نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت کاپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررکھنےکافیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وزارت خزانہ کی جانب سےنوٹیفکیشن جاری
  • بریکنگ :- ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 142روپے 62 پیسےفی لٹربرقرار،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پٹرول کی فی لٹرقیمت 145روپے 82 پیسےبرقرار،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- لائٹ ڈیزل کی قیمت 114روپے 7 پیسےفی لٹرکی سطح پربرقراررہےگی
  • بریکنگ :- مٹی کےتیل کی قیمت 116روپے 53 پیسےفی لٹربرقرار، نوٹیفکیشن
Coronavirus Updates

فلسطین : کیا ہم جذباتی ہیں؟

میرے ایک سینئر کالم نگار دوست کی پہچان ہی شدتِ احساس ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کے ''جرمِ ضعیفی‘‘ پر بہت دل گرفتہ ہیں۔ اسی دل گرفتگی کے ردعمل کے طور پر شاید وہ اپنی قوم سے پوچھتے ہیں کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں کیوں ہے؟ اس سوال کا میں جواب ضرور دوں گا مگر پہلے ذرا یہ سمجھ لیجئے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ''امن معاہدہ‘‘ ہے کیا؟
متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ملتی نہ ہی اس کا اسرائیل کے ساتھ براہِ راست کوئی سرحدی‘ جغرافیائی یا تجارتی جھگڑا ہے۔ تو پھر متحدہ عرب امارت کو اسرائیل کے ساتھ ''امن معاہدہ‘‘ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ ہمارے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ''ابنارمل‘‘ کب تھے؟ اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی فارمولے کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنا چاہتی ہے تو یہ بتایا جائے کہ اُن کے ذمے یہ مشن لگایا کس نے ہے؟ یہ مشن نہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے متحدہ عرب امارات کے ذمہ لگایا ہے نہ ہی غزہ کی حکمران تنظیم حماس نے لگایا ہے اور نہ ہی یہ مشن اس کے سپرد عرب لیگ نے کیا ہے۔ 
محمود عباس فلسطینیوں میں اپنے لقب ابو مازن کے نام سے زیادہ جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اگرچہ فلسطینیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُن کی ''صلح جویانہ‘‘ پالیسیوں کی بنا پر انہیں زیادہ پسند نہیں کرتی اور انہیں ایک مغرب نواز لیڈر سمجھتی ہے‘ مگر مغرب میں وہ ایک مدبر و معتدل فلسطینی لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ تاہم یہی ابو مازن امریکہ و برطانیہ کی انصاف کش دوغلی پالیسیوں سے اب بہت دل برداشتہ ہیں۔ چند ماہ پہلے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کھول دیا تو فلسطینی صدر نے اس پر شدید تنقید کی تھی۔ اور اب اسی محمود عباس نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کو بدترین غداری قرار دیا ہے۔
1986ء تک فلسطینی الفتح سے بڑی حد تک مایوس ہو چکے تھے اور بے مقصد مذاکرات سے ناامید ہو چکے تھے۔ اس وقت 1987ء میں شیخ احمد یاسین نے عبدالعزیز الرنتیسی کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کی قیادت کے لیے ''حماس‘‘ نامی تنظیم قائم کر لی۔ حماس کا مطلب ہے جوش و جذبہ۔ حماس کے دو شعبے ہیں‘ ایک رفاہ و فلاح اور دوسرا جہاد۔ چشمِ فلک نے ایسا فلاحی کام فلسطین میں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ علی الصباح ضرورت مند خاندان گھر کا دروازہ کھولتے ہیں تو دہلیز پر مہینہ کا راشن‘ بچوں کا کتابوں سمیت بستہ اور ضرورت کی دیگر اشیا رکھی ہوتی ہیں۔ 2006ء کے انتخابات میں حماس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ جون 2007ء میں محمود عباس نے غیرجمہوری طریقے سے حماس سے اپنے رستے الگ کر لیے۔ اب محمود عباس کا دارالحکومت مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ہے جبکہ حماس غزہ میں برسرِاقتدار ہے۔ اسی حماس نے بھی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ہونے والے ''امن معاہدے‘‘ کو فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے عربوں‘ فلسطینیوں اور عالمِ اسلام کے جذبات کو یکسر نظرانداز کر کے یہ معاہدہ کیوں کیا؟
تیل کی دولت سے مالا مال بادشاہتوں کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دلی جذبات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر وہ انہیں دفاعی سپورٹ نہ دیں تو وہ دو ہفتے بھی نہیں نکال سکتے۔ اس لیے یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تین چار مقاصد کی خاطر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے ذریعے کروایا ہے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔ وہاں کے انتہائی بااثر یہودیوں سے نوٹ اور ووٹ لینے کے لیے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کھولا اور اب ایک اور دولت مند عرب ملک کو فلسطینیوں کی مدد سے دست بردار کروا کے اسرائیل کے ساتھ ''امن معاہدے‘‘ کی مجبوریوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے اتحاد سے ایران پر دبائو بڑھایا جائے گا اور عرب و عجم میں افتراق پیدا کر کے اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کو کمزور کیا جائے گا۔گزشتہ برس وائٹ ہائوس میں ایک ملاقات کے دوران جب بائی دا وے کشمیر کا ذکر آگیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے ہی اپنے مہمان کو خوش کرنے کے لیے کہہ دیا کہ وہ کشمیر پر ثالثی کروانے کو تیار ہیں۔ یہ سن کر ہمارے وزیراعظم اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے اسلام آباد پہنچ کر کہا کہ مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے میں ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں۔ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کر کے بھارت ایک سال سے اُن پر بدترین مظالم توڑ رہا ہے مگر ثالثی کروانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی سے مودی کو روکا اور نہ ہی ''ورلڈ کپ‘‘ جیتنے والوں نے مڑ کر کشمیریوں کی خبر لی۔ جناب عمران خان نے اپنے امریکی دوست سے اب تک یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے نریندر مودی کی ساری غیرانسانی اور ظالمانہ کارروائیوں پرخاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟
اب یہی بات متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید النہیان کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدے سے اسرائیل مغربی کنارے کو صیہونی ریاست میں ضم نہیں کرے گا۔ تاہم اُسی روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اماراتی ولی عہد کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کا پروگرام اسی طرح ٹیبل پر موجود ہے۔ وقتی طور پر چند روز کے لیے اسے مؤخر کیا جا سکتا ہے مگر وہ ''اپنی زمین‘‘ پر ملکیت کے حقوق سے کبھی دست بردار نہ ہوں گے کیونکہ مغربی کنارا یہودیوں کا تاریخی مسکن ہے۔ اسے کہتے ہیں آگ لینے آئی اور گھر کی مالکن بن بیٹھی۔
اسرائیل کے اپنے اندر امن بھی ہے‘ خوش حالی بھی ہے اور خود احتسابی بھی‘ جبکہ آس پاس کے اکثر عرب ملکوں کو اسرائیلی سازشوں نے یا تو مکمل تباہی سے دوچار کر دیا ہے یا انہیں باہمی آویزشوں میں الجھا دیا ہے۔ ذرا عراق‘ شام‘ لبنان اور پھر تھوڑا دور لیبیا کا حشر دیکھئے۔ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے خلاف متعدد سردوگرم محاذوں پر برسرپیکار ہیں‘ جبکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان محدود جنگ جاری ہے۔ اس معاہدے کے بعد بھی اسرائیل غزہ پر بمباری کر رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے ساتھ براہِ راست ٹیلی فونی رابطے بحال کر رہے ہیں۔ 
مجھے حیرت ہے کہ ہمارے عرب بھائی مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار ہیں اور قیادت کا یہ حق کسی دوسرے کو دینے پر آمادہ بھی نہیں مگر فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو ظالموں کے سپرد کر دینے میں کوئی خفت بھی محسوس نہیں کرتے۔ جہاں تک میرے سینئر کالم نگار دوست کے سوال کا تعلق ہے کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل ِپاکستان کو دوقومی نظریہ کی بنا پر اچھی طرح معلوم ہے کہ امت ِمسلمہ رنگ و نسل یا زبان و جغرافیائی حدود سے نہیں عقیدے سے بنتی ہے اور اس عقیدے کا تقاضا ہے کہ مسلمان دنیا کے کسی کونے میں بستا ہو اس کا دکھ درد مشترک ہوتا ہے۔ علامہ اقبال بہت بیمار تھے مگر اس کے باوجود 20 جولائی 1937ء کو رائل کمیشن برائے فلسطین کی طرف سے دی گئی تقسیم ِفلسطین کی تجویز کو انہوں نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کیخلاف شدید احتجاج کرینگے چاہے اس کیلئے انہیں جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اسی طرح اُن دنوں قائداعظم نے فرمایا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اسے کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے۔ جس ''دردِ جگر‘‘ نے ہمارے قائدین کو مضطرب و پریشان کر رکھا تھا وہی دردِ جگر ساری پاکستانی قوم کیلئے سرمایۂ افتخار ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں