نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد : ‏وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹ،ویڈیو بھی شیئر کی
  • بریکنگ :- ‏‏ ڈاکیومنٹری بنانے پر ٹیم کی لگن اور جذبہ قابل تعریف ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ‏ڈاکیومنٹری میں مسلمانوں کےعروج اور زوال کو دکھایا گیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمارےنوجوانوں کو خاص طور پر اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم
Coronavirus Updates

فیک نیوز

حضرت علیؓ سے منسوب ایک قول ہے ''انسان کی سب بڑی دوست اس کی عقل ہوتی ہے اور سب سے بڑی دشمن اس کی جہالت‘‘۔ کوئی بھی انسان کسی بھی طاقت ور سے طاقت ور شخص کے ساتھ ٹکرا سکتا ہے مگر جہالت کا سامنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ جھوٹ بولنا، گمراہ کرنا، پروپیگنڈاکرنا، بغیر تحقیق کے کسی بات کو پھیلانا، اچھے کو برا اور برے کو اچھا دکھانا، مخالفین کو بے آبرو کرنا، ذاتی اور سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا‘ یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا کوئی صاحبِ عقل ایسی حرکات کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ یقینا نہیں! کیونکہ ہیروں کی دکان پر سر پھوڑنے والے پتھروں کا کیا کام۔ افسوس! دنیا بھر کا سوشل میڈیا سچ کے بازار میں جھوٹ کا کاروبار کرتا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔
میرے پاس سنانے کیلئے دو کہانیاں ہیں۔ پہلی کہانی کا تعلق گجرات سے ہے۔ گریجویشن کی طالبہ کو تصویریں بنانے کا بہت شوق تھا۔ وہ وجہ بے وجہ اپنی تصاویر بناتی رہتی تھی۔ ایک دن اس کا موبائل خراب ہو گیا۔ ٹھیک کرنے کے لیے جہاں بھیجا گیا، وہاں کے کاریگر نے عجب کاریگری دکھائی۔ اس بدبخت نے لڑکی کی تصویریں اپنے پاس کاپی کر لیں اور فوٹو شاپ کے ذریعے ٹریٹ کرکے سوشل میڈیا پر چڑھا دیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے بغیر تحقیق کیے تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں۔ پورے شہر میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ تصویریں لڑکی کے گھر والوں نے دیکھیں تو وہ بھی آپے سے باہر ہو گئے۔ لڑکی نے اپنی سچائی ثابت کرنے کی پوری کوشش کی مگر گرد اتنی اُڑ چکی تھی کہ سامنے پڑی حقیقت بھی کسی کو نظر نہ آئی۔ اس بے چاری کو جان دے کر اس معاملے سے اپنی جان چھڑانا پڑی اور پھر اہالیانِ شہر منہ چھپانے کیلئے جگہ ٹھونڈتے رہے۔
دوسری کہانی پشاور سے ہے۔ پورے شہر میں ایک فوڈ شاپ کے بہت چرچے تھے۔ لوگ لائنوں میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے تھے۔ گزشتہ سال اس فوڈ شاپ کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کردیا گیا۔ کسی نے شرارت کی اور سوشل میڈیا پر پھیلا دیا کہ اس دکان سے مردار گوشت برآمد ہوا ہے‘ اسی لیے اسے سیل کیا گیا ہے۔ یہ خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگوں نے اس فوڈ شاپ کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس دکان کا مالک اصل کہانی سناتا رہا مگر سب نے سنی اَن سنی کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا کاروبار بند ہو گیا۔ وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا، اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور پھر ایک دن وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ یہ کسی ایک شہر‘ کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارا عمومی رویہ ہی یہ بن چکا ہے۔ ہم صبح شام سوشل میڈیا پر غلط خبروں کا پرچارکرتے رہتے ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہمارے اس عمل سے کسی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے یا ہماری اس حرکت سے کسی بے گناہ کی جان بھی جا سکتی ہے۔
جب تک فیک نیوز عام لوگوں کی زندگیاں بربا د کر رہی تھی‘ حکومتی سطح پر چین کی بانسری بجائی جا رہی تھی‘ کوئی فکر تھی نہ توجہ۔ ایسی خبروں کی روک تھام کا ارادہ تھا نہ ضرورت۔ اب جب ''فیک نیوز‘‘ کی بھرمار سے حکمرانوں کے اپنے پاؤں جلنے لگے ہیں تو وہ سارا الزام میڈیا کے سر تھونپا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر کا میڈیا‘ کبھی بھی جان بوجھ کر غلط خبر نہیں دیتا۔ سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کا یہی بنیادی فرق ہے۔
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق ''ایسی خبر جو جان بوجھ کر‘ جھوٹی، من گھڑت یا گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر پھیلائی جائے‘ اسے فیک نیوز کہتے ہیں‘‘۔ اس تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ فیک نیوز سب سے زیادہ کون پھیلاتا ہے؟ میڈیا کی مجبوری ہے کہ اسے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بیانات عوام تک من وعن پہنچانا ہوتے ہیں۔ رہی بات ان خبروں کی جو میڈیا ''ذرائع‘‘ سے دیتا ہے‘ ان خبروں کا ستر فیصد سورس سیاستدان ہی ہوتے ہیں اور باقی تیس فیصد خبروں کے ذرائع افسر شاہی اور دیگر سرکاری ملازمین ہوتے ہیں۔ یقین مانیں‘ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف خبریں لیک کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ آپ زیادہ دور مت جائیں‘ نوے کی دہائی میں ملکی سیاست میں کیا کچھ نہیں ہوا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے خلاف کیا کیا پروپیگنڈا نہیں کیا گیا۔ جھوٹ اور سچ کی ایسی آمیزش کی گئی کہ سننے والا یقین کیے بغیر رہ نہ سکا۔ بی بی محترمہ اپنے آخری دنوں میں ان جھوٹی خبروں کو یاد کرتی تھیں تو ان کے آنسو نکل آتے تھے۔ یہی حال آصف علی زرداری کا تھا۔ اَن گنت الزامات اور واقعات ان کے ساتھ منسوب کیے گئے مگر عدالتوں میں کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ پرویز مشرف کے دور میں شریف فیملی کے خلاف کیا کیا نہ کہانیاں گھڑی گئیں۔ کون جانے ان میں کتنا سچ تھا اور کتنا جھوٹ۔ کیا عدالتوں نے اس دور میں قائم کیے گئے مقدمات پر تصدیق کی مہر ثبت کی؟ قاف لیگ کے بڑوں کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کون کہتا تھا؟ یہودی لابی کے طعنے کون کسے دیتا تھا؟ کوئی ہے جو یہ بتائے کہ جھوٹی خبریں کون پھیلاتا تھا؟ اور یہ جھوٹے مقدمات کون بناتا تھا؟ یہ سیاستدان ہی تھے جو ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے تھے اور عوام کو گمراہ کرتے تھے۔ فیک نیوز پھیلانے میں میڈیا کا نہ اُس وقت کوئی کردار تھا اور نہ ہی آج میڈیا اس دھندے میں ملوث ہے۔
البتہ! 2011ء سے پہلے فیک نیوز کا پھیلاؤ محدود تھا کیونکہ میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ تھا اور سوشل میڈیا پلیٹ فورمز نہ ہونے کے برابر تھے مگراس کے بعد تو الزامات کی ایسی آندھی چلی کہ آج تک رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیا ونگز اتنے متحرک ہو چکے ہیں کہ وہ منٹوں میں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ایسے ثابت کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ 2013ء میں عام انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ نون بھاری اکثریت سے کامیاب قرار پائی۔ تحریک انصاف نے دھاندلی کا نعرہ بلند کیا اور نگران حکومت سے لے کر الیکشن کمیشن تک‘ کسی کو معاف نہیں کیا۔ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے 126 دن تک دھرنا دیا۔ دھرنے کے سٹیج سے ایسے ایسے بیانات اور الزامات داغے گئے کہ خدا کی پناہ! سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بھی بنا مگر منظم دھاندلی ثابت ہوئی نہ ہی الزامات سچے نکلے۔ یہی وہ دن تھے جب غلط اور صحیح خبر کا فرق تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ یہی وہ دن تھے جب سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی اور مخالف الگ الگ صفوں میں نظر آتے تھے۔ یہی وہ دن تھے جب فیک نیوز باقاعدہ میڈیم بن گئی تھی۔ کوئی بھی‘ کسی کے بھی خلاف‘ کچھ بھی بول سکتا تھا۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ پر الیکشن میں 35 پنکچر لگانے کا الزام لگایا گیا مگر بعد ازاں اسے سیاسی بیان کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت تک سیٹھی صاحب عدالت جا چکے تھے۔ وہاں بھی اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا گیا نہ ہی گواہ۔ الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان نے 2013ء کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قراردیا‘ جسے تحریک انصاف ہر جلسے میں حکومت کے خاتمے کا پہلا قدم قرار دیتی تھی مگر پھر کیا ہوا؟ افضل خان نے عدالت میں غیر مشروط معافی مانگ لی۔ پاناما لیکس کے بعد نواز شریف پر تین ہزار کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام تواتر سے لگایا گیا مگر یہ الزام بھی الزام ہی رہا۔ کوئی ثبوت سامنے آیا نہ اس الزام کی حقیقت ثابت کی جا سکی۔ شریف خاندان کو بھارت میں کاروبار کرنے پر دوشی تو قرار دیا گیا مگر آج تک اس کی حقیقت واضح نہیں ہو سکی۔ یہی نہیں! پاناما کیس واپس لینے پر شہباز شریف کی طرف سے دس ارب کی رشوت کا الزام بھی سرعام لگایا گیا مگر سالوں گزرنے کے بعد بھی کچھ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ شہباز شریف پر ملتان میٹرو بس میں چینی کمپنی سے کک بیکس لینے کا الزام بھی ببانگ دہل لگایا گیا مگر وہ الزام آج بھی حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ حکومت فیک نیوز روکنے کے لیے ضرور سنجیدگی دکھائے مگر اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے اور میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے میڈیا ڈویلپمنٹ بل کی آڑ لینے کی کوشش نہ کرے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں