نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ای وی ایم قانون سازی اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج
  • بریکنگ :- چیف جسٹس ہائیکورٹ نےشہری کی درخواست نامکمل قراردےدی
  • بریکنگ :- ای وی ایم قانون سازی کی کن شقوں پراعتراض ہے؟عدالت کااستفسار
  • بریکنگ :- ای وی ایم دھاندلی کی منصوبہ بندی ہے،کالعدم قراردی جائے،درخواست
  • بریکنگ :- کونسی شقیں آئین سےمتصادم ہیں؟چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ
  • بریکنگ :- نامکمل درخواست دائرنہیں کرتےورنہ جرمانہ ہوجاتاہے،عدالت
  • بریکنگ :- درخواست کی درستگی کیلئےمہلت دی جائے،درخواست گزار
  • بریکنگ :- اسلام آبادہائیکورٹ نےشہری کی استدعامنظورکرلی
Coronavirus Updates

یکساں قومی نصابِ تعلیم

ہم بھی بڑے دل چسپ لوگ ہیں۔ یہاں کوئی بھی شخص محض دل لگی کی خاطر یا اپنے ذاتی ذوق کی تسکین کیلئے طے شدہ آئینی و قومی امور پر نقطۂ اعتراض اٹھا دیتا ہے اور عدالت جا پہنچتا ہے۔ وزیراعظم نے اس قوم کو اپنی انتخابی مہم کے دوران بہت سے خوش رنگ خواب دیئے تھے۔ ان کے جس خواب میں میرے لیے مقناطیس جیسی جاذبیت تھی وہ یکساں نصابِ تعلیم کا خواب تھا۔ تقریباً اڑھائی برس تک وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں وزارتِ تعلیم کے افسران اور ماہرین تعلیم اس خواب کے خاکے میں رنگ بھرنے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کیلئے شب و روز کوشاں رہے۔ اب یہ قومی نصاب آخری مراحل پر پہنچا ہے تو اقلیتوں کے کچھ نمائندوں نے عدالت میں رٹ دائر کر دی کہ وزارتِ تعلیم کے مجوزہ نصابِ تعلیم میں اسلامی تعلیمات کو انگریزی اور اردو جیسے لازمی مضامین کا بھی حصہ بنایا گیا ہے۔ مثلاً اُن کے نقطۂ نظر کے مطابق حمدونعت کو اردو نصاب میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہاں اصل مسئلہ غیرمسلم اقلیت کا نہیں، مٹھی بھر سیکولر حضرات اور مراعات یافتہ اقلیت کا ہے جو اپنے بچوں کو قومی نصاب نہیں غیرملکی نصاب پڑھانا چاہتی ہے تاکہ گزشتہ دہائیوں کی طرح اُن کے بچوں کی امتیازی شان اور پہچان الگ رہے۔
ایک معاصر میں چھپنے والے ایک کالم کے مطابق وزارتِ تعلیم کے ایک افسر نے کہا ہے کہ ایک طبقہ لازمی مضامین میں سے اسلامی نصاب نکالنے کی کوشش میں ہے۔ افسر موصوف نے کہا کہ قرآنِ پاک صرف مسلمان طلبہ کو پڑھایا جائے گا جبکہ لازمی مضامین میں شامل حمدونعت بھی صرف مسلمان طلبہ کے لیے ہی لازم ہوگی۔ شاید یہی افسر یا اُن جیسے ہی کوئی بے خبر افسر وزارتِ تعلیم کی نمائندگی کرنے سپریم کورٹ میں گئے ہوں گے جہاں وہ عدالتِ عظمیٰ کو مطمئن نہیں کر سکے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ کیا وزارتِ تعلیم کے افسران کو اتنا بھی علم نہیں کہ حمدونعت اور مثنوی و مرثیہ اردو شاعری کے اہم ترین اجزا ہیں۔ مسلمان تو مسلمان ہندو، سکھ اور دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے اردو شعرا نے نہایت اعلیٰ پائے کی ادبی نعتیں کہی ہیں اور کئی حمدیہ نظمیں تخلیق کی ہیں۔ ان ادب پاروں کو اردو لٹریچر میں نہایت نمایاں مقام حاصل ہے۔ غیرمسلم شعرا تو مدحتِ رسول کو اپنا سرمایۂ حیات سمجھتے ہیں۔ یہ حمدونعت کے ادبی شاہکار مسلم و غیرمسلم طلبہ کے لیے یکساں طور پر ضروری ہیں۔ دلورام کوثری مشہور نعت گو شاعر ہیں۔ اُن کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے:
کچھ عشقِ محمد میں نہیں شرطِ مسلماں
ہے کوثری ہندو بھی طلبگارِ محمد
مثنوی گلزار نسیم‘ پنڈت دیاشنکر نسیم کی لکھی ہوئی ہے۔ اسے اردو ادب کا ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس مثنوی کا آغاز حمد باری تعالیٰ، نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور اطاعت پنجتن سے ہوتا ہے۔
سکھ شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
میں نے کم وقت میں نہ صرف آن لائن بلکہ ایک دو امریکی دوستوں سے امریکہ کے سرکاری سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصابِ تعلیم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہر امریکی بچے کو ایلیمنٹری اور جونیئر و سینئر ہائی سکول میں امریکہ کی تاریخ کے اہم واقعات اور امریکہ کے ہیروز کے بارے میں بہت کچھ پڑھایا جاتا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ سکولوں کے لازمی مضامین میں بائبل کو بطورِ تاریخ، کلچر، لٹریچر اور اخلاقیات پڑھایا جاتا ہے؛ البتہ بطورِ مذہب بائبل الگ پڑھائی جاتی ہے۔
جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے تو اسلامی اور دیگر ادیان کی اقدار حتیٰ کہ سیکولر تعلیمات میں بھی کوئی خاص فرق نہیں۔ مثلاً انگلش یا اردو میں اعلیٰ اخلاقی اقدار اور آدابِ معاشرت کا تذکرہ اسلامی تعلیمات و تاریخ کی روشنی میں کیا جاتا ہے تو اس پر کسی غیرمسلم کو کیونکر اعتراض ہوگا۔
مجھے حیرت ہے کہ وزارتِ تعلیم کے افسران اور ہمارے سیکولر دانشوروں کو اس حقیقت کا ادراک کیوں نہیں کہ زندگی ایک ناقابل تقسیم اکائی ہے جس میں مذہب، سائنس، تاریخ، فلسفہ اور بہت کچھ شامل ہوتا ہے کیونکہ ادب پارہ تخلیق کرتے ہوئے شاعر یا ادیب غیرفطری طریقے سے اپنے تخلیقی شاہکار میں مذہبی و آسمانی حوالوں کا داخلہ بند نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔ برنارڈشا مشہور ڈرامہ نگار ہیں۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ مختلف الخیال اور کئی اقوام سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو اپنے اندر سمونے کی جس مذہب میں سب سے زیادہ صلاحیت ہے وہ اسلام ہے۔ اسی طرح تاریخِ عالم میں جتنی پرکشش شخصیت محمد مصطفیﷺ کی ہے اتنی کسی اور کی نہیں‘ اسی لیے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ساری دنیا کا نجات دہندہ سمجھتا ہوں۔ برنارڈشا کا ڈرامہ پڑھاتے ہوئے اور اس کی شخصیت کے بارے میں بتاتے ہوئے انگریزی کا ٹیچر اسلام کے بارے میں ڈرامہ نگار کے خیالات بتائے گا تو ان تاریخی ریمارکس پر کسی غیرمسلم طالبعلم کو کیونکر اعتراض ہوگا۔
کیا ہم انگلش لٹریچر پڑھتے ہوئے John Milton کا ادبی شاہکار Paradise Lost اور دانتے کی Divine Comedy کا تخلیقی ادب پارہ اس لیے نہیں پڑھیں گے کہ وہ مسیحی تعلیمات و عقائد کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ اپنے قومی اہداف کی روشنی میں ہر قوم اپنی تاریخ، اپنے کلچر اور اپنی مذہبی و تہذیبی اقدار کی عکاسی کرنے والا یکساں قومی نصابِ تعلیم تشکیل دیتی ہے جس میں اپنے ہیروز کے عظیم کارناموں سے نئی جنریشن کو متعارف کروایا جاتا ہے۔ امریکہ کے بارے میں ہم اوپر بتا چکے ہیں۔ جاپان کے تمام سکولوں میں یکساں قومی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ وہاں پرائیویٹ سکولوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں؛ تاہم ان سکولوں میں بھی سرکاری نصاب ہی پڑھایا جاتا ہے؛ البتہ انہیں مذہب اور میوزک کے بارے میں اضافی تدریس کی اجازت ہے۔
دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے سکولوں کے لازمی مضامین میں اسلامی اقدار اور قومی و ملّی شخصیات کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔ ہمارے سکولوں میں اسلامیات کو بطورِ لازمی مضمون پڑھایا جاتا ہے جبکہ غیرمسلموں کے لیے اخلاقی تعلیمات کا الگ نصاب موجود ہے؛ تاہم جس چیز کو اقلیت کے کچھ نمائندے اور ہمارے بعض سیکولر دانشور اسلامی تعلیمات قرار دے رہے ہیں وہ شاعری، ادب اور ہمارا تہذیبی و تاریخی ورثہ اور ہمارے قابل فخر ہیروز کے کارنامے ہیں۔ ان سب چیزوں کو اگر لازمی مضامین سے نکال دیا جائے تو پھر پیچھے چھان بورا ہی بچے گا۔ وزارتِ تعلیم کو چاہئے کہ وہ قومی و ملّی شعور رکھنے والے ماہرین تعلیم کی رہنمائی میں جناب وزیراعظم کو بریفنگ دے۔ اسی طرح وزارتِ تعلیم کے نمائندے عدالت عظمیٰ کی اگلی پیشی پر تیاری کرکے جائیں اور اپنے مؤقف کو منطقی دلائل کے ساتھ پیش کریں۔
جناب وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہئے کہ جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کے ابتدائی سالوں میں ماہرین تعلیم کے مشوروں سے ایک یکساں نصابِ تعلیم مرتب کروایا تھا اور اسے تمام سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں رائج کرنے کی مکمل تیاری بھی کرلی گئی تھی مگر مراعات یافتہ ''اقلیت‘‘ کو اکثریت والی تعلیم نامنظور تھی۔ اس بااثر اقلیت نے بڑی معصومیت سے غیرممالک سے آنے والے پاکستانی بچوں کیلئے غیرپاکستانی نصاب پڑھانے والے انگلش میڈیم سکول قائم کرنے کی اجازت لے لی۔ اس ''اجازت نامے‘‘ کی آڑ میں ہر طرف سے غیرملکی نصاب والے سکولوں کا ایک سیلاب آگیا۔ جناب وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ یکساں قومی نصاب کے خود پہریدار بن کر کھڑے ہو جائیں اور کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہ دیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں