"DVP" (space) message & send to 7575

برطانوی وزیراعظم کو جرمانہ

اعلیٰ سرکاری و حکومتی عہدوں سے ہٹنے کے بعد بھارت سمیت دنیا بھر میں کئی وزرائے اعظم، صدور، وزرا اور ممبرانِ اسمبلی کو ہم نے جیل جاتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن کوئی وزیراعظم یا صدر کے عہدے پر فائز ہو اور اس پر اس کے ملک کی پولیس جرمانہ ٹھوک دے‘ کیا آپ نے ایسا قصہ کبھی سنا ہے؟ برطانیہ میں حال ہی میں ایسا ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ آج کل برطانیہ کے پردھان منتری بھارتی نژاد رشی سوناک ہیں۔ انہیں لندن کی پولیس نے جرمانہ دینے پر مجبور کردیا ہے۔ ان کا جرم بس یہی تھا کہ اپنی کار میں سفر کرتے ہوئے انہوں نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھ رکھی تھی۔ ایسا نہیں کہ وہ سیٹ بیلٹ کوسرے سے باندھے ہی نہیں ہوئے تھے۔ وہ سیٹ بیلٹ باندھے ہوئے تھے اور کار میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ برطانیہ میں کار میں بیٹھے سبھی لوگوں کے لیے سیٹ بیلٹ باندھنا لازمی ہے، لیکن ہوا یہ کہ ایک ٹی وی چینل کا صحافی ان سے ملاقات کرنے کے لیے کار میں آ بیٹھا۔ انہوں نے اپنی بیلٹ ہٹادی کیونکہ ٹی وی کی سکرین پر وہ اچھی نہیں دِکھتی۔ پولیس یا کسی متعلقہ شخص نے انہیں ایسا کرتے نہیں دیکھا! پھر لوگوں کو کیسے پتا چلا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے؟ ہوا یہ کہ جب ان کا انٹرویو ٹی وی پر دکھایا گیا تو سب نے دیکھا کہ برطانیہ کے وزیراعظم بغیر سیٹ بیلٹ کے ہی کار سے سفر کر رہے ہیں۔بس پھر کیا تھا‘ اپوزیشن نیتاؤں نے بیانوں کے گولے داغنے شروع کر دیے۔ اس پر لندن کی پولیس نے فوراً کارروائی شروع کردی۔ برطانیہ میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنا اگرچہ ایک معمولی جرم سمجھا جاتا ہے مگر اس پر 500 پائونڈ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم رشی سوناک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مجھے غلطی کا احساس ہے‘ میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں اور معافی کا خواستگار ہوں لیکن شمالی انگلینڈ میں لنکا شائر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک وائرل وڈیو دیکھنے کے بعد بنا سیٹ بیلٹ باندھے کار میں پچھلی سیٹ پر سفرکرنے والے ایک 42 سالہ شخص کو جرمانہ عائد کیا ہے۔ ذرا سوچئے کہ برطانیہ کی جگہ کار میں بھارت ‘ نیپال یا بنگلہ دیش کا کوئی لیڈر بیٹھا ہوتا تو اس کے ملک کے کسی پولیس والے کی ہمت پڑتی کہ وہ ان پر اس قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ٹھوکتا؟ اگر کوئی بہادر پولیس والا ایسا کر بھی دیتا تو چند ہی گھنٹوں میں دور دراز علاقے میں اس کا تبادلہ کر دیا جاتا۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ مگر رشی سوناک سے پہلے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو بھی سزا دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے کووڈ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاک ڈائون کے دنوں میں اپنے گھر پر ایک پارٹی کا انعقاد کیا تھا۔ قانون پر عمل ہرآدمی کرے‘ چاہے وہ صدر ہو یا وزیراعظم‘ اسے ہی قانون کا راج کہتے ہیں۔ بھارت بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے یہاں قانون کی حکمرانی ہے‘ لیکن اصلیت کیا ہے؟ بھارت میں قانون کاراج نہیں بلکہ راجہ کا قانون ہے۔ وزیراعظم توبہت بڑی چیز ہے‘ کیا کبھی کسی ایم پی یا پارلیمنٹیرین کو بھی یہاں کی پولیس چھو پاتی ہے؟ ہاں‘ اگر وہ اپوزیشن پارٹی کا ہو تو اور بات ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی بڑے بڑے نیتاؤں کو ہم نے بھارت میں جیل جاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن حکمرانوں کی غلامی کرتے رہنا بھارت کے نوکر شاہ‘ پولیس والے اورمیڈیا کے لوگ بھی اپنا مقدس فریضہ سمجھتے ہیں۔ البتہ ان لوگوں میں کچھ بہت ہی بہادر اور باوقار استثنا بھی بھارت میں ضرور پایا جاتا ہے۔ رشی سوناک نے اپنی اس غلطی پر عوام سے معافی مانگی ہے لیکن ان کے مخالفین بھارتی نژاد برطانوی وزیراعظم کے خلاف جم کرزہر اگل رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جو سفر کرتے ہوئے سیٹ بیلٹ نہیں باندھتا اور جسے جرمانہ بھرنے کے لیے اپنا ڈیجیٹل کارڈ بھی ٹھیک سے استعمال کرنا نہیں آتا‘ وہ برطانیہ جیسے ملک کا کامیاب وزیراعظم کیسے بن سکتا ہے۔ سوناک کی کنزرویٹو پارٹی کے ایک گورے برطانوی ممبر اسمبلی نے ان مضحکہ خیز الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ برطانیہ میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے‘ اسی لیے وہ رائی کا پہاڑ بنا رہی ہیں ۔
پردھان منتری یا پردھان بھکشو
پاکستان کے پردھان منتری شہباز شریف آج کل پردھان منتری کم‘ پردھان بھکشو بن کر دیش بدیش کے چکر زیادہ لگارہے ہیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ پھر تین‘ چار دن پہلے وہ ابوظہبی اور دبئی گئے ہوئے تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں میں بھی دو‘ تین دنوں کیلئے دبئی اور ابوظہبی میں موجود تھا۔ یہاں کے کئی عرب نیتاؤں سے بھی میری بات ہوئی۔ پاکستان کے معاشی حالات پر وہ سبھی بہت دکھی ہیں لیکن وہ پاکستان پر مزید قرض لادنے کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے 2 بلین ڈالر جو پہلے دے رکھے تھے‘ ان کے بھگتان کی تاریخ آگے بڑھادی ہے اور بحران سے لڑنے کے لیے ایک بلین ڈالر اور دے دیے ہیں۔ شہباز حکومت کے حوالے سے سعودی عرب نے بھی کافی فراخدلی دکھائی تھی لیکن اس وقت معاشی بحران اتنا سنگین ہے کہ مغربی ایشیائی اقوام تو کیا‘ چین اور امریکہ بھی ان حالات میں کچھ نہیں کر سکتے۔ برصغیر کی معاشی پسماندگی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی اصلی وجہ ہے آپس کی دشمنی۔ ایک دوسرے کے خلاف ان ملکوں کی سرکاروں نے اتنی نفرت کوٹ کوٹ کر بھردی ہے کہ ملکوں کی توجہ خود کو سنبھالنے پر بہت کم لگ پاتی ہے۔ اسی نفرت کے دم پر نیتا چناؤ میں اپنا سودا بیچتے رہتے ہیں۔ عام جنتا روٹیوں کو ترستی رہتی ہے لیکن اسے بھی نفرت کے گلاب جامن اندرونی و بیرونی سازشوں کی تھالی میں رکھ کرپیش کردیے جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے شہباز شریف، قازقستان اور متحدہ عرب امارات گئے تھے۔ وہاں انہوں نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے بات کرنے کی پہل کی جو کہ اچھی بات ہے لیکن ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوگئی تو کوئی نہیں بچے گا کیونکہ دونوں کے پاس ایٹم بم ہیں۔ شہباز شریف نے ابوظہبی کے حکمران سے کہا کہ آپ کے سبھی ملکوں سے رشتے بہت اچھے ہیں‘ آپ ثالثی کیوں نہیں کرتے؟ ایک طرف وہ ثالثی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف بھارت سے کہتے ہیں کہ آپ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ہمارے حوالے کردو۔ پاکستان کے تین‘ چار وزرائے اعظم سے میری بہت ہی دوستانہ گفتگو رہی ہے۔ سبھی یہ چاہتے ہیں کہ آپس کے تعلقات بہتر ہوں مگر اس خطے میں دشمنی کی سیاست ایسی ہے کہ چاہنے کے باوجود کچھ بہتر نہیں ہو سکا۔ ایسا لگتا ہے ابوظہبی میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے‘ وہ یہاں کے حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ تمام نیتاؤں کی یہ مجبوری ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں نیتاؤں کے مشترکہ بیان میں شہباز شریف کے مذکورہ بیان کا ذکرتک نہیں ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت‘ دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلنی چاہیے، اس سے دونوں ملکوں کے عوام کو کافی ریلیف میسر آئے گا۔ اگر دونوں میں تجارت کھلتی ہے تو اس سے بھی دونوں طرف کے عوام کو ہی فائدہ ہو گا جن کو سستے داموں چیزیں میسر آئیں گی اور ہو سکتا ہے کہ اس سے سارک کے بند دروازے بھی کھل جائیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں