نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور: پابندی کا اطلاق آج سے ہوگا
  • بریکنگ :- اعلان لاہورہائیکورٹ کےحکم کے تناظر میں کیا گیا
  • بریکنگ :- لاہور: ایم ٹیگ والی گاڑیاں موٹرویزپرسفرکر سکیں گی
  • بریکنگ :- شناختی کارڈکی کاپی وموبائل نمبرپر ایم ٹیگ لگائےجارہے ہیں
  • بریکنگ :- نیشنل ہائی ویزاینڈموٹرویزپر 7دسمبرسےایم ٹیگ نہ رکھنےوالی گاڑیوں پرپابندی
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

آزادیٔ اظہار کی اساس علم ہے؟

ایک ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث ابلاغ کے وسائل کو بے پناہ وسعت مل رہی ہو اورسوشل میڈیا کے ذریعے ہر شخص کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہو تو ایسے میں آزادیٔ اظہار کے محدود ہو جانے کی گونج بظاہر عجیب معلوم ہوتی ہے؛ تاہم امر واقعہ یہی ہے کہ جوں جوں ہمارے سوچ کے افق محدود ہوئے توں توں ہماری فکری اور ذہنی آزادیاں بھی سکڑتی گئیں۔ چند روز قبل ایک تھنک ٹینک نے اِس موضوع پہ یہاں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ورکشاپ منعقد کرائی جس میں گومل یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سٹوڈنٹس کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے وابستہ طلبہ کی قابلِ لحاظ تعداد شریک ہوئی، اس منتخب اجتماع میں معروف صحافی عامر رانا، مرتضی راٹھور اور سبوخ سید نے بین المذاہب ہم آہنگی، گل نوخیز اختر نے آزدایٔ اظہار، میڈیا اور طبقاتی محرومیت کی تفہیم کر کے زندگی کے تضادات کو واضح کیا، جبکہ معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ نے تنقیدی شعور کے موضوع پہ مفصل لیکچر دینے کے علاوہ نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دے کر ایک غیر مختتم مگر دلچسپ بحث کا دروازہ کھولا۔ بلاشبہ! یہ نشست اس لحاظ سے ایسی بامقصد مساعی اور صحتمند مشق تھی جس میں ہمیں گراں قدر معلومات کے علاوہ خود انسانی سوچ کے تنوع اور اپنی سماجی زندگی کی بوقلمونی کو سمجھنے کا موقع ملا۔ خاص طور پر تنقید کی صلاحیت، اسلوب، ہیئت اور معیار کے حوالے سے پیش کی جانے والی تکنیکی معلومات نہایت اہمیت کی حامل تھیں۔ اس ورکشاپ کے دوران یونیورسٹی سطح کے طلبہ کی استعدادِ ذہنی کے عیاں ہونے کے علاوہ انتہا پسندی کے اُس خوف کی کچھ پردہ کشائی بھی ہوگئی جس نے ہمارے سماج کے اعلیٰ و ادنیٰ طبقات سے سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت سلب کر لی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اس مجموعی ماحول کو ازسر نو سنوارنے کی اشد ضرورت ہے، جس میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوعمر طلبہ کی ذہنی نشونما ہوتی ہے۔ اس گداز بحث میں یہ بھی واضح ہوا کہ ہمارے مسائل کی جڑیں علم کی کمی میں پیوست ہیں، اس لئے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ تعلیم مستقبل کے دبستانوں کو روشن بنانے کے بجائے ہمیں خوف اور بے یقینی کی تاریکیوں میں کیوں دھکیل رہی ہے؟
یورپ کے اہلِ دانش کہتے ہیں ''علم مختلف طریقہ ہائے عمل کی یادگار ہے، جتنا زیادہ ہمارا علم ہو گا، اتنے زیادہ ہم دوراندیش ہوں گے، جتنے زیادہ ہم دور اندیش ہوں گے، اُتنا زیادہ ہماری آزادی کا دائرہ وسیع ہو گا۔ بلاشبہ یہ علم ہی تھا جس نے ابتدائی انسان کو خوف سے نجات دلائی، ہم اپنے حافظے، تخیل اور عقل کے ذریعے غیردانشمندانہ افعال پہ قابو پا کر کس قدر کامیابی کے ساتھ اپنے آخری نصب العین کا اظہار کرتے ہیں، آزادی بھی عقل کی طرح ایک'دیرآید‘ عمل ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاشرے میں کارفرما منفی عوامل اور قانون کی تادیب ہماری آزادی نہیں چھین رہی بلکہ ہمارے اذہان کا بے ضرر تساہل ہی اس کا ذمہ دار ہے، اگر ہماری نوخیز نسلوں کے دل ودماغ نورِ علم سے معمور ہوتے تو ہماری اجتماعی زندگی پر دوراندیشی سایہ فگن رہتی اور ہمارا سماج فکری، ذہنی، سیاسی اور مذہبی آزادیوں سے لطف اندوز ہوسکتا، گویا اصل مسئلہ علم کی کمی اور ذہن کے جمود و ارتقا سے جڑا ہوا ہے۔ چنانچہ اب ہماری نئی نسلیں آئین سازوں کے بجائے اچھے اساتذہ مانگتی ہیں انہیں تنظیم سے زیادہ علم کی ضرورت ہے اور وہ تشدد سے نہیں بلکہ ذہانت کی وسعت کے ذریعے نظم و نسق اور امن قائم کریں گے۔ بلاشبہ اس نظم و ضبط کا بیشتر حصہ، جوانسانیت پہ حاوی ہے، قانون کا رہین منت نہیں بلکہ اس کا سرچشمہ زندگی کے اجتماعی اصول اور انسان کی فطرت ہے، جب حکومتیں نہیں تھیں تو سماجی نظم و نسق نشو ونما پا رہا تھا اور اب اگر یہ معدوم ہو جائیں تو بھی انسان باہمی احتیاج اور فطری تنوع کے ذریعے سوسائٹی کو ریگولیٹ کر لے گا۔
بلاشبہ جس ذہنی آزادی کو ہم اکیسویں صدی کی پُرہجوم تنہائی میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، اس کی جڑیں دراصل ہمارے اپنے فکر و خیال کی حدود میں پنہاں ہیں، حیرت انگیز طور پہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں جہاں لوگوں کو ہر بات کہنے کی سہولت ملی وہاں وہ آزادیٔ اظہار کا حق مانگ رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم خود باہم ایک دوسرے کے کہنے کے حق کو برباد کرنے کے ذمہ دار ہوں؟شاید سچ یہی ہو کیونکہ اگر پلٹ کے دیکھیں تو ہمیں ریاستی قوانین سے زیادہ معاشرے کے ان عناصر سے خوف آتا ہے جو ہمہ وقت اختلافِ رائے کو بداخلاقی اور تشدد کے ذریعے کچلنے پہ کمربستہ دکھائی دیتے ہیں۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ اختلافِ رائے ہی انسان کے فکری ارتقا کا زینہ اور زندگی کی تزئین و آرائش کا بنیادی محرک ہے۔ اگر باہمی انتقادہ کے اس گداز عمل کو کند کر دیا جائے تو سماج میں ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں رہتا۔ جن ملکوں میں استبدادی حکومتوں نے آزادیٔ اظہار اور اختلافِ رائے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی وہاں فکری، سیاسی اور سماجی ارتقا منجمد ہوتا گیا اور ان کی نوخیز نسلیں تیزی کے ساتھ کنفیوژن اور تشدد کی طرف مائل ہوتی گئیں جس سے ان کے منضبط معاشرے شورشوں اور خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں آتے گئے۔ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تومغربی تہذیب کے ارتقا کی اساس فرانسیسی دانشور والٹیئر کے اس نظریے پر استوار ہوئی جس میں وہ کہتا ہے کہ ''اگرچہ مجھے آپ کے ہر لفظ سے اختلاف ہے لیکن آپ کے بات کو کہنے کے اسی حق کی خاطر میں اپنی جان دے دوں گا‘‘۔
نہایت سادہ الفاظ میں آزادیٔ اظہار کی تعریف تو یہی تھی کہ '' کسی فرد یا گروہ کیلئے حکومتی سنسرشپ کے بغیر اپنے افکار، خیالات اور عقیدے کے اظہار کی صلاحیت کو بروئے کار لانا‘‘۔ اگرچہ اصولی طور پر پوری انسانیت نے شخصی اظہار ِرائے کے حق کو تسلیم کیا اور اس مقصد کے حصول کی خاطر کئی عالمی معاہدات بھی کئے گئے۔ 1966ء میں طے پانے والے، شہری و سیاسی حقوق کے عالمی معاہدے (ICCPR) کے آرٹیکل18 کے تحت دنیا بھر میں شہریوں کے اظہارِ رائے کے حق کو تحفظ دیا گیا۔ خود ہمارے آئین کی شق19 میں وطن سے سلامتی اور مذاہب کی حرمت کی شرط کے ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیا گیا لیکن سیاسی اشرافیہ کی خوف سے مملو نفسیات اور ہماری سماجی رواداری میں کچھ نقائص کی وجہ سے ہم شہری آزادیوں کے اُس آئینی حق کو پوری طرح بروئے کار نہیں لا سکے جو چار ہزار سالوں پہ محیط پیچیدہ انسانی جدوجہد کا محاصل تھا۔ اختلافِ رائے کے رجحان کی افزائش رک جانے اور ذہنی آزادیوں کو محدود کر دینے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی الجھنوں نے ہمارے معاشرے کوجس قسم کی نسلی، لسانی اورعلاقائی عصبیتوں میں منقسم کر کے ہمیں انتہا پسندی اور تشدد کی طرف دھکیلا، اسے سنبھالنے کی سکت بھی ہم کھو رہے ہیں اور شاید اسی مخمصے کی بدولت یہاں وہ محروم طبقات پیدا ہوئے جن کی بحالی کی تگ و دو میں سرگرداں میڈیا کو بھی مختلف پریشر گروپوں کی طرف سے دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عظیم مورخ ول ڈیورنٹ نے مجموعی انسانی ترقی کو جن دس اداور میں تقسیم کیا ان میں پہلا مرحلہ انسان کا بولنے کی صلاحیت حاصل کرنے پہ محمول تھا اور دسواں یعنی آخری، تحریر، طباعت و اشاعت کا سنہری عہد تھا جس میں انسان نے ترقی کر کے اپنے ماحول پہ تصرف پا لیا۔ اگر ہم غور کریں تو انسانی ارتقا کے پہلے اور اس آخری عہدکا تعلق ابلاغ کی ابتدا اور عروج کے ساتھ منسلک نظر آتا ہے۔ اگر انسان بولنا نہ سیکھتا تو علم و فلسفہ کا شکوہ پیدا ہوتا نہ شاعری کی غنائیت۔سقراط، افلاطون اور ارسطو جیسے نابغہ روزگار نمودارہوتے نہ غزالی، ابن رشد اور بوعلی سینا نفس انسانی میں جھانکتے نظر آتے۔ ہماری روح کے اندر حافظ شیرازی، غالبؔ اور جان کیٹس کی گداز شاعری گونجتی نہ ایلیٹ، اقبال اورٹالسٹائی کا ادبی شعور جگمگاتا۔ یہ قوت گویائی ہی تھی جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ تحریر و طباعت نے اُسے طاقتور حکمرانوں اور مقتدرہ پہ اثر انداز ہونے کی قوت عطا کی۔ بیشک! آزادیٔ اظہار ہی شرفِ آدمیت کی روح اور جوہرِ انسانیت ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں