نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
Coronavirus Updates

ہتھ چُھٹ کلچر اور خواتین

ہم سب سیاسی جھمیلوں میں ایسے مگن ہیں کہ ہمیں سسیے بے خبرے کی طرح اپنے شہرِ اخلاق و شائستگی کے لٹنے کی کچھ خبر نہیں۔ اور جنہیں خبر ہے وہ نہ جانے کن مصلحتوں کی بنا پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ہم بنیادی طور پر ظالموں اور مظلوموں کا ایک بے رحم معاشرہ بن کر رہ گئے اور داد‘ فریاد کا بھی ایسا پیچیدہ نظام ہے کہ مظلوموں کی فریاد آسمان پر تو سنی جاتی ہے مگر بالعموم زمین پر کبھی نہیں سنی جاتی۔ یوں تو ہماری سوسائٹی میں مردوں، بچوں اور حیوانوں تک، سب پر بے پناہ ظلم ہوتا ہے مگر جب یہی ظلم اہانت آمیز طریقے سے حوّا کی بیٹی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے تو اس کی شدّت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے نظام کے اندر کوئی ایسا خودکار طریقہ نہیں کہ ظلم کرنے والا ازخود کیفر کردار کو پہنچا دیا جائے۔ جب تک شور نہ مچایا جائے، سینکڑوں لوگ اکٹھے ہو کر سڑکوں کو بند نہ کریں اور میڈیا و سوشل میڈیا پر دہائی نہ دی جائے اس وقت تک ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کے کانوں پر جوں تک رینگتی ہے۔
کئی روز پہلے خبر آئی تھی کہ ساہیوال میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات نے وہاں کی خاتون پوسٹ ماسٹر کو تھپڑ مارا۔ یہ تھپڑ دراصل ہمارے زوال پذیر تہذیبی و اخلاقی ڈھانچے پر رسید کیا گیا تھا۔ اس تھپڑ میں ایک نہیں تین چار انتہائی سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ پہلا جرم تو یہ تھا کہ کسی بھی سرکاری اہلکار کی تذلیل اور اس پر تشدد نہایت سنگین جرائم کی ذیل میں آتا ہے۔ دوسرا یہ کہ پرتشدد جرم ایک معزز خاتون کے ساتھ کیا گیا۔ اور تیسرا جرم یہ تھا کہ حکومتی جماعت تو عوام کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے مگر جب محافظ ہی رہزن بن جائے تو جرم کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس نوعیت کے جرائم میں تو ریاست خود مدعی ہوتی ہے اور مجرم کو اس کے انجام تک پہنچاتی ہے مگر پہلے ملزم کی شخصی ضمانت کا انتظام کیا گیا تاکہ اسے ایک شب بھی تھانے میں نہ گزارنا پڑے۔ پھر اس کی عدالتی ضمانت بھی ہو گئی اور پھر ستم بالائے ستم ملاحظہ ہوکہ ایک معزز خاتون سرکاری عہدیدار کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کرنے والے شخص کو مظلوم خواتین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے سرکاری ادارہ تحفظِ خواتین کا ساہیوال میں ضلعی کوارڈینیٹر مقرر کر دیا گیا۔ جب میڈیا پر اس خبر کے خلاف شور مچایا گیا تو نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ اس دوران ضلعی، صوبائی یا وفاقی سطح کے کسی ذمہ دار وزیر یا سرکاری عہدیدار نے حکومت اور برسراقتدار جماعت کی طرف سے کسی طرح کا کوئی اظہارِ ندامت کیا اور نہ ہی خاتون کی اشک شوئی اور دل جوئی کا کوئی اہتمام کیا گیا۔
چند روز پہلے ایک سینئر ثقہ صحافی نے یہ خبر دی کہ پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں صرف فریادیوں کے ساتھ ہی طرح طرح کا ظلم نہیں ہوتا بلکہ ڈسٹرکٹ سطح کے ججز بشمول خواتین کے ساتھ انتہائی اہانت آمیز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ عدلیہ کا حصہ بننے کی بجائے بہتر ہوتا کہ میں اپنے گائوں میں چوپائے پالتی اور اُپلے تھاپتی کیونکہ عدلیہ کا حصہ بننے کی وجہ سے انہیں ''نام نہاد‘‘ وکلا کی گندی گالیاں اور توہین برداشت کرنا پڑتی ہے۔ خاتون جج نے یہ تک بھی کہا کہ اگر اسلام میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو وہ سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے بطورِ احتجاج خودکشی کر لیتی۔ 
عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد کچھ حلقے تمام حدودوقیود سے آزاد ہوتے محسوس ہوئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس ہتھ چھٹ کلچر کے خاتمے کے لیے اعلیٰ عدالتی اور حکومتی سطح پر کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ حکومت اپنے آپ کو مہذب ہی نہیں ریاستِ مدینہ کی آئینہ دار کہتی ہے۔ اب ذرا ریاستِ مدینہ میں تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کی چند جھلکیاں دیکھتے ہیں۔ آج کل ہم ہفتۂ رحمت للعالمین منا رہے ہیں لہٰذا ایسے واقعات کا تذکرہ ضرور ہونا چاہئے۔ ایک موقع پر سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے۔ مردوں کے اونٹوں کی قطار الگ تھی اور خواتین کی سواریوں کی قطار الگ۔ خواتین کہ جن میں ازواجِ مطہراتؓ کے علاوہ حضرت انسؓ کی والدہ ام سلیمؓ بھی تھیں۔ان کی اونٹنیوں کی حدی خوانی ایک حبشی لڑکا انجشہ کر رہا تھا۔ انجشہ کی آواز نہایت سریلی تھی جس سے اونٹنیاں مست ہوکر نہایت تیزی کے ساتھ دوڑنے لگیں۔ یہ دیکھ کر رحمت للعالمین نے فرمایا: یاانجشہ! خیال رکھو کہ تمہاری اونٹنیوں پر آبگینے یعنی شیشے کے ظروف موجود ہیں۔ 
9 ہجری میں سریۃ الفلس کے بعد جو قیدی آپؐ کے سامنے پیش کیے گئے اُن میں مشہورِ زمانہ حاتم طائی کی صاحبزادی سفانہ بھی پابہ جولاں اور برہنہ سر شامل تھیں۔ سرکارِ دوعالمؐ نے اُنہیں دیکھا تو اپنی چادر اپنے کندھوں سے اتار کر سفانہ کو اوڑھا دی۔ اس موقع پر سفانہ نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنے والد کے مکارمِ اخلاق کا تذکرہ کیا۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا: خاتون! تو نے اپنے والد کے جو اوصاف بیان کیے ہیں یہ تو مسلمانوں کی صفات ہیں۔ اگر تیرے والد آج زندہ ہوتے تو اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرتے۔ بعدازاں آپ نے نہ صرف سفانہ بلکہ قبیلہ بنوطے کے تمام قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا اور حاتم طائی کی بیٹی کیلئے شاندار سواری کا بندوبست کرکے اُسے رخصت کیا۔ آپؐ کے کریمانہ اخلاق سے سفانہ بہت خوش ہوئی اور کچھ مدت کے بعد اس کا بھائی عدی اور وہ دونوں مسلمان ہو گئے۔
یہ ہے وہ سلوک جو ریاستِ مدینہ میں مسلم و غیرمسلم خواتین کے ساتھ اختیار کیا جاتا تھا۔ میں طنزاً نہیں دردمندی سے عرض کر رہا ہوں کہ سیاست کو ایک طرف رکھئے اگر خاتون سیاستدان کا دروازہ کسی ادارے کی طرف سے توڑا جاتا ہے، اور ایک وزیر اُس کے بارے میں اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر خواتین کے ساتھ بھی اہانت آمیز سلوک اختیار کیا جاتا ہے تو اس پر ریاستِ مدینہ کے دعویدار کو کپکپی محسوس ہوتی ہے، نہ اُس کی طرف سے مظلوم خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ 
جہاں تک تحفظ حقوقِ خواتین کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بہت سی قانون سازی کی گئی ہے۔ 2006ء میں خواتین کے حقوق کے بارے میں پنجاب اسمبلی نے ایکٹ پاس کیا۔ اسی طرح 2016ء اور 2017ء میں بھی وسیع تر قانون سازی کی گئی۔ قوموں کا کلچر قوانین اور ضابطوں سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت سے پروان چڑھتا ہے اور اس میں ہمیشہ حکمران مثالی کردار ادا کرتے ہیں۔
میں نے دربارِ رسالتؐ کی طرف سے حاتم طائی کی بیٹی سے کیے جانے والے حسنِ سلوک کا تذکرہ استادِ گرامی ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب سے کیا تو انہوں نے اسرارِ خودی میں اس ایمان افروز واقعے کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے پانچ باکمال اشعار سنائے۔ پہلا شعر میں فارسی میں لکھ رہا ہوں۔ جبکہ پانچوں اشعار کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:
در مصافے پیش آں گردوں سریر/ دخترِ سردارِ طے آمد اسیر
ایک جنگ میں اس ہستی کے سامنے جس کا تخت آسمان ہے قبیلہ طے کی بیٹی قیدی بن کر آئی۔ اس کے پائوں میں زنجیر تھی اور وہ بے پردہ تھی۔ اس نے شرم و حیا سے گردن جھکا رکھی تھی۔ نبیؐ نے جب لڑکی کو بے پردہ دیکھا تو اپنی چادر اس کے سامنے تان دی۔ ہم اس خاتون سے بڑھ کر بے پردہ ہیں اور اقوام عالم کے سامنے بے چادر ہیں۔ روزِ محشر ہمارا اعتبار آپؐ کی ہی ذاتِ گرامی ہے اور دنیا میں بھی ہمارا پردہ رکھنے والے آپؐ ہیں۔ 
اللہ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کی پیروی کرنے اور خواتین کے احترام کی توفیق دے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں