نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حادثےمیں 2پائلٹ میجرعرفان اورمیجرراجہ ذیشان شہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فوجی دستےحادثےکی جگہ پہنچ گئے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاکستان آرمی ایوی ایشن کاہیلی کاپٹرسیاچن میں حادثےکاشکار
Coronavirus Updates

امن کا نوبیل انعام دو صحافیوں کے نام

آمریتوں، مطلق العنان بادشاہتوں، ون پارٹی نظریاتی ریاستوں اور تیسری دنیا کی ون مین شو جمہوریتوں میں آزادیٔ تحریر و تقریر کا علم بلند کرنا شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو فلپائن کی صحافی خاتون ماریہ ریسا اور روس کے دمتری مراتوف نے جان ہتھیلی پر رکھ کر انجام دیا۔
اسی کام کی نارویجن امن پرائز کمیٹی نے تعریف و توصیف کی اور ان دونوں کو امن نوبیل پرائز کا حقدار قرار دیا۔ دونوں عظیم صحافیوں کی کہانی بیان کرنے سے پہلے ذرا اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ امن، صحافت اور آزادیٔ اظہار کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ اگر کسی ملک کو حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور ان کے اعمال و افعال کی بازپرس کرنے والا کوئی جمہوری ادارہ ہو نہ کوئی آزاد عدالتی فورم ہو اور نہ ہی آزاد و بیباک پریس یا آج کی زبان میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا‘ تو وہ ملک امن کا گہوارہ نہیں ظلم کی آماجگاہ بن جاتا ہے تاہم جس ملک میں آزادیٔ تحریروتقریر ہو اور قدم قدم پر آزاد پریس سمیت جمہوری ادارے حکمرانوں کو راہِ راست سے ہٹنے نہ دیں تو وہ ملک بڑی حد تک پرامن رہتا ہے۔ اسی طرح آزاد میڈیا اپنے ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے سربراہوں اور وہاں کی حکومتوں کو بھی جادۂ حق پر رہنے، جنگوں سے اجتناب کرنے، بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے ہتھیار نہ بنانے کی تلقین کرتا ہے۔ یوں امن اور میڈیا کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
دونوں صحافیوں کے گراں قدر جرأت مندانہ کارہائے نمایاں کے بارے میں آپ کو بتاتا ہوں مگر پہلے ایک دلچسپ آبزرویشن شیئر کرتا چلوں۔ نوبیل پرائز جیسے عظیم الشان عالمی اعزاز کو وصول کرنے کے بعد دونوں صحافیوں کے تاثرات اور خیالات میں بڑی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف آزادیٔ صحافت کے پر کاٹنے اور شاہینوں کو ''گرائونڈ‘‘ کرنے کے بارے میں استعمال کی جانے والی آمرانہ منطق اور الفاظ میں بھی حیران کن یکسانیت پائی جاتی ہے۔ نارویجن نوبیل کمیٹی برائے امن پرائز کی چیئرپرسن بریٹ ریس اینڈرسن نے امن نوبیل پرائز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت داخلی و عالمی امن کیلئے بنیادی شرط کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ آزادیٔ تحریر و تقریر اور آزادیٔ صحافت کے بغیر جمہوریت محض ایک خواب ہے، ایک سراب ہے۔ بریٹ اینڈرسن نے کہا کہ ان دونوں صحافیوں نے اپنے اپنے ملکوں کے لوگوں تک حقائق پہنچانے کیلئے جس جرأت، محنت اور شجاعت سے کام لیا‘ وہ انتہائی گراں قدر ہے اور اسی لیے ہم نے اُنہیں امن کے نوبیل پرائز کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ اگر ہر ملک کے عوام کو ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ بتایا جائے گا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے تو یہ اپنے ملک کی حقیقی خدمت ہوگی۔
58 سالہ فلپائنی صحافی ماریہ ریسا کے پاس امریکی شہریت بھی ہے مگر وہ زیادہ تر فلپائن میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور آزادیٔ صحافت پر عائد تمام تر پابندیوں اور سنسرشپ کے ہتھکنڈوں سے نبردآزما رہنے میں دلی مسرت محسوس کرتی ہیں۔ ریسا نے 2012ء میں ''ریپلر‘‘ نام کی ایک ویب سائٹ قائم کی جس کی وہ بانی ہیں اور موجودہ سی ای او بھی۔ یہ ویب سائٹ فلپائن میں جاری بدعنوانی اور حکمرانوں کی من مانی کے بارے میں رپورٹیں پیش کرتی رہتی ہے۔ ماریہ ریسا دو دہائیوں تک جنوب مشرقی ایشیا میں سی این این کی تحقیقاتی رپورٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
ماریہ ریسا نے فلپائن کے اندر رہ کر وہاں کے مطلق العنان صدر روڈریگو ڈیٹرٹے کے آمرانہ و ظالمانہ اقدامات کے خلاف جرأت مندانہ تحقیقی رپورٹیں اپنی ویب سائٹ پر لگائیں اور عالمی میڈیا کو فراہم کیں۔ فلپائنی حکومت نے منشیات کے خلاف ایک متنازع مہم شروع کر رکھی ہے جس میں لوگوں کو بڑی تعداد میں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے۔ فلپائنی صدر کی اس جارحانہ و غیرمنصفانہ مہم کو ماریہ نے شدت سے نشانۂ تنقید بنایا۔ اس کے علاوہ فلپائنی صحافی نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اپوزیشن اور صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر جعلی خبریں اور جھوٹا پروپیگنڈا بھی کرتی ہے۔ موصوفہ نے ایک خوبصورت بات کہی ہے کہ حقائق کے بغیر دنیا ایسے ہی ہے جیسے سچ اور اعتماد سے محروم کوئی سرزمین۔ ماریہ ریسا نے کہا کہ یہ میرا اعزاز نہیں‘ یہ ہماری ویب سائٹ کی ٹیم کے ہر رکن کا اعزاز ہے کہ جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر حقائق کی تلاش کیلئے برسرپیکار رہتا ہے۔
جہاں تک امن نوبیل پرائز کے دوسرے شریک روسی صحافی آندریو یوچ مراتوف کا تعلق ہے تو اس کی داستان بھی ماریہ ریسا سے ملتی جلتی ہے۔ روس میں کلمۂ حق لکھنے والا اخبار تقریباً ناپید ہے۔ 1993ء میں مراتوف نے کچھ ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر آزاد اخبار نوواگزیٹا کی بنیاد رکھی۔ 1995ء تا 2017ء وہ اس کا چیف ایڈیٹر رہا۔ اس اخبار کے چیف ایڈیٹر مراتوف نے جان ہتھیلی پر رکھ کر طاقتور حلقوں اور حکومتی و انتظامی مشینری کے خلاف تنقیدی و تحقیقی رپورٹیں شائع کیں۔ اس کے علاوہ اخبار روسی معاشرے کے قابل مذمت پہلوئوں جن میں کرپشن، پولیس تشدد، غیرقانونی گرفتاریاں، انتخابی دھوکہ دہی، روس کے اندر اور باہر روسی افواج کے ناروا استعمال کو اپنی جانوں کا خطرہ مول لے کر نشانۂ تنقید بناتا اور روسیوں کو حقائق سے باخبر رکھتا ہے۔
فلپائنی ماریہ ریسا کی طرح دمتری مراتوف نے شدتِ احساس و اخلاص کے ساتھ کہا ہے کہ یہ میرا اعزاز نہیں یہ میرے اخبار کا اعزاز ہے۔ یہ اُن جانباز صحافیوں کا اعزاز ہے جنہوں نے آزادیٔ اظہار کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا۔ یہ اُن صحافیوں کا اعزاز ہے جو آزادیٔ صحافت کے راستے میں آنے والی قتل گاہوں میں بے دردی سے ہلاک کر دیئے گئے۔ فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا :
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
نوبیل پرائز ونر نے تاریک راہوں میں موت کے گھاٹ اتارے گئے کئی معزز صحافیوں کے نام بھی گنوائے جن میں آئی گورڈافی، کاف، یورا، اینے سٹیپنورا، نتاشا اور سٹاس مارکلیو وغیرہ شامل ہیں۔ جہاں تک من مانی کرنے والے حکمرانوں کا تعلق ہے وہ بھی ایک دوسرے سے ملتی جلتی باتیں کرتے ہیں۔ فلپائنی صدر نے کہا کہ ریپلر ویب سائٹ فیک نیوز دیتی ہے۔ اس کی خبروں سے اہم اداروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں۔ یہ لوگ فارن فنڈنگ اور فارن اونرشپ کے ذریعے غیرمصدقہ خبریں اکٹھی کرتے ہیں اور ہمیں نشانۂ تنقید بناتے ہیں۔ روس میں ایسے ہی الزامات دمتری مراتوف کے واحد آزاد اخبار نوواگزیٹا پر عائد کیے گئے۔
یہ تیسری دنیا کے ہر ملک کی کہانی ہے۔ ہمارے ہاں بھی کل تک اپوزیشن میں آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کے نغمے الاپنے والے جناب عمران خان وزیر اعظم بننے کے بعد حق گوئی کو ''فیک نیوز‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کی حکومت صحافیوں کے قلم پر پہرے بٹھانے اور اینکروں کی زبان بندی کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے اور ضابطے ترتیب دے رہی ہے‘ مگر حکومت کو معلوم نہیں کہ سچی خبر سیل رواں کی طرح ہوتی ہے کہ جسے کوئی سدِ عالی بھی نہیں روک سکتی۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی سیل کو دیوار و در سے واسطہ کوئی نہیں۔
امن نوبیل پرائز کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ امن نوبیل پرائز کے دونوں ونرز تمام صحافیوں کے نمائندے ہیں، لہٰذا یہ نوبیل پرائز سارے جرأت مند صحافیوں کو جاتا ہے جو دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنی زندگیوں کو دائو پر لگا کر آبروئے صحافت کے ماتھے کا جھومر بنے ہوئے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں