نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی صدارت میں میکرواکنامک مشاورتی گروپ کااجلاس
  • بریکنگ :- پاکستان کےمعاشی اشاریےاورزرمبادلہ کےذخائرمستحکم ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حکومت نےگزشتہ حکومت کےمعاشی مسائل حل کیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناسےپیدامعاشی مشکلات کابہترطریقےسےمقابلہ کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ملکی معیشت پائیدارترقی کی طرف گامزن ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- بڑےپیمانےکی صنعتی پیداواربتاتی ہےکہ ملک ترقی کررہاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برآمدات میں اضافہ معاشی پالیسیوں کےدرست سمت میں ہونےکی دلیل ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- معاشی ترقی گزشتہ مالی سال سےزیادہ ہونےکی امیدہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےمعاشی مشاورتی گروپ کےارکان کی تجاویزکاخیرمقدم کیا
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی معاشی ریلیف عوام تک جلدپہنچانےکیلئےاقدامات اٹھانےکی ہدایت
Coronavirus Updates

’’لنک پر کلک کریں‘‘

زُوم پر اردو اور ہندی بولنے والے صحافیوں میں ایک مکالمہ ہورہا تھا‘موضوع تھا: فیک نیوز۔ اس مکالمے میں مَیں بھی شریک تھی۔ میں نے برملا کہا کہ بھارت فیک خبروں کا موجد ہے، کچھ بھارتی صحافیوں نے پاکستان پر بھی الزام تراشی کی کوشش کی مگر میں نے فوری کہا: ہرگز نہیں! ہمارا میڈیا اور اخبارات صاف صحافت کے علمبردار ہیں۔ ہم تمام تر صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھ کر صحافت کرتے ہیں، پوری تصدیق کے بعد خبر شائع اور نشر کرتے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی پینترا بدلتے ہوئے کہا: آپ کے الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کی بات نہیں کررہے‘ سوشل میڈیا کی بات ہو رہی ہے، یوٹیوب‘ فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر آپ اپنے بارے میں ہی پڑھ لیں‘ سب سمجھ آ جائے گا کہ کتنا کچھ جھوٹ لکھا ہے۔ آپ کے اپنے ملک کے سوشل میڈیا صارفین پاکستان اور ملکی شخصیات کے خلاف منفی مہم چلا رہے ہوتے ہیں۔ اس پر میں نے تاسف سے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا: یہ بات بہت حد تک درست ہے لیکن سوشل میڈیا تو پوری دنیا میں ہر جگہ بے لگام ہے، کوئی بھی اس کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ مجھے دل میں پاکستان کے بڑے سوشل میڈیا مگرمچھوں پر بھی افسوس ہوا جن کی وجہ سے ملک کو اور مجھے طعنہ سننے کو ملا۔
یہ مگرمچھ جانی مانی شخصیات ہیں‘ کچھ پردے کے پیچھے سے اکائونٹس چلارہے اور جھوٹ‘ بہتان تراشی اور بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سیمینار کے بعد میں نے سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی تو ٹاپ ٹرینڈنگ دیکھ مجھے شدید شرمندگی ہوئی کیونکہ اخلاقیات کا جنازہ نکالا جارہا تھا۔ پہلے ٹویٹر کو دیکھا جہاں گالی گلوچ پر مبنی منظم ٹرینڈ بنائے جا رہے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں اس کے پیچھے کون ہوتا ہے، ایک دن ایک پارٹی کا لیڈر سوشل میڈیا پر نشانہ بنتا ہے تو دوسرے دن دوسری پارٹی کی لیڈر شپ کو رگڑا لگتا ہے۔ اِن ٹرینڈز میں گالیاں دی جاتی ہیں‘ فحش گوئی کی جاتی ہے اور فیک ایڈیٹ شدہ تصاویر اور وڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ سارا دن شور مچا رہتا ہے۔
سارا دن مختلف پارٹیوں کے فالورز آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں؛ تاہم میں یہاں پر یہ بھی ضرور کہنا چاہوں گی کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکنان سوشل میڈیا پر بدتمیزی نہیں کرتے، باقی لگ بھگ سبھی سیاسی جماعتوں کے نام پر بنے اکائونٹس دن رات سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیزی برپا رکھتے ہیں۔ جب میں نے ان ٹرینڈز کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر فیک ہوتے ہیں۔ یہ پیڈ ٹرینڈ ہوتے ہیں۔ جعلی ٹرینڈ یا نقلی فلوونگ کسی کام کی نہیں ہے‘ اس لیے جھوٹی اور پیڈ سوشل میڈیا ریچ دل کو بہلانے کیلئے تو اچھا خیال ہے لیکن اصل میں تو آپ کے پاس نہ تو شہرت ہے اور نہ ہی طاقت۔ ایسی ٹیموں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ماحول بہت خراب ہوگیا ہے، ہر وقت گالی گلوچ‘ الزام اور طعنے، یہ سب دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
اگر فیس بک کی طرف نگاہ دوڑائیں تو وہاں پر بھی کچھ لوگوں کا ذریعۂ معاش ہی یہ ہے کہ لوگوں کے نام سے جھوٹی خبریں منسوب کرنا، سلیبرٹیز کے نام سے جعلی پیج بنانا، ان کے نام پر لوگوں سے پیسے لوٹنا، خواتین کی فیک پروفائلز بناکر مردوں کو بے وقوف بنانا اور پیسے اینٹھنا، مخرب الاخلاق باتیں کرنا، فحش وڈیوز اَپ لوڈ کرنا اور گالی گلوچ کرنا۔ ہمارا مذہب ہمیں ان تمام چیزوں سے منع کرتا ہے اور ایسی کمائی کسی بھی طور حلال نہیں ہے، ہمیں ان سب سے دور رہنا چاہیے۔ فحش کلپ بنانے والا‘ اَپ لوڈ کرنے والا، شیئر کرنے والا اور دیکھنے والا‘ سب گناہ گار ہیں۔ اس سے کمایا گیا پیسہ بھی حرام ہوگا۔ہم کیوں چند ٹکوں کی خاطر حلال اور حرام کی تمیز بھول گئے ہیں؟ اگر آپ فیس بک کی ٹرینڈنگ اوپن کریں تو ذومعنی جملے، فحش وڈیوز اور فیک نیوز سب سے اوپر ہوں گی۔ یہ نہایت افسوس ناک امر ہے کہ لوگ دین اور اخلاقیات سے دور اور برائی کے قریب ہورہے ہیں۔ ہم شاید بھول جاتے ہیں کہ جو کچھ ہم اپ لوڈ کرتے ہیں‘ وہ ڈیٹا انٹرنیٹ پر محفوظ ہورہا ہے، انسان مر جائیں گے مگر یہ چیزیں اسی طرح موجود رہیں گی۔ ہمیں قبر میں اور روزِ قیامت ان چیزوں کا بھی حساب دینا ہو گا۔ اس وقت یہ لوگ سوچیں گے کہ کاش دو منٹ کی دنیاوی زندگی مل جائے تاکہ ہم یہ سب فیک نیوز اور فحش مواد ڈیلیٹ کرسکیں لیکن تب ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ ان چیزوں کی وجہ سے جن لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے، جو لوگ ناحق بدنام ہو رہے ہیں‘ان کی دکھ، درد کا حساب الگ سے دینا ہوگا۔ جس طرح گوگل‘ فیس بک‘ ٹویٹر‘ انسٹاگرام‘ ٹاک ٹاک‘ سنیپ چیٹ اور دیگر سوشل میڈیا ایپس ہمارا ڈیٹا اکٹھا کررہی ہیں‘ اس سے بہت پہلے سے‘ ہماری پیدائش سے کراماً کاتبین ہماری برائیاں اور اچھائیاں لکھ رہے ہیں، ان سے تو کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے، ہمارا ہر ہر لمحہ ان کی نگاہوں میں ہے۔ کاش کہ ہم یہ سمجھ سکیں!
اگر یوٹیوب کا جائزہ لیں تو وہاں بھی ٹرینڈنگ میں فیک نیوز سب سے اوپر ہے، فحش وڈیوز ٹاپ پر ہیں۔'' لنک پر کلک کریں اور دیکھیں‘‘، جان بوجھ کر ایسے تھمب نیل بنائے جاتے ہیں تاکہ نوجوان تجسس کی باعث اس کی طرف متوجہ ہوں۔ گناہ میں خود تو یہ لوگ مبتلا ہوتے ہی ہیں لیکن ساتھ دوسروں کو بھی اس میں شریک کررہے ہیں۔ یہ دہرا گناہ ہوتا ہے کہ گناہ کے کسی کام میں کسی دوسرے کو بھی شریک کیا جائے۔ جس کو ہم اپنے گناہوں میں شریک کرتے ہیں‘ اس کا حساب اُسے تو دینا ہی ہو گا، ہم پر بھی اس کا وبال آئے گا۔ جس طرح رات کو کچھ جانوروں کے غول نکل کر کھانا تلاش کرتے ہیں‘ یہی منظر ہمیں یوٹیوب پر بھی نظر آتا ہے‘ شورشرابا برپا ہوتا ہے، لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں اور خبر اور اندر کی خبر کے نام پر صحافت کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔ اس میں نامعلوم افراد، نامعلوم یوٹیوبرز، سوشل میڈیا کے صحافی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان جو خود کو صحافی کہلاتے ہیں‘ سرفہرست ہیں۔ کچھ نامی گرامی اینکرز‘ جو اپنے شوز میں تو محتاط رہتے ہیں لیکن یوٹیوب پر انہوں نے بھی اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں‘ ان کی تو پانچوں گھی میں ہیں کہ اگر چینل کی نوکری سے یہ نکالے بھی جائیں تو جو خرافات سوشل میڈیا پر وہ کررہے ہیں‘ اس سے وہ ہر ماہ لاکھوں روپے چھاپ رہے ہیں، اس پر وہ کتنا ٹیکس دیتے ہیں‘ کسی کو معلوم نہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسا پیسہ جو کسی کو ناحق بدنام کرکے، کسی کی عزت نیلام کرکے، جھوٹ بول کر، جھوٹ پھیلا کر اور فحاشی و عریانی سے کمایا گیا ہو‘ کیا ایسا پیسہ حلال ہوگا؟ ہرگز نہیں! یہ کمائی حرام کی کمائی ہے اور یقینا اس کے اثرات نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
فیس بک‘ یوٹیوب‘ ٹویٹر کے علاوہ اب وٹس ایپ پر ''لنک پر کلک کریں‘‘ کا دھندا جاری ہے۔ سب سے زیادہ فیک خبریں یہیں پر پھیلائی جاتی ہیں، اس کے علاوہ کسی کو بدنام کرنے کیلئے تصاویر اور وڈیوز بھی یہاں سے پھیلا کر بعد میں جعلی مذمت کی جاتی ہے۔ فیس بک‘ ٹویٹر انسٹاگرام اور یوٹیوب پر تو وڈیوز رپورٹ کی جاسکتی ہیں لیکن وٹس ایپ کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں، کون کہاں سے کس کے خلاف سازش کررہا ہے‘ کچھ پتا نہیں چل پاتا۔دنیا کے جھمیلوں میں ہم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ دنیا ایک عارضی جگہ ہے اور اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوگی۔جھوٹ کے یہ بیوپاری کیا منہ لے کر اللہ کے حضور جائیں گے؟ بڑے اکائونٹس اگر اپنی سوشل میڈیا ریچ کو بھلائی کیلئے استعمال کریں تو یہ ان کے لیے توشۂ آخرت بن جائے، اس کو وہ ملک کے سائبر دفاع کے لئے بھی استعمال کرسکتے ہیں، پھر ہمارا سارا فوکس اپنے ہم وطنوں کے خلاف سازشوں پر کیوں مرکوز ہے؟کیوں ہم اپنے مخالفین کو بدنام کررہے ہیں؟ اگر آپ کے پاس زیادہ فالورز اور سبسکرائبرز آہی گئے ہیں تو انہیں نیکی و بھلائی کے کاموں کیلئے استعمال کریں اور حلال رزق کمائیں اور کچھ بھی شیئر اور اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ کیا آپ اس کے گناہ کا بوجھ اٹھا سکیں گے ؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں