نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان میڈیکل کمیشن کیخلاف اسٹوڈنٹس سراپااحتجاج ہیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- اسٹوڈنٹس اورپرفیشنلزکےمطالبات کی حمایت کرتےہیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- امتحانات میں ہونیوالی بےضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- حکومت نےتعلیم اورصحت کاشعبہ مکمل طورپرتباہ کردیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- پورےملک میں پی ایم سی کےخلاف مظاہرےجاری ہیں،سراج الحق
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

چھیدے شرپسند کے ساتھ

امریکہ میں آخری مشاعرہ ریاست ڈیلاویر کے شہر لمنگٹن میں تھا۔ میں نیویارک میں شوکت فہمی کے گھر قیام پذیر تھا۔ ڈیلاویر میں یہ پہلا باقاعدہ مشاعرہ تھا۔ مشاعرے کے منتظم مسعود صادق سے یہ طے پایا کہ مجھے شوکت فہمی کی رہائش گاہ ویسٹ ہمپسٹیڈ سے ولمنگٹن لے جانے کا اہتمام کریں گے۔ روانگی کا وقت صبح پونے آٹھ سے آٹھ بجے کے درمیان طے پایا۔ ویسٹ ہمپسٹیڈ سے ولمنگٹن کا سفر تقریباً تین ساڑھے تین گھنٹے پر مشتمل تھا۔ مشاعرہ شام کو تھا لہٰذا کوئی افراتفری کا امکان نہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں ساڑھے سات بجے صبح اٹھوں گا، پانچ سات منٹ میں نہائوں گا، اتنے ہی وقت میں اپنا مختصر سا ناشتہ کرونگا اور پونے آٹھ بجے تیار ہوجائوں گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں وقت کا خاصا پابند ہوں اور طے شدہ وقت سے دو چار منٹ پہلے نہ صرف تیار ہوجاتا ہوں بلکہ جہاں پہنچنا ہو وہاں بھی مقررہ وقت سے پہلے پہنچ جاتا ہوں لیکن ٹیکسی ڈرائیور میرے سے کہیں زیادہ تیز تھا۔ سات بجے میرے فون کی گھنٹی بجی۔ اجنبی سا نمبر تھا مگر ہر فون اٹھا لینے کی عادت کے باعث میں نے فون اٹھا لیا۔ دوسری طرف موجود صاحب نے بتایا کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور مجھے لینے کے لیے آگئے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ اس وقت کہاں ہیں ؟،جواب ملا آپ کی ڈرائیو وے میں ہوں۔ میں نے کہا آپ مجھے صرف پندرہ منٹ دیں تاکہ میں نہا کر ناشتہ کرکے باہر آجائوں۔ پورے سوا سات بجے میں ٹیکسی میں تھا اور ٹیکسی مین ہٹن کی طرف روانہ ہوچکی تھی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ وہ دراصل سوا چھ بجے ہی شوکت کے گھر کے باہر پہنچ گیا تھا مگر مجھے اٹھانے کے بجائے وہ خود ٹیکسی میں سو گیا۔ اسے تسلی تھی کہ وہ مقررہ جگہ پر پہنچ چکا ہے۔ یہ ٹیکسی عمومی امریکی پرائیویٹ ٹیکسیوں کی مانند لمبی چوڑی سیاہ رنگ کی لنکن لیموزین تھی۔ پاکستان میں ایسی گاڑی رئیسوں کے پاس بھی نہیں مگر امریکہ میں پیلی ٹیکس کے علاوہ پرائیویٹ ٹیکسی کے لیے لنکن لیموزین سب سے مقبول گاڑی ہے۔ اس ٹیکسی کا ڈرائیور بڑا دلچسپ اور مزیدار شخص تھا۔ میں نے پوچھا پاکستان سے وہ کس شہر سے تعلق رکھتا ہے؟ کہنے لگا کہ وہ لاہوری ہے۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پچھلے تیس سال سے امریکہ میں ہے۔ اس کے ساتھ باتیں کرنے میں مجھے مزا آرہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ہنسا اور کہنے لگا۔ ’’چھیدا کوچوان‘‘ میں نے کہا یہ کیا ہوا؟ کہنے لگا مین ہٹن میں سنٹرل پارک میں بگھیاں چلتی ہیں اور سڑکوں پر گاڑیاں۔ بگھیاں چلانے والے کوچوان ہیں۔ میں کار چلاتا ہوں مگر خود کو ڈرائیور کے بجائے کوچوان تصور کرتا ہوں۔ کوچوان ہونے میں مجھے زیادہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم کے بارے میں بتانے پر راضی نہیں تھا۔ کہنے لگا جب ٹیکسی چلانی ہے تو پھر تعلیم کا کیا ذکر؟ میرے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے جو میں نے امتحان پاس کرکے حاصل کیا ہے۔ اس کام سے تعلیم کا کیا تعلق ہے؟ انگریزی میں فراٹے کی اور امریکن لہجے میں بولتا ہوں۔ یہ میری تعلیم کے طفیل نہیں۔ یہاں امریکہ میں بچہ بچہ فرفر انگریزی بولتا ہے۔ میں پچھلے تیس سال سے یہاں ہوں ،اگر انگریزی بھی نہ آتی تو فٹے منہ تھا مجھ پر۔ پھر مجھ سے پوچھنے لگا۔ الیکشن کے بعد کیا صورتحال ہے؟ آپ کو کیا نظر آتا ہے کہ میاں نوازشریف معاملات چلا لیں گے؟ چیزیں درست کرلیں گے؟ پانچ سال حکومت چلے گی؟ میں نے کہا پہلی بات تو یہ ہے کہ میں مشاعرے پڑھنے والا شخص ہوں ،مجھے ان باتوں سے کیا مطلب اور کیا واسطہ۔ دوسری بات یہ کہ میں بڑی مشکل سے ان سوالات سے پچھلے ایک ماہ سے بچنے کی کوشش کررہا ہوں کہ پاکستان میں ہمارا پسندیدہ کام سارا دن بلاوجہ بلا مقصد سیاست پر گفتگو کرنا ہے اور میں وہاں سے آنے کے بعد امریکہ میں صرف یہی کوشش کررہا ہوں کہ سیاست پر گفتگو نہ کرنی پڑے مگر میری یہاں کوئی سن ہی نہیں رہا۔ میں گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان سے باہر ہوں۔ مجھے موجودہ صورتحال کا کوئی خاص اندازہ نہیں۔ ایک شاعر تمہیں کیا بتا سکتا ہے۔ وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا۔ آپ کے شاعر ہونے کا مجھے کل پتہ چلا ہے، جب مسعود صادق نے بتایا کہ ایک شاعر کو یہاں ولمنگٹن مشاعرے پر لانا ہے۔ میں تو آپ کو کالم نویس کے حوالے سے جانتا ہوں کیونکہ میں فارغ اوقات میں شاعری نہیں سنتا ،نیٹ پر بیٹھ کر پاکستانی اخبارات کے کالم پڑھتا ہوں، خبریں دیکھتا ہوں، تجزیے اور تبصرے پڑھتا ہوں۔ میں آپ کے کالم کا بھی مستقل قاری ہوں۔ جہاں آپ پہلے لکھتے تھے وہاں بھی پڑھتا تھا اور اب آپ ’’دنیا ‘‘میں لکھتے ہیں وہاں بھی۔ میرے پاس اب کوئی جائے فرار نہ تھی۔ میں نے کہا یہ میری ذاتی رائے ہے کہ حالات میں کچھ بہتر ی آئے گی۔ نئے آنے والوں کو اب کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔ اس کے بغیر اب شاید کوئی اور راستہ بھی نہیں۔ فی الحال میں سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب کی ڈائریکشن درست ہے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اسے تادیر جاری رکھ سکیں گے اور پیداگیر پارٹی کو قابو میں رکھ پائیں گے؟ رہ گئی بات پانچ سال پورے کرنے کی، تو میری دلی خواہش ہے کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کرے۔اس کے لیے میاں صاحب کو اپنی ٹکر لینے والی عادت پر قابو پانا ہوگا مگر یہ کام ہے بڑا مشکل۔ وہ پوچھنے لگا الیکشن کے نتائج کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ آپ کے اندازوں میں اور نتائج میں کیا فرق نکلا؟ میں نے کہا نتائج میرے اندازوں سے تھوڑے مختلف ہیں۔ تحریک انصاف کی میرے اندازوں سے سات آٹھ سیٹیں کم ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کی تقریباً اتنی ہی سیٹیں کم بنی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی میرے اندازے سے سترہ اٹھارہ سیٹیں زیادہ ہیں مگر مجھے اپنے اندازوں کے نادرست ہونے پر رتی برابر ملال یا افسوس نہیں ہے۔ اندازے صرف انداز ے ہوتے ہیں۔ حالات انہیں اوپر نیچے کر دیتے ہیں تاہم ان نتائج کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اب گیم سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری صورت میں یہ ساری گیم اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہوتی۔ ہنگ پارلیمنٹ نے اس ملک کی سیاست کا بیڑہ غرق کر دینا تھا۔ مک مکا کی سیاست نے سب کچھ بلکہ بچھا کھچا اور رہا سہا سب کچھ برباد کر دینا تھا۔ مولانا فضل الرحمن وزیراعظم بن سکتے تھے۔ ایم کیو ایم اور آزاد ممبران کو راضی میں سب کچھ لٹ جاتا اور میاں صاحب کے پاس تو کوئی رحمن ملک بھی نہیں تھا۔ ایک اکثریتی پارٹی کے طفیل بہت کچھ لٹنے سے بچ گیا ہے تاہم مولانا فضل الرحمن کی دکان بند ہوگئی ہے۔ رشید ہنسنے لگ پڑا اور کہنے لگا کہ آپ کا کیا خیال ہے، میاں صاحب نے یہ ساری سیٹیں اور حکومت خود اپنے زور بازو سے حاصل کی ہے؟ جنرل پرویز مشرف کی باقیات کو خوشی سے قبول کیا ہے؟ اوپر والوں نے یہ سارا کچھ ڈیزائن کیا تھا۔ وہ یہ حکومت میاں صاحب کے سر تھوپنا چاہتے تھے۔ اوپر والے اس ساری مصیبت کو کسی کے سر منڈھنا چاہتے تھے اور میاں صاحب سے مناسب شخص فی الوقت ان کی نظر میں تھا کوئی نہیں۔ یہ درست ہے کہ میاں صاحب سنگل لارجسٹ پارٹی تو تھے ہی مگر اکثریتی پارٹی ان کو بنایا گیا ہے۔ اوپر والے خود بھی اب سیاسی بلیک میلروں سے تنگ آچکے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے مہرے میاں صاحب کی بغل میں بٹھا دیے ہیں۔ میاں صاحب نے بھی حکومت کے حصول کے لیے یہ سمجھوتہ اور مفاہمت کی ہے۔ زاہد حامد، سکندر بوسن، ریاض پیرزادہ وغیرہ کہاں سے نازل ہوئے ہیں؟ میاں صاحب کو خوش فہمی ہے کہ وہ ایک بار پھر بھاری مینڈیٹ لے کر آگئے ہیں۔ حالانکہ یہ مینڈیٹ ان پر لادنے والوں نے لادا ہے۔ اگر میاں صاحب اس بھاری مینڈیٹ کی خوش فہمی میں حسب معمول جامے سے باہر ہوگئے تو یہ ان کی اور پاکستان کی، دونوں کی بدقسمتی ہوگی مگر میری اور آپ کی خواہش کے باوجود مجھے یہ حالات دو سال سے زیادہ چلتے نظر نہیں آتے۔ میں نے کہا آپ اپنا نام چھیدا کوچوان سے بدل کر چھیدا شرپسند کیوں نہیں رکھ لیتے۔ ہنس کر کہنے لگا۔ سر جی! ہم مین ہٹن سے گزر رہے ہیں۔ اب آپ باقی باتیں چھوڑیں اور نیویارک میں میری لاہوری ڈرائیوری ملاحظہ فرمائیں۔ یہ کہہ کر اس نے جہازی سائز گاڑی غڑاپ سے ایک گلی میں ڈالی اور ایکسیلیٹر دبا دیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں