نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
Coronavirus Updates

شہر خالی‘ کوچہ خالی : کورونا کی تیسری طوفانی لہر

کورونا کی پہلی لہر نے پاکستان سمیت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ہر طرف ویرانی‘ اداسی اور غمناک حیرانی پھیل گئی۔ اس پس منظر میں فارسی کی ایک غزل بڑی مقبول ہوئی۔ یہ افغان شاعر اور موسیقار امیر جان صبوری کا کلام ہے جسے تاجک گلوکارہ نگارہ خالوہ نے گایا۔ دل کی نچلی تہوں کو چھو لینے والی یہ غزل اس لیے زیادہ مقبول ہوئی کیونکہ یہ ہر سننے والے کے دل کا نوحہ بیان کر رہی تھی۔ کچھ مصرعے پھر یاد کر لیتے ہیں۔
شہر خالی‘ جادہ خالی‘ کوچہ خالی‘ خانہ خالی
جام خالی‘ سفرہ خالی‘ ساغر و پیمانہ خالی
کوچ کردہ دستہ دستہ‘ آشنایان عندلیبان
باغ خالی‘ باغچہ خالی‘ شاخہ خالی‘ لانہ خالی
میرا خیال ہے کہ ایک دو الفاظ کے معانی لکھ دوں تو آپ فارسی کی چاشنی سے براہِ راست لطف اٹھا سکیں گے۔ جادہ: راستہ‘ سفرہ: دسترخوان‘ عندلیبان: بلبلیں‘ لانہ: گھونسلا۔
وای از دنیا کہ یار از یار مے ترسد/غنچہ ھائی تشنہ از گلزار مے ترسد
وای: افسوس‘ ترسد: ڈر۔
گویا ویرانی سی ویرانی ہے۔ اسی وحشت ناک ویرانی کی فارسی کے شاعر نے نہایت خوبصورت تصویرکشی کی ہے۔
کورونا کی دوسری لہر کے دوران قدرت ہم پر بڑی مہربان رہی۔ ہماری بے اعتدالیاں اپنی جگہ‘ حکومت کی بے اعتنائیاں اپنی جگہ‘ اپوزیشن کی ریلیاں اپنی جگہ اور عوام کی غیرذمہ داریاں اپنی جگہ اور قدرت کی مہربانیاں اپنی جگہ۔ انہی مہربانیوں اور معجزوں کے طفیل دوسری مہم کے دوران ہم کورونا کی حشرسامانیوں سے بڑی حد تک محفوظ رہے۔ اب کورونا کی تیسری برطانوی لہر پاکستان پر حملہ آور ہوچکی ہے۔ ہم چاہتے تو گزشتہ سات آٹھ ماہ چین کے تعاون اور اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور پاکستان کو کورونا فری بنا سکتے تھے مگر ہم تو کچھ نہایت ضروری کاموں میں مگن ہیں۔ گویا کورونا کا ہونا یا نہ ہونا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ کوئی جئے یا مرے اس سے حکمرانوں کو زیادہ سروکار نہیں۔ تیسری طوفانی لہر کے نتیجے میں ہسپتالوں میں مریض بڑھ رہے ہیں‘ اس خطرناک صورتِ حال کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے مگر حکومت کا رویہ یہ ہے کہ گھبرانا نہیں۔ زندہ رہ گئے تو رہ گئے‘ نہ رہے تو بھی کیا ہوا۔ پاکستان شاید افغانستان اور صومالیہ کے بعد دنیا کا واحد ملک ہے کہ جہاں حکومت نے ویکسین کی خریداری کے لیے ایک پیسے کا بجٹ بھی مختص نہیں کیا۔ دیگر ممالک نے ویکسین کے لیے بجٹ مختص کیا اور ہمارا انحصار خیراتی ویکسین پر ہے۔ پاکستان میں دل چسپ صورتِ حال ہے۔ یہاں حکومت کی اوّلین ترجیح اپوزیشن سے نجات جبکہ حزبِ اختلاف کی اوّلین ترجیح موجودہ حکمرانوں سے نجات ہے۔ کورونا سے نجات حکومت کی ترجیح ہے نہ ہی اپوزیشن کی۔ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا شخص چاہے گا تو دامنِ کوہ سے پکارنے والوں سے ڈائیلاگ کرے گا‘ نہیں چاہے گا تو کوئی مذاکرات ہوں گے نہ بات چیت ہوگی۔ صبح سے شام تک حکومت اور اپوزیشن کے ترجمان ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں گویا یہاں کوئی عوام بستے ہی نہیں۔ حکومت چاہتی تو وہ کورونا‘ بے حال معیشت‘ بے پناہ مہنگائی اور انتخابی اصلاحات وغیرہ کے بارے میں اپوزیشن کو ایوان کے اندر انگیج رکھ سکتی تھی مگر حکومتی کارندے صبح سے رات گئے تک اپوزیشن کو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو وہ حکومتی رویے کے ردِّعمل کے طور پر تنگ آمد بجنگ آمد کے مقام پر پہنچ چکی ہے۔
کورونا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے کورونا کی وبا مکمل طور پر ناپید نہ ہوگی۔ لہر پر لہر آتی رہے گی۔ موجودہ برطانوی لہر اور کورونا کی مزید لہروں سے بچائو کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر پر سو فیصد عمل کریں اور فوری کورونا ویکسین کا انتظام کریں۔ مگر آج تک پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک انہیں ویکسین مہیا کرے گی۔ اس وقت تک آبادی کے ایک فیصد کو بھی ویکسین نہیں لگائی جا سکی جبکہ ہمارے جیسے کئی ممالک اپنی آبادی کی ایک چوتھائی کو ویکسین لگا چکے ہیں۔ یہاں ویکسین کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک سازشی نظریہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے مگر عوام کو ایجوکیٹ کرنے اور انہیں درست معلومات فراہم کرنے کی زحمت حکومت کر رہی ہے نہ ہی میڈیا۔ بظاہر بڑے بڑے آن لائن سسٹم قائم کر دیئے گئے ہیں مگر اُن کو آپریٹ کرنے والے خواتین و حضرات اتنے ہی ''باخبر‘‘ ہیں جتنے ہم اور آپ۔
حکومت نے عوام کو مختصراً یہ تک نہیں بتایا کہ دنیامیں کتنی اقسام کی کورونا ویکسین دستیاب ہے اور پاکستان میں ان دنوں بوڑھے لوگوں کو جو ویکسین لگانے کا آغاز کیا گیا ہے وہ چینی ہے‘ روسی ہے یا برطانوی ہے۔ چینی ویکسین کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں مگر حقیقت حال کوئی نہیں بتاتا۔ کئی وزراء نے متضاد بیانات دیے تھے۔ کسی نے کہا کہ یہ 60 برس سے اوپر کے لوگوں کے لیے مؤثر نہیں۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ٹیلی وژن پر کہا کہ جس کا دل چاہے وہ ویکسین لگوا لے ویسے میں اور میرا سٹاف نہیں لگوا رہے۔ میرے چچازاد بھائی ڈاکٹر عظمت قیوم پراچہ امریکہ میں کورونا سپیشلسٹ ہیں‘ میں نے اُن سے چینی ویکسین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں ساری منفی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ بعض فنی اعتبارات سے تو چینی ویکسین دوسری دوسری بہت سی ویکسینز سے زیادہ مؤثر ہے۔ میرے بھائی نے ہی مجھے بتایا کہ امریکی عوام اور دانشوروں کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ امریکہ فالتو ویکسین غریب ملکوں کو بطورِ مدد فراہم کرے۔
حکومت نے عوام کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی کہ انہوں نے پرائیویٹ اداروں کو کون سی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی یہ اعلان کیا ہے کہ اس کی فی کس قیمت کیا ہوگی اور کب یہ پرائیویٹ ہسپتال ویکسین لگانے کا آغاز کریں گے۔ اب ذرا سینئر شہریوں کو ویکسین لگانے کی کہانی بھی سن لیجئے۔ ہمارے ایک انتہائی معزز پروفیسر صاحب نے کئی ہفتے قبل ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی آن لائن رجسٹریشن کروائی تھی۔ کوئی ایک ہفتہ پہلے انہیں میسج آیا کہ وہ فلاں تاریخ کو یکی گیٹ آکر میاں نواز شریف ہسپتال سے ویکسین لگوا لیں۔ پروفیسر صاحب نے ایک ڈاکٹر دوست سے پوچھا کہ یہ کسی قریبی ہسپتال سے نہیں لگ سکتی تو اس نے بتایا کہ آپ اسے آن لائن ہی تبدیل کر سکتے ہیں‘ لہٰذا پروفیسر صاحب نے اسے قریبی ہسپتال کے لیے تبدیل کرنے کی درخواست رجسٹر کروا دی مگر ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی انہیں کوئی ایس ایم ایس وصول نہیں ہوا۔ پروفیسر صاحب نے کئی بار کورونا ویب سائٹس پر رابطہ کیا مگر کسی کے پاس آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی واضح جواب نہیں۔
چاہئے تو یہ تھا کہ حکمران ہسپتالوں میں آکر خود چینی ویکسین لگواتے اور تصاویر وائرل کرتے تو لوگوں کو یقین آتا کہ ساری افواہیں غلط ہیں۔ کورونا کے شب و روز کے حوالے سے مستنصر حسین تارڑ نے ایک خوبصورت ناول لکھا ہے جو دراصل اُن کی اور ہماری کہانی ہے۔ ناول کا ٹائٹل ہے ''شہر خالی‘ کوچہ خالی‘‘۔ اس ناول کا تذکرہ ان شاء اللہ آئندہ کسی کالم میں۔سردست میری دلی دعا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر سے اللہ ہمیں معجزاتی طور پر نجات دے۔ میری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ ہمیں اٹلی اور دیگر کئی یورپی ممالک کی طرح لاک اپ کی اذیت سے بچائے اور میری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ ہمیں شہر و کوچہ خالی اور باغ و باغیچہ خالی والی جان لیوا ویرانی سے بھی محفوظ رکھے۔ آمین!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں