نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں انسدادکوروناٹاسک فورس کااجلاس
  • بریکنگ :- کراچی میں اس وقت کیسزکی شرح 26.32 فیصدہے،سیکرٹری صحت
  • بریکنگ :- حیدرآبادمیں بھی مثبت کیسزکی شرح 10 فیصدہوگئی،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:جولائی میں 362 مریض انتقال کرگئے، وزیراعلیٰ سندھ
Kashmir Election 2021

اسلاموفوبیا کا علاج ممکن ہے

سلطان صلاح الدین ایوبی نے گیارہویں صدی کے آخر میں بیت المقدس کو فتح کیا تو صلیبیوں کا لگ بھگ ایک صدی پر محیط اقتدار اختتام پذیرہوا ۔ صلیبی بھاگ کر یورپ اور برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے ہی صلاح الدین ایوبی کے خلاف جذبات آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک رہے تھے۔ برطانیہ کابادشاہ رچرڈبھی شدیداضطراب کا شکار تھا۔وہ صلاح الدین ایوبی سے جلد از جلد صلیب ِ اعظم واپس لینا چاہتا تھا۔ اس نے فرانسیسی اور جرمن بادشاہوں کو پیغام بھیجا کہ اگر ہم نے صلاح الدین ایوبی سے بیت المقدس اور صلیبِ اعظم واپس لینی ہے تو ہمیں جنگ کرنا ہوگی۔ لڑائی کا اصول ہے کہ یہ کبھی کمزور لوگوں پر مہربان نہیں ہوتی ۔ ہمیں طاقت کا جواب طاقت سے دینا ہے۔ ہم کمزور رہ کر سوبرس بعد بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد رچرڈ نے پورے برطانیہ پر''ایوبی ٹیکس‘‘ لگادیا اور لوگوں کو کہا کہ اگر اپنے گناہ معاف کروانا چاہتے ہو تو صلاح الدین ایوبی کے خلاف جنگ میں مدد کرو۔جرمنی اور فرانس میں بھی اسی قسم کے اعلانات کیے گئے جس کے بعد عورتوں نے زیور اور مردوں نے پیسہ اپنے اپنے بادشاہوں کے حوالے کر دیا۔ انتقام کی آگ میں جلتا برطانوی بادشاہ رچرڈ فرانس اور جرمنی کی مدد سے صلاح الدین ایوبی پر حملہ آور ہوا ‘دونوں کی فوجی طاقت برابر تھی مگر رچرڈ زیادہ دیر مقابلہ نہ کرسکا‘اُسے بھر پور شکست ہوئی ‘وہ بیت المقدس واپس لے سکا نہ صلیب ِ اعظم ۔ اس نے صلاح الدین ایوبی سے صلح کی اور واپس برطانیہ چلا گیا ۔
یہ بظاہر جنگوں کی کہانی ہے مگر اس میں تمام ترقی پذیر ممالک کیلئے دو پیغام پنہاں ہیں ۔ اول ‘ اگر آپ نے اپنے سے طاقتور کا مقابلہ کرنا ہے توطاقت کا توازن قائم کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ کمزور قومیں کبھی فاتح نہیں بن سکتیں ۔ دوئم ‘ اگر آپ صحیح معنوں میں طاقتو ر ہیں تو دنیا کی ساری قوتیں مل کر بھی آپ کو شکست نہیں دے سکتیں ۔یہ وہ سبق ہے جسے پاکستان سمیت ساری مسلم اُمہ کو یاد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مغرب اس وقت تمام تر اعتدال پسندی کے باوجود اسلاموفوبیا کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلمان ہونا وہاں جرم تصور کیا جاتا ہے ۔ انگلینڈہو یا کینیڈا‘ فرانس ہو یا سویڈن ‘ جرمنی ہویا امریکہ ہر طرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنا فیشن بن چکا ہے ۔ چند روز قبل کینیڈا میں تو ساری حدیں ہی عبور کر دی گئیں ۔ کتنی بے رحمی اور انتہا پسندی سے پاکستانی فیملی کو کچل دیاگیا ۔کیا مہذب معاشروں کایہی چلن ہے ؟کیا کوئی بتائے گا کہ یہ کیسے دہشت گردی نہیں ہے ؟ کیاکوئی جواب دے گا کہ تندرست معاشروں میں بیمار ذہنیت کیسے پروان چڑھ رہی ہے ؟ دنیا کورونا وائرس کی ویکسین تو دریافت کرچکی مگراسلاموفوبیا جیسے مرض کا علاج کیوں نہیں ڈھونڈتی ؟ کیا کوئی بتائے گا کہ امن پسند مسلمانوں کو مارنے سے عالمی ضمیر کی بھی موت واقع ہوجاتی ہے ؟تعصب ‘ نفرت اور ناانصافی کے بادل مغرب کے آسمان سے کیوں چھٹنے کا نام نہیں لے رہے ؟ کیا کوئی بتائے گا اسلاموفوبیا کب اور کیسے ختم ہوگا ؟
اگرکوئی مجھ سے پوچھے تو اسلاموفوبیا کا خاتمہ ناممکن نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو تھوڑی کوشش کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم نے مغرب کا مقابلہ کرنا ہے تو اس سے پہلے ہمیں خود کو تیارکرنا ہوگا۔ سائنسی اور معاشی شعبوں میں ترقی کرنا ہو گی ۔ترکی‘ ملائیشیا‘پاکستان‘ ایران‘سعودی عرب اور یواے ایک ہوکر مسلم اُمہ کو اس مشکل سے نکال سکتے ہیں ۔ مسلم دنیا کے ان سرکردہ ممالک کو اس کیلئے کوشش کرنی چاہیے۔ہمیں سائنس کو اپنا کر ترقی کی دنیا میں داخل ہونا چاہیے۔ آخر کب تک مسلمان دنیا میں تعصب کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ آخر کب تک دیارِ غیر میں ہمارے بھائی بہنوں کو خوف میں مبتلا رکھا جائے گا؟ آخر کب تک ہماری خواتین کے سروں سے حجاب اتار کر انہیں رسوا کیا جائے گا؟ آخر کب تک ہمیں شد ت پسندی کے ساتھ جوڑا جائے گا ؟ آخر کب تک ہمیں انٹرنیشنل ائیر پورٹس پرمشکوک اور نفرت انگیزنظروں سے دیکھا جاتا رہے گا‘ کب تک ہم دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے اپنی شناخت کو چھپاتے رہیں گے ؟ کب تک آزادی ٔاظہارِ رائے کے نام پر ہمارے جذبات کے ساتھ کھلواڑہوتا رہے گا ؟ کب تک کشمیر ‘فلسطین اور برما میں مسلمان کا خونِ ناحق بہایا جاتا رہے گا؟ ہمیں اپنے لیے نئی سوچ کے دروازے کھولنا ہوں گے اورترقی یافتہ ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔نجانے کیوں ہم خود احتسابی کی حقیقت سے دور بھاگتے ہیں ؟ کیاہم نے کبھی سوچاہے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی ہونے کے باوجود مسلمانوں کی دل سے عزت کیوں نہیں کی جاتی ؟ کیا ہم نے کبھی تجزیہ کیاہے کہ اقوام ِعالم کی نظروں میں مسلمانوں کے پچپن ممالک کی وہ حیثیت کیوں نہیں جویورپ‘ برطانیہ ‘ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کی ہے ؟
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں آج بھی ماضی میں جینا اچھا لگتا ہے ۔ہم عظمتِ رفتہ کے سحر میں گرفتار رہناچاہتے ہیں۔اسی پر فخر کرتے رہتے ہیں کہ ابن الہیشم‘ عمر خیام‘ رازی‘ الظواہری‘ الخوارزمی‘ ابن سینا‘البیرونی اور جابر بن حیان جیسے بڑے دماغ مسلمان گھرانوں کے چشم وچراغ تھے ۔ہمیں یہ سوچ کر تسکین ملتی ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ ‘ مغل ‘ افغان اور منگول اسلام کا پرچم اٹھا کرفاتح عالم بنے ۔ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج سائنس کے میدان میں ہمارا کوئی ہیرو نہیں ہے ۔ ہمارا آج ہمارے کل سے بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ وقت چیتے کی چال چلتارہا اور ہم بمشکل رینگتے ہیں ۔ دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی اور ہم ماضی کے خیالوں سے ہی باہر نہ نکل سکے۔ آپ زیادہ دور مت جائیں‘ کورونا وبا کے آنے کے بعد ہم نے کیا کیا ؟ ایک مسلمان ملک بھی ویکسین نہیں بنا سکا۔ کیوں؟ کیا ہم اس کیوں کا جواب دے سکتے ہیں ؟
مغرب میں ویسے تو بیس سال سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فصل بوئی جارہی ہے مگر اس میں زیادہ اضافہ گزرے چند برسوں میں دیکھنے میں آیا ۔ پہلے صرف شدت پسند عناصر مسلمانوں کی تضحیک کرتے تھے مگر اب یہ سوچ مین سٹریم میں آچکی ہے ۔ فرانس کا صدر ہو یا بھارتی وزیراعظم یا اسرائیل ۔ یہ تمام مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ جلاتے رہتے ہیں ۔2016ء میں لندن کے میئر کے الیکشن میں لیبر پارٹی کے مسلمان امیدوار کے خلاف جو الفاظ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے استعمال کیے تھے اس سے بدتر اسلامو فوبیا کی مثال نہیں مل سکتی ۔ ڈیوڈ کیمرون نے ایوان میں کھڑے ہو کر صادق خان کاشدت پسندعناصر سے تعلق جوڑتے ہوئے کہا تھا ''لیبر پارٹی کے امیدوار شدت پسندوں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھ چکے ہیں اور مجھے ان کے بارے میں بہت خدشات ہیں ‘‘۔کچھ عرصہ قبل سویڈش کرائم انویسٹی گیشن کونسل نے اسلامو فوبیک حملوں پر اپنی حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی جس کے مطابق سویڈن میں مسلم خواتین کو سکارف پہننے کی وجہ سے گلیوں ‘ بازاروں اور سٹرکوں پر حملوں کا سامنا ہے ‘ ان کے سر سے زبردستی سکارف اتار کر پھینک دیے جاتے ہیں اورتوہین کی جاتی ہے ۔ مذہبی تہواروں پر مسلمانوں کو تنگ کیا جاتا ہے ان کو دھمکیاں اور گالیاں دی جاتی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اس طرح کی دہشت گردی دیکھ کر دنیا آنکھیں کیسے بند کرسکتی ہے ؟ وہ اپنے ضمیر کو جاگنے پر مجبور کیوں نہیں کرتی ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب مغرب کبھی نہیں دے گا‘ مگر مسلمان خود کو سائنسی اور معاشی میدانوں میں بہت ترقی دے کر وہ طاقت حاصل کر سکتے ہیں جو ان سوالوں کے جواب فراہم کر سکتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں