نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اجلاس میں کامیاب پاکستان پروگرام کی منظوری دی گئی
  • بریکنگ :- کامیاب پاکستان پروگرام کے 5 نمایاں پہلوہیں، اعلامیہ
  • بریکنگ :- وزیرخزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

وزارت عظمیٰ کے آزاد امیدوار

ویسے تو پاکستان کی ہرسیاسی پارٹی کے پاس ہرضلع میں کوئی نہ کوئی شاہ محمود قریشی موجود ہے جس نے سارے انتخابی منظر نامے کو اپنی حیثیت کے مطابق یرغمال بنانے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کررکھی ہیں مگر شاہ محمود قریشی کو ان تمام لوگوں پر جو فضیلت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اس کی مار اپنے ملتان میں دوحلقوں کے علاوہ ضلع بھر کی دیگر صوبائی نشستوں اور اردگرد کے اضلاع سے بڑھ کر سندھ تک جاپہنچی ہے۔ وہ حلقہ این اے 152پر پی ٹی آئی کے امیدوار قومی اسمبلی ابراہیم خان کے نیچے پی پی 203پر اپنی مرضی کا امیدوار گھسیڑنا چاہتا ہے اور مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 177پر بھی اپنے رشتہ دار کو کھڑا کرنا چاہتا ہے ۔ تحریک انصاف کا ساتھ دینے والی اصل طاقت یعنی نوجوان ، جس چیز سے تنگ آکر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے وہ یہی تھی کہ وہ پرانے چہروں سے، پاکستانی سیاست میں عشروں سے موجود پرانے خاندانوں سے اور انجمن امداد باہمی کے اصولوں کے تحت کام کرتی ہوئی سیاسی پارٹیوں سے بیزار تھے۔ وہ کوئی سیاسی اور سماجی تبدیلی چاہتے تھے مگر ہوا یہ کہ وہی پرانے چہرے اور سیاستدان جو پاکستان میں تمام تر سیاسی خرابیوں کے ذمہ دار یا حصہ دار تھے نقب لگاتحریک انصاف میں آگئے ہیں۔ نوجوان نسل پریشان ہے کہ وہ کیا کرے اور کہاں جائے؟ بیرون ملک مقیم میرے ایک دو قارئین کو گلہ ہے کہ میں آج کل صرف ملتان اور جنوبی پنجاب کے سیاسی معاملات تک محدود ہوکر رہ گیا ہوں اور اپنا دائرہ کار چھوٹا کرلیا ہے۔ ان کا شکوہ بجا ہے مگر معاملہ یہ ہے کہ سدا سے معاشی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے نظر انداز کیا جانے والا یہ خطہ میڈیا میں بھی نظرانداز ہوتا رہا ہے اور خصوصاً قومی میڈیا میں اس کا حصہ بہت ہی کم رہا ہے۔ ایک عرصہ کے بعد آپریشنل ہونے والا ملتان کا پی ٹی وی سٹیشن ابھی تک اپنے جائز حصے کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کرسکا۔ نہ وقت کے حساب سے اور نہ ہی اُسے مالی اعتبار سے دیگر علاقائی سٹیشنوں کے مقابلے پر کوئی خاطرخواہ حصہ مل رہا ہے۔ ایسے میں روزنامہ دنیا کے حوالے سے یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے وسیب پر کچھ لکھنے کی سہولت حاصل ہے تو میں بحیثیت ’’سن آف سوائل‘‘ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی سعی کررہا ہوں۔ چارکروڑ سے زائد آبادی کے اس خطے پر لکھنا علاقائی یا لوکل معاملہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ایک اہم حصے پر لکھنا میرے لیے ایک قابل فخر کام ہے۔ انتخابات کا زمانہ ہے اور یہ ایسے انتخابات ہیں جن کا پاکستان کے مستقبل اور پورے خطے پر اثر پڑنے والا ہے۔ ایسے موقعے پر میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ بجائے پورے پاکستان کے سیاسی معاملات پر طائرانہ نظر دوڑانے، عمومی قسم کے تجزیے کرنے اور گول مول تبصرے کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ایک مخصوص علاقے اور خطے پر ہی سہی مگر تھوڑی گہرائی اور تحقیق کے ساتھ لکھا جائے۔ امید ہے میرے معترض قارئین جو یقینا محبت میں یہ بات کہہ رہے ہیں میرے نقطہ نظر سے اتفاق کریں گے اور صرف اس مختصر سے عرصے کے لیے مجھے اپنا دائرہ کار تھوڑا محدود کرلینے پر کیا جانے والا اپنا شکوہ ایک ماہ کے لیے موخر کردیں گے۔ پھر انشاء اللہ پورا پاکستان بلکہ پوری دنیا ہوگی‘ یہ عاجز ہوگا اور قارئین ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کو غالباً اپنے آبائی حلقہ این اے 149اور بعدازاں قبضائے گئے حلقہ این اے 150سے اپنی جیت کا پورا یقین نہیں ہے۔ حلقہ این اے 148پر انہوں نے 2008ء کے انتخابات میں جہاں اسی ہزار کے لگ بھگ ووٹ لیے تھے وہاں سے نو آموزاور ایفی ڈرین فیم علی موسیٰ گیلانی نے نوے ہزار سے زائد ووٹ لے کر شاہ محمود قریشی کی ہوا سرکا دی ہے۔ اوپر سے غضب یہ ہے کہ علی موسیٰ گیلانی کے نیچے حلقہ پی پی 201 سے شاہ محمود قریشی کا چھوٹا بھائی مرید حسین قریشی پیپلزپارٹی کی طرف سے امیدوار ہے اور خاندانی اختلافات اب عوام میں آچکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو اپنے پرانے حریف اور تازہ حلیف جاوید ہاشمی کے ووٹ بنک پر بھی پورا اعتبار نہیں کہ وہ اسے ملے گا یا نہیں ملے گا۔ جاوید ہاشمی اپنا آبائی حلقہ این اے 148چھوڑ کر ملتان شہر کے حلقہ این اے 149سے امیدوار ہے۔ شاہ محمود قریشی کے آبائی حلقہ این اے 148کے نیچے دوصوبائی حلقے پی پی 201اور 202ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے حلقہ پی پی 201سے پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے عباس راں کو نامزد کیا ہے اور حلقہ پی پی 202سے جاوید ہاشمی کی دختر میمونہ ہاشمی کے لیے فرمائشی ٹکٹ مانگی ہے اور دلوائی ہے۔ وہاں سے جاوید ہاشمی کا بھتیجا اور داماد زاہد بہار ہاشمی امیدوار تھا مگر شاہ محمود نے خود زور دے کر میمونہ ہاشمی کو اس حلقے سے ٹکٹ دلوایا ہے۔ شہر سے حلقہ این اے 150پر شاہ محمود قریشی نے اپنے نیچے پی پی حلقہ 195پر پارٹی اور عوام کے لیے بالکل غیرمعروف شخص جاوید انصاری کے لیے پوری تگ ودو کرکے ٹکٹ خاصی حدتک پکا کروا لیا ہے۔ یہاں سے پچھلے کچھ عرصہ میں شاہ محمود قریشی نے خالد جاوید وڑائچ سے ٹھیک ٹھاک خرچہ کروایا، انٹرا پارٹی انتخابات میں اسے خوار و بدنام کروایا اور عین موقعہ پر اسے چھوڑ کر اپنا انتخابی خرچہ کروانے کے لیے ایک اور سپانسر ڈھونڈ لیا۔ اسی حلقہ سے ضلعی، علاقائی اور صوبائی پارلیمانی بورڈ کا منظورکردہ امیدوار اعجاز جنجوعہ تھا جو ضلع ملتان کا تحریک انصاف کا صدر ہے۔ تقریباً یہی حال دوسرے صوبائی حلقہ پی پی 196کا ہے جہاں سے شاہ محمود قریشی کا سارا خرچہ رانا جبار نے اٹھایا اور شاہ محمود قریشی کا ووٹ واقعتاً ایک ہفتہ قبل تحریک انصاف میں شامل ہونے والے کروڑ پتی میاں جمیل کے حق میں ہے۔ جاوید ہاشمی اس سارے معاملے پر خاموش ہے جو نیم رضامندی کے زمرے میں آتا ہے۔ نوجوانوں کو امید تھی کہ حالات بدلیں گے، پرانے بت گریں گے، نئی روایات جنم لیں گی ، پرانے چہروں سے جان چھوٹے گی، عشروں سے مسلط خاندانی سیاست دانوں کے پنجہ استبداد سے رہائی ملے گی مگر ’’یہاں بھی وہی کچھ ہورہا ہے جو میکے میں ہوتا تھا ‘‘۔ لغاری برادران عرصہ ہوا پی ٹی آئی سے لاتعلق ہوچکے ہیں اور یہی حال ملک سکندر بوسن کا ہے۔ ابھی تک دونوں پارٹیاں یعنی جمال لغاری ، اویس لغاری اور ملک سکندر بوسن مسلم لیگ میں جانے کا تمام تر زور لگانے کے باوجود اپنی شرائط منظور نہ ہونے کے باعث آزاد الیکشن لڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ لغاری برادران تو آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں جبکہ سکندر بوسن حلقہ پی پی 200پراپنے بھائی کے لیے ن لیگ کا ٹکٹ چاہتا ہے بصورت دیگر اسے آزاد امیدوار کے طورپر الیکشن لڑوانے پر مصر ہے جبکہ ن لیگ کو دونوں آپشنز قبول نہیں۔ اگر معاملات طے نہ ہوئے تو سکندر بوسن آزاد لڑے گا۔ تاہم یہ طے ہے کہ وہ تحریک انصاف کا امیدوار نہیں ہوگا ۔ اب صورت حال یہ ہے تحریک انصاف نے لغاری برادران اور سکندر بوسن کو نہ تو کوئی شوکازدیا ہے نہ پارٹی سے فارغ کیا ہے۔ میں نے یہ بات ایک دوست سے کہی تو وہ ہنسنے لگ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ لغاریوں اور بوسنوں کو چھوڑو‘ تحریک انصاف کا سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی عمر کوٹ اور سانگھڑ سے آزاد الیکشن لڑرہا ہے اس پر کیا ہوا ہے؟ایک قومی پارٹی کا سینئر وائس چیئرمین سندھ میں آزاد امیدوار ہے اور پارٹی ڈسپلن ڈسٹ بن میں یعنی ردی کی ٹوکری میں پڑا ہے۔ جونقشہ نظر آرہا ہے اس کے مطابق کسی پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہیں ہوگی۔ نادیدہ طاقتیں آزاد ارکان اور اپنے پرانے نمک خواروں کو ملا کر ایک اتحاد بنائیں گی ۔ ایسے میں پارٹیوں سے بالاتر کسی شخصیت کے وزیراعظم بننے کی لاٹری نکل سکتی ہے ۔ سندھ سے آزاد منتخب ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی دیگر تین چار امیدواروں کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے متوقع امیدواروں کی صف میں کھڑا ہوجائے گا۔ تحریک انصاف گئی بھاڑ میں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں