اُردو کا مقام ، تعین کب ہو گا؟

اُردو کا مقام ،  تعین کب ہو گا؟

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


قیام پاکستان کے بعد تادم تحریر ’’زبانوں کی سیاست‘‘ کے ذریعے حزب ِاقتدار و حزب ِختلاف نے خوب نام کمایا۔ پاکستان کے پہلے وزیرتعلیم فضل الرحمن تو شریف آدمی تھے کہ انہوں نے پہلی تعلیمی کانفرنس منعقدہ نومبر 1947ء میں برملا نومولود پاکستانی ثقافت کو صوبوں میں بولی جانے والی قدیمی و تاریخی مادری زبانوں، ثقافت اور صوبوں کے تاریخی تسلسل سے نتھی کر دیا تھا۔ اپنی تقریر میں ان کا استدلال تھا کہ پنجابی، بنگالی، سندھی، پشتو اور بلوچ زبانوں کے سوتوں سے فیض پا کر ہی ’’پاکستانی ثقافت‘‘ تشکیل پائے گی، مگر قائداعظم کی وفات کے بعد سرکار کو آئی سی ایس افسران کی کھیپ نے ’’اُردو زبان‘‘ کو استعمال کرنے کا درس دیا۔ قائداعظم کی مشرقی بنگال میں کی گئی مشہور تقریر کو اپنے مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا حالانکہ اس تقریر میں قائداعظم نے اُردو کو ’’واحد قومی زبان‘‘ نہیں بلکہ ’’رابطہ کی زبان‘‘ کہا تھا جبکہ مشرقی بنگال کی اسمبلی کے صوبہ میںدفتری، تعلیمی و کاروباری سطح پر وہی زبان اختیار کرنے کے حق میں بات کی تھی جو اسمبلی منظور کرے۔ یہ وہی ویژن تھا ،جو خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال 1930ء میں دے چکے تھے۔ خطبہ الٰہ آباد میں لسانی و ثقافتی رنگارنگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ریکارڈ کا حصہ ہے، مگر آئین کے پہلے ڈرافٹ1950ء اور دوسری تعلیمی پالیسی1951ء منعقدہ کراچی میں اُردو کو واحد قومی زبان بنانے کی بات کی گئی، جو اقبال و جناح کے خیالات سے متصادم تھا۔ اس کے ردعمل میں بنگالی زبان کی تحریک نے جنم لیا ،جسے حزبِ اختلاف نے بوجوہ بڑھاوا دیا۔ مشرقی بنگال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ’’جگتو فرنٹ‘‘ بنایا، جس نے بنگالی کو اُردو کے ہمراہ تخت پر بٹھانے کی بات کی۔ 1954ء میں محمد علی فارمولا پر بالآخر سمجھوتہ ہوا ،جس میں بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی سمیت جگتو فرنٹ والے بھی شریک تھے۔ اس میں ایک طرف ون یونٹ اور دوسری اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو تخت نشینی دینے پر اتفاق ہوا۔ 1956ء کے آئین میں اس سمجھوتے کو قانون کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس سے پاکستانی مادری زبانوں کا مسئلہ سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی چلا گیا۔ وجہ صاف تھی کہ ملک میں ایک سے زیادہ مادری زبانیں تھیں۔دو قومی زبانوں والے فیصلہ سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ جو زبان زیادہ ’’کھپ‘‘ ڈالے گی اسے تخت شاہی میں جگہ مل جائے گی۔ مرکزیت پسند اور انگریزی زبان کے حمایتی اس لڑائی میں تیل ڈالتے رہے کہ اُردو اور پاکستانی مادری زبانوں میں جتنے اختلافات ہوں گے اس کے نتیجہ میں بیوروکریسی اور انگریزی زبان کی حاکمیت کی طرف تو کوئی دیکھے گا ہی نہیں۔ دوسری طرف اُردو کے منچلے تھے، جو جناح و اقبال کے خیالات سے رجوع کرنے کی بجائے محض اُردو کی حاکمیت کے لیے اسے واحد قومی زبان کے طور پر بحال کروانا چاہتے تھے۔ تیسری طرف پاکستانی مادری زبانوں کے حمایتی تھے ،جن میں سب سے طاقتور گروہ بنگالی زبان کے حمایتیوں کا تھا۔ یہ گروہ اُردو کے ساتھ بنگالی کی تخت نشینی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا ،مگر پاکستانی مادری زبانوں کے مسئلہ کو حل کرنے کا ویژن ان میں بھی مفقود تھا۔ یہ تو محض اپنی سیاست کو بڑھاوا دینے کے لیے ’’لسانی کھاتے‘‘ استعمال کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں بھارت نے 1948ء میں ’’ڈار کمیشن‘‘ بنایا، جس نے بھارتی آئین ساز اسمبلی کو ایک طرف یہ بتایا گیا کہ بھارت میں کتنی مادری زبانیں بولی جاتی ہیں تو دوسری طرف ان مادری زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد بتائی گئی۔ اس رپورٹ کے تحت اسمبلی نے فیصلہ دیا کہ بھارت میں 96 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں 26 ایسی ہیں ،جن کے بولنے والے 5 ہزار سے زیادہ ہیں، ان زبانوں میں پرائمری تعلیم دی جا سکتی ہے۔ البتہ انگریزی کی حاکمیت کو ’’ڈار کمیشن‘‘ بھی بوجوہ چیلنج نہ کر سکا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ انگریزی کی حاکمیت کے حوالے سے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش بوجوہ ایک ہی جیسے مخمصوں کا شکار ہیں۔ البتہ ’’ڈار کمیشن‘‘ سے بھارتی قوم پرستی مضبوط ہوئی، مگر ہمارے ہاں مادری زبانوں کے حوالے سے تحفظات ہی رہے۔ 1971ء میں بنگالیوں سے ہماری جان ’’چھڑوا‘‘ دی گئی، مگر مادری زبانوں کے حوالے سے ریاست کا ’’خلل‘‘ برقرار رہا اور اس پر سیاستیں بھی جاری رہیں۔ اب انہوں نے سوچا کہ باقی ماندہ پاکستان میں بنگالی زبان جیسی تحریک پیدا ہی نہ ہو کہ اس کے لیے مادری زبانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا اور زبانوں و لہجوں کے درمیان منافرت کو بڑھانا اولیت قرار دیا گیا۔ ضیاء الحق کے زمانے سے پیپلز پارٹی کے تیسرے دور حکومت تک یہ سیاست برقرار رہی اور تاحال یہ مسئلہ وفاق پاکستان کی درد سر بنا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پی کے کی پچھلی سرکار نے صوبہ کی زبانوں کے حوالے سے جو قانون بنایا تھا ،وہ بھی جگتو فرنٹ کی طرح محض ردعمل کی پیداوار تھا، جس نے خود صوبہ میں اختلافات کو بڑھایا ہی۔ پاکستانی مادری زبانوں کو سلجھانے کے لیے جس ویژن کی ضرورت تھی۔ وہ اے این پی کی گذشتہ حکومت میں بھی مفقود رہا۔ پاکستانی زبانوں کے مسئلہ کو صوبہ کی سطح کی بجائے وفاق کی سطح پر حل کرنے ہی سے بات آگے بڑھے گی۔ اس کا حل یہی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی معاونت کے لیے پاکستانی زبانوں کے حوالہ سے قومی کمیشن بنایا جائے ،جو ایک طرف پاکستانی مادری زبانوں کی نشاندہی کرے، ان کے اعدادوشمار بتائے اور انگریزی اور اردو کے مقام کا تعین بھی کرے۔دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جہاں ایک سے زیادہ قومی زبانیں ہیں اور ایسے بہت سے ممالک بھی جو ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ حل تو یہی ہے کہ آپ گہری سوچ بچار کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے اس دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ایسے حل کریں کہ کوئی طالع آزما یا قبضہ گیر اسے مستقبل میں استعمال نہ کر سکے۔ پارلیمان کی معاونت کے لیے اعلیٰ کمیشن بنایا جائے ،جس میں پاکستانی مادری زبانوں اور ان سے منسلک ثقافتوں کے ماہرین بھی ہوں اور اُردو و انگریزی کے ماہرین بھی، تعلیم سے وابستہ محقق بھی اور انتظامیہ کے نمائندے بھی، کمیشن لسانیات کے بین الاقوامی ماہرین سے بھی مدد لے کہ پھر اس رپورٹ کی بنیاد پر پارلیمان فیصلہ کرے اور اسے آئین کا حصہ بنائے۔ اس سے پاکستان نہ صرف ایک دیرینہ اختلافی مسئلہ کو ختم کر سکے گا بلکہ وفاق پاکستان بھی مضبوط ہوگا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اب کپڑے خریدنا ہوا مزید آسان

اب کپڑے خریدنا ہوا مزید آسان

خریداری میں جدید ٹیکنالوجی کا انقلابآج کے ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی نے خریداری کے انداز کو بھی تیزی سے بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اب صارفین کو لباس خریدنے سے پہلے اسے پہن کر دیکھنے کیلئے اسٹور کے ٹرائل روم کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ برطانیہ میں معروف ریٹیل کمپنی ٹیسکو اپنے فیشن برانڈ ''F&F ‘‘کے کپڑوں کیلئے ایسی ورچوئل ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہی ہے، جس کی مدد سے صارفین خریداری سے پہلے یہ دیکھ سکیں گے کہ منتخب لباس ان پر کیسا دکھائی دے گا۔ یہ جدید سہولت آن لائن شاپنگ کے تجربے کو مزید آسان، دلچسپ اور حقیقت سے قریب بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔اگرچہ کبھی ٹیسکو دودھ کا پیکٹ یا ڈبل روٹی لینے کی جگہ کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن اب یہ فیشن کے شوقین افراد کیلئے بھی ایک مقبول خریداری مرکز بن چکا ہے۔سپر مارکیٹ کے F&F ملبوسات کے شعبے کو خاصی مقبولیت حاصل ہے، تاہم خریدار اکثر وہاں کپڑے تبدیل کرنے کے کمروں کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔اب ٹیسکو کا خیال ہے کہ اس مسئلے کا حل ورچوئل ٹرائی آن سسٹم کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ٹیسکو کے سینڈہرسٹ ایکسٹرا اسٹور میں اس نظام کی آزمائش کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے خریدار خواتین اور مردوں کے ملبوسات پر مشتمل F&F کے 1,500 مختلف آئٹمز کو ورچوئل طور پر پہن کر دیکھ سکیں گے۔ یہ خبر بہت سے خریداروں کیلئے خوش آئند ثابت ہو گی، کیونکہ وہ اکثر سوشل میڈیا پر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اسٹور میں کپڑے پہن کر دیکھنے کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ایک خاتون صارف نے اسٹور کے فرش پر ہی پتلون پہن کر دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر سوال کیا: ''ٹیسکو، کیا ہمیں کبھی کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے ملیں گے؟‘‘خریدار اسٹور کے ملبوسات کے شعبے کے ایک کونے میں نصب اسکرین کے ذریعے ورچوئل ٹرائی آن سسٹم تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس نظام میں صارف کو اپنی تصویر کھینچنے، پہلے سے موجود تصویر اپ لوڈ کرنے یا اپنے جسمانی سائز کے مطابق ایک ڈیجیٹل ماڈل منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس کے بعد صارف 1,500 مختلف ملبوسات میں سے اپنی پسند کے کپڑے منتخب کر سکیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) انہیں دکھائے گی کہ یہ لباس ان کے جسم پر پہننے کے بعد کس طرح نظر آئیں گے۔ ان اسکرینوں کے ذریعے خریدار اسٹاک، قیمتوں، دستیاب سائز اور دیگر اسٹورز میں موجودگی بھی چیک کر سکیں گے۔ٹیسکو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''ورچوئل ٹرائی آن اسکرین سینڈھرسٹ ایکسٹرا (Sandhurst Extra)میں F&F کی وسیع تر تجدید کا حصہ ہے، جس میں نئے کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے اور خریداری مکمل کرنے اور اشیا واپس کرنے کے عمل کو آسان بنانے کیلئے ایک مخصوص سروس ہب بھی شامل ہے‘‘۔ کمپنی کے مطابق، صارفین کو اسٹور میں F&F کے ملبوسات کی زیادہ وسیع رینج بھی دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ نئی سائن بورڈز، بہتر روشنی اور جدید انداز کے ذریعے اسٹور کی ظاہری شکل و صورت کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ خواتین، مردوں اور بچوں کے ملبوسات کی F&F رینج کو نمایاں انداز میں پیش کرنے پر توجہ دی جائے گی۔یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خریداروں کی ایک بڑی تعداد ہائی اسٹریٹ برانڈز کو چھوڑ کر سپر مارکیٹوں کے ملبوسات کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ یہ صرف عام خریدار ہی نہیں جو اپنی پسندیدہ سپر مارکیٹوں کی ملبوسات کی رینج کے دیوانے ہو رہے ہیں، بلکہ معروف شخصیات بھی ان برانڈز کی تشہیر اور فیشن لائنز کا حصہ بن رہی ہیں۔ٹیسکو کے F&F برانڈ کیلئے بھی زارا میک ڈرموٹ اور ایبی کلینسی جیسی معروف شخصیات اپنی ملبوسات کی خصوصی لائنز متعارف کرا چکی ہیں۔صارفین نے ٹک ٹاک کا رخ کرتے ہوئے دوسروں کو بھی کم قیمت اور جدید ملبوسات کی رینج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے۔ بعض صارفین نے دستیاب ڈیزائنز کے بارے میں کہا کہ وہ ان کے ''دیوانے‘‘ ہو چکے ہیں۔ ایک صارف نے ٹک ٹاک پر لکھا: ''F&F میرے سارے پیسے لے لو! میں نے بہت سے ملبوسات خرید لیے ہیں۔ کام کیلئے کوآرڈینیٹڈ لباس، اسکرٹس، بلیزرز اور کارڈی گنز خریدی ہیں۔ مجھے ان کے ڈیزائنز بے حد پسند ہیں‘‘۔ ایک اور صارف نے کہا: ''کوئی مجھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس موسم خزاں میں F&F کے کپڑے انتہائی شاندار اور فیشن ایبل نہیں ہیں۔ موسم بدلتے ہی میں وہاں کے تقریباً سبھی کپڑے پہنوں گا‘‘۔جبکہ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا:''ٹیسکو، برا نہ ماننا، لیکن مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تمہارا فیشن کے میدان میں اتنا بڑا کھیل ہے۔

سیاحت، معیشت کی ترقی کا اہم وسیلہ

سیاحت، معیشت کی ترقی کا اہم وسیلہ

ہر سال 27 ستمبر کو عالمی یومِ سیاحت منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد سیاحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، مختلف ممالک اور تہذیبوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا اور اس شعبے کے معاشی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ سیاحت محض ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف معاشروں، تہذیبوں، زبانوں اور روایات کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں کی سیر انسان کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ اس کے تجربات اور سوچ کے دائرے کو بھی وسیع کرتی ہے۔سیاحت دنیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لاکھوں افراد کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاحت سے وابستہ ہے۔ ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹ، سفری خدمات، دستکاری، مقامی بازار اور تفریحی مراکز سیاحوں کی آمد سے معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں سیاحت مقامی آبادی کیلئے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں موجود قدرتی اور تاریخی مقامات کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کرکے وہاں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے سیاحت کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ شمالی علاقہ جات کے بلند پہاڑ، سرسبز وادیاں، جھیلیں، دریا اور برف پوش چوٹیاں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ہیں۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں مختلف نوعیت کے سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ دوسری جانب موہنجو دڑو، ٹیکسلا، لاہور کا تاریخی قلعہ، بادشاہی مسجد اور دیگر آثار قدیمہ ملک کی قدیم تہذیبوں اور شاندار تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔سیاحت کے فروغ کیلئے صرف خوبصورت مقامات کا موجود ہونا کافی نہیں بلکہ وہاں محفوظ اور معیاری سفری سہولتیں، سڑکیں، رہائش، صفائی، معلوماتی مراکز اور ہنگامی خدمات بھی ضروری ہیں۔ سیاحوں کیلئے بہتر سہولتیں فراہم کرکے نہ صرف ملکی سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص بھی دنیا کے سامنے اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ مقامی لوگوں کو بھی سیاحت کے معاشی فوائد میں شریک کرنا ضروری ہے تاکہ سیاحتی سرگرمیوں کے ثمرات وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچ سکیں۔تاہم سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پہاڑی علاقوں میں کچرے، پلاسٹک اور بے ہنگم تعمیرات سے قدرتی حسن متاثر ہوتا ہے۔ جنگلات، دریاؤں، جھیلوں اور تاریخی مقامات کی حفاظت کیلئے ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیاحوں کو بھی چاہیے کہ وہ قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کریں اور اپنے سفر کے دوران صفائی کا خیال رکھیں۔عالمی یومِ سیاحت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سفر انسان کو صرف نئی جگہیں نہیں دکھاتا بلکہ اسے نئی ثقافتوں، تاریخوں اور انسانی تجربات سے روشناس کراتا ہے۔ اگر سیاحت کو منصوبہ بندی، ذمہ داری اور ماحول دوست انداز میں فروغ دیا جائے تو یہ روزگار، معاشی ترقی، ثقافتی ہم آہنگی اور عالمی روابط کیلئے ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!منیر حسین: آواز آج بھی زندہ (1995-1930ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!منیر حسین: آواز آج بھی زندہ (1995-1930ء)

٭... پاکستان کے ورسٹائل گلوکار منیر حسین 1930ء میں پیدا ہوئے۔٭...وہ فن موسیقی کے دلدادہ اور اس فن میں طاق گھرانے کے فرد تھے۔ یوں سُر اور ساز سے ان کی محبّت فطری بات تھی۔٭...پاکستان کے عظیم ترین موسیقار رشید عطرے ان کے ماموں تھے جبکہ ان کے خالہ زاد بھائی صفدر حسین بھی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار جانے جاتے تھے۔ ٭...فلم انڈسٹری میں موسیقار صفدر حسین نے انھیں متعارف کروایا، فلم ''حاتم‘‘ کیلئے انہوں نے گیت '' تیرے محلوں کی چھاؤں میں قرار اپنا لٹا بیٹھے‘‘ گایا۔٭...وہ پاکستانی فلموں کے پہلے مکمل آل راؤنڈ گلوکار تھے اور انھیں کلاسیکل موسیقی پر عبور بھی حاصل تھا ۔٭...وہ پاکستان کے پہلے گلوکار تھے جن کو بیک وقت اردو اور پنجابی فلموں میں کامیابی ملی ۔ ٭...38سالہ فلمی کریئر میں163فلموں کیلئے تقریباً 217 گیت گائے۔٭...27ستمبر 1995ء کو جہان فانی سے کوچ کیا۔٭... 2019ء میں انہیں ''ستارہ امتیاز ‘‘ سے نوازا گیا۔مقبول فلمی گیت٭...قرار لوٹنے والے قرار کو ترسے٭... نثار میں تری گلیوں پہ،٭... دلا ٹھیر جا یار دار نظارا لیندے٭... اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے٭... رم جھم رم جھم پڑے پھوار جیسا ٭... ونجلی والڑیا ٭...لال میری پت رکھیو بلا٭...ٹر گئے خان وڈیرے٭...دلدارا، دلدارا، تو ہے جان سے پیارا٭...پنچھی تے پردیسی٭...نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا٭...محبوب کے جلوئوں میں کیا چیز نظر آئی٭...حسن تیرا اے بے وفاکچھ کم نہیں٭...پسینہ پوچھئے اپنی جبیس سے

آج کا دن

آج کا دن

گوگل کا آغازGoogle نے27 ستمبر 1998ء کو اپنی باضابطہ تاریخ آغاز قرار دیا اور اسے کمپنی کی سالگرہ کے طور پر منانا شروع کیا۔ اسی عرصے میں گوگل کا سرچ انجن انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنے کے ایک نئے اور مؤثر ذریعے کے طور پر سامنے آیا۔ اس کی بنیاد لیری پیج اور سرگئی برن نے رکھی تھی۔ وقت کے ساتھ گوگل دنیا کے معروف سرچ انجنوں میں شامل ہوگیا اور انٹرنیٹ پر معلومات تک رسائی کا اہم ذریعہ بن گیا۔ناسا کا تاریخی خلائی مشن27ستمبر 2007ء کو ناسا نے ڈان (Dawn) خلائی مشن روانہ کیا، جس کا مقصد مریخ اور مشتری کے درمیان واقع شہابیوں کی پٹی کا مطالعہ کرنا تھا۔ ڈان خلائی جہاز نے اس خطے میں موجود بڑے اجرامِ فلکی، خصوصاً ویسٹا اور سیرس کے بارے میں اہم معلومات حاصل کیں۔ اس مشن کے ذریعے سائنسدانوں کو نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل، سیارچوں کی ساخت اور ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد ملی۔سہ افریقی معاہدہ27ستمبر1940ء کو برلن میں جرمنی، اٹلی اور جاپان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ''برلن معاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک فوجی اتحاد تھا جس میں ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، یوگو سلاویہ اور سلوواکیہ نے شمولیت اختیار کی۔یوگوسلاویہ کے اتحاد کی وجہ سے بلغاریہ میں بغاوت کو ہوا ملی جس کا جواب جرمنی، اٹلی اور ہنگری نے یوگوسلاویہ پر حملہ کر کے دیا۔ اسی کے نتیجے میں اٹلی اس معاہدے میں شامل ہوا تھا۔ اس معاہد ے کو تاریخ کے کمزور معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے جو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے۔سپین : سزائے موت کاخاتمہسپین میں سزائے موت کا آخری استعمال 27 ستمبر 1975ء کو ہوا جب مسلح باسک قوم پرست اور علیحدگی پسند گروپ کے دو ارکان اور انقلابی اینٹی فاشسٹ پیٹریاٹک فرنٹ کے تین ارکان کو سزائے موت پانے کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزادی گئی تھی۔ان مجرموں کو پولیس اہلکاروں اور سول گارڈز کے قتل کے جرم میں فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی تھی۔ یہ سپین میں سزائے موت کا آخری استعمال تھا۔جاپان میں سمندری طوفان27ستمبر1959ء کو شدید سمندری طوفان ویرا نے جاپان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور تقریباً 5ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ طوفان جاپان میں آنے والی تباہ کن قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ شدید ہواؤں، موسلا دھار بارش اور سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ متعدد گھر تباہ ہوئے، مواصلاتی نظام متاثر ہوا اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔زوگ کا قتل عامزوگ کا قتل عام 27 ستمبر 2001ء کو زوگ میں ہوا۔ فریڈرک لیباکر نے خود کو مارنے سے پہلے 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ قتل عام سے پہلے کئی برسوں تک لیباکر نے قانونی چارہ جوئی کے بہت زیادہ استعمال سے اپنی طرف توجہ مبذول کرائی۔ اس کی جانب سے دائر کئے گئے تمام مقدمات کو برخاست کر دیا گیا جس پر اس نے یہ فرض کر لیا کہ ریاست جان بوجھ کر اس کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے۔ اسی سوچ نے اسے جرم کرنے پر مجبور کیا۔

میوز چارم:مصنوعی ذہانت کا ننھا ڈیجیٹل ساتھی

میوز چارم:مصنوعی ذہانت کا ننھا ڈیجیٹل ساتھی

 میٹا کا منفرد اے آئی گیجٹ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف کمپیوٹر، اسمارٹ فون یا بڑی اسکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے آلات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میٹا کا نیا ''میوز چارم‘‘ گیجٹ ہے، جو صارف کو فون یا کمپیوٹر کھولے بغیر اے آئی سے استفادہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تماگوچی جیسے پرانے ڈیجیٹل پالتو جانوروں کے تصور سے مشابہ یہ چھوٹا آلہ جدید ٹیکنالوجی اور ذاتی نوعیت کے اے آئی تجربے کو ایک نئے انداز میں پیش کرتا ہے۔میٹا کے متعارف کرائے گئے آلہ کو مداح اور صارفین تماگوچی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔اس جدید ڈیوائس کا نام ''میوز چارم‘‘ ہے، جس کا اعلان میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے ''میٹا کنیکٹ‘‘ تقریب کے اختتام پر کیا۔ہتھیلی میں سما جانے والا یہ چھوٹا سا آلہ صارفین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فون یا کمپیوٹر کے بغیر میٹا کی مصنوعی ذہانت استعمال کر سکیں۔ مارک زکربرگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈیوائس کی چین پر لگائی جا سکتی ہے اور صارف کو ہر وقت اے آئی سے بات کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیوائس کے ایک کونے میں موجود فنگر پرنٹ سینسر کو چھوتے ہی صارف اے آئی سے گفتگو شروع کر سکتا ہے، اس کیلئے فون کو اَن لاک کرنے یا کوئی ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔میٹا کنیکٹ کی تقریب میں زیادہ تر توجہ میوز پر مرکوز رہی، جسے میٹا نے اپنا ''ذاتی اے آئی ایجنٹ‘‘ قرار دیا ہے۔مارک زکربرگ نے ابتدا میں اعلان کیا کہ میوز کو میٹا کے اے آئی چشموں میں دستیاب کیا جائے گا۔میٹا کے مطابق صارف اپنے چشموں کے ذریعے میوز سے اپنے لیے مخصوص ورزش کی رہنمائی کرنے، کھانے کا ریکارڈ درج کرنے، ضرورت کے وقت غذائیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور حتیٰ کہ نظر آنے والی مصنوعات خریدنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ صارف میوز سے کسی ملاقات کا وقت طے کرنے، پرواز کے کرائے معلوم کرنے یا گاڑی چلاتے، کھانا پکاتے یا دوڑتے ہوئے کسی گم شدہ پرزے کا سراغ لگانے کیلئے بھی کہہ سکتا ہے، اور اس دوران اسے اپنا فون نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صارف میوز کا نام لے کر اور اپنی درخواست بتا کر بھی اسے فعال کر سکتا ہے۔ میوز پس منظر میں کام کرے گا اور کام مکمل ہونے کے بعد صارف کو اس سے آگاہ کرے گا۔تاہم تقریب کے بالکل اختتام پر مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ میوز کو کمپنی کے بالکل نئے ''میوز چارم‘‘ ڈیوائس پر بھی دستیاب کیا جائے گا۔زکربرگ نے حاضرین کو یہ چھوٹا سا آلہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس ننھے سے ڈیوائس میں بہت سی ٹیکنالوجی سموئی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر صارف اے آئی چشمے نہیں پہنے ہوئے تو میوز چارم اس سے میوز کے ساتھ بات کرنے اور اردگرد موجود چیزوں سے اسے آگاہ کرنے کا سب سے تیز ذریعہ ثابت ہوگا۔میٹا کی جانب سے جاری کی گئی محدود تصاویر اور ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈیوائس میں ایک چھوٹی اسکرین موجود ہے، جس پر صارف کی منتخب کردہ میوز تصویریا ویڈیو دکھائی دے گی۔ڈیوائس کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا فنگر پرنٹ سینسر بھی موجود ہے، جسے دبا کر اے آئی کو فعال کیا جا سکتا ہے۔زکربرگ نے بتایا کہ کمپنی نے فی الحال اس ڈیوائس کے صرف چند نمونے تیار کیے ہیں اور اسے استعمال کرنا انتہائی خوشگوار تجربہ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کو ابھی اس ڈیوائس کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والے حتمی مٹیریل کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ اندرونی اجزا کی ترتیب بھی ابھی مکمل کی جانی باقی ہے۔تاہم ہمارا منصوبہ ہے کہ اسے تعطیلات کے موسم تک، یعنی دسمبر میں، صارفین کو بھیجنے کیلئے تیار کر لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ لوگ اسے بہت پسند کریں گے‘‘۔''میوز چارم‘‘ کا ''تماگوچی ‘‘سے موازنہ،پرائیویسی پر بحث''میوز چارم‘‘ کے بارے میں فی الحال زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن متعدد صارفین نے اس کا موازنہ ''تماگوچی‘‘ سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ تماگوچی ایک مشہور ڈیجیٹل پالتو جانور کا چھوٹا سا الیکٹرانک آلہ تھا، جس نے 1990ء کی دہائی میں دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی تھی۔سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس نئے گیجٹ کے مقصد پر سوالات بھی اٹھائے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ آخر اس کی ضرورت کیا ہے؟ کوئی شخص ایسی صورت حال میں تو نہیں ہوگا کہ اس کے پاس فون یا کمپیوٹر نہ ہو اور وہ یہ سوچے کہ ''اچھا ہوا میرے پاس نگرانی کرنے والا یہ ''تماگوچی‘‘ موجود ہے‘‘۔ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ''شیطانی تماگوچی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس ڈیوائس کیلئے اس سے بہتر وضاحت شاید ہی کوئی ہو۔یوں میوز چارم نے ابھی مارکیٹ میں قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے اعلان نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل، ذاتی نوعیت کے اے آئی آلات اور صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرےسوشل میڈیا پر اس ڈیوائس کے حوالے سے صارفین کا ردعمل ملا جلا رہا۔ بہت سے لوگوں نے میٹا کی اس جدت کو سراہا اور اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا۔ایک صارف نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ''اے آئی کا اب تک کا سب سے ذہین استعمال‘‘۔ ایک اور صارف نے سوال کیا ''کیا یہی وہ چیز ہے جو ایپل کی دنیا میں خلل پیدا کرے گی؟‘‘۔ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا ''بچپن میں مجھے تماگوچی کا جنون تھا، اب بالغ ہونے کے بعد غالباً مجھے اس میوز چارم کی لت لگ جائے گی۔‘‘تاہم کچھ صارفین اس ڈیوائس سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیے۔ایک شکی صارف نے سوال اٹھایا ''فون یا ایپل واچ کے مقابلے میں اسے کون استعمال کرے گا؟ مجھے واقعی سمجھ نہیں آتی کہ اس کی اصل صارف برادری کون ہے، شاید مڈل اسکول کے کچھ طلبہ جو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ٹھنڈا سمجھتے ہیں۔ یہ تو ایک مذاق معلوم ہوتا ہے، جس میں بے کار الیکٹرانک کچرے کے ساتھ غیر ضروری سافٹ ویئر بھی شامل ہے‘‘۔ایک اور صارف نے لکھا ''سر ہلا کر رہ گیا ہوں، ہم باضابطہ طور پر اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اے آئی اسسٹنٹ رکھنے کیلئے اب فون کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ اس رفتار سے تو جلد اے آئی جسمانی طور پر بھی ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دے گی‘‘۔ایک صارف نے قدرے تشویش ناک انداز میں صرف اتنا لکھا، ''یہ تو بلیک مرر ہے‘‘۔

برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات

برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات

ڈاکٹروں کی ذمہ داریاں غیر طبی عملے کے سپردصحت کے شعبے میں معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے درست تشخیص اور بروقت طبی فیصلہ مریض کے علاج میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانیہ میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور فارماسسٹس سے ایسے طبی امور انجام دلوانے کا رجحان، جن میں ماہر ڈاکٹر کی رائے ضروری ہو، مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں دل کے دورے بروقت شناخت نہ ہو سکے، غلط تشخیص سامنے آئی اور کینسر کے مریضوں کو ماہرین کے پاس ریفر کرنے میں کوتاہی ہوئی۔ یہ واقعات اس امر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ مریضوں کی سلامتی اور معیاری تشخیص کو بھی اوّلین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔برطانیہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور دیگر طبی عملے سے ایسے فرائض انجام لیے جا رہے ہیں جو عموماً ڈاکٹر انجام دیتے ہیں، جس سے مریضوں کو سنگین نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ میں اس ''تشویش ناک‘‘ صورتحال پر خبردار کیا گیا ہے۔ ''برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن‘‘ (BMA) نے، جو ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اٹھائے گئے 200 سے زائد خدشات جمع کیے ہیں۔ ڈاکٹروں نے طبی ڈگری نہ رکھنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ حدود کو ''نامناسب طور پر دھندلا‘‘ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان خدشات کا مرکز ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہیں۔ ان میں نرسیں، پیرامیڈکس، فارماسسٹس اور دیگر طبی ماہرین شامل ہیں، جو اضافی تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ بعض ایسے فرائض انجام دے سکیں جو روایتی طور پر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں، مثلاً مریضوں کا معائنہ، بیماری کی تشخیص اور علاج۔تاہم بی ایم اے کے سروے میں شامل 80فیصد سے زیادہ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کے موجودہ طریقہ کار سے مریضوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے تقریباً نصف ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں میں موجود خلا کو پر کرنے کیلئے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کے باعث انہیں یہ طریقہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کی جگہ دیگر طبی عملے سے کام لینے کا یہ سلسلہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی ہدایات کے برخلاف جاری ہے۔رپورٹ میں مریضوں کی سلامتی سے متعلق سنگین واقعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جن میں بیماریوں کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے واقعات اور ایسے معاملات شامل ہیں جن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز سے علاج کروانے کے بعد بعض مریضوں کو نقصان پہنچا یا ان کی موت واقع ہوگئی۔ایک واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو بخار، سر درد اور گردن میں اکڑاؤ کی شکایت پر ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں لے کر گئے، انہیں خدشہ تھا کہ بچے کوگردن توڑ بخار کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک ایڈوانسڈ پریکٹیشنر نے بچے کو خون کے ٹیسٹ کیے بغیر اور مزید طبی معائنے کیلئے ریفر کیے بغیر ہسپتال سے فارغ کر دیا۔36گھنٹے کے اندر بچہ دوبارہ ہسپتال پہنچا جہاں اس میں گردن توڑ بخار کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر کے مطابق تشخیص میں تاخیر کے باعث بچے کو سنگین پیچیدگی لاحق ہوگئی اور اسے سرجری کی ضرورت پیش آئی۔ ایک اور واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ 60 سال سے زائد عمر کے ایک مریض، جو ماضی میں سگریٹ نوشی کرتے رہے تھے، کو چھ ہفتوں کے دوران مسلسل کھانسی، وزن کم ہونے اور بعد ازاں چہرے اور بازو پر سوجن کی شکایت کے باعث تین مرتبہ ایک ایڈوانسڈ نرس پریکٹیشنر نے دیکھا۔ ڈاکٹر کے مطابق مریض میں بیماری کی نشاندہی کرنے والی ''تمام اہم علامات‘‘ موجود تھیں، اس کے باوجود اسے سینے کا ایکسرے کروانے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔بعد ازاں ایمرجنسی میں اس مریض میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور چند ہی ہفتوں بعد اس کی موت ہوگئی۔رپورٹ میں دیگر واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کو ایسے عہدوں پر تعینات کیے جانے کا ذکر ہے جو عام طور پر سینئر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں۔ ان میں انتہائی نگہداشت، بچوں کے شعبے اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ڈیوٹیاں شامل ہیں۔ایک واقعے میں ایک رجسٹرار ڈاکٹر نے الزام عائد کیا کہ ایک ایڈوانسڈ کریٹیکل کیئر پریکٹیشنر کو رجسٹرار کی ڈیوٹیوں پر تعینات کیا جا رہا تھا، حالانکہ اسے سانس کی نالی سے متعلق طبی امور کا مطلوبہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق اس دوران ایک مریض کی موت بھی واقع ہوئی۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بعض اوقات مریضوں کو یہ واضح طور پر نہیں بتایا جاتا کہ ان کا علاج کرنے والا طبی ماہر ڈاکٹر نہیں بلکہ کوئی اور ہیلتھ کیئر پروفیشنل ہے۔ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بچوں کے شعبے میں ڈاکٹروں کی جگہ کام کرنے والے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہمیشہ مریضوں کو اپنے عہدے اور ذمہ داری سے واضح طور پر آگاہ نہیں کرتے تھے، جس کے باعث اکثر مریض انہیں ڈاکٹر سمجھ لیتے تھے۔ ایک اور واقعہ 40 سال کی ایک خاتون سے متعلق ہے، جس نے بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونے اور قے کی شکایت کے بعد ایک فارماسسٹ ایڈوانسڈ پریکٹیشنر سے معائنہ کروایا۔ رپورٹ پیش کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی، تاہم متعلقہ پریکٹیشنر اس کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہا اور اس کے بجائے ممکنہ کینسر کی تشخیص کیلئے اسے فوری طبی سروس کی جانب ریفر کر دیا۔ان خدشات کے جواب میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ڈاکٹر طبی عملے کو ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں پر تعینات کرنے پر واضح پابندی عائد کی جائے۔بی ایم اے کونسل کے چیئرمین ٹام ڈولفن نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز اور دیگر غیر طبی عہدوں پر موجود عملے کے ذریعے ڈاکٹروں کی جگہ لینے کی ''جلد بازی، غیر شواہد پر مبنی اور غیر محفوظ‘‘ کوششوں کو ختم کرنا ہوگا۔