نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:اسدعمرکی زیرصدارت این سی اوسی کااجلاس
  • بریکنگ :- نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سینٹرنےعید کیلئےگائیڈلائنزجاری کردیں
  • بریکنگ :- عید کی نمازکھلی جگہ پرہونی چاہیے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- مساجدکی کھڑکیاں اوردروازےکھلےرکھےجائیں،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ایک ہی جگہ نمازعید کے 2 سے 3 اجتماعات کیےجائیں،این سی اوسی
  • بریکنگ :- عیدگاہ میں متعددداخلی وخارجی دروازےرکھےجائیں،این سی اوسی
  • بریکنگ :- عیدگاہ میں 6فٹ کےفاصلےپرنشانات لگائےجائیں،این سی اوسی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نمازی جائےنمازگھرسےلائیں،این سی اوسی
  • بریکنگ :- عیدکاخطبہ انتہائی مختصررکھاجائے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- بیمارافراد،بزرگ اور 15 سال سے کم عمربچےعیدگاہ نہ آئیں،این سی اوسی
  • بریکنگ :- عیدگاہوں میں ماسک پہنناضروری ہے،این سی اوسی

کورونا کی حشر سامانیاں اور ہماری بے نیازیاں

نہ جانے یہ مصرع کسی گیت کا ہے یا غزل کا کہ
یہ جینا بھی کیا جینا ہے
کورونا کے نامہرباں موسم میں آج کل ہم سب کا یہی حال ہے۔ ان دنوں گھروں میں‘ پارکوں میں‘ باغوں میں‘ سڑکوں کے کناروں پر ہر طرف اودے اودے‘ نیلے نیلے‘ پیلے پیلے پیرہنوں میں ملبوس پھول کھلے ہیں۔ گلاب کے رنگ برنگ پھول بھی اپنے جوبن پر ہیں اور موسم بہار کا اعلان کر رہے ہیں مگر دلوں پر چھائی ویرانی اور پژمردگی ایسی ہے کہ کسی کو باغ میں جانے اور پھولوں کی رفاقت میں چند لمحے گزارنے کی خواہش نہیں۔ دیکھئے اسداللہ خاں غالبؔ نے ڈیڑھ صدی قبل دل کی اداسی و بے کلی اور باغ میں آئی بہار کا کیسا حسبِ حال نقشہ کھینچا ہے۔
غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
کورونا سے چھوٹے بڑے بلکہ بالکل معصوم بچے تک بھی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ میری تین سالہ پوتی عائزہ میرے ساتھ کبھی کبھی واک کرتی ہے۔ جونہی ہم چھوٹے سے پارک کے قریب سے گزرتے تو عائزہ کہتی تھی کہ دادا! میں نے جھولے لینے ہیں۔ گزشتہ شام ہم پارک کے قریب سے گزرے تو عائزہ نے پارک میں جانے کی بات کی اور نہ ہی جھولے لینے پر اصرار کیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ عائزہ جھولے نہیں لینے‘ تو سہمی ہوئی بچی نے معصومیت سے کہا ''نو دادا! پارک میں کورونا ہے‘‘۔
نعمت کا احساس کب ہوتا ہے؟ جب نعمت چھن جائے۔ آج معلوم ہو رہا ہے کہ نارمل زندگی‘ ہنسی خوشی والی زندگی‘ میل ملاپ والی زندگی‘ حلقۂ دوستاں والی زندگی اور علمی و ادبی مجالس والی زندگی کتنی بڑی نعمت تھی۔ اس عظیم نعمت کو واپس لانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ نارمل زندگی واپس لائی جائے۔
کورونا کی پہلی لہر کے دوران تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ 20 سیکنڈ تک بار بار ہاتھ دھوئیں‘ ماسک پہنیں اور ہجوم والی جگہوں میں نہ جائیں۔ مگر آج کورونا کی تیسری خطرناک لہر کے دوران نارمل زندگی کی طرف واپسی کا سب سے پہلا آپشن یہ ہے کہ ہم اپنی آبادی کی بہت بڑی تعداد کو کورونا ویکسین فراہم کریں۔ جن ملکوں نے اپنے شہریوں کی ایک خاطرخواہ تعداد کو یہ ویکسین لگا دی ہے اور باقی آبادی کو تیزی سے حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں وہاں کورونا کی تباہ کاریوں میں بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے فراہم کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دوروز پہلے ایک ہی دن میں کورونا سے 98 اموات ہوئیں اور 5070 نئے مریض سامنے آئے۔ اس وقت تک 14 ہزار 650 لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں جن میں بوڑھے‘ نوجوان‘ مردوزن اور بچے بھی شامل ہیں۔ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 6لاکھ 79ہزار 427 ہے۔ ایک سال کے دوران 22 کروڑ میں سے صرف ایک کروڑ کے سرکاری و نجی ذرائع سے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جو بہت تھوڑی تعداد ہے۔ ہمیں ذاتی تجربے سے معلوم ہے کہ کورونا ٹیسٹ کے لیے سرکاری ٹیم گھر پر تو آتی ہے اور سیمپل بھی لے کر جاتی ہے مگر پھر کبھی رزلٹ سامنے نہیں آتا۔ اب تک ہمارا زیادہ انحصار صرف خیرات (یا ذرا بہتر لفظ استعمال کر لیتے ہیں) ''گفٹ‘‘ ویکسین پر ہے جس کی غالباًپچیس تیس لاکھ ڈوزز اب تک ہمیں وصول ہوچکی ہیں۔ اگر ہماری امیدوں کا انحصار اسی ''گفٹ‘‘ ویکسین پر ہے تو پھر بقول غالب ع
ناامیدی اس کی دیکھا چاہئے
دوسرے ممالک نے تو تقریباً آٹھ نو ماہ پہلے ہی اپنے بجٹ میں کمی بیشی کرکے اپنے شہریوں کی بہت بڑی تعداد کے لیے ویکسین کا انتظام کرلیا تھا۔ مگر ہم نے ایسا کوئی انتظام کرنے کو خلافِ شان سمجھا کیونکہ ہمارا نعرہ تھا 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘۔ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہماری غربت کورونا کے ویکسین کے حصول میں آڑے آئی ہوگی۔ کورونا کے انتظامات نہ کرنے کا اصل سبب حکومت کی ناقص گورننس ہے۔ اگر حکومت چاہتی اور اس شعبے کے ماہرین کے واویلا مچانے کو کان لگا کر سنتی اور یہ کام طبی ماہرین‘ وفاقی و صوبائی وزرائے خزانہ‘ اپوزیشن جماعتیں‘ کارپوریٹ مالی سیکٹر‘ نجی ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز‘ اوورسیز پاکستانی نمائندوں اور خدمت خلق کرنے والی تنظیموں کو بھی اجلاس میں شریک کرتی پھر یہ طے کیا جاتا کہ حکومت کتنے کروڑ کی ویکسین کا بندوبست کرے گی‘ اپوزیشن کیا مدد کرے گی‘ نجی ہسپتال کم سے کم قیمت پر کتنے کروڑ کو ویکسین فراہم کریں گے‘ کارپوریٹ سیکٹر کتنا ہاتھ بٹائے گا‘ اوورسیز پاکستانی کتنے کروڑ بھائی بہنوں کی ویکسین کا انتظام کریں گے‘ فلاحی تنظیمیں کتنا بوجھ اٹھائیں گی تو اس وقت تک ہم آدھی آبادی کو ویکسین لگا چکے ہوتے۔ مجھے لگتا ہے کہ جناب وزیراعظم سمیت اس حکومت کے بعض 'ماہرین‘ کے شعور یا لاشعور میں شاید یہ خیال جاگزین ہے کہ ویکسین کے بجائے ہرڈ امیونٹی کا آئیڈیا پاکستان میں کارآمد ثابت ہوگا۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت نے یہ آس لگا رکھی ہو کہ عالمی ادارے جن غریب ملکوں کو بڑی مقدار میں ویکسین فراہم کریں گے اُن میں پاکستان بھی شامل ہوگا۔ یہ رویہ عالم ِاسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کے شایانِ شان نہیں۔ سینئر سٹیزنز کو حکومت کامیابی سے ویکسین لگا رہی ہے مگر اب تک ویکسین لگوانے والوں کی تعداد کل آبادی کا 0.5 فیصد بھی نہیں۔ ہماری معلومات کی حد تک لاہور میں صرف دو ہسپتالوں کو کورونا ویکسین امپورٹ کرنے اور لگانے کی اجازت دی گئی ہے جو فیس لے کر ویکسین لگا رہے ہیں۔ اگر حکومتی انتظامات کے تحت محفوظ ویکسین کی امپورٹ اوپن کر دی جائے تو اگلے چند ماہ میں اصحابِ خیراور فلاحی تنظیموں کے ذریعے کروڑوں لوگ ویکسین لگوا سکیں گے۔ برطانیہ نے پاکستان کو ریڈلسٹ میں شامل کر دیا اور یہاں سے جانے والے مسافروں پر دس روز کے لیے حکومت کے منظور کردہ ہوٹلوں میں اُن کے اپنے اخراجات پر قرنطینہ کرنے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس دس روزہ قیام پر 1750 پائونڈ خرچ ہوں گے۔ بریڈفورڈ ویسٹ سے منتخب لیبر پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ پاکستانی نژاد نازشاہ نے اس اقدام کو پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے وزیر خارجہ کے نام ایک خط لکھ کر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ پاکستان کے خلاف یہ اقدام کسی سائنسی اعدادوشمار پر نہیں سیاسی ترجیحات پر اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان میں پازیٹو کیسز کی تعداد فرانس‘ جرمنی اور انڈیا‘ تینوں سے بہت کم ہے جبکہ ان ممالک سے آنے والے مسافروں کو ریڈلسٹ میں نہیں شامل کیا گیا۔ نازشاہ نے برٹش حکومت سے پاکستان کے ساتھ کیے جانے والے اس امتیازی سلوک کی صفائی طلب کی ہے۔ اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کی داخلی گورننس ہی نہیں خارجہ پرفارمنس بھی ناقص ہے۔ تعلقات اچھے ہوں تو دوست ممالک ایسا امتیازی سلوک نہیں کرتے۔ بہرحال ہمیں بحیثیت قوم نازشاہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس نے پاکستان کی ایک غیور بیٹی ہونے کا ثبوت دیا اور پاکستان کا مقدمہ بڑے پرزور طریقے سے دلائل کے ساتھ پیش کیا۔
شاید جناب عمران خان کو یاد ہوکہ اُن کے بلند بانگ دعوے سن کر پاکستانیوں نے اُن سے عظیم توقعات وابستہ کرلی تھیں مگر امیدوں کے یہ محلات زمیں بوس ہوتے جارہے ہیں۔ خان صاحب نے اب تک انفرادی دانش سے معاملات چلائے ہیں اب ذرا اگلے دو سال پارلیمنٹ‘ دانشوروں اور ہر شعبے کے ماہرین کی اجتماعی دانش سے معاملات چلائیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح کے نتائج سامنے آتے ہیں۔ کورونا کی حشرسامانیاں عروج پر ہیں۔ اگر حکومت اور قوم کی بے نیازیاں اسی طرح جاری رہیں اور ہم نے مل کر آبادی کی بڑی تعداد کے لیے ویکسین کا بندوبست نہ کیا تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ہماری بے نیازیوں کے باوجود ہمیں اس وبا سے محفوظ رکھے۔ آمین !

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں