نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف کی شرائط پرپٹرولیم مصنوعات پرلیوی بڑھادی گئی
  • بریکنگ :- حکومت کاپٹرول اورہائی اسپیڈڈیزل پرلیوی میں فی لٹر 4روپےاضافہ
  • بریکنگ :- پٹرول پرسیلزٹیکس صفرسے 2 روپے 34 پیسےفی لٹرکردیاگیا
Coronavirus Updates

افغانستان میں امن کے روشن امکانات

ایک بار پھر ہمارے افغان بھائیوں نے اس بات کا ادراک کیا ہے اور اظہار بھی کہ پاکستان اور افغانستان کا امن، استحکام اور خوشحال مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر خدانخواستہ افغانستان میں بدامنی ہوتی ہے، دہشتگردی ہوتی ہے، عمارتوں اور شاہراہوں پر حملے ہوتے ہیں تو لامحالہ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔ پاک افغان تعلقات کی طویل تاریخ ہے جس میں نشیب و فراز اور اُتار چڑھائو آتے رہے ہیں۔ افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے مصالحتی باتوں کا جس بے ساختگی، اپنائیت اور مخلصانہ طریقے سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اظہار کیا‘ شاید اس سے پہلے اتنے بھرپور اعتمادِ باہمی سے کام نہیں لیا گیا تھا۔
عبداللہ عبداللہ کون ہیں؟ پاکستان اور افغانستان میں بچہ بچہ اُن کی شخصیت سے آگاہ ہے۔ وہ افغانستان کے سابق وزیر خارجہ بھی رہے ہیں، افغانستان کی اتحادی کونسل کے انتظامی سربراہ بھی رہے ہیں اور اس وقت وہ افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ہیں۔ وہ گزشتہ تین روز اسلام آباد میں ملاقاتیں کرتے رہے ہیں، لیکچر دیتے رہے ہیں اور نہایت خندہ پیشانی اور فراخدلی کے ساتھ سوالات کے جوابات بھی دیتے رہے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا تعلق افغانستان کے شمالی اتحاد سے ہے۔ وہ پاکستان پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں مگر اب اُن کا لب و لہجہ یکسر بدلا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذہب و مروت کے لازوال رشتوں میں جڑے ہوئے سانجھی دیوار والے یہ دو پڑوسی جب تک اپنے دلوں کو بدگمانیوں اور کدورتوں سے صاف نہیں کریں گے اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ عبداللہ عبداللہ نے اپنے دورے کے دوران پرانے گلے شکووں کو دُہرانے کے بجائے باہمی تعلقات کے ایک روشن مستقبل کی نوید سنانے کو زیادہ ترجیح دی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے لیے پاکستان کی قربانی اور افغان مہاجرین کے لیے اس کی میزبانی کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے وسیع تر تجارتی تعلقات، دوطرفہ عوامی روابط اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شمولیت کی طرف بطورِ خاص توجہ دلائی ہے۔ اللہ کرے محبت و اخوت کی یہ تازہ ترین فضا ہمیشہ کے لیے قائم و دائم رہے۔
جہاں تک ہمارے حکومت کی امورِ خارجہ میں کارکردگی کا تعلق ہے تو وہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں بلکہ کسی حد تک حوصلہ شکن ہے۔ مقتدرہ نے عمران خان کے چین اور سعودی عرب کے ساتھ روابط استوار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا مگر خان صاحب نے خارجہ امور کی نزاکتوں اور لطافتوں کا خیال رکھے بغیر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بگاڑ لیے۔ عمران خان کی کسی عالمی لیڈر کے ساتھ جب ایک خوشگوار ملاقات ہو جاتی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ لیڈر ان کا ذاتی دوست بن گیا ہے۔ وہ گزشتہ برس ٹرمپ سے ملاقات کرکے آئے تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے‘ کہا کہ گویا وہ ورلڈ کپ جیت کر آ رہے ہیں۔ مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا کہ گزشتہ ایک برس سے کشمیری محبوس و محصور ہیں اور کوئی اُن کا پرسانِ حال نہیں۔ وہ عملاً اتنا بھی نہیں کروا سکے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے بھارتی وزیراعظم پر دبائو ڈلواتے‘ کشمیریوں کا محاصرہ ختم کرواتے اور انہیں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی سے نجات دلاتے۔ سعودی عرب پاکستان کا دوست نہیں بھائی ہے مگر خان صاحب نے تاریخی و اقتصادی رشتوں کا احساس کیے بغیر اور اسے اعتماد میں لیے بغیر گزشتہ برس کی ترکی، ایران اور ملائیشیا والی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کر دیا۔ خان صاحب کا غالباً خیال تھاکہ وہ آخری مرحلے پر سعودی عرب جائیں گے اور چٹکی بجاتے محمد بن سلمان کو اعتماد میں لے لیں گے مگر وہاں پر انہیں گہری سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی حکمرانوں نے واضح کر دیا کہ وہ پاکستان کی اس کانفرنس میں شرکت کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں لہٰذا انہوں نے وہیں کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد خان صاحب بلا ضرورت ملائیشیا گئے اور ایک بار پھر اگلی کانفرنس میں آنے کا قول و قرار کر آئے۔ اس حکمت سے خالی عجلت پسندی کی بنا پر پاکستان کو دوطرفہ طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
جہاں تک قطر میں ہونے والے طالبان امریکہ مذاکرات اور بین الافغان مفاہمتی گفت و شنید کا تعلق ہے اس میں پاکستان بڑا مثبت کردار ادا کر رہا ہے‘ مگر حکومت نے خارجہ امور کے ''ہینڈل وِد کیئر‘‘ معاملات کو جس طرح مس ہینڈل کیا‘ اس سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں خان صاحب پھر اس اہم سفارتی محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابی کو بگاڑ نہ دیں۔ افغانستان میں گزشتہ 42 برس سے کسی نہ کسی شکل میں جنگ و جدل کے شعلے دہک رہے ہیں۔ 1978ء میں افغان مجاہدین نے افغان کمیونسٹ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ 1979ء میں سوویت فوجیں افغانستان میں اپنی پراکسی کمیونسٹ حکومت کو بچانے کیلئے وہاں داخل ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی مجاہدین نے سوویت یونین اور افغان فوجوں کے خلاف جدوجہد کو تیزتر کر دیا۔ اس موقع پر پاکستان، امریکہ، یوکے اور سعودی عرب نے مجاہدین کی بہت مدد کی اور یوں 1989ء تک سوویت یونین کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ اس وقت کے صدر ضیاالحق کی وہی خواہش تھی‘ جو آج عمران خان کی ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کیلئے زیادہ عجلت سے کام نہ لے اور بین الافغان مفاہمت کے ساتھ ایک مستحکم حکومت اور دستوری انتظام کے بعد یہاں سے رخصت ہو۔ 
مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے‘ جب 1990ء کی دہائی کے اوائل میں میاں نواز شریف افغان مجاہدین کے قائدین کے ساتھ مکۃ المکرمہ پہنچے اور وہاں اعلیٰ سعودی حکام کی مشاورت سے افغان مجاہدین نے اپنے اختلافات دور کر لینے کا معاہدہ کیا‘ جس سے عالمِ اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ مجھے خطیب حرم کا خطبۂ جمعہ بھی یاد ہے کیونکہ میں اس وقت بنفس نفیس حرم مکی میں موجود تھا۔ اُس وقت حرم کے خطیب نے افغان مجاہدین کو مخاطب ہوتے ہوئے سورہ آل عمران کی آیت نمبر103 کی نہایت پُرسوز طریقے سے تلاوت کی اور افغان مجاہدین کے سابقہ باہمی اختلافات کے حوالے سے انہوں نے اس کی تشریح بھی کی تھی۔ اس آیت کا ترجمہ یوں ہے ''اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے تاکہ تم راہِ راست پر آ جائو‘‘۔ واپس افغانستان جاکر ایک بار پھر مجاہدین کے اختلافات سر اُٹھانے لگے۔ نتیجہ اُس کا یہ ہوا کہ نوجوان افغان طلبہ نے مجاہدین کی حکومت کے خلاف محاذ قائم کر لیا اور مسلح جدوجہد شروع کر دی۔ اس جدوجہد میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم رہی۔ اس کے بعد کی ساری تاریخ آپ کی نگاہوں میں ہے۔ 
42 سالہ خانہ جنگی اور دو سپر پاورز کی طرف سے حملوں نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔ اب تک افغانستان میں دس لاکھ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 90 ہزار مجاہدین بھی لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ 18000 افغان فوجی شہید اور 14500 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ خوشخبری سے کم نہیں کہ تمام افغان سٹیک ہولڈرز یہ سمجھتے ہیں کہ بہت ہوگیا، اب ہمیں ہر قیمت پر اپنے ملک میں امن قائم کرنا چاہئے‘ اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دہشتگردوں سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔ اللہ کرے اس بار افغانوں کی خواہش لازوال امن کا روپ دھار لے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں