نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- واشنگٹن:امریکی صدرجوبائیڈن کاتقریب سے خطاب
  • بریکنگ :- کوروناکی نئی قسم سےنمٹنےکےلیےآج پہلےسےزیادہ طریقےموجود ہیں،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- ہم کوروناکی نئی قسم سےلڑیں گےاورشکست دیں گے،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- وباکامقابلہ کرنےکےلیےویکسین کی نئی خوراکوں کی ضرورت ہے،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- اسوقت لاک ڈاؤن لگانےکاکوئی آپشن موجودنہیں،امریکی صدرجوبائیڈن
  • بریکنگ :- وباکےخاتمےکےلیےویکسین کی تیاری کوفروغ دیں گے،جوبائیڈن
  • بریکنگ :- کوروناکی نئی قسم باعث تشویش لیکن ڈرنےکی ضرورت نہیں،جوبائیڈن
Coronavirus Updates

موٹر وے ٹریجڈی اور ہمارے رویے

آدھی رات کا وقت ہے‘ چاروں طرف گھپ اندھیرا‘ ویران سڑک‘ خراب گاڑی اور گاڑی میں اکیلی عورت اور تین ڈرے سہمے ہوئے بچے۔ ایسے میں دو ڈاکو آتے ہیں۔ گن پوائنٹ پر عورت کو دروازہ کھولنے کا حکم دیتے ہیں۔ عورت انکار کر دیتی ہے۔ ڈاکو غصے میں ہذیان بکتے ہوئے ڈنڈے سے گاڑی کا شیشہ چکنا چور کر دیتے ہیں۔ وہ کھینچ کر عورت کو باہر نکالتے ہیں۔ عورت اللہ اور رسول کا واسطہ دے رہی ہے اور ان درندوں سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے التجائیں کر رہی ہے۔ ایک ڈاکو بچوں کو گاڑی سے نکال کر اُن کے سروں پر پستول رکھ دیتا ہے۔ عورت کبھی عزت بچانے کے لیے اور کبھی بچوں کی زندگی بچانے کیلئے دیوانہ وار مزاحمت کر رہی ہے۔ انسان جب وحشی بنتا ہے تو درندگی میں جنگلوں کے درندوں کو بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ وہ انسانی درندے بچوں کو سڑک سے نیچے جھاڑیوں کی طرف لے جاتے ہیں اور بیچاری عورت بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اُن کے پیچھے دوڑ پڑتی التجائیں کر رہی ہے۔ اس سے آگے کچھ لکھنے سے میرا قلم عاجز ہے۔
اس دوران ریاست کی طرف سے مظلوم عورت تک مدد کیوں نہ پہنچ سکی؟ اس لیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہریوں کی جانوں کے محافظ پچھلے دو اڑھائی گھنٹوں سے یہ طے کر رہے تھے کہ لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر پٹرولنگ کس کی ذمہ داری ہے۔ دو گھنٹے پہلے جوں ہی ڈرائیونگ کرتی عورت کی گاڑی دھچکے سے رُکی تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے لاہور سے گوجرانوالہ واپسی کی جلدی میں پٹرول چیک نہیں کیا تھا۔ اُس نے فوراً 130 پر موٹروے پولیس کو فون کیا اور اپنی بپتا سنائی۔ اُدھر سے جواب آیا بی بی! جہاں سے آپ بول رہی ہیں اس کا چارج ہمارے پاس نہیں۔ انہوں نے عورت کو ایک اور نمبر دیا۔ عورت نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں فون کیا تو جواب آیا اچھا ہم کچھ کرتے ہیں۔ وہ عورت شہر سے زیادہ دور نہ تھی۔ زیادہ سے زیادہ وہاں تک پندرہ بیس منٹ میں امداد پہنچ سکتی تھی مگر دو گھنٹے گزر گئے اور کوئی نہ آیا۔ اس دوران وہ ٹریجڈی ہو گئی جس پر فرش ہی نہیں عرش بھی کانپ اُٹھا ہو گا۔ 
اب ذرا اپنے رویوں کی فلم دیکھتے جائیں اور سنتا جا شرماتا جا۔ مگر ہم نے ایک مدت سے شرمانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ غالباً پولیس کی طرف سے سب سے پہلے سکرین پر لاہور پولیس کے سی سی پی او منظر پر آئے۔ انہوں نے گھنائونے جرم کی مذمت کرنے اور مظلوم عورت اور اس کے اہلِ خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنے کے بجائے اُلٹا عورت کو نشانۂ تنقید بنا ڈالا کہ وہ رات گئے بغیر کسی مرد کے گھر سے اکیلی سفر پر کیوں نکلی اور اس نے پٹرول بھی چیک نہیں کیا۔ زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے لیے حکومت کے ایک وزیر اسد عمر اور ایک مشیر شہزاد اکبر سی سی پی او عمر شیخ کی وکالت کرتے سنائی دیئے۔
کیا آپ کسی ملک کا تصور کر سکتے ہیں کہ وہاں بڑے طمطراق سے کسی بڑی شاہراہ کا افتتاح کر دیا جائے‘ ٹول ٹیکس رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں وصول کیا جائے اور وہاں نہ سروس ایریا ہو‘ نہ پٹرول پمپ ہو نہ پٹرولنگ پولیس اور نہ سکیو رٹی ہو تو پھر آپ نے سڑک کیوں کھولی اور آپ ٹول ٹیکس کیوں لے رہے ہیں؟ آپ وہاں سے گاڑیوں کو کیوں آنے دے رہے ہیں؟ کم از کم شام چھ بجے کے بعد بیریئر رکھ کر سڑک بند کر دیں‘ مگر یہاں کسی کو اس کی پروا نہیں کیونکہ یہاں سب چلتا ہے۔ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے مشتبہ ملزموں کے ناموں کے قبل از وقت افشا کا الزام میڈیا پر عائد کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس خبر کے لیک ہونے پر ملزم فرار ہو گئے۔ اگلے ہی سانس میں آئی جی صاحب نے یہ بھی کہا کہ ملزموں کے ناموں کا صرف تین اشخاص کو علم تھا جن میں ایک چیف منسٹر‘ دوسرے وزیر قانون اور تیسرے ایڈیشنل چیف سیکرٹری تھے۔ اب قارئین خود اندازہ لگا لیں کہ خبر لیک کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس حکومت کو خبر بریک کرنے کا شوق ہی نہیں بلکہ جنون ہے اس لیے حکومت کے مشیر اور وزیر خبر پہلے بریک کرتے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں۔ ابھی ملزموں کا حتمی تعین ہوا اور نہ وہ گرفتار ہوئے تھے اور سب کچھ سے پہلے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر شہباز گل نے ڈی این اے میچ ہونے پر چیف منسٹر اور پولیس افسران کو ٹویٹر پر مبارکباد کے پیغامات ارسال کر دیئے۔ ٹویٹر اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں نے گل صاحب کی اس ''مبارکباد‘‘ کو سخت ناپسند کیا ہے۔ ساری قوم سوگوار اور افسردہ ہے اور گل صاحب مبارک بادیں دے رہے ہیں۔ اگر ایک سی ایس پی افسر اور ایک پی ایچ ڈی پروفیسر بھی موقعے کی مناسبت سے موزوں الفاظ کا استعمال نہیں کر سکتا تو پھر اس ملک میں کون کرے گا۔آئی جی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے سفید کپڑوں میں پولیس والوں کو ملزموں کے گھر بھیجا تو اُنہیں آتا دیکھ کر ملزم عابد اپنی بیوی کے ساتھ کھیتوں میں غائب ہو گیا۔ اس سادگی پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ کیا مرکزی ملزم کو پکڑنے کے لیے پولیس کی یہ منصوبہ بندی تھی؟
ملک میں جنسی درندگی کے واقعات قابلِ یقین حد تک بڑھتے جا رہے ہیں۔ وہ لاہور-اسلام آباد موٹروے جس کی سکیورٹی اور سیفٹی ضرب المثل تھی اب آئے روز ڈاکوؤں اور لوٹ مار کی آماجگاہ بنتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی ہزاروں خواتین نے واقعے کے اگلے ہی روز سے لے کر اب تک ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں اور مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح ماڈرن خواتین نے بھی احتجاج کیا ہے مگر ساتھ ہی اتنے بڑے مجرم کو پھانسی نہ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو حیرت ناک ہے۔مجھے یاد ہے کہ 1980ء کی دہائی میں ابھی ریاض-طائف موٹروے نہ بنی تھی اور صحرائوں سے ہوتی ہوئی ایک پرانی سڑک سے لوگ سفر کرتے تھے۔ حکومت کو ایسی اطلاعات ملیں کہ صحرا میں بدوئوں نے بعض گاڑیوں کو روکا‘ مسافروں کو لوٹا اور اِکا دُکا خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی ہوئے۔ حکومت نے اس کا نہایت سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ وہ خطرناک علاقے سے گزرنے سے پہلے گاڑیوں کو روکتے۔ چند گاڑیوں میں خود پولیس والے سفید کپڑوں میں جاتے اور ڈاکوئوں سے نبردآزما ہوتے۔ غرضیکہ چند دنوں میں انہوں نے ہیلی کاپٹروں اور گاڑیوں کے ذریعے مجرموں کا صحرا میں پیچھا کر کے اُنہیں پکڑ لیا۔ ان مجرموں کے مقدمات کو تسلسل کے ساتھ سنا گیا اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عدالت نے اُن کے سر قلم کردینے کا فیصلہ دیا۔ اس فیصلے پر فی الفور عمل ہوا اور تین روز تک ڈاکوئوں کی لاشیں ریاض کے چوراہوں میں درسِ عبرت کے لیے لٹکتی رہیں۔ امن و سلامتی کے لیے بادشاہت نہیں سچا فولادی عزم و ارادہ درکار ہوتا ہے۔ جاپان اور یورپ کے اکثر جمہوری ممالک میں بھی مثالی امن قائم ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں لاء ہے نہ آرڈر۔ اور اتنی قانون شکنی کیوں ہو رہی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ امن و سلامتی حکومت کی اوّلین ترجیح نہیں۔ حکومت کی اوّلین ترجیح سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانا ہے۔ آج ہی پنجاب پولیس کے ایک سابق سینئر افسر نے کہا کہ پنجاب پولیس میں تبدیلیاں سیاسی نوعیت کی ہیں۔ امن و امان‘ سلامتی و خوشحالی‘ گڈ گورننس کے بغیر نہیں آتی۔ اچھی حکمرانی کیلئے افسروں کی تعیناتیاں خالصتاً پروفیشنل بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔ بہترین گورننس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اہل افسر کو ذمہ داری دی جائے اور اس پر مکمل اعتماد بھی کیا جائے۔ یہ حکومت دیانت دار افسروں پر ادھورا اعتماد کرتی ہے۔ جنسی درندگی‘ چوریاں اور ڈاکے‘ تعلیم سے دوری اور بے روزگاری یہ سارے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک حکمران اپنے رویے نہیں بدلیں گے اس وقت تک ایسے سانحے ہوتے رہیں گے۔ اللہ ہمیں اس طرح کی ٹریجڈی سے محفوظ رکھے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں