر مرتب ہونے والے بالواسطہ یا ثانوی اثرات زیادہ اور کم اجرت والے کارکنوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔اگر کم مہارت رکھنے والے کارکن اپنی ملازمتیں کھونے لگیں تو اچانک بڑی تعداد میں ایسے کارکن پیدا ہو سکتے ہیں جن کی مہارتیں پہلے کے مقابلے میں کم اہم رہ گئی ہوں۔ایسی صورت میں کم مہارت رکھنے والے کارکنوں کی اضافی فراہمی ان سب کی اجرتوں کو نیچے لے جا سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ AI ماڈلز کی زبردست طلب کے نتیجے میں نئی کم مہارت والی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اسے منظم کرنے کے کام۔لیکن آج یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسی ملازمتیں مستقبل میں کس نوعیت کی ہوں گی اور ان میں کتنی اجرت دی جائے گی۔پیداواری صلاحیت کا بڑھتا ہوافرق طویل مدتی اثراتکارکنوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنا یا انہیں نئی مہارتیں سکھانا آسان نہیں ہے۔مزید یہ کہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی آمدنی میں اچانک کمی بچوں کی مہارتوں کی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ یوں والدین کی اجرت میں آنے والی تبدیلیاں اگلی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم آمدنی رکھنے والے کارکن انسانی سرمائے یعنی تعلیم اور مہارت میں نسبتاً کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اگر مختلف کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں فرق بڑھتا گیا تو کم آمدنی والے لوگوں کی تعلیم اور تربیت میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب بھی کم ہو سکتی ہے۔اس طرح محنت کی منڈی کی دو حصوں میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔

نوجوانوں کا عالمی دن

نوجوانوں کا عالمی دن

پاکستان کے نوجوان، ہمارا مستقبل 12 اگست کو دنیا بھر میں نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کے مسائل، صلاحیتوں، حقوق اور معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور توانائی سے بھرپور طبقہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، مناسب تربیت، روزگار کے مواقع اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے نوجوانوں کا عالمی دن اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کا حصہ بہت نمایاں ہے۔نوجوانوں کے عالمی دن منانے کا تصور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر نوجوانوں سے متعلق عالمی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششوں سے پیدا ہوا۔ 1995ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ورلڈ پروگرام آف ایکشن فار یوتھ منظور کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومتوں اور عالمی اداروں کو ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا تھا۔اس کے بعد 1999ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 اگست کو باقاعدہ طور پر نوجوانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ پہلی مرتبہ یہ دن 12 اگست 2000ء کو منایا گیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا اور حکومتوں کو نوجوان نسل کے لیے بہتر پالیسیاں بنانے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ہر سال نوجوانوں کے عالمی دن کے لیے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں سے متعلق کسی اہم مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوز کی جا سکے۔اس سال کا تھیم''Different Contexts, Common Aspirations‘‘ہے یعنی ہمارے حالات مختلف ہیں مگر خواہشات ایک سی۔ نوجوان آبادی ،بڑا اثاثہپاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ لاکھوں نوجوان ہر سال سکول، کالج اور جامعات سے تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار نہ ملے تو یہی بڑی نوجوان آبادی بے روزگاری، مایوسی اور سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل پاکستان کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت اور سماجی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔پاکستانی نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں تعلیم، طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل، فنون اور کاروبار کے میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی کامیابیوں کو قومی ترقی کی منظم قوت میں تبدیل کیا جائے۔نوجوانوں کیلئے کیا کرنا چاہیے؟پاکستان میں نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے معیاری اور جدید تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے۔ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ تعلیم کو روزگار اور عملی زندگی کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا۔ سکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا چاہیے۔دوسرا اہم شعبہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت ہے۔ ہر نوجوان کا یونیورسٹی جانا ضروری نہیں۔ بہت سے نوجوان ٹیکنیکل تعلیم اور ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ الیکٹریشن، مکینک، سولر ٹیکنیشن، گرافک ڈیزائنر، پروگرامر، ڈیجیٹل مارکیٹر اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔تیسرا بڑا مسئلہ روزگار ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر نوجوانوں کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے چاہییں۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کو آسان قرضے، کاروباری تربیت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔ نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمتوں کا منتظر رکھنے کے بجائے انہیں کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی طرف بھی راغب کرنا چاہیے۔ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس جیسے شعبوں میں نوجوان عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو عام کرنا چاہیے۔