نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: کورٹ پولیس ہائی پروفائل کیس کے ملزم کی حفاظت نہ کرسکی
  • بریکنگ :- کراچی:دعا منگی کیس کامرکزی ملزم ذوہیب قریشی فرار ہوگیا،پولیس ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: کورٹ پولیس جیل سےذوہیب قریشی کو پیشی پر لے کر گئی،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: ملزم ذوہیب قریشی واپسی پر جیل نہیں پہنچا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: جیل واپسی پر قیدیوں کی گنتی کےدوران معاملہ کھلا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: پولیس اہلکار ذوہیب قریشی کو شاپنگ کرانے لےگئے تھے،ذرائع
  • بریکنگ :- دو اہلکار زیر حراست،فیروزآباد تھانےمیں مقدمہ درج کیاجارہاہے،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی:دعا منگی کو 30 نومبر 2019 کو ڈیفنس سےاغوا کیا گیا تھا،ذرائع
  • بریکنگ :- دعا منگی کی رہائی تاوان کی ادائیگی کےبعد عمل میں آئی تھی،ذرائع
  • بریکنگ :- ملزمان کو کراچی پولیس نے 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا
  • بریکنگ :- انھی ملزمان نےڈیفنس سے تاوان کیلئےبسمہ نامی لڑکی کو بھی اغوا کیاتھا
  • بریکنگ :- دونوں مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالت میں زیر سماعت تھے
Coronavirus Updates

یہیں چھوڑ دوں فسانے کو؟

پاکستان‘ بالخصوص لاہور میں گزشتہ دو ہفتوں سے مصنوعی بارش کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ راقم نے ایک پروفیسر کے طور پر‘ اس تجربے کا اعلان کیا تھا اور اس پر اپنی تیاری پوری کر کے بیٹھا ہوں لیکن مصنوعی بارش کیلئے کچھ قدرتی حالات کا ہونا ضروری ہے جنہیں Pre Conditions کہا جا سکتا ہے‘ وہ ابھی تک نہیں بن پائے۔ لاہور ہو‘ مری ہو یا خانسپور کا پہاڑی علاقہ‘ اس دوران گہرے بادل نہیں بن پائے۔ چونکہ پنجاب یونیورسٹی اس تجربے کو سب سے سستے اور قدیم طریقے سے کرنے جا رہی ہے‘ اس لیے بادلوں کی مقدار، گہرائی اور زمین سے اونچائی کم ہونے پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اب قدرت کی تقسیم ہے کہ یہ صورتِ حال پہلے 23 نومبر کے قریب متوقع تھی‘ مگر نومبر کے آخری دنوں اور اب دسمبر کی پانچ تاریخ کو رات یا صبح کے وقت یہ صورتحال متوقع ہے لہٰذا اب ٹیم جمعہ کی رات کو لاہور سے روانہ ہو گی۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ تجربہ ایک پروفیسر اپنے طلبہ کے ساتھ کرنے جا رہا ہے، جس کیلئے ساٹھ سے ستر فیصد فنڈز ایک معروف شخصیت نے فراہم کیے ہیں اور یہ بات یقینا حیران اور پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ حوصلہ شکنی والی بھی ہے کہ کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ محکمے نے اس سلسلے میں اب تک رابطہ نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ تعلیمی ادارے کے سربراہ نے بھی کچھ مد دکرنا تو در کنار‘ ابھی تک رابطہ کر کے سادہ طریقے سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا۔تاحال پنجاب یونیورسٹی کے اس پروفیسر کا ساتھ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب (UCP) کے متعلقہ علم رکھنے والے ایک پروفیسر صاحب دے رہے ہیں جو اس پروجیکٹ میں تکنیکی مدد بلا معاوضہ فرہم کر رہے ہیں‘ اس کے سوا صرف تسلیاں اور مزید تسلیاں ہیں لیکن ایک بات کا یقین رکھیں کہ اس پروجیکٹ سے منسلک افراد اس حد تک پختہ یقین ہیں کہ اگر پہلی دفعہ اور اِس طریقے سے کامیابی نہیں ملتی تو وہ دوسری‘ تیسری کوشش اور دیگر طریقوں سے اس کو کر گزرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
اب حوالے سے جو کچھ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے وہ تو غلط بیانی اور زیادہ سے زیادہ لائکس لینے کے لگایا گیا تڑکا ہے، ظاہر ہے کہ اس کا سبب کوئی اور نہیں سوشل میڈیا چینلز ہیں۔ اعلان ہوا تھا کہ تقریباً ایک کلومیٹرکی رینج میں بارش برسانے کا لیکن سوشل میڈیا والوں نے اس کو پورے لاہور شہر پر محیط کر دیا اور بارش کا دورانیہ بھی کئی گھنٹوں تک بڑھا کر بیان کرنا شروع کر دیا۔ اس ساری غلطی فہمی کے ذمہ دار یہ سوشل میڈیا کے تڑکا لگانے والے اور ہو شربا ٹائٹل بنانے والے لوگ ہیں‘ اس لیے ان سب لوگوں سے گزارش ہے کہ لوگوں کو جعلی اور کھوکھلے خواب نہ دکھائیں‘ یہ کام سیاست دان پہلے ہی بخوبی کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو اس وقت حد کردی جب اپنی خبروں میں جہاز تک دکھا دیے حالانکہ ہمارے پاس ایک ڈرون تک نہیں ہے۔ ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ جب یہ ہو جائے تو وڈیو ضرور بنائیں اور ہمیں دیں اور کوشش کریں کہ صرف ہمیں دیں‘ باقی کسی کو مت دیں۔ اس تجرباتی کوشش اور چھوٹے لیول کے اس پروجیکٹ سے لوگوں کے اندر یہ آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان پانی کی کمی سے لاحق خدشات کے حوالے سے دنیا کے پہلے پانچ سے دس ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار کو قومی یا پھر صوبائی سطح پر اختیار کرنے سے پانی کی کمی پر قابوپانے کا یقینی امکان بھی موجود ہے۔
اب یہ بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس طریقہ کار میں کرنا کیا ہوتا ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ بسا اوقات بادل بنتے ہیں‘ گھٹائیں چھاتی ہیں مگر بن برسے یہ بادل بکھر جاتے ہیں یا کسی اور علاقے کی طرف چلے جاتے ہیں لہٰذا ایسے بادلوں کی برسنے میں مدد کی جاتی ہے‘ یا یوں کہہ لیں کہ ان کو برسنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ یہ سارا کھیل ہوا میں ہر وقت موجود نمی کے بخارات کا ہوتا ہے۔ اس نمی کا ہو ا میں تناسب زیادہ ہونے پر‘ کم از کم ستر فیصد‘ بارش کا امکان کافی بڑھ جاتا ہے۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہوا کو مزید ٹھنڈا ہونے کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔ آپ صرف یہ تصور کریں کہ اگر ایک طیارہ فضا میں بادلوں سے اوپر چلا جائے اور ان پر پائو ڈر کی شکل میں خشک برف کا چھڑکائو کرتا ہے تو وہ بادل برسنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ خشک برف کا درجہ حرارت منفی ستر ڈگری تک ہوتا ہے۔ اب بات نمک کے چھڑکائو کی کریں تو اس میں گہرے بادلوں پر اس کا چھڑکائو کیا جاتا ہے۔ نمک کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ ہوا میں موجود نمی کے انتہائی چھوٹے ذرات کو اکٹھا کرنے کا با عث بن کر ان کو قطروں کی شکل دے دیتا ہے، بالآخر ان قطروں کا سائز اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ ہوا ان کو مزید نہیں اٹھا سکتی اور یہ بارش بن کر برسنا شروع کر دیتے ہیں۔ جہاز کے بجائے چھوٹے پیمانے پر یہ کام جدید ڈرون بھی کر سکتے ہیں۔
بارش برسانے والے بادل سطح سمندر سے تقریباً دو ہزار میٹر کی بلندی پر بنتے ہیں۔ اگر آپ مصنوعی بارش کا تجربہ ایک پہاڑی علاقے میں کریں تو آپ بادلوں کے قریب پہنچ جاتے ہیں، نیز کچھ پہاڑی علاقوں میں بادلوں اور بارش کی اوسط زیادہ ہوتی ہے‘ جیسا کہ مری کے علاقے میں اکثر یہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے اور ٹھنڈ زیادہ ہونے پر بارش کے بجائے برف باری ہو جاتی ہے۔ پانی کی کمی کے حوالے سے بلوچستان سب سے بدترین حالات کا شکار ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس صوبے میں مون سون کی بارشوں کا نہ پہنچ پانا ہے لیکن اس صوبے میں سردیوں کے موسم میں اتنے بادل ضرور بنتے ہیں کہ آسانی سے اتنی بارش برسائی جا سکے کہ جس سے پینے کے پانی کی کمی کو یکسر ختم کیا جاسکتا ہو۔ البتہ اس کے لیے ایک ایسی چیز بنانا ہو گی جس کو پاکستان میں شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا ہے‘ جی ہاں! اس کا نام ہے ڈیم۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے کا مستقل اہتمام کیا جائے۔ بلوچستان میں اتنے زیادہ پہاڑی سلسلے ہیں کہ ان کے درمیان مکمل قدرتی نہ سہی‘ تھوڑی سی مصنوعی تعمیرات کر کے اتنے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں کہ پورا بلوچستان نہ صرف پانی پی سکتا ہے بلکہ کثیر رقبے کو قابلِ کاشت بھی بنایا جا سکتا ہے۔
اس طرح کی بارش کی مدد سے ایک اور فائدہ بھی ہو سکتا ہے، یہ فائدہ اس وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب گہری دھند کی وجہ سے ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں یا ٹریفک کا تسلسل روکنا پڑتا ہے یا کوئی اور ایسی مشکل درپیش ہوتی ہے‘ لہٰذا ایسے وقت میں مصنوعی بارش کر لینے سے اس دھند کو غائب کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اس سال نومبر میں گندم کی کاشت والے علاقوں میں نہ صرف بارش نہیں ہوئی بلکہ دسمبر میں بھی بارش کا امکان بہت کم ہے۔ اگر ہوئی بھی تو زیادہ سے زیادہ ایک دن کی معمولی بارش۔ ایسی صورت حال میں گندم کی فصل کی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اب آپ اس بارش پر اٹھنے والے اخرجات کو زیادہ کہنے والوں کی عقل پر ماتم کر سکتے ہیں۔ سب سے ضروری بات، اس بارش کو برسانے کے لیے نمک کا استعمال ایک طریقۂ کار ہے۔ نمک تاحال پاکستان میں نہایت سستا ہے، لہٰذا ہم اس سوال کے جواب کی طرف بڑھ سکتے ہیں کہ اس میں کتنا خرچ آئے گا تو سپرے کرنے والے جہاز کے فیول اور کرایے کے علاوہ صرف نمک کی ضرورت ہو گی‘ اس لیے پورے شہر پر جب بادل چھائے ہوں تو‘ بہت کھلا اندازہ بھی لگائیں تو‘ پانچ سے دس کروڑ میں بھرپور بارش کی جاسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آلودگی اور ڈینگی‘ دونوں سے نجات مل جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ گندم کی فصل کو بھی بے شمار فائدہ پہنچے گا لہٰذا فوائد کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ انتہائی سستا سودا ہے۔ رہی بات ہمارے تجربے کی تو میری یونیورسٹی اور انتظامیہ سے گزارش ہے کہ
اب آگے اس میں تمہارا نام بھی آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں