اُردو کا مقام ، تعین کب ہو گا؟

اُردو کا مقام ،  تعین کب ہو گا؟

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


قیام پاکستان کے بعد تادم تحریر ’’زبانوں کی سیاست‘‘ کے ذریعے حزب ِاقتدار و حزب ِختلاف نے خوب نام کمایا۔ پاکستان کے پہلے وزیرتعلیم فضل الرحمن تو شریف آدمی تھے کہ انہوں نے پہلی تعلیمی کانفرنس منعقدہ نومبر 1947ء میں برملا نومولود پاکستانی ثقافت کو صوبوں میں بولی جانے والی قدیمی و تاریخی مادری زبانوں، ثقافت اور صوبوں کے تاریخی تسلسل سے نتھی کر دیا تھا۔ اپنی تقریر میں ان کا استدلال تھا کہ پنجابی، بنگالی، سندھی، پشتو اور بلوچ زبانوں کے سوتوں سے فیض پا کر ہی ’’پاکستانی ثقافت‘‘ تشکیل پائے گی، مگر قائداعظم کی وفات کے بعد سرکار کو آئی سی ایس افسران کی کھیپ نے ’’اُردو زبان‘‘ کو استعمال کرنے کا درس دیا۔ قائداعظم کی مشرقی بنگال میں کی گئی مشہور تقریر کو اپنے مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا حالانکہ اس تقریر میں قائداعظم نے اُردو کو ’’واحد قومی زبان‘‘ نہیں بلکہ ’’رابطہ کی زبان‘‘ کہا تھا جبکہ مشرقی بنگال کی اسمبلی کے صوبہ میںدفتری، تعلیمی و کاروباری سطح پر وہی زبان اختیار کرنے کے حق میں بات کی تھی جو اسمبلی منظور کرے۔ یہ وہی ویژن تھا ،جو خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال 1930ء میں دے چکے تھے۔ خطبہ الٰہ آباد میں لسانی و ثقافتی رنگارنگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ریکارڈ کا حصہ ہے، مگر آئین کے پہلے ڈرافٹ1950ء اور دوسری تعلیمی پالیسی1951ء منعقدہ کراچی میں اُردو کو واحد قومی زبان بنانے کی بات کی گئی، جو اقبال و جناح کے خیالات سے متصادم تھا۔ اس کے ردعمل میں بنگالی زبان کی تحریک نے جنم لیا ،جسے حزبِ اختلاف نے بوجوہ بڑھاوا دیا۔ مشرقی بنگال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ’’جگتو فرنٹ‘‘ بنایا، جس نے بنگالی کو اُردو کے ہمراہ تخت پر بٹھانے کی بات کی۔ 1954ء میں محمد علی فارمولا پر بالآخر سمجھوتہ ہوا ،جس میں بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی سمیت جگتو فرنٹ والے بھی شریک تھے۔ اس میں ایک طرف ون یونٹ اور دوسری اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو تخت نشینی دینے پر اتفاق ہوا۔ 1956ء کے آئین میں اس سمجھوتے کو قانون کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس سے پاکستانی مادری زبانوں کا مسئلہ سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی چلا گیا۔ وجہ صاف تھی کہ ملک میں ایک سے زیادہ مادری زبانیں تھیں۔دو قومی زبانوں والے فیصلہ سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ جو زبان زیادہ ’’کھپ‘‘ ڈالے گی اسے تخت شاہی میں جگہ مل جائے گی۔ مرکزیت پسند اور انگریزی زبان کے حمایتی اس لڑائی میں تیل ڈالتے رہے کہ اُردو اور پاکستانی مادری زبانوں میں جتنے اختلافات ہوں گے اس کے نتیجہ میں بیوروکریسی اور انگریزی زبان کی حاکمیت کی طرف تو کوئی دیکھے گا ہی نہیں۔ دوسری طرف اُردو کے منچلے تھے، جو جناح و اقبال کے خیالات سے رجوع کرنے کی بجائے محض اُردو کی حاکمیت کے لیے اسے واحد قومی زبان کے طور پر بحال کروانا چاہتے تھے۔ تیسری طرف پاکستانی مادری زبانوں کے حمایتی تھے ،جن میں سب سے طاقتور گروہ بنگالی زبان کے حمایتیوں کا تھا۔ یہ گروہ اُردو کے ساتھ بنگالی کی تخت نشینی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا ،مگر پاکستانی مادری زبانوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا ویژن ان میں بھی مفقود تھا۔ یہ تو محض اپنی سیاست کو بڑھاوا دینے کے لیے ’’لسانی کھاتے‘‘ استعمال کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں بھارت نے 1948ء میں ’’ڈار کمیشن‘‘ بنایا، جس نے بھارتی آئین ساز اسمبلی کو ایک طرف یہ بتایا گیا کہ بھارت میں کتنی مادری زبانیں بولی جاتی ہیں تو دوسری طرف ان مادری زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد بتائی گئی۔ اس رپورٹ کے تحت اسمبلی نے فیصلہ دیا کہ بھارت میں 96 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں 26 ایسی ہیں ،جن کے بولنے والے 5 ہزار سے زیادہ ہیں، ان زبانوں میں پرائمری تعلیم دی جا سکتی ہے۔ البتہ انگریزی کی حاکمیت کو ’’ڈار کمیشن‘‘ بھی بوجوہ چیلنج نہ کر سکا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ انگریزی کی حاکمیت کے حوالے سے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش بوجوہ ایک ہی جیسے مخمصوں کا شکار ہیں۔ البتہ ’’ڈار کمیشن‘‘ سے بھارتی قوم پرستی مضبوط ہوئی، مگر ہمارے ہاں مادری زبانوں کے حوالے سے تحفظات ہی رہے۔ 1971ء میں بنگالیوں سے ہماری جان ’’چھڑوا‘‘ دی گئی، مگر مادری زبانوں کے حوالے سے ریاست کا ’’خلل‘‘ برقرار رہا اور اس پر سیاستیں بھی جاری رہیں۔ اب انہوں نے سوچا کہ باقی ماندہ پاکستان میں بنگالی زبان جیسی تحریک پیدا ہی نہ ہو کہ اس کے لیے مادری زبانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا اور زبانوں و لہجوں کے درمیان منافرت کو بڑھانا اولیت قرار دیا گیا۔ ضیاء الحق کے زمانے سے پیپلز پارٹی کے تیسرے دور حکومت تک یہ سیاست برقرار رہی اور تاحال یہ مسئلہ وفاق پاکستان کی درد سر بنا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پی کے کی پچھلی سرکار نے صوبہ کی زبانوں کے حوالے سے جو قانون بنایا تھا ،وہ بھی جگتو فرنٹ کی طرح محض ردعمل کی پیداوار تھا، جس نے خود صوبہ میں اختلافات کو بڑھایا ہی۔ پاکستانی مادری زبانوں کو سلجھانے کے لیے جس ویژن کی ضرورت تھی۔ وہ اے این پی کی گذشتہ حکومت میں بھی مفقود رہا۔ پاکستانی زبانوں کے مسئلہ کو صوبہ کی سطح کی بجائے وفاق کی سطح پر حل کرنے ہی سے بات آگے بڑھے گی۔ اس کا حل یہی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی معاونت کے لیے پاکستانی زبانوں کے حوالہ سے قومی کمیشن بنایا جائے ،جو ایک طرف پاکستانی مادری زبانوں کی نشاندہی کرے، ان کے اعدادوشمار بتائے اور انگریزی اور اردو کے مقام کا تعین بھی کرے۔دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جہاں ایک سے زیادہ قومی زبانیں ہیں اور ایسے بہت سے ممالک بھی جو ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ حل تو یہی ہے کہ آپ گہری سوچ بچار کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے اس دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ایسے حل کریں کہ کوئی طالع آزما یا قبضہ گیر اسے مستقبل میں استعمال نہ کر سکے۔ پارلیمان کی معاونت کے لیے اعلیٰ کمیشن بنایا جائے ،جس میں پاکستانی مادری زبانوں اور ان سے منسلک ثقافتوں کے ماہرین بھی ہوں اور اُردو و انگریزی کے ماہرین بھی، تعلیم سے وابستہ محقق بھی اور انتظامیہ کے نمائندے بھی، کمیشن لسانیات کے بین الاقوامی ماہرین سے بھی مدد لے کہ پھر اس رپورٹ کی بنیاد پر پارلیمان فیصلہ کرے اور اسے آئین کا حصہ بنائے۔ اس سے پاکستان نہ صرف ایک دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ختم کر سکے گا بلکہ وفاق پاکستان بھی مضبوط ہوگا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
غربت کا خاتمہ، باوقار زندگی کی ضمانت

غربت کا خاتمہ، باوقار زندگی کی ضمانت

ہر سال 17 اکتوبر کو''غربت کے خاتمے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہےغربت محض خالی جیب، بے روزگاری یا خوراک کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی معاشرتی محرومی ہے جو انسان سے اس کی بنیادی ضروریات، خوابوں کی تکمیل اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع چھین لیتی ہے۔ جب کسی گھر میں بچوں کی تعلیم کے بجائے دو وقت کی روٹی کا انتظام اوّلین ترجیح بن جائے، علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث مریض بیماری سہنے پر مجبور ہوں اور محنت کرنے کے باوجود خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں تو غربت کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی اہم مسئلے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کیلئے ہر سال 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے 1992ء میں 17اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن قرار دیا۔ اس دن کا مقصد غربت اور محرومی کا شکار افراد کی مشکلات کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور غربت کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ غربت کی کثیرالجہتی وجوہاتدنیا کے مختلف معاشروں میں غربت کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم بے روزگاری، کم آمدنی، مہنگائی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، تعلیم کی کمی، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور قدرتی آفات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، محدود روزگار، صحت کی ناکافی سہولتیں اور معیاری تعلیم تک عدم رسائی بھی غربت کے دائرے کو وسیع کرتی ہیں۔غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ غذائیت کی کمی، اسکول چھوڑنے کی مجبوری، کم عمری میں مزدوری اور صحت کے مسائل ان کی شخصیت اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ دوسری جانب غربت سے دوچار خاندانوں کو غیر محفوظ رہائش، صاف پانی اور مناسب طبی سہولتوں کے حصول میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے لگتی ہے اور معاشرے کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔پاکستان میں غربت کا چیلنجپاکستان بھی غربت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ مہنگائی، محدود آمدنی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات بڑھائی ہیں۔عالمی بینک کی خطے میں غربت سے متعلق چشم کشا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انتہائی غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ خطے کے انتہائی غریب افراد کا تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتا ہے۔اس کے علاوہ افغانستان، شام اور یمن بھی غربت کے بڑے مراکز بن چکے ہیں جہاں مجموعی طور پر خطے کے 47 فیصد انتہائی غریب افراد بستے ہیں۔ خطے کی شدید غریب ترین آبادی 3 ڈالر یومیہ سے بھی کم کمانے والے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریجنل سطح پر غربت کی شرح قبل از کورونا سطح سے بھی اوپر اور مسلسل اضافے کا شکار ہے جاری مالی سال کے دوران پاکستان کا مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں، چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی ہو، فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنر سکھائے جائیں۔ زراعت، صنعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی سے آمدنی کے ذرائع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری غریب خاندانوں کو مشکلات کے دائرے سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔اجتماعی ذمہ داری اور روشن مستقبلغربت کے خاتمے کی ذمہ داری صرف حکومتوں پر عائد نہیں ہوتی، بلکہ نجی اداروں، فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صاحب استطاعت افراد مستحق خاندانوں کی مدد، بچوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج اور ہنرمندی کے فروغ میں حصہ لے سکتے ہیں۔غربت کے خاتمے کا عالمی دن محض ایک یادگاری موقع نہیں، بلکہ یہ عہدِ نو کی دعوت ہے کہ کسی انسان کو بھوک، بے گھری، بیماری یا تعلیم سے محرومی کے باعث بے بسی کی زندگی نہ گزارنا پڑے۔ ایک خوشحال معاشرہ وہی ہے جہاں ترقی کے مواقع سب کیلئے موجود ہوں، محنت کرنے والے کو مناسب معاوضہ ملے اور ہر فرد کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع میسر آئے۔2026ء کا عنوان: سب کیلئے محفوظ گھرغربت کے خاتمے کا عالمی دن ایک خاص تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے جو دو سال کیلئے ہوتی ہے۔ 2026ء سے 2028ء تک اس دن کا موضوع ''امن اور انسانی حقوق کیلئے متحد‘‘ ہے، جبکہ 2026ء میں خصوصی توجہ ''سب کیلئے محفوظ گھر‘‘ کے عنوان پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ مناسب رہائش تحفظ، معاشرتی سرگرمیوں میں شرکت اور باوقار زندگی گزارنے کی بنیاد ہے۔دنیا بھر میں 2.8 ارب سے زائد افراد رہائش کی کسی نہ کسی قسم کی ناکافی سہولت کا سامنا کر رہے ہیں۔ غربت اور معاشرتی محرومی کا شکار افراد کو اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ محفوظ اور مستحکم گھر کی عدم موجودگی میں صحت کی سہولتوں، تعلیم، روزگار اور معاشرتی زندگی میں شرکت تک رسائی کہیں زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔رہائش کا عدم تحفظ محض چھت کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ غیر محفوظ، ناقابلِ برداشت اخراجات والی، ضرورت سے زیادہ گنجان یا غیر یقینی رہائش غربت اور معاشرتی محرومی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور دیگر انسانی حقوق سے استفادے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی لیے 2026ء کیلئے جاری کردہ تصوراتی دستاویز میں ایسی رہائشی پالیسیوں اور نظاموں پر زور دیا گیا۔

بلڈ پریشر چیک کرتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں!

بلڈ پریشر چیک کرتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں!

بازو کی پوزیشن ریڈنگ میں بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے:ماہرینبلڈ پریشر کی درست پیمائش صحت کی نگرانی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، مگر معمولی سی بے احتیاطی بھی ریڈنگ کو حقیقی مقدار سے زیادہ ظاہر کر سکتی ہے۔ بلڈ پریشر چیک کرتے وقت جسم کی پوزیشن، ٹانگوں کی حالت، بات چیت اور خصوصاً بازو کو مناسب جگہ پر نہ رکھنا نتیجے کو گمراہ کن بنا سکتا ہے۔ بعض افراد بلند ریڈنگ دیکھ کر بلاوجہ تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا دوا کے بارے میں غلط فیصلہ کر لیتے ہیں، حالانکہ مسئلہ پیمائش کے طریقۂ کار میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے درست تشخیص اور بروقت علاج کیلئے بلڈ پریشر ناپنے کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ہزاروں افراد میں معمول کے چیک اپ کے دوران معمولی غلطیوں کے باعث غلط طور پر بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کی تشخیص کیے جانے کا خدشہ ہے۔ ماہرین طب نے خبردار کیا ہے کہ بلڈ پریشر چیک کرنے کے طریقۂ کار میں معمولی کوتاہی بھی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔مریض کو سیدھا بیٹھائیںماہرین کی ہدایات کے مطابق بلڈ پریشر ناپتے وقت مریض کو سیدھا بیٹھنا چاہیے اور اس کا بازو میز پر مناسب انداز میں سہارا دیا جانا چاہیے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اکثر ہسپتالوں میں اس ہدایت پر ہمیشہ عمل نہیں کیا جاتا، جس سے غلط ریڈنگ آنے اور غلط تشخیص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ برطانوی ڈاکٹر ڈین ایگٹ کا کہنا ہے کہ اگر ہم بلند فشارِ خون سے لاحق نقصان کے خطرے سے دوچار افراد کی درست شناخت اور ان کا علاج کرنا چاہتے ہیں تو بلڈ پریشر کی درست پیمائش انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ علاج اور ادویات کے باعث پیدا ہونے والے مضر اثرات حقیقی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے مریضوں میں جو پہلے ہی کسی بیماری یا کمزوری کا شکار ہوں۔بلڈ پریشر ناپنے کی ناقص تکنیک بالآخر نامناسب علاج کے فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے اور مریض کے معیارِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔بازو کی پوزیشن یہ انتباہ امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ بلڈ پریشر ناپتے وقت بازو کی پوزیشن ریڈنگ میں ''بہت بڑا فرق‘‘ پیدا کر سکتی ہے۔ جان ہاپکنز میڈیسن کے ماہرین نے دریافت کیا کہ اگر مریض کا بازو بغیر سہارے کے جسم کے پہلو میں لٹکا ہوا ہو توسسٹولک بلڈ پریشریعنی بلڈ پریشر کی ریڈنگ میں اوپر والا نمبر تقریباً 7 ملی میٹر مرکری تک بڑھ سکتا ہے۔بازو کو گود میں رکھنے کی صورت میں بھی سسٹولک بلڈ پریشر کی ریڈنگ تقریباً 4 ملی میٹر مرکری (mmHg) زیادہ ظاہر ہوئی۔بازو دل کی سطح پر رکھیں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ماہرین کی اس ہدایت کو مزید تقویت دیتے ہیں جس میں بلڈ پریشر چیک کرتے وقت مریض کا بازو دل کی سطح پر میز یا ڈیسک پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بازو بغیر سہارے کے نیچے لٹکا رہتا ہے تو پٹھے سکڑ سکتے ہیں، جس سے عارضی طور پر بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب بازو کو گود میں رکھنے سے بازو اور دل کے درمیان فاصلہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بازو میں بلڈ پریشر زیادہ ہو سکتا ہے۔لاعلمی نقصاندہہائی بلڈ پریشر، جو تقریباً ہر تین بالغ افراد میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے، فالج، ہارٹ اٹیک، گردوں کے امراض اور حتیٰ کہ ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔تاہم چونکہ بلند فشارِ خون کی علامات شاذونادر ہی ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے اکثر اس کا بروقت پتا نہیں چل پاتا اور تشخیص بہت دیر سے ہوتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا بیشتر افراد کو اس کا علم ہی نہیں۔مریضوں کیلئے مشورہمریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر ناپنے سے پہلے کم از کم پانچ منٹ خاموشی سے بیٹھیں، دونوں پاؤں زمین پر رکھیں اور کمر کو مناسب سہارا حاصل ہو۔ بلڈ پریشر ناپنے والے ایڈجسٹ ایبل کف کا درمیانی حصہ دل کی درمیانی سطح پر ہونا چاہیے، جبکہ بازو میز یا ڈیسک پر رکھا ہو۔ اس تحقیق کیلئے جان ہاپکنز میڈیسن کے محققین نے 18 سے 80 سال کی عمر کے 133 بالغ افراد کا بلڈ پریشر ناپا۔ریڈنگ لینے سے قبل تمام شرکاء نے دو منٹ چہل قدمی کی، تاکہ ایسا محسوس ہو جیسے وہ ابھی ڈاکٹر کے کلینک پہنچے ہوں۔ اس کے بعد انہیں پانچ منٹ بیٹھنے کیلئے کہا گیا۔شرکاء کے بلڈ پریشر کی متعدد ریڈنگز لی گئیں، جن کے درمیان 30، 30 سیکنڈ کا وقفہ تھا۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ صرف بازو کی پوزیشن کی وجہ سے بھی بعض مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر، جسے طبی اصطلاح میں ہائپرٹینشن کہا جاتا ہے، کی تشخیص ہو سکتی ہے۔ بازو کو جسم کے پہلو میں بغیر سہارے کے لٹکانے کی صورت میں سب سے زیادہ ریڈنگ سامنے آئی۔ محققین نے پایا کہ اس پوزیشن میں سسٹولک بلڈ پریشر 6.5 ملی میٹر مرکری (mmHg) اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر 4.4 ملی میٹر مرکری زیادہ ظاہر ہوا۔ نارمل ریڈنگماہرین کے مطابق نارمل بلڈ پریشر 90/60 ایم ایم ایچ جی سے 120/80ایم ایم ایچ جی کے درمیان ہوتا ہے۔ گھر پر بلڈ پریشر ناپنے کی صورت میں 135/85 ایم ایم ایچ جی سے زیادہ ریڈنگ کو بلند فشارِ خون تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ہسپتال میں طبی ماہر کے ذریعے پیمائش کی جائے تو 140/90ایم ایم ایچ جی یا اس سے زیادہ بلڈ پریشر ہائی تصور کیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزارنے والے نصف سے زیادہ افراد اس بات سے لاعلم ہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

تیل کا عالمی بحران1973ء میں تیل کا عالمی بحران پیدا ہوا۔ عرب اسرائیل جنگ کے دوران خلیج فارس کی تیل برآمد کرنے والی ریاستوں نے امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کو تیل کی فروخت کم کر دی تھی جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چار گنا بڑھ گئی تھی اور دنیا خوفناک کساد بازاری کی شکار ہوئی۔ عرب ممالک نے تیل کی قیمت فروخت میں 70 فیصد اضافہ کر دیاتھا۔نیویارک میں آتشزدگی17اکتوبر1966ء کو نیویارک، مین ہیٹن کے فلیٹیر ون دسٹرکٹ کے پڑوس میں آتشزدگی کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کو 23ویں سٹریٹ آتشزدگی کے نام سے بھی یا د کیا جاتا ہے۔ نیویارک سٹی فائر ڈیپارٹمنٹ کے فائر فائٹرز کا ایک گروپ آگ بجھانے کے عمل میں مصروف تھا کہ اچانک ایک عمارت گر گئی جس کے نتیجے میں12فائر فائٹر ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے گرنے تک فائر فائٹر محکمہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔لوما پریٹازلزلہ17اکتوبر1989ء کو کیلیفورنیا کے وسطی ساحل لوماپریٹا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ان جھٹکوں کا مرکز وزکاؤنٹی کی نیسین مارکس اسٹیٹ پارک کے جنگل میں تھا۔زلزلے کی شدت6.9ریکارڈ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک جبکہ 3 ہزار 757شدید زخمی ہوئے۔سانتا کروز کاؤنٹی میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ اس کے اثرات شمال کی طرف سان فرانسسکو کے خلیجی علاقے تک محسوس کئے گئے ۔17اکتوبر کا احتجاج17اکتوبر کا احتجاج، جسے عام طور پر ''انقلاب 17 اکتوبر ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، لبنان میں سول احتجاج کا ایک سلسلہ تھا۔ احتجاج پیٹرول اور تمباکو پر ٹیکسوں کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔جمود معیشت، بے روزگاری،بجلی، پانی اور صفائی جیسے بنیادی مسائل کی وجہ سے احتجاج تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔مظاہروں سے سیاسی بحران پیدا ہونے پر وزیر اعظم سعد حریری نے استعفیٰ دے دیا ۔ حسن دیاب کی سربراہی میں نئی کابینہ تشکیل دی گئی لیکن بیروت دھماکوں کے بعد اس نے بھی استعفیٰ دے دیا۔دوسری کوسوو جنگ17 اکتوبر1448ء کو دوسری کوسوو جنگ کے دوران عثمانی فوج نے ہنگیرئن فوج کو شکست دی۔ یہ زمینی جنگ تین روز تک جاری رہی جس میں سلطان مراد دوئم کی سربراہی میں عثمانی فوج نے ریجنٹ جان ہنیادی کی صلیبی فوج کو شکست دی۔اس جنگ کے بعد ترکوں کیلئے سربیا اور بلقان کی دیگر ریاستوں کو فتح کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔اس فتح سے عثمانیوں نے چار سال قبل ورنا میں شکست کا بدلہ چکایا۔پیرس میں قتل عام17اکتوبر1961ء کو پیرس میں ایک خوفناک قتل عام کیا گیا۔ پولیس نے نیشنل لبریشن فرنٹ الجزائر کے ایک مظاہرے پر حملہ کیا گیاجس میں تقریباً30ہزار مظاہرین شریک تھے۔1998ء میں فرانسیسی حکومت نے 40مظاہرین کی اموات کو تسلیم کیا۔ بعض مورخین کا اندازہ ہے کہ اس حملے کے دوران 200 سے 300 کے درمیان لوگ مارے گئے تھے۔ زیادہ تر کی موت پولیس کی جانب سے تشدد اور ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ کہ پولیس نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دریائے سین میں پھینکاتھا۔

 کیا مصنوعی ذہانت نے انسانی ذہانت کا مقام حاصل کر لیا ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت نے انسانی ذہانت کا مقام حاصل کر لیا ہے؟

جی پی ٹی 6 آسٹرا اور اے جی آئی کا دعویٰمصنوعی ذہانت کی ترقی نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ایسے نظام جو کبھی صرف سوالات کے جواب دینے یا مختصر تحریریں لکھنے تک محدود تھے اب ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے، سافٹ ویئر تیار کرنے، سائنسی تحقیق میں مدد دینے اور کمپیوٹر پر متعدد مراحل پر مشتمل کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی کے نئے ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا (GPT-6 Astra) کے بارے میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور یعنی آرٹیفشل جنرل انٹیلی جنس (AGI) کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا جدید اے آئی ماڈلز کی غیر معمولی کارکردگی واقعی انسانی ذہانت جیسی عمومی صلاحیت کا ثبوت ہے یا ہم ابھی ایسے ماڈلز کے دور میں ہیں جو مخصوص حالات میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن حقیقی دنیا کے غیر متوقع مسائل میں ان کی صلاحیتیں محدود ہو سکتی ہیں؟ اے جی آئی کیا ہے؟آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو مختلف شعبوں میں سیکھنے، تجزیہ کرنے، نئے مسائل سمجھنے اور حاصل شدہ علم کو نئی صورت حال میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ موجودہ اے آئی ماڈلز بہت سے کاموں میں غیر معمولی مہارت دکھاتے ہیں لیکن کسی ایک یا کئی مخصوص امتحانات میں کامیابی لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ہر طرح کے مسئلے کو انسان کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔تاہم اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے جی پی ٹی 6 آسٹرا کی رونمائی کے موقع پر اس امکان کا اظہار کیا کہ مستقبل میں لوگ موجودہ دور کو AGI کے آغاز کے طور پر یاد کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل سافٹ ویئر انجینئرنگ، ریاضی، کمپیوٹر کے خودکار استعمال اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے۔اس کی صلاحیتوں کی مثالوں میں تھری ڈی ڈیزائن کے لیے کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) کوڈ تیار کرنا، الیکٹرانک سرکٹ بورڈز کی ترتیب میں مدد دینا، تھری ڈی ماڈلز کو ڈیجیٹل ماحول میں تبدیل کرنا اور تحریری ہدایات کی بنیاد پر ویب ایپلی کیشنز تیار کرنا شامل ہیں۔یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ اے آئی اب محض معلومات فراہم کرنے والا نظام نہیں رہی بلکہ ایسے کاموں میں بھی حصہ لے رہی ہے جن کے لیے منصوبہ بندی، مختلف ٹولز کا استعمال اور کئی مراحل کو مربوط کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شاندار بینچ مارک نتائج اور ان کی حقیقتمصنوعی ذہانت کی صلاحیت جانچنے کے لیے مختلف بینچ مارک استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ ایسے معیاری ٹیسٹ ہوتے ہیں جن کے ذریعے ماڈلز کی ریاضی، منطق، پروگرامنگ اور نئے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جاتا ہے۔جی پی ٹی 6 آسٹرا نے ARC-AGI-3 ٹیسٹ میں مخصوص جانچ کے طریقے کے تحت 99.9 فیصد سکور حاصل کیا۔ یہ ٹیسٹ ایسے نئے ماحول میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت جانچتا ہے جہاں نظام کو خود تجربات کرکے قواعد سمجھنے اور اگلا قدم طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینچ مارکس، شفافیت اور مصنوعی ذہانت پر اعتماداے آئی کی دنیا میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات ماڈل کے نتائج بہتر بنانے کے لیے سوالات کی عبارت، اضافی ہدایات، کمپیوٹنگ وسائل یا سافٹ ویئر کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اگر ان تبدیلیوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہ کی جائیں تو دوسرے ریسرچرز کے لیے انہی نتائج کو دہرانا اور ان کی درستگی جانچنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس عمل کو Benchmaxxing کہتے ہیں۔ اس سے مراد ٹیسٹ کے طریقوں میں بار بار تبدیلی کرکے زیادہ سے زیادہ سکور حاصل کرنے کی کوشش ہے۔جی پی ٹی 6 آسٹرا کے حوالے سے بھی مختلف ٹیسٹ نتائج اور بعض اعدادوشمار میں تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اے جی آئی کے امکانات، خطرات اور مستقبل کی ذمہ داریاںاے آئی کی ترقی کے ساتھ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ماڈلز اب صرف سوالات کے جواب دینے کے بجائے صارف کی ہدایات کے مطابق متعدد مراحل پر مشتمل کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ صلاحیت تعلیم، تحقیق، صنعت، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں نمایاں فوائد پیدا کر سکتی ہے۔لیکن خودمختاری میں اضافے کے ساتھ خطرات بھی بڑھتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی ہدایت کو غلط سمجھے، نامکمل معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرے یا مقررہ حدود سے باہر کارروائی کرنے کی کوشش کرے تو نقصان ہو سکتا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے شعبے میں طاقتور نظاموں کے غلط استعمال کا خدشہ بھی موجود ہے۔اسی لیے اے آئی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات، واضح اجازتوں، انسانی نگرانی اور مؤثر قانونی و اخلاقی اصولوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

  مستقبل کی گاڑیاں

مستقبل کی گاڑیاں

خودکار ڈرائیونگ، شمسی توانائی اور ایک دوسرے سے رابطہآنے والی دہائی میں ہماری سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آج کے مقابلے میں بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں مگر سٹیئرنگ سنبھالنے اور بار بار بریک لگانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی گاڑی نہ صرف خود راستہ پہچانتی ہے بلکہ آس پاس چلنے والی دوسری گاڑیوں سے بھی رابطے میں رہتی ہے۔ اس کی چھت اور باڈی پر موجود سولر سسٹم سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت سے زائد انرجی کو برقی نظام میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔یہ محض سائنس فکشن کی کہانی نہیں۔ معروف سائنسی ویب سائٹ 'لائیو سائنس‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ان میں سے بعض ٹیکنالوجیز عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ سولر انرجی سے چلنے والی گاڑیاںالیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک چارجنگ کا وقت، بیٹری کی قیمت اور چارجنگ سٹیشنوں کی دستیابی ہے۔سولر انرجی ان مسائل کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ مستقبل میں گاڑی کی چھت، بونٹ اور دیگر حصوں پر ایسے سولر سیل نصب کیے جا سکتے ہیں جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کریں۔ امریکی کمپنی اپٹیرا نے 2024ء میں ایسی گاڑی کا پروٹوٹائپ پیش کیا تھاجس میں چھت، بونٹ اور دوسرے حصوں پر سولر پینل لگائے گئے تھے۔ کمپنی کے بیان کردہ اندازوں کے مطابق موزوں حالات میں یہ گاڑی روزانہ تقریباً 64 کلومیٹر تک سولر انرجی کی مدد سے سفر کر سکتی ہے جبکہ مکمل چارج پر اس کی بتائی گئی حد تقریباً 640 کلومیٹر ہے۔ ایک اور دلچسپ پیش رفت فوٹو وولٹائک پینٹ ہے۔ مرسڈیز بینز نے 2024ء میں ایسی ٹیکنالوجی پر تحقیق کا ذکر کیا تھا جو گاڑی کی باڈی پر رنگ کی تہہ کے ذریعے سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر سکے۔ کمپنی کے مطابق لاس اینجلس جیسے دھوپ والے شہر میں اس سے سالانہ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر کے سفر کے مساوی توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ آپس میں بات کرتی گاڑیاںمستقبل کی گاڑیوں میں ایک اہم تبدیلی ان کا باہمی رابطہ ہو گا۔ گاڑی سے گاڑی اور گاڑی سے سڑک کے نظام تک رابطے کی ٹیکنالوجی کوV2VاورV2X کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے گاڑیاں اپنی رفتار، سمت اور بریک لگانے جیسی معلومات ایک دوسرے تک پہنچا سکتی ہیں۔ بعض موجودہ نظام مختصر فاصلے کے ریڈیو سگنلز کے ذریعے تقریباً 300 میٹر تک معلومات پہنچا سکتے ہیں حتیٰ کہ ایسی گاڑیوں سے بھی جو ڈرائیور کو براہ راست دکھائی نہ دے رہی ہوں۔اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں اسے استعمال کریں اور مختلف کمپنیوں کے نظام ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔ خودکار ڈرائیونگ: ڈرائیور کی ذمہ داری کتنی کم ہو گی؟مصنوعی ذہانت، کیمروں، ریڈار اور کمپیوٹرز کی مدد سے گاڑیاں اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور راستے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو رہی ہیں۔ آج بھی کئی گاڑیوں میں لین سے باہر نکلنے کی وارننگ اور خودکار رفتار برقرار رکھنے جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ اگلے دس سالوں میں ایسی خصوصیات مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔مکمل خودکار گاڑی پیدل چلنے والوں، اچانک سامنے آنے والی رکاوٹوں، تعمیراتی کام اور سڑک پر غیر متوقع حالات کو پہچاننے کی کوشش کرے گی۔ بعض نظام ڈرائیور کی آنکھوں اور سر کی حرکت پر بھی نظر رکھیں گے تاکہ غفلت یا تھکن کی صورت میں اسے خبردار کیا جا سکے۔ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق مخصوص علاقوں اور حالات میں وسیع خودکار صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں 2035ء تک مارکیٹ کا تقریباً چار فیصد ہو سکتی ہیں۔امکانات اور چیلنجزپاکستان جیسے ممالک کے لیے ان ٹیکنالوجیز کی اہمیت خاص طور پر زیادہ ہے۔ یہاں پٹرول اور ڈیزل پر انحصار، فضائی آلودگی، ٹریفک حادثات اور بڑے شہروں میں ٹریفک جام اہم مسائل ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بسوں، ٹیکسیوں اور سرکاری گاڑیوں سے آغاز نسبتاً عملی قدم ہے۔پاکستان میں دھوپ کی وافر دستیابی سولر چارجنگ کے لیے ایک بڑا موقع ہے لیکن گاڑی کی باڈی پر لگے پینلز ہر وقت پوری توانائی فراہم نہیں کر سکتے۔ موسم، گردوغبار، پارکنگ کا سایہ، گاڑی کا استعمال اور بیٹری کی گنجائش نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر، دفتر اور عوامی مقامات پر شمسی چارجنگ سٹیشنز بھی اہم ہوں گے۔اسی طرح خودکار گاڑیوں کے لیے واضح قوانین، معیاری سڑکیں، قابل اعتماد انٹرنیٹ یا مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور تربیت یافتہ تکنیکی عملہ درکار ہو گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ حادثے کی صورت میں ذمہ داری ڈرائیور، گاڑی بنانے والی کمپنی یا سافٹ ویئر فراہم کرنے والے پر کیسے عائد ہو گی۔

آج کا دن

آج کا دن

معرکہ ہیسٹنگزمعرکہ ہیسٹنگز انگلستان کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جنگ انگلستان کے بادشاہ ہیرلڈ دوم کی فوج اور نارمنڈی کے ڈیوک ولیم کی افواج کے درمیان لڑی گئی۔1066ء میں انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے بعد تخت کی جانشینی کا تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ہیرلڈ دوم نے بادشاہت سنبھالی لیکن ولیم آف نارمنڈی نے بھی انگلستان کے تخت پر اپنا حق جتایا۔ 14 اکتوبر کو دونوں افواج موجودہ مشرقی سسیکس کے علاقے میں آمنے سامنے آئیں۔ اس فتح کے نتیجے میں ولیم نے انگلستان پر اپنی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کی اور دسمبر 1066ء میں بادشاہ بن گیا۔ آواز کی رفتار سے تیز پرواز 14 اکتوبر 1947ء کو فضائی تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی ہوئی جب امریکی پائلٹ چک ییگر نے تجرباتی راکٹ طیارے بیل ایکس-1 میں پرواز کرتے ہوئے آواز کی رفتار عبور کی۔ اس کامیابی نے تیز رفتار طیاروں کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ چک ییگر نے اس طیارے میں کیلیفورنیا کے راجرز ڈرائی لیک کے اوپر پرواز کی۔ یہ کامیابی صرف ایک پائلٹ کا ریکارڈ نہیں تھی بلکہ جدید فضائی انجینئرنگ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تھی۔ اس نے یہ ثابت کرنے میں مدد دی کہ مناسب ڈیزائن، طاقتور انجنوں اور سائنسی تحقیق کے ذریعے سپرسونک پرواز ممکن ہے۔ اس کے بعد فوجی طیاروں، تجرباتی جہازوں اور بالآخر مسافر طیاروں کی تیز رفتار پرواز سے متعلق تحقیق کو نئی تحریک ملی۔ مارٹن لوتھر کنگ ، نوبیل انعام 14 اکتوبر 1964ء کو نسلی امتیاز کے خلاف پرامن جدوجہد کے اعتراف میں امریکی شہری حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو امن کے نوبیل انعام کے لیے منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امریکا میں سیاہ فام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے۔ ان کی تقریر ''آئی ہیو اے ڈریم‘‘ نے نسلی مساوات کے مطالبے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔14 اکتوبر 1964ء کو امن کے نوبیل انعام کے اعلان نے ان کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 برس تھی۔انعام کی باقاعدہ تقریب دسمبر میں اوسلو، ناروے میں منعقد ہوئی۔ کنگ نے انعام کی رقم بھی شہری حقوق کی تحریک کے لیے وقف کر دی۔ کیوبا میزائل بحران 14 اکتوبر 1962ء کوسرد جنگ اور جوہری تصادم کا خطرہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی جاسوس طیارے یو2 نے کیوبا میں سوویت میزائل تنصیبات کی تصاویر حاصل کیں۔ ان شواہد نے اس بحران کو جنم دینے میں بنیادی کردار ادا کیا جس نے دنیا کو جوہری جنگ کے قریب پہنچا دیا۔ ان تصاویر کا تجزیہ کرنے کے بعد امریکی حکام کو کیوبا میں سوویت جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی موجودگی کے شواہد ملے۔ کئی دن تک امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی برقرار رہی اور جوہری جنگ کا خطرہ حقیقی محسوس ہونے لگا۔ بالآخر سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں سوویت یونین نے کیوبا سے میزائل ہٹانے پر اتفاق کیا جبکہ امریکا نے کیوبا پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ڈیزرٹ فاکس کی موت 14 اکتوبر 1944ء کو جرمن فیلڈ مارشل ایرون رومیل جو ڈیزرٹ فاکس کے نام سے مشہور تھا، ہٹلر کے خلاف سازش کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں خودکشی کر کے ہلاک ہوا۔ایرون رومیل دوسری عالمی جنگ کے معروف جرمن فوجی کمانڈروں میں شامل تھا۔ شمالی افریقہ کی مہم میں اس کی فوجی حکمت عملی اور تیز رفتار کارروائیوں کے باعث اسے ڈیزرٹ فاکس کا لقب دیا گیا۔ جون 1944ء میں اتحادی افواج نے فرانس کے نارمنڈی ساحل پر اتر کر مغربی یورپ میں جرمن قبضے کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی۔ اسی سال 20 جولائی کو ہٹلر کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے بعد جرمن حکومت نے فوجی اور سیاسی حلقوں میں وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دیں۔رومیل کی موت فوجی قیادت، سیاسی وفاداری اور آمریت کے دباؤ پر تاریخی بحث کا موضوع ہے۔