نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترک وزیرخارجہ سےعمران خان اورترک صدرملاقات بارےتبادلہ خیال ہوا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ سےبھی ملاقات ہوئی،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کوافغانستان سےمتعلق پاکستانی نقطہ نظرپیش کیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال عالمی برادری کےلیےامتحان ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری مشکل گھڑی میں افغان عوام کی معاونت کرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- افغانستان میں معاشی بحران خطرناک ہوسکتاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دنیاایک رخ دیکھ رہی ہے،وزیراعظم تقریرمیں دوسرارخ پیش کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سےایک جامع خطاب ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پراہم رہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی رہنماؤں سےافغانستان اورکشمیرسےمتعلق بات ہوئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی پراوآئی سی رابطہ گروپ کےمشکورہیں،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

Killer Mountain

بشام میں ناشتے سے فارغ ہوئے تو برکت اللہ نے کہا کہ اب چلاس تک کوشش کریں کہ راستے میں کہیں نہ رکیں۔ اگلے چھ گھنٹے تک کا سفر پچھلے سفر سے مختلف ہے اور سڑک پر معاملات بہتر نہیں ہیں۔ لہٰذا مناسب یہی ہوگا کہ ہم چلاس تک بغیر کسی بریک کے چلتے جائیں۔ اب صبح کے دس بجے ہیں‘ ہم انشاء اللہ چاربجے چلاس پہنچ جائیں گے۔ کامران نے بتایا کہ اب دوپہر کا کھانا تھوڑا لیٹ ہوجائے گا اور ہم دوپہر کا کھانا سہ پہر چاربجے چلاس میں شنگریلا ہوٹل میں کھائیں گے۔ لگاتار چھ گھنٹے بغیر رکے سفر کرنا بچوں کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ تقریباً ساڑھے چارگھنٹے بعد ان کی قوتِ برداشت جواب دے گئی اور انہوں نے ٹھنڈے پانی اور ٹھنڈی بوتلوں کی فرمائش کردی۔ کوسٹر میں رکھی ہوئی پانی کی بوتلیں گرم ہوچکی تھیں۔ لہٰذاہم لوگ سُمرنالے پر رک گئے۔ یہ پہاڑی نالہ یہاں دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔ چھ گھنٹے پر مشتمل سوادو سوکلومیٹر کے اس راستے پر ہم صرف ایک جگہ رکے اور پھر ہم چلاس میں کھانے کے لیے رکے۔ چلاس سے ہم تقریباً پانچ بجے روانہ ہوئے۔ بشام تک گاڑی برکت اللہ نے چلائی۔ اس دوران اکرم فرنٹ پردو سیٹیں کھول کر سویا رہا۔ بشام سے چلاس تک اکرم نے گاڑی چلائی اور برکت اللہ نے نیند پوری کی۔ چلاس جاکر برکت اللہ نے دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ برکت اللہ پہاڑی سفر کا پرفیکٹ ڈرائیورتھا۔ چلاس سے ہم نے قراقرم ہائی وے پر دوبارہ سفر شروع کیا مگر اب ہم نے اس سڑک پر رائیکوٹ پل تک سفر کرنا تھا اور پھر دائیں طرف استورکی جانب مڑجاناتھا۔ رائیکوٹ پہنچتے پہنچتے دن ڈھلنے کے قریب آگیا تھا۔ رائیکوٹ سے ایک سڑک ’’فیری میڈوز‘‘ کی جانب مڑجاتی ہے۔ فیری میڈوز تک کا راستہ بذریعہ جیپ اور پیدل ہے، رائیکوٹ سے پہلے تاتو گائوں تک جیپ پر جاناپڑتا ہے۔ وہاں ایک عجیب وغریب نظام کے تحت اگلا سفر کرنا پڑتا ہے۔ جونہی آپ تاتوگائوں میں اترتے ہیں وہاں موجود گائوں کے لوگ آپ سے پوچھے بغیر آپ کا سامان تو لنا اور آپس میں بانٹنا شروع کردیتے ہیں۔ تاتو سے آگے فیری میڈوز تک کا سفر محض پانچ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے مگراس سفر میں تقریباً تیرہ سو میٹر چڑھائی ہے اور ساراسفر پیدل ہے۔ سامان کندھوں پر اٹھاناپڑتا ہے اور سفر انتہائی مشقت طلب اور مشکل ہے۔ تاتو سے پورٹرآپ کا سامان اٹھاتے ہیں مگر پورٹر کا انتخاب ، سامان کی تقسیم حتیٰ کہ اجرت بھی تاتو والے خود طے کرتے ہیں۔ آپ کا سامان پچیس تیس کلو فی پورٹر کے حساب سے اٹھالیتے ہیں اور آپ سے بغیر پوچھے چل پڑتے ہیں۔ یہ سارے معاملات بقائے باہمی کے اصول کے تحت چل رہے ہیں اور برطانوی آئین کی مانند غیرتحریری ہیں۔ رائیکوٹ سے تاتوتک کا فاصلہ دس پندرہ کلومیٹر ہے اور بذریعہ جیپ تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ تاتو سے فیری میڈوز تک کا سفر پیدل ہے اور تقریباً پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔ فیری میڈوز سے یہاں کیمپ دوگھنٹے کا سفر ہے اور وہاں سے مزید دوگھنٹے کی مسافت پر نانگا پربت کا بیس کیمپ ہے۔ یہ بیس کیمپ نانگا پربت کو رائیکوٹ کی جانب سے سرکرنے والوں کا نقطۂ آغاز ہے۔ نانگا پربت کی یہ سائڈ ’’رائیکوٹ فیس‘‘ کہلاتی ہے۔ رائیکوٹ پل سے گزرے تو نیچے دریائے سندھ پوری شدت سے شورمچاتا، جھاگ اڑاتا اور پتھروں سے سرمارتا گزررہا تھا۔ رائیکوٹ پل سے گزر کر ہم نے دریائے استور کے کنارے کنارے سفر شروع کیا۔ سورج تقریباً ڈھل چکا تھا جب ہماری نظر نانگا پربت پر پڑی۔ نانگا پربت پر عموماً بادل سایہ فگن رہتے ہیں اور صرف اچھے موسم میں اس کی چوٹی اپنا دیدار کرواتی ہے۔ ڈوبتے سورج کی رنگین کرنوں میں نانگا پربت بہت خوبصورت اور پرشکوہ لگ رہا تھا۔ نانگا پربت اونچائی کے اعتبار سے دنیا میں 9 ویں بلند ترین چوٹی ہے مگر اپنے حسن وجمال ، دشواری اور مشکل راستوں کے سبب ہمیشہ سے کوہ پیمائوں کے لیے چیلنج اور مقناطیسی دعوت دیتی رہتی ہے۔ دنیا میں کل چودہ چوٹیاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند ہیں۔ انہیں \"EIGHT THOUSANDER\" کہتے ہیں۔ یہ ساری چوٹیاں دنیا کے دوپہاڑی سلسلوں یعنی ہمالیہ اور قراقرم میں ہیں۔ ان چودہ چوٹیوں میں سے پانچ چوٹیاں پاکستان میں ہیں۔ باقی نوچوٹیاں نیپال ، چین اور ایک ہندوستان میں ہے۔ نانگا پربت کی اونچائی آٹھ ہزار ایک سو چھبیس میٹر یعنی چھبیس ہزار چھ سو ساٹھ فٹ ہے۔ نانگا پربت کو سر کرنے کی کوششوں میں اب تک چونسٹھ کوہ پیما اپنی جان کھوچکے ہیں۔ ان چودہ ’’آٹھ ہزاری‘‘ چوٹیوں میں سے بارہ چوٹیاں ایسی ہیں جنہیں مہم جوکوہ پیما سردیوں کے موسم میں بھی سرکرچکے ہیں۔ صرف دوچوٹیاں ایسی ہیں جن پر سردیوں میں شروع ہونے والی کوئی مہم کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہ دوچوٹیاں کے ٹواور نانگاپربت ہیں۔ کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے اور نانگا پربت 9ویں۔ دونوں پاکستان میں ہیں اور کوہ پیمائوں کے لیے بے حد کشش کا باعث ہیں۔ ابھی تک سردیوں کے موسم میں سر نہ ہوسکنے کے باعث کوہ پیماان دونوں چوٹیوں پر پہنچنے اور تاریخ میں اپنا نام رقم کروانے کے شوق میں ہرسال سردیوں میں انہیں سرکرنے کی خواہش دلوں میں لے کر آتے اور ناکام لوٹ جاتے ہیں۔ جب تک یہ دونوں چوٹیاں سردیوں کے موسم میں سر نہیں ہوجاتیں تب تک کوہ پیمائوں کے لیے مہم جوئی کی کشش ادھرکھینچ کر لاتی رہے گی بشرطیکہ کوہ پیمائوں کے لیے یہاں کے زمینی حالات ٹھیک رہے۔ نانگا پربت کو \"Killer Mountain\" یعنی ہلاکت خیز پہاڑ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اسے یہ نام کوہ پیمائوں نے دیا ہے۔ چوٹیاں سرکرنے کی دھن کوہ پیمائوں کو ہمیشہ سرگرداں رکھتی ہے اور وہ اس عشق میں اب تک برفانی طوفانوں میں Avalancheیعنی برفشار کے‘ جسے آپ برف کاسیلاب کہہ لیں‘ دوران برف میں دب کر ، راستہ بھول کر برف زاروں میں بھوک کے سبب، پھسل کر کھائیوں میں گرنے کے باعث اور اسی طرح کی کسی آفت میں پھنس کر سینکڑوں نہیں ہزاروں کوہ پیما ہلاک ہوچکے ہیں مگر مہم جوئی کی کشش اس کے عشق میں مبتلا لوگوں کو عشروں سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ جان جوکھوں میں ڈالنے کے شوقین اپنے دیس سے ہزاروں میل دور موت سے دست پنجہ کرنے کی آرزو لیے برف کے قبرستانوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ ’’کلرمائونٹین‘‘ کو سرکرنے کی کوششوں میں درجنوں کوہ پیما جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ یہ جان لیوا حادثے دیگر مہم جوئوں کے ارادے کمزور نہیں کرسکے بلکہ ہرایسا حادثہ دیگر کوہ پیمائوں کے لیے چیلنج اور مہمیز کا کام دیتا ہے مگر جون کے تیسرے عشرے میں ہونے والی ہلاکتیں بالکل مختلف نوعیت کی تھیں جب مسلح شدت پسندوں نے چلاس کے راستے دیا میر فیس کی جانب سے نانگا پربت سر کرنے کے لیے آئی غیرملکی ٹیم پر حملہ کرکے اس کے دس کوہ پیمائوں اور ایک پاکستانی گائیڈ کو قتل کردیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد دیگر ٹیمیں جونانگا پربت کو دیا میر فیس، رائیکوٹ فیس اور روپل فیس سے سر کرنے کی کوششوں میں مصروف تھیں‘ سامان سمیت اپنے اپنے ملک روانہ ہوگئیں۔ دہشت گردوں نے کرکٹ کے بعد ایک اور بین الاقوامی سپورٹس سے پاکستان کو کاٹ کر رکھ دیا‘ دہشت گردی کے ان واقعات کے اثرات ایسے ہیں کہ نہ صرف کئی عشروں تک رہیں گے بلکہ پاکستان کا امیج بحیثیت مجموعی برباد ہورہا ہے۔ چلاس ایسا علاقہ نہیں کہ وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی نہ ہو یا وہاں دہشت گردوں کو تلاش کرنا ناممکن ہو مگر ہرکام میں تاخیر کرنے؛ تاوقتیکہ وہ اچھی طرح بگڑنہ جائے کے بغیر ہم حرکت میں آنے کے قائل نہیں۔ یہی کام سوات میں ہوا اور بعد میں اس لاپروائی، کوتاہی اور نالائقی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ چھوٹے سے علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں کو مانیٹر بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کا سدباب بھی ہوسکتا ہے مگر حکمران Non Issues میں مصروف ہیں۔ ہمیں ہمیشہ تبھی ہوش آتا ہے جب پانی سر سے گزرجاتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں