نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 81 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 327 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 46 ہزار 231 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1897 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.10 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اوسلو کے بائیس اور پاکستان کے کروڑوں بچے

یورپ اور امریکہ میںہر وہ جگہ جہاں ممکن ہوسکتا ہے سبزہ اور ہریالی ہے۔ اس میں کچھ تو موسم کا دخل ہے اور کچھ ترجیحات کا۔ درخت اور گھاس دو ایسی چیزیں ہیں جو ہر طرف نظر آتی ہیں۔ سبزہ بھی ہر طرف بچھا دکھائی دیتا ہے۔ گالف کے میدان تو خیر اس کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ سکولوں کے، سٹی کونسلوں، ٹائون اور ویلیج کونسلوں کے گرائونڈ عالمی سطح کے معیار کے ہیں اور گھاس اس طرح لگی ہوئی ہوتی ہے کہ سبزے کے کسی مصنوعی قالین کا گمان ہوتا ہے۔ ادھر ہمارے ہاں ہر طرف الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ایک تو موسم زیادہ سازگار نہیں اور میدانی علاقوں میں بارش اس طرح نہیں ہوتی جس طرح امریکہ یورپ میں ہوتی ہے۔ دوسری طرف سبزہ ہماری ترجیحات میں ہی نہیں ہے۔ جہاں پہلے کبھی سبزہ ہوا کرتا تھا وہاں اب دھول اڑ رہی ہے۔ ہر طرف ترقی معکوس کے جاری عمل کا ہماری شجر کاری کی مہمات پر بھی وہی اثر ہوا ہے جو دیگر معاملات میں ہوا ہے۔ امریکی ریاست پنسلوینیا بھی بڑی سر سبز ہے بلکہ شاید یہ جملہ اس کے سبزے کا مکمل احاطہ نہیں کر سکا۔ پنسلوینیا میں آپ جس جگہ مٹی کی موجودگی کا گمان بھی کرسکتے ہیں وہاں سبزہ ہے۔ سڑکوں کے کناروں، گلیوں میں، ہر گھر کے سامنے لان میں، ہر غیرآباد زمین پر اور پہاڑوں پر۔ غرض ہر طرف صرف ایک چیز تسلسل سے نظر آتی ہے اور وہ سبزہ ہے۔ درخت ہر جگہ ہیں۔ گھروں میں، سڑکوں کے کنارے، ندی نالوں کے اطراف میں، پہاڑوں پر، کھیتوں کے چاروں طرف، ہر طرف درخت ہی درخت۔ موسم میں بہتری کی ایک وجہ ماحول بھی ہے۔ ہریالی بارش کو دعوت دیتی ہے اور بارش ہریالی کی آبیاری کرتی ہے۔ ہمارے ہاں جنگل اول تو ہیں ہی نہیں اور جہاں تھے بھی وہاں صرف کٹ رہے ہیں۔ بچپن میں چھانگا مانگا، لال سوہانرا، چیچہ وطنی اور پیرووال میں درختوں کے ذخیرے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور اب ان کی بربادی کا بھی میں عینی شاہد ہوں۔ گلیات، شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں پہاڑوں پر درختوں کی رونق بھی میں نے خود دیکھی ہے اور پہاڑوں کو گنجا ہوتے بھی انہی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ماحول سدھارنے پر مامور ماحولیات کے وزیر کو جنگل بیچ کر کھاتے بھی دیکھا ہے اور جنگل کو اس کے ہوٹلوں میں تبدیل ہونے کا منظر بھی خود ملاحظہ کیا ہے۔ پہاڑی علاقوں کی ایک اپنی ماحولیاتی ترکیب ہوتی ہے۔ پہاڑوں پر بارش سے ہونے والے کٹائو کو صرف درخت روکتے ہیں اور ہمارے ہاں درختوں کا کٹائو ہورہا ہے۔ مری جب تک گوروں کے کنٹرول میں تھا وہاں تعمیرات کا ایک قانون تھا جو نہایت سختی سے، بغیر کسی رو رعایت ہر تعمیر پر لاگو ہوتا تھا۔ پھر حالات بدل گئے۔ سیاسی حکومتوں اور فوجی آمروں کی تخصیص کے بغیر قواعد و ضوابط اور قوانین میں عمومی رعایتوں سے لیکر خصوصی اجازت ناموں کے باعث جو مالیاتی بربادی ہوئی ہے اس کے باعث ’’ملکہ کہسار‘‘ ہل سٹیشن کے بجائے آج کنکریٹ کا ٹائم بم بن چکا ہے اور معمولی سے زلزلے کی صورت میں تباہی و بربادی کی ایک داستان رقم ہوگی جس کی پہلے شاید کہیں کوئی مثال نہیں ہوگی۔ سو سو سال پرانے درخت کٹ رہے۔ عشروں سے جاری شجرکاری کی مہمات سوائے محکمہ جنگلات کے افسران کے مالی فوائد کے کوئی نتیجہ فراہم نہیں کرسکیں۔ تقریباً ہر بڑے سکول اورکالج میں کم از کم ایک ٹیوب ویل موجود ہے جو گرائونڈز کو پانی دینے کی غرض سے لگایا گیا ہے مگر کم از کم ملتان کے نوّے فیصد سکولوں اور کالجوں میں نہ صرف عمومی طور پر بلکہ کھیلوں کے میدانوں میں خصوصاً دھول اڑ رہی ہے۔ میں جب گلگشت ہائی سکول میں پڑھتا تھا تب سکول کے گرائونڈز گھاس سے مزین نظر آتے تھے۔ کئی سال پہلے اپنے اس سکول میں جانے کا اتفاق ہوا۔ صدمے سے برا حال ہوگیا۔ باقی سکولوں کی حالت تو جو تھی سو تھی گرائونڈز میں گھاس نامی کسی چیز کا وجود تک نہ تھا۔ چوک شہیداں میں میونسپل پرائمری سکول میں پڑھتا رہا ہوں۔ سردیوں میں ماسٹر غلام حسین باہر گھاس پر بٹھا کر پڑھایا کرتے تھے۔ دس بارہ سال پہلے وہاں گیا تو گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہ آیا۔ وہیں سکول کے سامنے ایک کارپوریشن کی سر سبز باغیچی تھی وہاں صرف اور صرف مٹی تھی۔ چالیس پینتالیس سال پہلے ملتان میں قلعہ کہنہ پر جشن ملتان منعقد ہوتا تھا۔ وہاں دمدمے کے سامنے، دونوں اطراف میں اور سامنے کی جانب نیچے کی طرف سرسبز پلاٹ اور پھولوں کی کیاریاں ہوتی تھیں‘ اب صرف دھول اڑ رہی ہے۔ دمدمے کی بائیں طرف ایک ڈھلوان تھی جو گھاس سے بھری ہوتی تھی۔ میں وہاں اپنے بچپن میں اوپر سے نیچے کی طرف قلابازیاں لگاتا تھا۔ اب وہ ڈھلوان مٹی، کنکر اور کھائیوں سے بھری پڑی ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ میں یہاں قلا بازیاں لگاتا تھا تو اس نے مجھے ایسی بے یقین نظروں سے دیکھا کہ مجھے پوری تفصیل سنا کر اسے یقین دلانا پڑا۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ماحولیاتی تبدیلیاں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ماحولیاتی توازن جتنا بہتر ہوگا‘ موسم اسی حساب سے سازگار ہوتا جائے گا۔ آج ہم اپنے ماحول اور اس کے نتیجے میں موسم کی بربادی کے خود ذمہ دار ہیں اور امریکہ و یورپ اس کی بہتری میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ ماہرین موسمیات کے مطابق چار کیلنڈر موسموں کے علاوہ دیگر کئی موسم بھی ہیں۔ ان میں سے آفات نکال کر چودہ موسم بچتے ہیں اور ان میں سے سات آٹھ بھی کسی ملک میں ہوں تو کافی سے زیادہ سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں گیارہ موسم موجود ہیں۔ تپتے ہوئے صحرائوں سے لے کر ہر وقت نقطۂ انجماد سے نیچے کے گلیشیئر اور دالبندین کے میدانوں سے لیکر دنیا کے تین بڑے سلسلہ ہائے کوہ تک، سب کچھ موجود ہے صرف نیک نیتی کی کمی ہے۔ میں اوسلو میں تھا۔ میرے ساتھ خالد محمود تھا۔ خالد محمود بٹ اوسلو سٹی گورنمنٹ میں کونسلر تھا۔ بعد میں ناروے کی پارلیمنٹ کا ممبر بن گیا۔ ایک سڑک سے گزرتے ہوئے خالد محمود نے ایک درخت کی جانب اشارہ کیا اوربتایا کہ اس درخت کے سبب کئی سال تک عدالتی کارروائی ہوتی رہی ہے۔ میرے استفسار پر خالد محمود نے بتایا کہ یہ درخت ایک گھر کے صحن میں لگا ہوا ہے اور اس کے مالک نے گھر فروخت کردیا۔ نئے مالک نے اس درخت کو غیر ضروری یا ناپسندیدہ سمجھتے ہوئے کٹوانے کا ارادہ کیا۔ جونہی اس کی اطلاع سٹی گورنمنٹ اوسلو کو ہوئی اس نے اسے روک دیا۔ سٹی کونسل کا موقف تھا کہ یہ کوئی آپ کے باغیچے کا پودا نہیں کہ آپ اسے اپنی مرضی سے کٹوا دیں۔ یہ ایک مکمل درخت ہے اور آپ اوسلو کے بائیس بچوں کو آکسیجن کی فراہمی کا توازن خراب کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ مقدمہ چلا اور فیصلہ سٹی کونسل یعنی اوسلو کے بچوں کے لیے آکسیجن کے حصول کے حق میں ہوگیا۔ مالک مکان اپیل میں چلا گیا۔ یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ کورٹس سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک گیا اور بالآخر سٹی گورنمنٹ جیت گئی۔ اوسلو کے بائیس بچوں کو ان کے حق حصول آکسیجن سے محروم نہ کیا جاسکا۔ یہ درخت آج بھی موجود ہے اور ماحولیاتی بقا کی جنگ کے ایک فاتح کی مانند سر بلند کھڑا ہے۔ خزاں کے موسم میں اس درخت سے ایک زرد پتہ ٹوٹ کر میرے سامنے زمین پر گرا۔ میں نے یہ پتہ اٹھا لیا۔ ملتان میں تمام خاص باغ، لانگے خان کا باغ، کارپوریشن کی باغیچیاں، سب کچھ برباد ہوگیا۔ شمالی علاقہ جات، کشمیر اور گلیات کے جنگلات کٹ گئے۔ دنیا کا دوسرا قدیم ترین اور بڑا صنوبر کا جنگل زیارت کے پاس اجڑ گیا۔ سکولوں، کالجوں اور عوامی تفریح کے پارکوں میں سے گھاس غائب ہوگئی۔ کسی کو رتی برابر فکر نہیں کہ ہم ماحول کی صورت میں اپنے کروڑوں بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ پنسلوینیا میں اس سوچ نے سرسبز ماحول اور خالد جیسے دوست کی موجودگی کے باوجود مجھے ملول کردیا۔ اوسلو کے درخت سے گرا ہوا زرد پتہ آج بھی میری آکسفورڈ ڈکشنری کے \"T\" والے صفحے پر لفظ TREE کے ساتھ موجود ہے۔ میں جب بھی ڈکشنری کھولتا ہوں میری نظر اس پتے پر پڑتی ہے۔ یہ پتہ مجھے ماحول کو بچانے کا ایک استعارہ لگتا ہے میں جب بھی اسے دیکھتا ہوں ایک نئے عزم اور حوصلے سے ہمکنار ہوتا ہوں اور پا کستان کے کروڑوں بچوں کے لیے آکسیجن کے حصول کی جنگ کے لیے خود کو تازہ دم پاتا ہوں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں