نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

گوئیبلز کے پیروکار

پاکستان میں بجلی کا مسئلہ ایسا نہیں کہ حل نہ ہوسکے۔ اس کے کئی حل ہیں۔ کچھ لمبی مدت میں مکمل ہونے والے ہیں اور کچھ جلد نتائج دینے والے ہیں۔ لمبی مدت والے یعنی لانگ ٹرم پراجیکٹس میں سب سے موزوں تو صرف اور صرف ہائیڈل پراجیکٹس یعنی پن بجلی کے منصوبے ہیں۔ ایک غیرملکی ادارے کی بنائی ہوئی رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف دریائے سندھ پر موجود موزوں مقامات کی اتنی تعداد ہے کہ وہاں سے باآسانی پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ فوری کام شروع ہوسکتا ہے بلکہ ان منصوبوں سے نسبتاً قلیل وقت میں بجلی کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر کُل قابل عمل منصوبوں کا حساب لگائیں تو بجلی کی پیداوار پچاس ہزار میگاواٹ سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ دیا میربھاشا ڈیم بہت سے سمجھدار لوگوں کے نزدیک ایک مہنگا ، مشکل اور پیچیدہ منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی ابھی مکمل فزیبلٹی رپورٹ بھی کاغذوں سے آگے نہیں گئی بلکہ شاید کاغذوں پر بھی مکمل نہیں ہوئی۔ دوبار اس منصوبے کا افتتاح ہوچکا ہے مگر عملی طورپر ابھی اس پر رتی بھر کام نہیں ہوا۔ آٹھ سو نوے فٹ بلندڈیم کا منصوبہ تو بن چکا ہے مگر ابھی تک دنیا میں اس قدر بلندڈیم نہ تو موجود ہے اور نہ ہی اتنے بلند ڈیم پر کسی کے پاس کام کرنے کا تجربہ ہے۔ تین سو پچھتر میگاواٹ کی پیداواری استعداد کی بارہ ٹربائن کے ذریعے اس ڈیم سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی مگر یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اتنی مقدار میں بجلی کی ترسیل کے لیے جوراہداری یعنی (Passage)چاہیے وہ نہایت ہی مشکل جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر ناممکن نہیں تو نہایت ہی مشکل ضرور ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے میں سینکڑوں فٹ نیچے بہنے والے تندوتیز دریا کے ساتھ ساڑھے چارہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے لیے درکار ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب نہ صرف یہ کہ جان جوکھوں بلکہ نہایت ہی مہنگا کام ہے ۔ دوتین سال قبل کیے گئے تخمینے کے مطابق اس منصوبے کی لاگت گیارہ ارب یعنی آج کے ڈالر کے ریٹ کے مطابق گیارہ کھرب روپے بنتے ہیں اور اس کا عشر عشیر بھی میسر نہیں ہے۔ اگر صرف ایک کھرب روپے فوری طورپر میسر آجائیں تو بجلی کا مسئلہ ایک ہفتے میں خواہ وقتی طورپر ہی سہی مگر حل ہوسکتا ہے۔ سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے کی رقم کا صحیح تو پتہ نہیں کہ پاکستان میں کوئی حکومت سچ نہیں بولتی مگر یہ بہرحال ایک ایسا مسئلہ ہے جسے جلد یا بدیر حل کرنا پڑے گا۔ 2008ء میں سرکلر ڈیٹ کی رقم ایک سواکسٹھ ارب کے لگ بھگ تھی۔ 2009ء میں بڑھ کر یہ رقم دو سو چھتیس ارب ، 2010ء میں تین سو چھیاسٹھ ارب اور 2011میں پانچ سو سینتیس ارب سے زیادہ ہوگئی۔ شنید ہے کہ اب یہ رقم آٹھ سو بہتر ارب سے بڑھ چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رقم پانچ سو ارب کے لگ بھگ ہے جبکہ پاورڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کام کرنے والی یو ایس ایڈ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ حقیقتاً یہ خسارہ آٹھ سوارب سے کہیں زیادہ ہے اور یہ ہرروز بڑھ رہا ہے۔ ہرروز مہنگی پیداواری لاگت والی بجلی کو کم قیمت پر فروخت کرنے سے جو خسارہ ہورہا ہے وہ اس سرکلر ڈیٹ میں جمع ہورہا ہے اور یہ گردشی خسارہ ناقابل بیان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ملکی معیشت کو مدنظر رکھیں تو یہ خسارہ ناقابل ادائیگی کی مد میں آچکا ہے۔ اگر یہ خسارہ ادا کرکے صفر کردیا جائے یا کم ازکم نصف ہی کردیا جائے تو ملک میں موجود تمام بجلی گھر چل سکتے ہیں۔ ان بجلی گھروں کی کل پیداواری استعداد بیس ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے جبکہ ملک میں تقریباً اتنی ہی بجلی کی طلب ہے ۔ یعنی طلب اور رسد تقریباً برابر ہے۔ ہائیڈل یعنی پن بجلی کی استعداد چھ ہزار چارسوساٹھ میگاواٹ ہے جوکم پانی کے موسم میں گرکر دوہزار چارسو میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے یعنی زیادہ سے زیادہ پیداواری استعداد انیس ہزار آٹھ سو پچپن میگاواٹ اور کم ازکم پندرہ ہزار آٹھ سو میگاواٹ ہوتی ہے‘ لیکن پاکستان میں دس ہزار میگاواٹ سے بھی کم بجلی پیدا ہورہی ہے اور بجلی کا موجودہ بحران بجلی گھروں کو فرنس آئل کی خرید کے لیے رقم نہ ہونے کے باعث ہے ۔ حکومت سرکاری بجلی گھروں اور نجی بجلی گھروں سے خریدی جانے والی بجلی کی ادائیگی نہیں کررہی یا اتنی کم کررہی ہے کہ اب ان کے پاس بجلی گھر چلانے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں‘ نتیجتاً اکثر بجلی گھروں کا بیشتر حصہ بند ہے۔ شاید ہی کوئی پلانٹ ہو جو پوری استعداد پر چل رہا ہو۔ اوپر سے ذاتی مفادات نے صورت حال کا مزید بیڑہ غرق کردیا ہے۔ کچھ کہن سالہ ، پرانے اور گھسے پٹے پلانٹ اپنی پیداواری استعداد سے کہیں کم بجلی پیداکررہے ہیں۔ اگر اس طرح کے ایک پلانٹ کی اصل پیداواری صلاحیت پانچ سومیگاواٹ ہے تو پورا فرنس آئل خرچ کرنے کے باوجود اڑھائی سو میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہے یعنی وہ اپنی پیداواری صلاحیت کا محض پچاس فیصد پیدا کر رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے فرنس آئل کی فراہمی بہتر پیداواری صلاحیت کی بجائے بہتر ذاتی مفادات کی بنیاد پر کی جارہی ہے اور اندر خانے جو پلانٹ جتنے پیسے اوپر پہنچا رہا ہے اسی حساب سے اسے فرنس آئل مل رہا ہے۔ اگر صرف میسر فرنس آئل کی فراہمی پیداواری صلاحیت سے منسلک کردی جائے تو صورت حال میں کسی حدتک بہتری آسکتی ہے اور میسر فرنس آئل سے ہی زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ محض ایک پہلو ہے۔ چارتھرمل پلانٹس کے GSAختم ہوچکے ہیں اور ان میں سے ایک دو کے ذمے کچھ رقم واجب الادا ہے۔ ان کو چالو کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ خراب صورتحال میں بجلی کے بحران کو کم کرنے کے لیے جس جوش وجذبے کی ضرورت ہے وہ کہیں دیکھنے میں نہیں آرہا ۔ حکمران ایسی صورت حال میں بھی پیدا گیری کرنے میں مصروف ہیں۔ کم ازکم چار پلانٹس ایسے ہیں جو تھوڑی سی لاگت کے ساتھ فرنس آئل سے کوئلے پر تبدیل ہوسکتے ہیں۔ صرف اسی ایک مد میں تقریباً چارسوارب روپے سالانہ کی بچت ہوسکتی ہے۔ چار پلانٹس ایسے ہیں جن کو گیس کی فراہمی شروع کردی جائے تو اس مد میں ایک سو اسی ارب کی یعنی کل پانچ سواسی ارب کی بچت ہوسکتی ہے جس سے مستقبل میں ہرروز بڑھتے ہوئے گردشی خسارے پر قابو پایا جاسکتا ہے مگر یہ تب ہوسکتا ہے جب ہماری ترجیحات میں بجلی کا بحران پہلے نمبر پر ہو۔ لیکن صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ حکمران تو حکمران ہرسیاستدان خواہ وہ اپوزیشن میں ہی کیوں نہ ہو بجلی پر سیاست کررہا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے پیپلزپارٹی کی جانب سے بجلی کی صورت حال پر بعض گمراہ کن اعدادوشمار جاری کیے جارہے ہیں۔ ہائیڈل پاور کے منصوبوں میں نندی پور منصوبے کا نام بھی لکھا ہوا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نندی پور پاور پلانٹ کی مشینری ابھی بندرگاہ پر پڑی ہے اور اس پر عائد ہونے والا ڈیمرج کروڑوں سے تجاوز کرچکا ہے۔ یہ 425 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ تھا اور آج سے دوتین سال قبل مکمل ہوجانا تھا مگر جب اس کے کاغذات منظوری کے ایک مرحلے پر وزارت قانون پہنچے تو شنید ہے کہ عزیزم بابر اعوان نے اربوں روپے کا منصوبہ دیکھ کر فری میں دستخط کرنے سے انکار کردیا اور یہی حال دیگر متعلقہ وزارتوں کا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن نندی پور بجلی گھر کے کاغذات اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں۔ مشینری بندرگاہ پر پڑی سڑ رہی ہے اور حکمران اخبارات میں بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں میں نندی پور کو بھی شامل کررہے ہیں۔ گوئیبلز کے پیروکار اس بات پر اب بھی پورا یقین بلکہ ایمان رکھتے ہیں کہ اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں