نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کے مشکل وقت میں جیل کاٹی،آصف زرداری
  • بریکنگ :- پنجاب میں الیکشن مشکل نہیں ہماری کمزوریاں سامنےآتی ہیں، آصف زرداری
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی نےاین اے 133میں بہت اچھارزلٹ دیا،آصف زرداری
  • بریکنگ :- لاہور:مجھے 50ہزارووٹوں کی امیدتھی،آصف زرداری
  • بریکنگ :- ٹرن آؤٹ بڑھالیتےتو 50ہزارووٹ لےسکتےتھے،آصف زرداری
  • بریکنگ :- دنیاپاکستان کوتوڑناچاہتی ہےلیکن ہم پاکستان بچانےکیلئےلڑیں گے،زرداری
  • بریکنگ :- ہم کامیابی کی طرف جارہےتھےلیکن آراوالیکشن کرادیئےگئے،آصف زرداری
  • بریکنگ :- آراوالیکشن کراکےہم سےانتخابات چھینےگئے،آصف زرداری
  • بریکنگ :- اب بھی میرےدماغ میں ایسی سوچ ہےجوملک کوکامیاب بناسکتی ہے،زرداری
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

پانی کہیں تو مر رہا ہے

چار ماہ پہ محیط ناشائستہ بنا دینے والی کشمکش کے بعد آخر کار حکمراں جماعت‘پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو دینے پہ راضی ہو گئی‘جس کے بعد قومی اسمبلی کے کاروبار میں حائل وہ ڈیڈک لاک ختم ہو جائے گا‘ جس نے معمول کی قانون سازی کے عمل کو بریک لگا رکھی تھی ۔بظاہر اس پیش رفت کو تینوں بڑی جماعتوں کی لیڈرشپ کے مابین طویل مشاورت کے بعد ابھرنے والی افہام و تفہیم اور سیاستدانوں کی ذہنی لچک کا نتیجہ قرار دیا گیا‘ لیکن لامحالہ اس''اتفاق رائے‘‘ کے پیچھے طاقت کی ایما بھی شامل ہو گی۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومتی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جمہوری روایات کو زیادہ مؤثر بنانے کی طرف درست پیشقدمی کہہ کر اس فیصلہ کو سیاسی جماعتوں میں وسیع تر اتفاق رائے کی طرف بڑھنے کا اشارہ بنا دیا‘ جبکہ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے اسے عمران کا خوبصورت یوٹرن قرار دے کر بلواسطہ طور پہ وزیراعظم کی یوٹرن فلاسفی کی افادیت کو تسلیم کر لیا۔بیشک‘سیاست انہی غیر متوقع تغیرات کو مینج کرنے کا آرٹ ہے‘شاید اسی لئے جمہوریت کے بانی اہل مغرب کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی‘ہم اگر رزم گاہِ سیاست کے اس کائناتی اصول کے مطابق سیاستدانوں کے طرزعمل کی تفہیم کریں تو سابق وزیراعظم نوازشریف کی فرسودہ سنجیدگی اور سخت مزاجی کی نسبت عمران خان کا ہر آن بدلتا رویہ ہمارے سیاسی ارتقا سے زیادہ ہم آہنگ نظر آئے گا۔بلاشبہ وہ ہر ایشو پہ نہایت کلیئرٹی کے ساتھ اپنے سیاسی نقطہ نظر کوکھل کے بیان کرتے ہیں ‘لیکن حالات کے تقاضوں کے مطابق ‘اگر انہیں اپنے مؤقف سے دستبردار ہونا پڑے تو وہ دل پہ کوئی بوجھ لئے بغیر نیا موڑ مڑنے میں دیر نہیں کرتے؛چنانچہ یہی ذہنی لچک خود ان کی اپنی سیاسی بقا اور سسٹم کے دوام کے لئے موافق ثابت ہوتی ہے۔وہ اپنے مؤقف کو انا کا مسلہ بنا کے اگر اپنے کہے ہوئے الفاظ پر ڈٹ جانے کی جسارت کرتے تو اصغر خان کی طرح کب کے سیاست کے قومی دھارے سے آؤٹ ہو چکے ہوتے‘ لیکن وہ خود کو سیاست کے تغیرپذیر عمل سے ہم آہنگ رکھنے کا ہنر جانتے ہیں‘اس لئے معاملات کو بند گلی میں لے جانے کی بجائے ہمہ وقت نئے امکانات کے دریچے کھلے رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے اسی طرز عمل کی بدولت سیاست میں تشدد کے امکانات گھٹ جاتے ہیں ‘ کیونکہ فرسودہ اور غیرلچکدار گروہوں کے خاتمہ کے لئے ہی قانونی تشدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ جمہوری سیاست میں نرم خُو اور لچکدار روّیوں کے حامل سیاسدانوں کی ناکامی کے امکانات کم ہوتے ہیں لیکن جو لوگ زندگی کی وسیع سکیم کی بوقلمونی سے قطع نظر کر کے اپنی سیاسی سوچ کو اٹل حقیقت سمجھ کے ڈٹ جانے میں عظمت تلاش کرتے ہیں ‘ان کی اکثریت خود بھی اور قوموں کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔اگر ہم لیڈر شپ کے سیاسی رویوں کے حوالے سے اپنے حالات کا جائزہ لیں تو ہماری مصیبت زدہ نسل کو لیڈرز کی مقبولیت راس نہیں آتی۔ماضی گواہی دیتا ہے کہ ہماری تاریخ کی مقبول ترین سیاسی لیڈر شپ المناک انجام سے دوچار ہوئی‘لیاقت علی خان‘ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف جیسے مقبول لیڈرز اپنے ہی افتاد طبع کا شکار بن کے اس قوم کو مشکلات کے دلدل میں اتار گئے۔ہمیں امید ہے کہ اچھی قسمت کے مالک عمران خان ان جیسے انجام سے دوچار نہیں ہوں گے۔یہ بھی ان کی خوش نصیبی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور حکمران اشرافیہ کی سیاسی مبارزت ایک حد سے آگے نہیں بڑھی‘اس محدود کشمکش کے دوران فریقین نے تیزی کے ساتھ اپنی پوزیشنز تبدیل کر کے ایک دوسرے سے دور اور قریب آنے کی خاطر جس سیاسی ایثار سے کام لیا‘اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ہماری مملکت اجتماعی حیات کی بقا کے لئے جلد مطلوب توازن پا لے گی۔جیل سے رہائی کے بعد مریم نواز کی پراسرار زباں بندی اور نوازشریف کے لب و لہجہ میں غیرمتوقع نرمی کے علاوہ بہت ہی مختصر مدت کے دوران مولانا فضل الرحمن سمیت اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی اپنا ''اصولی مؤقف‘‘ ترک کئے بغیر غیرمحسوس انداز میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کی پکار کو خاموش کر دینے کی پالیسی''سیاسی ہم آہنگی‘‘ کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کا سبب بن رہی ہے۔صاف پانی اور آشیانہ ہاؤسنگ سیکنڈل میں چار ماہ سے گرفتار احد چیمہ اور فوادحسن فواد کا بغیر کسی مؤثر قانونی کارروائی کے نیب کی چنگل سے نکل کر جیل پہنچنا اورسابق وزیراعلیٰ شہباز شریف سے چونسٹھ دنوں کی تفتیش کے دوران کچھ برآمد نہ ہونے کے علاوہ نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ریفرنس دائر نہ ہونا بھی شاید اسی سیاسی تال میل کا شاخسانہ ہو۔یہ ساری ڈیویلپمنٹ باہمی اعتماد سازی کی استواری اور اُس سیز فائر کا سامان دیکھائی دیتی ہے‘ہماری سیاسی اشرافیہ جس کی طرف خاموشی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے‘اگر ہمارا تجزیہ درست ہوا تو جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز تک اپوزیش لیڈر شہباز شریف ضمانت پہ رہا ہو کر قومی اسمبلی میں اپنا متعین کردار ادا کرتے دیکھائی دیں گے اور اگر اسی سپرٹ کے ساتھ سیاسی قیادت ایک وسیع تر قومی اتفاق رائے کی طرف بڑھی تو آگے چل کے ہماری پارلیمنٹ کسی مناسب ترمیم کے ذریعے نیب کے قوانین کو متوازن بنا کر ایک نارمل احتسابی عمل کی تشکیل پہ متفق ہو سکتی ہے۔بلاشبہ پرامن اور منظم اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی خاطر وسیع تر سیاسی ہم آہنگی کا وقوع پذیر ہونا از بس ضروری ہو گا‘ بلکہ آگے چل کے یہی صحت مند پیشقدمی قومی سلامتی کے تقاضوں کی خاطر بڑے آبی ذخائر کی تعمیر پہ پائے جانے والے سنگین اختلافات کو تحلیل کرنے پہ منتج ہو سکتی ہے؛ا گرچہ یہ کام آسان نظر نہیں آتا‘ لیکن ناممکن بھی نہیں‘پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تازہ فرمودات سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر جیسے ایشوز پہ افہام و تفہیم سے گریزاں ہیں‘اس لئے قومی مستقبل پر وسیع اثرات کے حامل معاملات کو نمٹانے کے عمل میں وہ اسٹیبلشمنٹ کی شراکت کو مسترد کر رہے ہیں‘تاہم ان ساری لن ترانیوں کے باوجود قومی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہترین مساعی سے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر‘ سماج کو انتہا پسندی جیسے رجحانات سے پاک کرنے اور سرائیکی صوبہ سمیت نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے علاوہ ستّر سال سے منجمد خارجہ پالیسی میں مؤثر اصلاحات لائے‘ خاص کر افغان تنازعہ کو وقت و حالات کے تقاضوں کے مطابق نمٹا کے ترقی کی نئی راہیں کھولے۔بلاشبہ اس مملکت کو بیرونی خطرات سے بچانے کی خاطر اندرونی سیاسی خلفشار پہ قابو پانے کی جتنی ضرورت آج ہے‘ایسی پہلے کبھی نہیں تھی۔سیاستدانوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ قوم ایک مدت سے قابلِ حصول مقاصد کی خاطر سارے اختلافات بھلا کے اکھٹا ہونے کی آرزو رکھتی ہے ‘لاریب‘صرف قومی دفاع ہی نہیں‘ بلکہ بنیادی انسانی آزادیوں کا حصول بھی خوف سے نجات میں پنہاں ہے‘ اگر ہمیں ایک آزاد جمہوری معاشرے کے قیام کی افادیت کا علم ہوتا تو ہم اپنے معاشرے کو جنگ کے خوف سے نجات دلانے کی فکر کرتے‘ لیکن بدقسمتی سے ہماری اجتماعی دانش ہر مسئلہ کو طاقت کے ذریعے نمٹانے کے خبط میں مبتلا ہو کے قانونی طریقوں سے اصلاح ِاحوال کے علاوہ کسی فطری طریقے کو نہیں جانتی‘ حالانکہ اس نظم و ضبط کا بیشتر حصہ‘جو انسانیت پہ حاوی ہے‘قانون کا رہین منت نہیں‘ بلکہ اس کا سرچشمہ انسان کی فطرت اور زندگی کے اجتماعی اصول ہیں۔کنفیوشس نے کہا تھا:اگر ریاست بدنظمی کا شکار ہو تو اس کی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی زندگی کو فرض کی باقاعدہ ادائیگی والا بنا لیجئے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں