نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 20 اکتوبرسے پورے ملک میں مظاہرے شروع کردیئےجائیں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- 20 اکتوبرسے ریلیاں اورمظاہرے شروع ہوجائیں گے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- انتخابی اصلاحات کی مجوزہ ترمیم کومسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- دھاندلی سےآنیوالی حکومت ترمیم نہیں کرسکتی،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- الیکٹرانک ووٹنگ مشین آرٹی ایس کا دوسرا نام ہے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہمارا مطالبہ عام الیکشن کا ہے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کا کوئی جوازنہیں ہے،مولانا فضل الرحمان
Coronavirus Updates

افغانستان کی موجودہ صورتحال!

ہمارے پڑوس میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے، جی ہاں! طالبان واپس آگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے تک افغانستان کے 34 میں سے 25 صوبوں پر طالبان کا تسلط قائم ہوگیا تھا؛ تاہم کابل میں پیش قدمی کے بعد عملی طور پر اب پورا افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ جس وقت امریکا نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا‘ اس وقت بھی طالبان کی افغانستان میں اتنی عمل داری نہیں تھی جتنا بڑا رقبہ اس وقت افغانستان میں ان کے زیر قبضہ ہے۔ جس وقت طالبان کابل میں داخل ہوئے ‘ان کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ امریکی صدر جو بائیڈن سے کچھ دن پہلے جب یہ سوال ہوا تھا کہ کیا طالبان دوبارہ افغانستان پر قابض ہوجائیں گے تو اُن کا کہنا تھا کہ وہاں تین لاکھ افغان فوجی ہیں جو ٹرینڈ اور جدید اسلحے سے لیس ہیں۔ یہ لاکھوں کی افغان آرمی اور ایئرفورس 75 ہزار طالبان کو کبھی افغانستان پر قابض نہیں ہونے دے گی مگر شاید عوام اور افغان فورسز خود بھی امریکا اور بھارت نواز کٹھ پتلی افغان حکومت سے تنگ تھے اس لیے کہیں پر کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ طالبان بنا مزاحمت کے علاقوں پر علاقے فتح کرتے رہے۔ اب عالم یہ ہے کہ اشرف غنی کی حکومت ختم ہوچکی ہے چونکہ ان کو اپنی جان زیادہ پیاری تھی‘ لہٰذا وہ ہوائی جہاز میں سوار ہوکر تاجکستان چلے گئے۔ (تاجک میڈیا نے اس کی تردید کی ہے، اس کے بعد عمان روانہ ہونے کی خبریں آئیں مگر عمان نے بھی تردید کی ہے، سابق افغان صدر کہاں ہیں‘ فی الحال کوئی نہیں جانتا) معزول صدر اشرف غنی نے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے ایک وڈیو فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس کا متن کچھ یوں تھا کہ طالبان نے مجھے دھمکیاں دیں کہ مجھے ہٹانے کیلئے وہ کابل پر حملوں کیلئے تیار ہیں لیکن میں نے خون خرابے سے ملک کو بچانے کیلئے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح امر اللہ صالح‘ جس نے پاکستان کے خلاف بہت زہر اگلا اور سوشل میڈیا پر بھی پاکستانیوں کی دلآزاری کی‘ بھی بہت بہادری کے راگ الاپ رہا تھا مگر طالبان کے کابل پہنچتے ہی وہ وہاں سے فرار ہوگیا۔ تاریخ میں ان دونوں بھارتی کٹھ پتلیوں کا نام پیٹھ دکھا کر بھاگنے والوں میں لکھا جا چکا ہے۔ ان دونوں نے ہمیشہ پاکستان کی خلاف سازشیں کی ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں امن کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرنا چاہی تو ان دونوں نے کوشش کی کہ پاکستان کے امن کے پیغام کو مسترد کر دیا جائے کیونکہ یہ دونوں بھارت کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے۔ افغانستان کی سرزمین متعدد بار پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی یہاں تک کہ بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ بھی بھارتی ایما پر افغانستان سے بنائے گئے۔ جلال آباد میں قائم بھارت کا قونصل خانہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا رہا اور یہاں سے ٹی ٹی پی اور قوم پرستوں کو فنڈنگ ہوتی رہی۔ پاکستان کے خلاف بھرپور سازشیں ہوئیں مگر پاکستان نے ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کیا اور ان سازشوں کو ناکام بنایا۔
افغانستان میں 80ء کی دہائی سے جنگ جاری ہے، ایک پوری نسل کی آنکھ جنگ میں کھلی اور وہ ہلاک بھی جنگ میں ہی ہوگئی۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ایک پوری نسل جنگ کی نذر ہوگئی۔ البتہ یہ خطہ ہمیشہ سے بڑی قوتوں کا قبرستان ثابت ہوا ہے اور اب امریکی صدر نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کے قبرستان کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پہلے تاجِ برطانیہ‘ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘ کو افغانستان میں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، پھر روس اس سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔ اسی دوران افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو بہت سے افغان باشندے پاکستان کی طرف آ گئے۔ ان کے چہرے جنگ کی ہولناکی کے عکاس تھے۔ اپنے پیاروں کو کھو کر‘ اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر وہ یہاں پہنچے تھے۔ پاکستان نے خوش دلی سے انہیں اپنایا اور وہ یہاں باعزت روزگار کمانے لگے۔ ان کے بچے تعلیم حاصل کرنے لگے‘ ان میں سے بیشتر اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔ جنگ میں ہمیشہ بڑی طاقتیں جیتتی ہیں اور عوام ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔ یہی کچھ افغانستان میں ہوا ہے۔ یہاں کے عوام اچھی تعلیم‘ صاف پانی‘ صحت بخش خوراک اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کتنے مرد اور نوجوان جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے، لاکھوں خواتین بیوہ ہوگئیں‘ بچے‘ بچیاں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں معذور ہوگئے، نوجوانوں کو اغوا کرکے خود کش حملہ آور بنادیا گیا۔ وہاں صحت کی بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔ طالبان کے گزشتہ دور میں اگرچہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی؛ تاہم ان کے طرزِ حکومت کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہاں پر خواتین اور بچوں کے حقوق کی پامالی ہوئی، پھر نائن الیون کا واقعہ پیش آیا تو وہ دنیا جس نے چن چن کر لوگوں کو مجاہدین بنا کر افغانستان بھیجا تھا‘ اب یکدم انہیں دہشت گرد کہہ کر ان کے خلاف کھڑی ہو گئی۔
پاکستان سے بھی اس جنگ میں مغرب اور امریکا کا ساتھ دینے کا کہا گیا۔ پرویز مشرف کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے کسی سے مشورہ کیے بغیر پوری قوم کو اس جنگ میں دھکیل دیا۔ ہم سب کا بچپن دہشت گردی نگل گئی۔ ایک وہ بھی دور تھا جب پاکستان میں ہر روز دھماکے ہوتے تھے۔ اسّی ہزار سے زائد پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ اس جنگ کے اثرات دو دہائی تک ہم سب نے محسوس کیے ہیں۔ افغانستان میں جب بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت قائم ہوئی تب بھی یہ سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہوتی رہی۔ سانحہ اے پی ایس ایک ایسا سانحہ ہے جس میں افغان سرزمین سے دہشت گرد پاکستان آئے اور ہمارے معصوم بچوں اور ان کے نہتے اساتذہ کو شہید کیا۔ یہ سانحہ ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ نئی افغان انتظامیہ سے افغانستان میں موجود ان تمام دہشت گردوں کی پاکستان حوالگی کا مطالبہ کرے۔ ہمیں تب تک قرار نہیں آئے گا جب تک سانحہ اے پی ایس کا ایک ایک مجرم پھانسی نہ چڑھ جائے۔
اب جب طالبان کی حکومت آئی تو یہ امر حیران کن تھا کہ بنا مزاحمت وہ تمام صوبوں پر قبضہ کرتے چلے گئے، اس کا مطلب ہے کہ مقامی عوام بھی امریکا اور اشرف غنی حکومت سے تنگ تھے اس لئے انہوں نے طالبان کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی۔ البتہ جب بھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو عوام شدید مشکلات میں آ جاتے ہیں، کابل میں لوگ پٹرول پمپوں، مارکیٹوں اور بینکوں کے باہر دھکے کھاتے رہے۔ دوسری طرف کابل ایئر پورٹ پر بہت زیادہ رش دیکھنے میں آیا اور فلائٹ آپریشن معطل ہو گیا۔ اس وقت بھی بہت سے سماجی کارکن، صحافی اور سفارتکار وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے کہ پھنسے ہوئے سفارتی عملے اور دیگر شخصیات کو بحفاظت وہاں سے نکالا جائے۔ اس بار کابل بہت حد تک خون ریزی سے محفوظ رہا ہے؛ البتہ عوام میں کسی قدر افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔
اب پھر دنیا کو فکر لاحق ہے کہ کیا طالبان اس بار خواتین اور بچیوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کریں گے؟ کیا وہ ان کو بنیادی انسانی حقوق دیں گے؟ اگر وہ شریعت کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں تو بھی خواتین کو تعلیم اور کاروبار کی اجازت دینِ اسلام دیتا ہے۔ دوسرا، انہیں ان تمام لوگوں سے کنارہ کشی کرنی چاہیے جو پاکستان کے دشمن ہیں۔ افغانستان بہت سے معاملات میں پاکستان پر انحصار کرتا ہے‘ اس لیے یہ نئی انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کیسے تعلقات کی خواہاں ہے۔ ہر انسان کی یہ فطری خواہش ہے کہ وہ پُرامن جگہ پر رہے، اسی لئے بہت سے افغان باشندے غیر ملکی جہازوں کے پہیوں سے لپٹ گئے تاکہ کسی اور ملک جا کر آباد ہو سکیں مگر جب یہ جہاز بلندی پر گئے تو وہ لوگ نیچے گرگئے۔ اس منظر نے مجھے دلی رنج پہنچایا۔ جنگوں میں صرف عام عوام مرتے ہیں، مالی نقصان بھی انہی کا ہوتا ہے۔ افغانستان کو اس وقت صحت اور تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اب سب کی نظریں طالبان پر مرکوز ہیں، جس طرح ان کو کامیابی ملی ہے‘ وہ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑی جاچکی ہیں؛ تاہم خدشہ ہے کہ افغانستان میں آگے آنے والے دن کٹھن ہوں گے اور ان حالات کا پورے خطے پر اثر پڑے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں