نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

مریم بی بی ‘ نعیم کلاسرہ اور آمنہ کے لیے

طیب پچھلے کئی سال سے اصرار کررہا تھا کہ میں جیسل آئوں۔ میں ہر سال اس سے وعدہ کرتا تھا کہ اس بار سردیوں میں ضرور آئوں گا۔ یہ بات نہیں کہ میں محض اس کو بہلانے کے لیے یہ کہتا تھا بلکہ میں ہمیشہ پورے خلوص اور سچائی سے یہ وعدہ کرتا تھا مگر ہرسال کچھ ایسا ہوتا کہ بات اگلے سال پر چلی جاتی۔ میں نے گرمیوں کے اختتام کے قریب طیب سے پھر وعدہ کیا کہ کچھ بھی ہوجائے میں ان سردیوں میں ہرحال میں جیسل آئوں گا۔ میں سردیوں کے اختتام سے پہلے اکیس فروری کو جیسل گیا۔ مجھے جیسل جانے کا بڑا اشتیاق تھا مگر میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں پہلی بار جیسل اس طرح جائوں گا کہ مجھے ڈاکٹر نعیم کلاسرہ کی نماز جنازہ پڑھنی ہوگی۔ جیسل رؤف کلاسرہ کا گائوں ہے۔ ماڈل ویلج ۔ نعیم کلاسرہ جیسل کا پہلا لڑکا تھا جو میڈیکل کالج میں داخل ہوا۔ آج جیسل میں سوفیصد بچیاں سکول جاتی ہیں۔ نعیم کلاسرہ اس علم کی بارش کا پہلا قطرہ تھا۔ پھر اس گائوں میں تعلیم نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ صرف آگے کا سفر کیا۔ جیسل میں تعلیم کا چراغ ایک ان پڑھ خاتون نے روشن کیا۔ یہ خاتون مریم بی بی تھی۔ لیہ کے ایک دورافتادہ گائوں میں رہنے والی ایک ان پڑھ بیوہ ۔ جس کا خاوند اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی ساری ذمہ داری اس پر چھوڑ کر رخصت ہوگیا تھا۔ مریم بی بی جب بیوہ ہوئی تو اس کا سب سے بڑا بیٹا فرسٹ ایئر میں پڑھتا تھا۔ یہ بیٹا نعیم کلاسرہ تھا۔ تب رئوف کلاسرہ کی عمر صرف چھ سال تھی۔ مریم بی بی کے شوہر کو سانپ نے کاٹ لیا تھا۔ اسے نشتر ہسپتال ملتان لایا گیا ۔ مگر وہ جانبر نہ ہوسکا۔ رئوف جب اپنے والد کو دیکھنے بس پر اپنے عزیز کے ساتھ نشتر ہسپتال پہنچا تو پتہ چلا کہ اس کے والد کی میت کئی گھنٹے قبل لیہ بھجوائی جاچکی ہے۔ رات گئے چھ سالہ رؤف جب جیسل پہنچا تو اس کے والد کی تدفین ہوچکی تھی۔ رئوف اپنے والد کا آخری دیدار نہ کرسکا۔ جیسل جنوبی پنجاب کے دورافتادہ اور پسماندہ دیہات جیسا ایک گائوں تھا۔ تعلیم اور خوشحالی سے یکسر محروم۔ مگر یہ مجبوریاں مریم بی بی کے حوصلے اور ہمت کے سامنے ہارمان گئیں۔ مریم بی بی نے کھیت میں ہل چلایا۔ زیور بیچے۔ محنت کی اور بچوں کو صرف یہ کہا کہ وہ پڑھیں۔ خیال عاجز ہے کہ تعلیم کی روشنی سے یکسر محروم ایک پسماندہ سے گائوں کی بیوہ کو تعلیم سے محبت کیسے ہوئی ؟حیرت ہوتی ہے کہ اسے یہ شعور کس نے بخشا۔ ڈاکٹر نعیم کلاسرہ جیسل کا پہلا ڈاکٹر تھا۔ رئوف نے انگر یزی ادب میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد تو پھر چل سوچل۔ آج گائوں پڑھے لکھے نوجوانوں سے بھرا پڑاہے۔ اس کا سارا کریڈٹ مریم بی بی کو جاتا ہے۔ طیب رئوف کا بھانجا ہے۔ طیب سے چھوٹا راشد ہے اور اس سے چھوٹا منصور ۔ درمیان میں کہیں آمنہ ہے۔ یہ سب رئوف کے بھانجے اور آمنہ بھانجی ہے۔ رؤف کے سارے بھانجے مجھے اپنے ماموں سے تعلق کی بنیاد پر نہ صرف یہ کہ ماموں کہتے ہیں بلکہ مجھے گمان ہے کہ ان کی کمیونیکیشن رئوف کی نسبت میرے ساتھ زیادہ بہتر ہے۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ رئوف سے محبت کرتے ہیں اور میں بھی ان سے اسی نسبت سے محبت کرتا ہوں کہ میں خود رئوف سے محبت کرتا ہوں ۔ درمیان میں جب قریب آٹھ نوماہ تک میں رئوف سے ناراض تھا تو اس مطلب یہ نہیں تھا کہ مجھے اس سے جو محبت تھی وہ ختم ہوگئی تھی ۔ بسااوقات ناراضگی کی وجہ محبت ہوتی ہے۔ میرا معاملہ بھی ایسا ہی تھا تاہم اس دوران میرے اور رئوف کلاسرہ کے تینوں بھانجوں طیب ، راشد اور منصور کے درمیان رابطہ معمول سے زیادہ بڑھ گیا۔ اس کی وجہ ان کی طرف سے کیا تھی مجھے معلوم نہیں مگر میں اس بارے میں اس لیے زیادہ محتاط تھا کہ کہیں ان بھائیوں کو یہ احساس نہ ہو کہ میں شاید رئوف کے ساتھ تعلقات میں کچھائو کے باعث انہیں نظرانداز کررہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ بھائی بھی شاید شعوری طور پر اپنی جانب سے ایسی ہی کوشش کررہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید وہ ہمارے درمیان پُل کا کام دے رہے ہیں مگر یہ صرف ان کی محبت تھی وگرنہ حقیقت یہ تھی کہ وہ ہمارے درمیان پُل نہیں تھے بلکہ تمام تر ناراضگی کے باوجود رئوف ہی ہمارے درمیان ایسا پُل تھا جس پر یہ محبت بھرے تعلقات قائم تھے۔ میں جیسل باوجود تمام تر کوششوں کے نہ جاسکا۔ شایدیہ میرے بس میں نہیں تھا۔ میں سدا کا مسافر اور محض دومنٹ کے نوٹس پر برطانیہ اور امریکہ کے سفر پر چل پڑنے والا، اپنی تمام تر دلی خواہش کے باوجود جیسل نہ جاسکا۔ بس ابھی اس کام کی منظوری نہ ہوئی تھی اور منظوری ہوئی بھی تو کس موقعے اور کام کے لیے۔ میں اکیس فروری کو جیسل گیا لیکن جیسل نہ دیکھ سکا۔ میں ، جمشید رضوانی ، شکیل انجم اور سجاد جہانیاں گھنٹوں اس سڑک پر کھڑے رہے جدھر سے ایک ایمبولینس نے اسلام آباد سے آنا تھا۔ مغرب کے بعد ملگجے میں ہم نے ہلکی ہلکی بارش کے دوران ڈاکٹر نعیم کلاسرہ کی نمازجنازہ پڑھی۔ ڈاکٹر نعیم کلاسرہ، جیسل کے بچوں کے لیے، ایک پوری جنریشن کے لیے ہمت اور عزیمت کا نشان تھا۔ میری رئوف سے ملاقات نماز جنازہ کے بعد ہوئی۔ رئوف بکھرا ہوا تھا اور مجھ میں اسے حوصلہ دینے کے لیے روایتی الفاظ نہیں تھے۔ میں خود پچیس سال قبل اسی صورت حال سے گزر چکا تھا جب میں نے اپنا بڑا بھائی کھودیا تھا۔ طارق کی عمرتب محض چھتیس سال تھی جب وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ وہ میرا بڑا بھائی ہی نہیں دوست اور یاربیلی بھی تھا۔ا س کے چلے جانے سے میں بھائی نامی رشتے سے سدا کے لیے محروم ہوگیا۔ ڈاکٹر نعیم کلاسرہ، رئوف کے لیے شاید اس لیے اس سے بڑھ کر تھا جیسا طارق میرے لیے تھا کہ اس نے چھ سالہ رئوف کی باپ سے محرومی کے بعد باپ کے فرائض بھی سرانجام دیے تھے اور سرپرست کے بھی۔ رئوف کو رئوف کلاسرہ بنانے میں رئوف کی محنت سے بڑھ کر ڈاکٹر نعیم کلاسرہ اور اس سے زیادہ مریم بی بی کا ہاتھ تھا۔ میں نے جیسل اس روز بھی نہیں دیکھا مگر میں جیسل کو آنکھوں سے نہیں چشمِ تصور سے محسوس کرسکتا ہوں۔ بقول تیمور حسن ؎ تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے تیری اندازے سے تصویر بنا سکتا ہوں قاری حافظ محمد یار کے بچے جیسل میں رہتے ہوئے وہ تمام تعلیمی منازل طے کرچکے ہیں یاکررہے ہیں جو کسی بڑے شہر کے بچے کا خواب ہوسکتا ہے۔ ساری عمر کبیر والا میں کتابوں کے درمیان زندگی گزارنے والے محمد یار کا بیٹا طیب ماسٹرز کرچکا ہے۔ راشد ایجوکیشنل مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے والا ہے۔ منصور اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کرچکا ہے اور آمنہ نے ایم اے کیا ہے اور صرف آمنہ پر ہی کیا موقوف جیسل کی تمام لڑکیاں ، سوفیصد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔ جیسل کے نوجوانوں کا آئیڈیل شاید آج رئوف کلاسرہ ہے لیکن رئوف کا آئیڈیل ڈاکٹر نعیم کلاسرہ تھا جو ایک پوری نسل کے لیے ایک ایسا چراغ تھا جس نے سارے جیسل میں علم سے محبت کا چراغ روشن کیا۔ جیسل تین لوگوں کو کبھی نہ بھول سکے گا۔ ایک مریم بی بی، دوسرا ڈاکٹر نعیم کلاسرہ اور تیسری آمنہ ۔ رئوف کلاسرہ ان سب کے درمیان کہیں موجود ہے۔ محسوس ضرور ہوتا ہے مگر اس کو ایک طرف سے مریم بی بی نے اور دوسری طرف سے ڈاکٹر نعیم کلاسر ہ نے تھاما ہوا ہے۔ جب مریم بی بی نے ارادہ کیا اور ڈاکٹر نعیم کلاسرہ نے سفر کا آغاز کیا تو نہ کوئی ہاتھ تھامنے والا تھا اور نہ انگلی پکڑنے والا۔ سوائے اوپر والے کی ذات کے۔ آج کا کالم مریم بی بی، نعیم کلاسرہ اور آمنہ کے لیے ۔یہ ان تین نسلوں کے نمائندے ہیں جنہوں نے نہ صرف جیسل بلکہ اردگرد کے دیہات کا سارا منظر تبدیل کردیا۔ یہ تینوں کردار دنیا میں موجود ہیں مگر کم کم۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں