نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سیکیورٹی فورسزکاجنوبی وزیرستان میں آپریشن،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- آپریشن دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات پرکیاگیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- سیکیورٹی فورسزکادہشت گردوں کےٹھکانےکامحاصرہ ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں10 دہشت گردہلاک،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ہلاک دہشت گردوں میں 4اہم کمانڈرزبھی شامل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ٹھکانےسےبھاری مقدارمیں اسلحہ وبارودبرآمد ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تمام دہشت گردبارودی سرنگوں کےدھماکوں میں ملوث تھے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشت گردشہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اورحملوں میں ملوث تھے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردجنوبی وزیرستان میں دہشتگردی کاارادہ رکھتےتھے ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاک فوج دہشتگردی کوجڑسےاکھاڑنےکےلیےپرعزم ہے،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates

ماہم اور عندلیب کو انصاف دیں!

کسی بھی انسان کا بچپن زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے، کھلونے‘ کھیل کود‘ شرارتیں یہ سب ساری زندگی بھر ایک پیاری یاد کی طرح ہمیشہ ساتھ رہتا ہے؛ تاہم بچپن میں اگر کوئی اندوہناک سانحہ پیش آ جائے تو وہ بھی ساری زندگی ایک پرچھائی کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ اگر بچپن پُرتشدد رہا ہو یا بچے کو استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہو توبچہ زندگی کی دوڑ میں بھی بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔
وہ اُس وقت چھ سال کی بچی تھی جب کراچی کے ایک بازار میں ایک دکاندار اس کو پکڑ کر گودام میں لے گیا ۔آج اس سانحے کو گزرے بیس سال ہوگئے ہیں مگر وہ اسے اب تک نہیں بھول پائی، اس کو بازار جانے سے ڈر لگتا ہے، اس کو رات کو نیند نہیں آتی، اسے مختلف ادویات کھانا پڑتی ہیں۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ یہ سب بچپن کے واقعے کے باعث ہے‘ اس کے لاشعور میں ڈر بیٹھ گیا ہے۔ آج وہ 26 سال کی ہو چکی ہے مگر اس کے اندر انجانا خوف اب بھی موجود ہے۔ ایک درندے کی وجہ سے اس کی زندگی تباہ ہوگئی۔ اس وقت وہ اتنی کم عمر تھی کہ اس کو پتا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، وہ روتی رہی، چیختی رہی مگر دکاندار نے اس کو دبوچے رکھا۔ جب وہ گھر آئی تو اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا‘ اکیلے ہی اس غم میں گھلتی رہی مگر جب اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا‘ رات کو چیخیں مار کر اٹھنے لگی اور باہر جانے سے ڈرنے لگی تو والدین کو اندازہ ہو گیا کہ بچی پر کیا سانحہ بیت گیا ہے۔ وہ والدین غافل نہیں تھے‘ اپنے بچوں کا کافی خیال کرتے تھے مگر ایک دن جب سب بچے کھیل رہے تھے تو بچی نے سوچا کہ قریبی بازار سے ٹافیاں اور چپس خرید لوں۔ اسی اثنا میں بچی پر قیامت گزر گئی۔ بچے یا بچی کو تو نہیں معلوم ہوتا کہ اس کیلئے باہر کیا خطرات ہیں۔ اس کو محفوظ ماحول دینا ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
سندھ کی چھ سالہ ماہم اور بلوچستان کی چھ سالہ عندلیب کا دکھ بھی ایسا ہی ہے۔ ایک اس سانحے میں جان سے گزر گئی اور دوسری کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے جو اُسے اس سانحے کی چھاپ اور اس کے خوف کے ساتھ گزارنی ہے۔ عندلیب پہلی جماعت کی طالبہ ہے‘ اس کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ وہ سکول سے واپس آرہی تھی کہ ایک ہمسایہ اس کو دبوچ کر اپنے گھر لے گیا ۔معصوم بچی کو جب سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تو زیادتی کی تصدیق ہو گئی۔ یہ خبر پورے علاقے میں غم و غصے کا باعث بن گئی۔ حکومت بلوچستان نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مجرم کو گرفتار کر لیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے نشہ، موبائل فونز میں اخلاق باختہ وڈیوز اور دین سے دوری جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ اس کے پیچھے لباس نہیں بلکہ کچھ ہوس پرستوں کی پست ذہنیت ہے ، دیر سے شادیاں، مخرب الاخلاق مواد تک عام رسائی اور نکاح جیسی سنت کو مشکل بنا دینے سے صورتحال ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ نکاح کو مشکل اور برائی کو عام کیا جارہا ہے‘ ایسے میں جب پراگندہ خیالات والے لوگوں کو معصوم بچے نظر آتے ہیں تو وہ ان کو اپنا آسان شکار سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد یقینا نفسیاتی امراض کا بھی شکار ہوتے ہیں، ان کا معاشرے میں کھلے عام گھومنا پورے معاشرے کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، ضروری ہے کہ ایسے افراد کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ باقی انسان نما بھیڑے عبرتناک سزائوں سے ڈریں کہ ایسا کوئی جرم کرنے کے بعد وہ انصاف اور قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے۔
دوسرا المناک سانحہ کراچی میں پیش آیا جہاں کورنگی کی ماہم لاپتا ہوگئی۔ وہ بھی چھ سال کی تھی۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں پھولوں کی طرح‘ انہیں دیکھ کر تو پاکیزگی کا احساس ہوتا ہے؛ تاہم شیطان نما انسانوں کو سب اپنا شکار نظرآتے ہیں۔ جس وقت ماہم لاپتا ہوئی وہ گھر سے باہر کھیل رہی تھی‘ علاقے میں لائٹ چلے جانے کے باعث سب لوگ باہر بیٹھے تھے، لائٹ جانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجرم ماہم کو اغوا کرکے لے گیا۔ کچھ ہی دیر میں اس کی گمشدگی کا احساس ہو گیا اور فوری طور پر علاقہ مکینوں نے بچی کے والد کے ہمراہ اس کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ بچی نہیں ملی نہ ہی پولیس نے کوئی مدد کی۔ پھراگلے دن گھر والوں کو اطلاع ملی کہ کہ ایک بچی کی لاش کچرے پر سے ملی ہے۔ ماہم کی تشدد زدہ لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی، اس کو ایک کمبل میں لپیٹ کر کچرے پر پھینک دیا گیا تھا۔ جب میں نے سوشل میڈیا پر یہ وڈیو دیکھی تو گھنٹوں روتی رہی ۔ کیا اس معاشرے میں بچے اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر، ان کا گلا دبا کر، ان کے ہاتھ اور بازو توڑ کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے؟ میں کافی دیر تک یہ سوچ کر روتی رہی کہ نجانے کیا کیا سہہ کر اس نے دم توڑا ہوگا۔ ایک معصوم گڑیا کچرے کے ڈھیر پر پڑی ہوئی تھی، اس کے بازو اور گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، چہرے پر مٹی اور کچرا لگا ہوا تھا۔ میرا دل چاہا کہ اس کی لاش کو گلے لگا کر گھنٹوں روتی رہوں،اس کو خود غسل دوں، اس کو خوشبو لگائوںاور بہت سارا پیار کرکے اللہ کے حوالے کروں۔ میں اس کی ماں نہیں لیکن ممتا تو ہر عورت میں ہوتی ہے۔ جب ماہم کی لاش کوہسپتال لے کر گئے تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ زیادتی کے بعد اس کی گردن توڑ کر اسے قتل کیا گیا۔ سب سے زیادہ افسوسناک انکشاف یہ سامنے آیا کہ ڈاکٹرز کے مطابق‘ ایک سے زائد لوگوں نے بچی سے زیادتی کی۔ یہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ اتنی معصوم بچی کے ساتھ اتنی سفاکی؟ اللہ کی پناہ! اسی علاقے میں اس سے قبل ایک لڑکے کو‘ جو سات سال کا تھا‘ اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کرکے گٹر میں پھینک دیا گیا۔ ماہم کو بھی اسی پیٹرن پر اغوا کرکے زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ اس سارے معاملے میں ایک اور افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ جس وقت بچی لاپتا ہوئی‘ سندھ پولیس نے کوئی مدد نہیں کی بلکہ جب بچی کے والد پولیس میں رپورٹ لکھوانے گئے تو انہیں کہا گیا کہ ہم کیا کریں‘ آپ جا کر مسجد میں اعلان کراوئیں۔
جب مخرب الاخلاق مواد عام دسترس میں ہو گا، دین سے تعلق برائے نام رہ جائے گا تو ایسے ہی ہو گا کہ انسان بھیڑیے بن جائیں گے۔ ان کو ہر بچہ‘ بچی اور عورت اپنی ہوس کی تسکین کا سامان محسوس ہو گی۔ ایسے عناصر کولگام دینا ضروری ہے۔ انہیں سخت سزائیں دینا ہوں گی۔ ان کو پھانسی دیں‘ ان کو عمر قید سے کم کی سزا مت دیں، ان کو سرعام سزائیں دی جائیں تاکہ کسی اور کو آئندہ ہمت نہ ہو کہ وہ کسی شخص پر میلی نظر ڈال سکے۔ کورنگی کی ماہم کا ایک ملزم زاہد‘ سہراب گوٹھ سے پکڑا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اور کون لوگ تھے‘ یہ سوال ہنوز حل طلب ہے ۔
ایک طرف کورونا ہم پر عذاب بن کر نازل ہوا ہے تو دوسری طرف یہ عذاب ہماری قوم پر مسلط ہوگیا ہے کہ یہاں چھوٹے بچوں‘ بچیوں اور عورتوں پر حملے ہورہے ہیں‘ ان کو قتل کیا جارہا ہے۔ اس میں قصور بچوں اور عورتوں کا نہیں ہوتا بلکہ دین سے دوری بے راہ روی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہمیں دین سے قریب ہونے‘ دینی تعلیمات سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے معاشرے‘ جہاں پر جرائم عام ہوجائیں‘ وہاں پر اللہ کے عذاب نازل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہماری قوم کو اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ اس قوم کوراہِ راست پر لے آئے اور تمام اخلاقی برائیوں کا خاتمہ فرما دے تو اس کے لیے واحد راستہ دین کی تعلیم اور انصاف کی بروقت فراہمی ہے۔ ماہم کیس میں اگر پولیس بروقت لواحقین کی مدد کرتی تو شاید ماہم آج زندہ ہوتی۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے اردگرد بھی نظر رکھنے کے ضرورت ہے۔ صرف اپنے ہی نہیں‘ گلی، محلے، علاقے، اس ملک کے بچے بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ ان کی حفاظت کریں‘ یہ قوم کا مستقبل ہیں۔ پھول جیسے بچوں کو جینے دیں،جن بچوں نے آگے چل اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے‘ انہیں جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر مسخ مت کریں، ان پھولوں کو مسکرانے دیں۔ ہمیں ماہم اور عندلیب کو انصاف دینا ہے اور انصاف دینے کا طریقہ یہی ہے کہ ان کے قاتلوں اور مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں