نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عیدمیلادالنبیؐ،وفاقی دارالحکومت میں 31توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز
  • بریکنگ :- عیدمیلادالنبیؐ،چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں 21-21توپوں کی سلامی سے دن کاآغاز
Coronavirus Updates

کابل کے ہوٹل کا پانچواں فلور

بھارت کی حکومت اور میڈیا کی تکلیف اس وقت اپنے عروج پر ہے کیونکہ ان کی اربوں کی سرمایہ کاری افغانستان میں ڈوب گئی ہے اور ان کے خفیہ ایجنسی کے اہلکار بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کے میڈیا پر شور مچا ہوا ہے اور طالبان اور افغانستان کے بارے میں جھوٹ اور پروپیگنڈا کی منظم مہم چلا کر ان کو بدنام کیا جارہا ہے۔ پاکستان سے تو ان کی ازلی دشمنی ہے‘ اس لئے بار بار ہمارے ملک اور مسلح افواج کے بارے میں بھی جھوٹی خبریں دی جارہی ہیں۔ بھارت نے حامد کرزئی اور اس کے بعد اشرف غنی دور میں افغانستان اور پاکستان کے مابین بہت سی دوریاں پیدا کردی تھیں۔ پاکستان نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی کہ سفارتی دوری کم ہوجائے لیکن اشرف غنی اور امر اللہ صالح بھارت کے ایما پر ایسا ہونے نہیں دیتے تھے۔ پاکستان کی تمام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر دیا گیا؛ تاہم اس کے باوجود پاکستان نے عام افغان باشندوں کی مدد جاری رکھی۔ عام افغان عوام پاکستان سے اس قدر پیار اور عقیدت رکھتے ہیں کہ ایک جوڑے نے طورخم بارڈر پر اپنی شیرخوار بچی ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے حوالے کردی تاکہ پشاور میں اس کا علاج ہوسکے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانوں کا ساتھ دیا اور اس وقت بھی تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی پاکستان کررہا ہے۔
جس وقت امریکی افواج کا انخلا ہورہا تھا‘ اس وقت بھی غنی انتظامیہ نے پاکستان کے خلاف ایک چال چلی اور سفارتی طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ہوا یہ کہ پاکستان میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ خان نے ایک ٹویٹ کیا کہ ان کی بیٹی اغوا ہوگئی تھی اور اب وہ بمشکل گھر پہنچی ہے۔ جب سیف سٹی کے کیمروں میں دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی مزے سے گھوم رہی تھی اور تین بار اس نے ٹیکسی تبدیل کی۔ میں نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے، نیز یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کی بیٹی نے سفارتی پروٹوکول کیوں نہیں فالو کیا‘ ان کی سکیورٹی کہاں تھی۔ یہ ایک فلاپ ڈرامہ تھا مگر اس معاملے کو عالمی سطح پر کافی اٹھایا گیا اور پاکستان کو بدنام کرنے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی گئی۔ اشرف غنی حکومت نے سفارتی عملہ واپس بلا لیا، اس موقع پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف وہ مہم چلائی کہ اللہ کی پناہ۔ چونکہ زیادہ تر بھارتی چینل انگریزی میں ہیں‘ اس لیے ان کا پیغام دنیا بھر میں جلدی پھیل جاتا ہے اور ہمارا بیشتر میڈیا چونکہ اردو میں ہے‘ اس لیے ہمارا موقف پوری دنیا تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہ ایک توجہ طلب معاملہ ہے۔بعد ازاں اشرف غنی کے اقتدار کا سورج ڈوب ہوگیا اور ان کی یہ سازش اپنی موت آپ مر گئی۔ اب نئی حکومت اور طالبان پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔
طالبان کے آنے سے بھارت کی ساری سرمایہ کاری‘جو اس نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے لیے کی تھی‘ ڈوب گئی۔ را کا نیٹ ورک وہاں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسی کالعدم تنظیموں کو تربیت اور مالی معاونت فراہم کرتا تھا۔ اس کا جلال آباد کا قونصل خانہ جاسوسی اور دہشت گردی کے مقاصد کے لیے وقف تھا۔ طالبان کے آنے کے بعد را کے بہت سے جاسوس افغانستان میں پھنس گئے ہیں جن کو بھارت اب تک نہیں نکال پایا۔ پنج شیر کی لڑائی میں بھارت نے امر اللہ صالح کو ہر طرح سے سپورٹ کیا تھا‘ اس کو امید تھی کہ پنج شیر میں طالبان مخالفین کا قبضہ رہے گا اور بھارت یہاں بیٹھ کر خطے میں مزید دہشت گردی پھیلاتا رہے گا؛ تاہم ان کے ارمانوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب اشرف غنی کی طرح امر اللہ صالح بھی بھاگ گیا۔ بھارت اربوں کی سرمایہ کاری ڈوب جانے، را کا نیٹ ورک ٹوٹ جانے اور اپنے جاسوسوں کے افغانستان میں پھنس جانے کی وجہ سے تلملا رہا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کی نئی حکومت کے خلاف بھارتی میڈیا مسلسل منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ مودی میڈیا جھوٹ کا نان سٹاپ پرچار کررہا ہے اور بار بار منہ کی کھارہا ہے کیونکہ اب فیک نیوز کا پول بہت جلد کھل جاتا ہے۔
بھارت کے بدنام زمانہ اینکر ارنب گوسوامی‘ جو بھارت کے ری پبلک ٹی وی کا ایم ڈی ہے‘ خود کو ''پاکستان کا سر درد‘‘ کہلوا کر فخر محسوس کرتا ہے‘ حالانکہ یہاں بیشتر پاکستانی اسے جانتے بھی نہیں۔ خود اعتمادی کی اس انتہا پر صرف ہنسا جاسکتا ہے کہ پاکستانی نہ اسے جانتے ہیں نہ پہچانتے ہیں مگر وہ خود کو ''اینٹی پاکستان‘‘ کے طور پر بیچ کر بھارتی عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ یہ اینکر مودی کے چہیتے میڈیا ورکرز میں سے ایک ہے۔ پلوامہ فالس فلیگ آپریشن سے بھی یہ آگاہ تھا اور اپنے ملک کے فوجیوں کے مرنے پر خوش تھا کہ اس سے اس کے چینل کو منافع اور ریٹنگ ملے گی۔ اب یہی اینکر ایک بار پھر بھارتی عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ ایسے اینکر چونکہ کبھی فیلڈ میں گئے نہیں ہوتے‘ اے سی والے سٹوڈیو سے شو کرتے ہیں‘ جو کانٹینٹ رائٹر لکھ کر دے دیں‘ وہی پڑھ کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرتے رہتے ہیں‘ اس لیے انہیں نہ تو حقائق کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ناظرین انہیں زیادہ سنجیدہ لیتے ہیں۔ اگلے روز ایسا ہی ہوا جب گلا پھاڑ شو کرتے ہوئے موصوف نے دعویٰ کیا کہ کابل کے سرینا ہوٹل کے پانچویں فلور پر پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کے افسران بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ موصوف اینکر نے یہاں تک کہا کہ انہیں یہ تک معلوم ہے کہ انہوں نے رات کو کھانے میں کیاآرڈر کیا اور ان کا رُوم نمبر کیا ہے؛ تاہم اصل فیلڈ صحافی جو افغانستان کو کور کرچکے ہیں‘ پہلے تو وہ اس بات پر چونکے اور پھر ہنستے رہے کیونکہ کابل میں واقع مذکورہ پنج ستارہ ہوٹل کی صرف دو منزلیں ہیں تو کیا بھارتی اینکر صاحب نے خواب میں پانچواں فلور قائم کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھارت اور اس کے جھوٹے میڈیا کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ اس وقت ارنب گوسوامی ایک Meme بن چکا ہے اور لوگ اس کو 'پانچویں فلور والا‘ کہہ کر چھیڑ رہے ہیں۔ اس کا تو دعویٰ تھا کہ اسے سب معلوم ہے کہ ہوٹل کے پانچویں فلور پر کتنے پاکستانی اہلکار موجود ہیں‘ ان کا کمرہ نمبر کیا ہے، حتیٰ کہ انہوں نے کھانے میں کیا کھایا‘ وہ یہ بھی جانتا ہے مگر وہ یہ بھول گیا کہ ہوٹل میں پانچویں منزل ہے ہی نہیں۔ اب اس کی ڈھٹائی دیکھیں کہ کہتا ہے کہ میں نے تو صرف پرینک کیا تھا یعنی مودی کا لے پالک اینکر بے شرمی اور ڈھٹائی کی تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ پاکستانی اداروں پر جھوٹا الزام عائد کیا اور چونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے‘ اس لیے جب جھوٹ پکڑا گیا تو ساتھ ہی پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ یہ شاید پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ بھارتیوں کے ساتھ مذاق کر رہا اور انہیں بے وقوف بنا رہا تھا کیونکہ پاکستان میں تو بھارتی چینل دیکھے ہی نہیں جاتے۔ اگر اسے ہنسی مذاق ہی کرنا ہے تو صحافت کیوں کررہا ہے‘ سٹینڈ اَپ کامیڈین بن جائے اور سارا وقت لوگوں کو جھوٹ سنا سنا کر ہنستا رہے یا پھر پرینک سٹار بن جائے اور یوٹیوب پر چینل کھول کر لوگوں کے ساتھ پرینک کرے۔ پرائم ٹائم میں‘ ٹاک شو میں سنجیدہ موضوعات پر ڈسکشن کرنے کے لیے کسی جھوٹے اور بنا تصدیق بات کرنے والے اینکر کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس طرح کی غلطی اگر کسی عالمی میڈیا ادارے میں کی گئی ہوتی تو اب تک ایسے شخص پر صحافت اور اینکرنگ کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگئے ہوتے مگر شاید بھارت میں یہی سب چلتا ہے‘ اسی لیے ارنب جیسے لوگ وہاں پرائم ٹائم اینکر بن جاتے ہیں ۔جھوٹ بولنے سے انسان کی اپنی ساکھ ہی خراب ہوتی ہے، اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جس موضوع پر پروگرام کیا جا رہا ہے، اس پر آپ کی گرفت کتنی ہے اور یہ کہ آپ نے اس حوالے سے کتنی تیاری کی ہے۔ اسے طرزِ عمل کو تو زرد صحافت کہا جاتا ہے کہ پتا آپ کو کچھ نہیں اور حکومت اور مودی کے کہنے پر پاکستان مخالف ایجنڈا لے کر بیٹھ گئے شو کرنے کے لیے۔ ارنب گو سوامی اس وقت مذاق اور جھوٹ کا دوسرا نام بن چکا ہے، اس سے قبل بھی بے شمار بار اس شخص کے جھوٹوں کا پردہ فاش ہوا مگر یہ شخص نہ صرف ایک اینکر ہے بلکہ ایک ٹی وی چینل کا ایم ڈی بھی ہے۔ اسی سے بھارتی صحافت کے معیار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔بھارت واسیوں کو شاید اس سے کوئی فرق نہ پڑے مگر عالمی سطح پر بھارتی میڈیا اور اس کے جھوٹ کا پول کھلتا جا رہا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں