نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- طے پایا ہےمنگل کی شام تک یہ لوگ وہیں رہیں گے، شیخ رشید
  • بریکنگ :- جو راستے بلاک ہیں، وہ کھول دیے جائیں گے، شیخ رشید
Coronavirus Updates

گھبرانے کی کیا بات ہے؟

لارڈ ویول (Lord Wavell) 1944ء سے 1947ء تک ہندوستان کا وائسرائے تھا۔ ایک شام اس نے قائداعظم اور مسلم لیگ کے مخالف مسلم رہنماؤں کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ وائسرائے نے پاکستان مخالف رہنمائوں سے پوچھا: آپ کس بنیاد پر قیامِ پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں؟ ایک رہنما اٹھا اور بولا ''کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت یہی چاہتی ہے‘‘۔ وائسراے قدرے حیران ہوا اور پھر سوال کیا: آپ تمام رہنماؤں کے ساتھ کتنے کتنے لوگ ہیں؟ کسی نے کہا پچاس لاکھ تو کوئی بولا ایک کروڑ اور کوئی دعویٰ کرنے لگا دو کروڑ کا۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی کل آبادی لگ بھگ دس کروڑ تھی۔ وائسرائے نے مسلم رہنماؤں کے فالوورز کی گنتی مکمل کی تو یہ تعداد دس کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی تھی۔ وہ طنزاً مسکرایا اور بولا: مسلمانوں کی ساری تعداد تو یہاں پوری ہو چکی ہے پھر مسلم لیگ اور جناح کے ساتھ کون لوگ ہیں؟
آپ اسے افسانہ سمجھیں یا لطیفہ‘ مگر مجھے یہ قصہ حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر وزیراعظم صاحب کی تقریر سن کر یاد آیا۔ میں حیرت زدہ تھا کہ اگر ملک میں ترقی کا سفر جاری و ساری ہے اور ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں تو وہ لوگ کون ہیں جو مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا روتے ہیں؟ بدانتظامی اور نااہلی کے طعنے دیتے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔ گلیوں اور سٹرکوں کی بدحالی کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر آنسو بہاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر‘ وہ لوگ کون ہیں جو چینی، آٹا، گندم، پٹرول اور ادویات کے سکینڈلز پر چیخ و پکار کرتے ہیں، کرپشن اور اقربا پروری بڑھنے پر دہائیاں دیتے ہیں۔ خدا جانے یہ کون لوگ ہیں اور کیوں حکومت کی ''نیک نامی‘‘ پر سوال اٹھاتے ہیں؟ کاش! ناامیدی بانٹنے والے یہ گروہ وزیراعظم صاحب کی تقریر سن لیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں کچھ ''تشفی‘‘ مل جائے۔ ممکن ہے کہ ان کے ''ارمانوں‘‘ پر پڑی اوس دُھل جائے۔
اپوزیشن لاکھ جتن کرے‘ عوام جتنا مرضی شور مچائیں ہمیں بطورِ ''حکومت پسند‘‘ شہری اس پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ وزیراعظم صاحب اگر خوش ہیں تو ہمیں بھی خوش ہونا چاہیے۔ حکومتی زعما کو اگر مہنگائی نظر نہیں آتی تو ہمیں بھی اس جانب سے منہ پھیر لینا چاہیے۔ وزیر مشیر اگر حکومت کی کارکردگی کو ''مثالی‘‘ قرار دیتے ہیں تو ہمیں بھی مان لینا چاہیے۔ آخر اس سب میں قباحت ہی کیا ہے؟ آج سے نہیں‘ صدیوں سے رعایا کا کام سیاسی آقاؤں کی ہاں میں ہاں ملانا ہے۔ ان کے پاس اور آپشن ہی کیا ہوتا ہے؟ اپوزیشن تو ایسے ہی بے وقت کا راگ الاپتی رہتی ہے اور بھولے بھالے عوام کو ''گمراہ‘‘ کرتی ہے۔ آئیے! حکومتی ترقی کا عوام اور اپوزیشن کی پھیلائی ہوئی ''افواہوں‘‘ کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
(1) کیا ہوا اگر تین سالوں میں ملکی قرضوں میں 13 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا ہوا اگر سرکاری اداروں کا خسارہ 1400 ارب روپے سے بڑھ کر 2400 ارب روپے ہو چکا ہے۔ کیا ہوا اگر گردشی قرضہ 1150 ارب روپے سے تجاوز کرکے لگ بھگ 2400 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ اس سال سیمنٹ، ٹریکٹرز اور موٹر سائیکلوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ یہی نہیں‘ گاڑیاں خریدنے والوں کی تعداد بھی پچاسی فیصد بڑھ گئی ہے۔
(2) اگر وزیراعظم اور گورنر ہاؤسز ختم نہیں ہو سکے، پروٹوکول کلچر کو جڑ سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جا سکا، پولیس اصلاحات نہ ہو سکیں، بیوروکریسی سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد نہیں ہو سکی، سٹیل مل نہیں چل سکی، خارجہ پالیسی پارلیمنٹ میں نہیں طے ہو رہی، ملک سے باہر دو سو ارب ڈالر واپس نہیں آ سکے تو کیا ہوا؟ اس کی بھی ضرور کوئی وجہ ہوگی جو ہمیں نظر نہیں آ رہی۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ترسیلاتِ زر میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ اوور سیز پاکستانی پہلے سے دس ارب ڈالر زیادہ پاکستان کیوں بھیج رہے ہیں۔
(3) حکومت کے ناقدین کہتے ہیں کہ ملکی معیشت کا حجم 314 ارب ڈالر سے سکڑ کر 297 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ اور معاشی نمو کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بیس ارب ڈالر سے کم ہوکر 1.8 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔
(4) اپوزیشن اور عوام جتنی مرضی آہ و بکا کریں کہ مہنگائی پہلے سے تین گنا بڑھ چکی ہے، یوٹیلیٹی بلز ڈبل ہوگئے ہیں، سبزیاں، پھل، گوشت اور دودھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں، پیٹرول 88 روپے سے بڑھ کر 119 روپے ہو چکا ہے، چینی 54 روپے سے تجاوز کر کے 105 روپے تک جا پہنچی ہے اور ادویات کے نرخ تو جیسے آسمانوں کو چھو رہے ہیں، بعض ادویات کی قیمتوں میں چار سو سے پانچ سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے مگر اپوزیشن اور عوام یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس سال حکومتی سبسڈی کی وجہ سے بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بے شمار کارباری افراد کے دن راتوں رات پھر گئے ہیں۔
(5) اپوزیشن واویلا کرتی ہے کہ موجودہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث دو کروڑ لوگ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں مگر اپوزیشن یہ نہیں بتاتی کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے لیے حکومت نے لنگر خانے اور قیام گاہیں بنا رکھی ہیں۔ اگر کسی کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے تو وہ لنگر خانے جا سکتا ہے۔ کیا اس سے پہلے کسی حکومت نے ایسا کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہے؟
(6) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں پاکستان میں کرپشن کے تاثر میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی رینکنگ میں سات درجے تنزلی ہوئی ہے۔ اسی طرح کی باتیں اپوزیشن بھی کرتی ہے بلکہ وہ تو اعلیٰ سرکاری عہدوں کا ''ر یٹ‘‘ تک بتا دیتی ہے مگر اپوزیشن یہ نہیں بتاتی کہ اینٹی کرپشن جیسا ادارہ کتنا فعال ہو چکا ہے اور ساڑھے چار سو ارب روپے کرپٹ لوگوں سے واپس نکلوا چکا ہے۔ نجانے کیوں لوگ حکومت کے ایسے کارناموں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
(7) زبان زدِ عام ہے کہ تین سال گزر گئے مگر ایف بی آر میں اصلاحات ہوئیں نہ ٹیکس نیٹ کا دائراہ وسیع ہو سکا۔ پانچ چیئرمین آئے اور چلے گئے مگر کچھ نیا نہ کر سکے۔ ہاں البتہ! اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کے باعث ماضی کی حکومتوں کی نسبت موجودہ حکومت نے دس ہزار ارب روپے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے، کیا اسے آپ حکومت کا کارنامہ نہیں کہیں گے؟
(8) کراچی کے عوام اور سیاستدان چیخ رہے ہیں کہ چودہ سیٹیں جیتنے کے باوجود وفاقی حکومت نے کراچی کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔ کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ اب کراچی کے عوام کو کون بتائے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔ وفاقی حکومت نے پہلے 162 ارب اور گزشتہ سال گیارہ سو ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اتنے بڑے ''اعلانات‘‘ کے بعد اب حکومت اور کیا کرے؟
(9) جنوبی پنجاب کے لوگ دہائی دے رہے ہیں کہ آخر کب بنے گا نیا صوبہ اور ان کی محرومیوں کا ازالہ کب ہو گا؟ اب بے چارے عوام کو کیا پتا کہ صوبہ نعروں سے نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔
(10) لوگ کہتے ہیں تین سالوں میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہو سکا۔ پورے ملک کی رابطہ سٹرکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں اور بڑے شہروں میں صفائی کے حالات ابتر ہیں۔ لاہور میں ہر طرف کوڑا ہی کوڑا ہے۔ دو سال بیت گئے‘ بلدیاتی الیکشن ہوئے نہ شہروں اور دیہاتوں کا نظم و نسق بہتر ہو سکا مگر نجانے کیوں لوگوں کی یادداشت سے یہ محو ہو گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے شہر شہر جا کر ترقیاتی کاموں کے کتنے ہی اعلانات کر رکھے ہیں۔ اور اگر یہ اعلانات ہو گئے ہیں تو امید رکھیں‘ کبھی نہ کبھی یہ کام بھی پورے ہو جائیں گے۔ گھبرانے کی کیا بات ہے؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں