نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: کورٹ پولیس ہائی پروفائل کیس کے ملزم کی حفاظت نہ کرسکی
  • بریکنگ :- کراچی:دعا منگی کیس کامرکزی ملزم ذوہیب قریشی فرار ہوگیا،پولیس ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: کورٹ پولیس جیل سےذوہیب قریشی کو پیشی پر لے کر گئی،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: ملزم ذوہیب قریشی واپسی پر جیل نہیں پہنچا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: جیل واپسی پر قیدیوں کی گنتی کےدوران معاملہ کھلا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: پولیس اہلکار ذوہیب قریشی کو شاپنگ کرانے لےگئے تھے،ذرائع
  • بریکنگ :- دو اہلکار زیر حراست،فیروزآباد تھانےمیں مقدمہ درج کیاجارہاہے،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی:دعا منگی کو 30 نومبر 2019 کو ڈیفنس سےاغوا کیا گیا تھا،ذرائع
  • بریکنگ :- دعا منگی کی رہائی تاوان کی ادائیگی کےبعد عمل میں آئی تھی،ذرائع
  • بریکنگ :- ملزمان کو کراچی پولیس نے 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا
  • بریکنگ :- انھی ملزمان نےڈیفنس سے تاوان کیلئےبسمہ نامی لڑکی کو بھی اغوا کیاتھا
  • بریکنگ :- دونوں مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالت میں زیر سماعت تھے
Coronavirus Updates

دینی مدارس کی اہمیت

تین چار روز پہلے ایک انگریزی معاصر کے ادارتی صفحے پر ''مدرسہ: ایک ناقابل فہم بجھارت‘‘ کے عنوان سے دینی مدارس کے موضوع پر ایک کالم شائع ہوا۔ فاضل کالم نگار نے نہ صرف مدارس بلکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دینی و اسلامی شعور رکھنے والے طلبہ و طالبات کی سرگرمیوں کو بھی نشانۂ تنقید بنایا ہے۔اگر فاضل مضمون نگار اس موضوع پر کماحقہٗ تحقیق کرتے اور چند دینی مدارس کو بنفس نفیس وزٹ کرلیتے تو پھر یہ ترقی کرتے ہوئے ادارے ان کے لیے کوئی پہیلی رہتے نہ ہی بجھارت۔ یقینا دینی مدارس میں طلبہ کی تعداد‘ اُن کا معیارِ تعلیم‘ اُن کی ذہنی استعداد‘ اُن کی اخلاقی تربیت اور اُن کے اندر پائی جانے والی اعتدال پسندی دیکھ کر مضمون نگار کو خوشگوار حیرت ہوتی۔ اس کالم کو پڑھتے ہوئے مجھے تقریباً ہر سطر میں محسوس ہوا کہ موضوع کے تقاضوں کے مطابق براہِ راست بلکہ بالواسطہ معلومات کا بھی فقدان ہے۔
موصوف کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے دینی مدارس میں اصلاحات کے لیے کوئی قابلِ ذکر کاوش نہیں کی۔ جبکہ سابقہ حکمرانوں نے موجودہ حکومت کی طرح دینی مدارس کو ہر مکتب ِ فکر کے امتحانی و نصابی بورڈ تشکیل دے کر اور انہیں دینی مضامین کے ساتھ ساتھ سائنس اور ریاضیات وغیرہ کو شامل کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ مجھے وزیراعظم نواز شریف کے پہلے دور کے وفاقی سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم نے بتایا تھا کہ اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قابلِ قدر خدمات انجام دی تھیں اور دینی مدارس نے ان کی بیشتر اصلاحات کو رائج کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
موصوف نے وزیر اطلاعات فواد چودھری کے ایک بیان کے حوالے سے لکھا کہ اُنہوں نے نہ صرف دینی مدارس بلکہ سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کو مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے فواد چودھری کے بیان کی خودساختہ تشریح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اُن کا اشارہ اعلیٰ سرکاری اداروں میں جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی سرگرمیوں کی طرف ہوگا۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مفروضوں کا ایک انبار لگا دیا۔
ان مفروضوں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس سے وابستہ طلبہ تنظیمیں سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مذہبی انتہا پسندی کی کاشت کاری میں جنرل ضیاء الحق کی پارٹنر تھیں اور جہادِ افغانستان و کشمیر کے لیے یہاں سے نوجوانوں کو بھرتی کررہی تھیں۔ مضمون نگار نے مفروضات کے تانے بانے کو مزید پھیلاتے ہوئے مدارس کو مذہبی جماعتوں اور دینی سیاسی پارٹیوں کی سیاسی سرگرمیوں کا بیس کیمپ قرار دیا ہے۔دینی مدارس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کسی زمانے میں ان مدارس میں صرف غربا کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے مگر اب بہت سے امرا اور بیرونِ ملک مقیم دینی شعور رکھنے والے پاکستانی اپنے بچوں کو دینی تعلیم و تربیت کے لیے یورپ‘ امریکہ اور عرب ممالک سے پاکستان بھیجتے ہیں۔ دینی مدارس کی تعداد 35 سے 40 ہزارتک شمار کی جاتی ہے اور ان میں تقریباً 35 لاکھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ان مدارس میں تفسیر‘ حدیث‘ فقہ یعنی اسلامی قانون‘ عربی زبان‘ منطق اور فلسفہ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔
بہت سے دینی مدارس نے جدید و قدیم کا فرق مٹانے کے لیے اب موجودہ زمانے کے رائج الوقت مضامین مثلاً سائنس‘ جدید ریاضیات اور کمپیوٹر وغیرہ کو اپنے نصاب کا حصہ بنا لیا ہے۔ یہ مدارس کسی نہ کسی دینی بورڈ کے ساتھ الحاق کرنے‘ اُن کا مقرر کردہ نصاب پڑھانے اور اُن کے نظام کے مطابق امتحان دینے کے پابند ہیں۔ تمام سرکاری و غیرسرکاری یونیورسٹیاں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن دینی مدارس کی اسناد کو تسلیم کرتے ہیں۔
دینی مدارس کے پہلے پانچ بورڈ تھے۔ تنظیم المدارس بریلوی مکتب فکر‘ وفاق المدارس دیوبندی مسلک کے لیے‘ وفاق المدارس شیعہ‘ وفاق المدارس السلفیہ برائے اہل حدیث اور رابطتہ المدارس اسلامیہ جماعت اسلامی کے ساتھ الحاق شدہ مدارس کے لیے بورڈ ہے۔ ان سب بورڈوں کی مشترکہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ تشکیل دی گئی ہے۔ ان بورڈوں کے سینئر عہدہ داران علمائے کرام کے مابین بہت اچھے اور خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔ یہ فورم حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے مشترکہ موقف اختیار کرتا ہے۔ اتحاد تنظیمات مدارس باہمی رواداری اور اختلافی مسائل سے اجتناب کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
ریاست مدینہ کا وژن رکھنے والی موجودہ حکومت نے پانچ نئے دینی بورڈ تشکیل دیے ہیں اور جامعتہ الرشید کو انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اتحاد تنظیمات کے عہدیداروں اور مدارس سے منسلک دیگر علمائے کرام کی موجودہ وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود سے ملاقاتیں اور مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔ جامعتہ الرشید سے سوشل سائنسز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے فارغ التحصیل طلبہ کا معیار حکومت کی سرکاری یونیورسٹیوں سے کہیں اونچا ہے۔ یہاں کے طلبہ عربی‘ انگریزی اور اردو پر پورا عبور رکھتے ہیں۔ کئی ملکی و غیرملکی تنظیموں کی آزادانہ سروے رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے کسی دینی مدرسے میں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی عسکری تربیت کا کوئی نظام موجود ہے۔ دینی مدارس کا انتہا پسندی اور دہشت گردی سے ناتا جوڑنا انتہا درجے کی معاندانہ‘ غیرمنصفانہ اور جانبدارانہ کارروائی ہے۔ حکومت سے کوئی باقاعدہ فنڈ لیے بغیر پینتیس‘ چالیس لاکھ بچوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا نہایت قابلِ قدر ہے۔ دوسری طرف حکومت تمام تر دعووں کے باوجود زیورِ تعلیم سے محروم اڑھائی کروڑ بچوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی تعلیم کا اہتمام نہیں کر سکی۔
بلاتحقیق جنرل محمد ضیاء الحق کی اسلام پسندی کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانا بھی ایک فیشن بن چکا ہے۔ جنرل ضیاء الحق ایک انسان تھے فرشتہ نہ تھے مگر اُن پر بلاثبوت انتہا پسندی کا الزام لگانا قرین انصاف نہیں۔ افغان مجاہدین کی مدد فردِ واحد کا نہیں بلکہ کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا۔ جہادِ افغانستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے دوسری سپرپاور کو افغانستان سے نکل جانے پر مجبور کردیا تھا۔ جہادی کارروائیاں خالصتاً افغانوں کی اپنی تھیں۔ انہیں مادی وسائل تو درکار تھے مگر انہیں کسی بشری مدد کی ہرگز ضرورت نہ تھی۔
انگریزی کالم نگار کا جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کو سرکاری کالجوں یونیورسٹیوں میں انتہا پسندی کا سبب قرار دینا قلّتِ معلومات کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہر صاحبِ علم صحافی اور کالم نگار اچھی طرح جانتا ہے کہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت سے بڑھ کر کوئی اور تنظیم اتنی قانون پسند نہیں ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی تاسیس لاہور میں 23 دسمبر 1947ء کو ہوئی تھی۔ چند ہی سالوں میں یہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک ہردلعزیز تنظیم بن گئی۔ جمعیت کے قائدین اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ اور بہترین کردار کے مالک ہوتے تھے۔ یہ تنظیم یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انتخابات جیتتی تھی اور اب تک طلبہ و طالبات کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات انجام دیتی چلی آرہی ہے۔اتحاد تنظیمات اور وفاقی حکومت کے درمیان انڈرسٹینڈنگ مثالی ہے۔ شاید دینی اداروں کی اپنی حکومت کے ساتھ یہ مفاہمت ہی کچھ دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ جو کوئی بھی دینی اداروں کے بارے میں قلم اٹھانے کا ارادہ کرے اُسے چاہئے کہ وہ محض خیالی اور سنی سنائی باتوں پر تکیہ نہ کرے‘ تھوڑی سی براہِ راست تحقیق کرے۔ دینی مدارس کی اہمیت دیگر تعلیمی اداروں سے کم نہیں‘ زیادہ ہی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں