نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:سابق فاسٹ بولرشعیب اخترکاویڈیوپیغام
  • بریکنگ :- پاکستان ٹیم کو ہلکانہیں لےسکتے،سابق فاسٹ بولرشعیب اختر
  • بریکنگ :- ویرات کوہلی کاکہناہےپاکستان کوہرانےکیلئےبہترین کرکٹ کھیلنی پڑےگی،شعیب اختر
  • بریکنگ :- ٹیم میں شرجیل خان کوبھی شامل کرلیتےتواچھاہوتا،شعیب اختر
  • بریکنگ :- تبدیلی کےبعدپاکستان ٹیم کاکمبی نیشن اچھابن گیاہے،شعیب اختر
  • بریکنگ :- پاکستانیوں آپ نےگھبرانانہیں ہے،اپنی ٹیم کاساتھ نہیں چھوڑنا،شعیب اختر
  • بریکنگ :- پاکستانی ٹیم جیتےیاہارےہم ساتھ ہیں،سابق فاسٹ بولرشعیب اختر
Coronavirus Updates

دو پاکستان

حکمران وہ وعدے کیوں کرتے ہیں جنہیں نبھا نہیں سکتے ؟ عوام کو ایسی آس کیوں لگاتے ہیں جسے پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا؟ سیاست کی ناؤ میں جھوٹ کی گٹھڑی اٹھائے کوئی کب تک سوار رہ سکتا ہے ؟آخر ایک نہ ایک دن تو بے نقاب ہونا ہوتا ہے ‘ سچ کو بھی اور جھوٹ کو بھی ‘ غلط کوبھی اور صحیح کوبھی ‘ اچھے کو بھی اور برے کو بھی۔ کوئی بھید ہمیشہ بھید نہیں رہتا ۔
لاہور کے ایک سرکار ی ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ او پی ڈی سے لے کر ایکسرے لیب تک ‘ سی ٹی سکین سے لے کر آپریشن تھیٹر تک لوگ لائنوں میں ہی لگے نظر آئے ۔ دل کے مریضوں کو بھی دو سے تین ماہ بعد کا وقت دیا جارہا تھا۔ غریب عوام بدحال تھے اور پریشان بھی ۔کوئی ان کی با ت سننے کو تیار نہیں تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہسپتال میں کھلبلی مچ گئی ۔ ہٹو بچو کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں ۔ نرسز سے لے کر سینئر ڈاکٹرز تک ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔ پتہ کرنے پر معلوم ہو ا کہ شہر کا کوئی ''بڑا آدمی‘‘ بیمار ہوگیا ہے اس لیے ہر کسی کی دوڑیں لگی ہیں ۔ پرچی کٹوانے کی جھنجھٹ نہ قطار میں لگنے کی اذیت ۔اپنی باری کا انتظار نہ لیب میں ہجوم کا خوف۔ ہسپتال کا سارا عملہ ہاتھ باندھے جی حضوری میں مگن رہا ۔سب کچھ اتنی جلدی اور روانی سے ہوا کہ دنوں میں ہی بڑے صاحب ٹھیک ہوکر گھر چلے گئے ۔ ہسپتال میں عوام اور اشرافیہ کی تفریق دیکھ کر دل ابھی بوجھل تھا کہ ایک سرکاری دفتر میں جانا پڑ گیا۔ بوڑھے ‘ خواتین اور نوجوان سبھی سرکاری بابو کے انتظارمیں بیٹھے تھے ۔ دوگھنٹے بعد موصوف تشریف لائے تو چائے پینے کے بعد میٹنگ میں چلے گئے ۔ سائلین کا گرمی اور کربناک انتظار کے باعث برا حال تھا مگر ان کی شنوائی نہیں ہورہی تھی ۔ کوئی ہفتوں سے چکر لگا رہا تھا تو کسی کو دھکے کھاتے مہینے بیت چکے تھے ۔پھر ایک صاحب تشریف لائے تو سرکاری بابو نے ان کا باہر آکر استقبال کیا ۔ اُنہیں اندر لے گئے ‘ چائے پلائی ‘کام پوچھا اور فوری طور پر مسئلہ حل کر دیا ۔پوچھنے پر کسی نے بتایا کہ سرکاری بابوکے قریبی دوست کا رشتہ دار ہے اس لیے اتنی آؤ بھگت ہورہی ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر تو دل جیسے بجھ ساگیا ۔ پھرایک کے بعد ایک سرکاری دفتر میں چکر لگانے کے بعد احساس ہوا کہ یہ کسی ایک محکمے یا ادارے کا حال نہیں ہے بلکہ یہاں تو آوے کاآوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ آپ تھانے میں چلے جائیں یا کسی تعلیمی ادارے کا رخ کر لیں ‘کچہری سے ہوآئیں یا سول سیکریٹریٹ سے ۔ہر جگہ ایک ہی نظام ہے اور ایک ہی دستور ۔ غریب کو تڑپاؤ اور طاقتور کو سہولت دو ۔ عوام کو لائن میں لگاؤ اور تعلق دار کو لائن سے بچاؤ ۔
حکومت کا الیکشن سے قبل نعرہ تھا :دو نہیں ایک پاکستان ۔امیر کا بھی وہی پاکستان اور غریب کا بھی وہی پاکستان ۔ طاقتور سے بھی وہی سلوک اور کمزور سے بھی وہی برتاؤ۔ اپنے کو بھی وہی عزت اور پرائے کا بھی وہی احترام۔ سیاسی مخالف کے ساتھ بھی انصاف اور دوستوں سے بھی منصفی۔ کوئی لائن میں لگے گا نہ کسی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی ۔سب کے لیے ایک پاکستان ہوگا مگر تین سال گزرنے کے بعد سارے وعدے ‘ وعدے ہی رہے اور تمام دعوے ‘ دعوے ہی رہے ۔کہیں بھی بدلاؤ نہیں آیا۔چہرے تبدیل ہوگئے مگر رویے وہی پرانے کے پرانے ۔ نعرے بدل گئے مگر عمل ویسے کا ویسا ۔ کیا کوئی ہے جو آج کے حالات کا جائزہ لے کر'' دو نہیں ایک پاکستان‘‘ کا دعویٰ کرسکتا ہو ؟سوائے یکساں نصابِ تعلیم کے ۔ حکومت نے پہلے مرحلے میں پہلی سے پانچویں جماعت تک ایک سلیبس کردیا ہے جو ایک نہایت شاندار قدم ہے ۔ سرکاری سکولوں میں بھی وہی کتابیں ہوں گی جو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جائیں گی ۔ غریب کا بچہ بھی وہی پڑھے گا جو امیر کا بچہ پڑھے گا ۔ دیہات کے طالب علم بھی وہی علم حاصل کریں گے جو شہروں کے بچوں کو نصیب ہوگا ۔ کیاحکومت نے یکساں نصابِ تعلیم کے علاوہ کسی اور شعبے میں بھی یہ کارنامہ انجام دیا ہے ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ قانون نافذ کرنے کے لیے تین سال کم تو نہیں ہوتے ؟ دو سال بعد الیکشن ہے عوام کو کیا جواب دیں گے ؟
حکومتی دعوے اپنی جگہ مگر کھلی آنکھوں سے دیکھیں تو ایک نہیں دو پاکستان جابجا نظرآتے ہیں ۔ ایک پاکستان ان بڑی ہستیوں کا ہے جنہیں حکومت کی '' مثالی‘‘ کارکردگی کے باعث فائدے ہی فائدے مل رہے ہیں اور دوسرا پاکستان ان عامیوں کا ہے جن کے حصے میں خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ایک پاکستان ان کا ہے جنہوں نے چینی کے بھاؤ بڑھا کر کھربوں روپے کمائے ہیں اور دوسرا پاکستان ان کا ہے جن کی جیبوں سے یہ کھربوں روپے ناجائز طور پر نکالے گئے ہیں ۔ حکومت تمام'' کوششوں ‘‘کے باوجود چینی کی قیمت نیچے لاسکی نہ مافیا سے عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے سکی ۔ ایک پاکستان ان کا ہے جنہوں نے پٹرول سکینڈل سے دنوں کے اندر اربوں روپے کمالیے اور دوسرا پاکستان ان کا ہے جو جانتے بوجھتے بھی اربوں روپے کا ٹیکہ لگوا بیٹھے ۔ حکومت نے انکوائری کی مگر بے سود ۔ کوئی گرفتاری ہوئی نہ ایک روپے کا ریلیف عوام کو مل سکا۔ ایک پاکستان ان کا ہے جنہوں نے گندم ‘ آٹا اور ادویات جیسے سکینڈلزمیں اربوں روپے کی چوری کی مگر پھر بھی حکومت کی نظروں سے اوجھل رہے اور دوسرا پاکستان ان کا ہے جنہیں کھانے کے لیے معیاری گندم ملتی ہے نہ آٹا ۔ ادویات ملتی ہیں نہ سستا علاج ۔ ایک پاکستان ان کا ہے جنہیں '' انصاف ‘‘دلانے کے لیے علی ظفر رپورٹ جیسے راستے نکالے جاتے ہیں اور بڑے بڑے افسروں کے تبادلے کردیے جاتے ہیں ۔ دوسراپاکستان ان کا ہے جوانصاف کے لیے در بدر پھرتے ہیں مگر انصاف پھر بھی نہیں ملتا ۔ ایک پاکستان ان کا ہے جو سزایافتہ ہونے کے باوجود بھی لندن علاج کے لیے چلے جاتے ہیں اور کوئی راستے کی دیوار نہیں بنتا۔ دوسرا پاکستان ان کا ہے جو سزا پوری ہونے کے بعد بھی جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس دینے کے لیے جرمانے کی رقم نہیں ہوتی ۔ ایک پاکستان ان کا ہے جو حکومت گرانے کی دھمکی دیتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب و کامران ٹھہرتے ہیں ۔ دوسرا پاکستان ان کا ہے جوسیاسی مخالف ہونے کی وجہ سے الزامات اور مقدمات کی چکی میں پستے رہتے ہیں ۔ایک پاکستان ان افسران کا ہے جو حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور بڑے سے بڑا عہدہ حاصل کرلیتے ہیں جبکہ دوسرا پاکستان ان کا ہے جو دیانت داری کو شعار بناتے ہیں اور ہمیشہ ان کی حق تلفی ہوتی ہے۔ایک پاکستان ان کا ہے جو پورا الیکشن چوری کرلیتے ہیں مگر قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا ‘د وسرا پاکستان ان کا ہے جوسٹرک پر کھڑے ہوکر بھیک بھی مانگتے ہیں تو حوالات میں ڈال دیے جاتے ہیں ۔ ایک پاکستان ان کا ہے جو راولپنڈی رنگ روڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور راتوں رات ارب پتی بن جاتے ہیں جبکہ دوسرا پاکستان ان کاہے جو گھر بنانے کی آس میں پلاٹ خریدتے ہیں مگر ان کے حصے میں دھکے اور تکلیفیں ہی آتی ہیں ۔ ایک پاکستان ان کا ہے جن کی بڑی بڑی فیکٹریاں اور کاروبار ہیں جو حکمرانوں سے اربوں روپے کی سبسڈیز اور قرضے لیتے ہیں ۔ دوسرا پاکستان ان کا ہے جنہیں نوکری ملتی ہے نہ کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضہ ۔
مشہور کہاوت ہے کہ آپ سارے لوگوں کو کچھ وقت کے لیے اور کچھ لوگوں کو تمام وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن آپ تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بناسکتے ۔ ہر رازنے آخر فاش ہونا ہی ہوتا ہے ۔ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ سیاسی تھا یا جذباتی‘حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے ۔کل بھی غریب اور امیر کا پاکستان الگ الگ تھا آج بھی طاقتور اور کمزور کا پاکستان الگ الگ ہے ۔ کوئی تبدیلی آئی نہ نیا پاکستان بنا ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں