نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

حالیہ امریکی دورہ اور دال قیمہ کا معاملہ

کسی نے ایک انٹرویو میں سوال کیا کہ کیا آپ نے محبت کی؟ جواب دیا کہ محبت کی اور نہ صرف کی‘ بلکہ دو بار کی۔ سارا بچپن اور لڑکپن شفیق الرحمن کی محبت میں گزار دیا اور ساری جوانی مشتاق احمد یوسفی کی محبت میں بسر کردی۔ ہم سے بہتر محبت کس نے کی ہوگی۔ شفیق الرحمن کا تو یہ عالم تھا کہ کبھی ان کی کتابوں کے اقتباسات زبانی یاد ہوتے تھے۔ ادھر کوئی بات ہوئی اور ہم نے شفیق الرحمن کی تحریر کی سطروں کی سطریں زبانی سنا دیں۔ اب پورے معاشرے کی مانند طبیعت میں بھی انتشار ہے۔ یادداشت بھی پہلے جیسی نہیں رہی اور پہلے کی مانند ہر چھ ماہ بعد شفیق الرحمن کی کتابوں کی دہرائی بھی نہیں ہوتی لہٰذا چیزیں ویسے یاد نہیں جیسی کبھی ہوتی تھیں۔ شفیق الرحمن اپنی کتاب ’’مزید حماقتیں‘‘ کے پہلے مضمون ’’تزک نادری‘‘ میں نادر شاہ کے ہندوستان پر حملے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’اہلِ ہند سے کسی اچھے سلوک کی توقع کرنا حماقت ہے۔ کیوں نہ کسی بہانے اس ملک پر حملہ کر کے ان کی گوشمالی کریں۔ چنانچہ فرمانبردار خان کو حکم دیا کہ حملے کی چند وجوہات سوچے۔ اس نے یہ فہرست پیش کی: 1 ہم بین الاقوامی مفاد کے لیے جنگی چالوں کی ایک کتاب ’’رہنمائے حملہ آوران ہند‘‘ لکھنا چاہتے ہیں۔ 2۔ ہندی گویے ترانوں کو ’’نادر نادھیم تنانا دھیم‘‘ سے شروع کر کے ہماری توہین کرتے ہیں۔ 3۔ تاریخ میں اس سے پہلے ایران نے ہند پر باقاعدہ حملہ نہیں کیا۔ 4۔ ہند پر حملہ ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے۔ 5۔ یوں بھی ان دنوں ہند پر حملے کا عام رواج ہے۔ ایسی بے معنی وجوہات معروض ہونے پر ہمیں غصہ آیا۔ ایک بات بھی خدا لگتی نہ تھی۔ قصد کیا کہ فرمانبردار خان سے وہی پرانا سلوک کریں۔ دیکھا تو وہ کبھی کا غائب ہو چکا تھا۔ بعد میں ہم نے خود ان سے بہتر وجوہات سوچنے کی دیر تک کوشش کی۔ جب کامیابی نہ ہوئی‘ تو خوش ہو کر فرمانبردار خان کو بحال فرمایا۔ میرے ساتھ بھی آج ایسا ہی معاملہ ہے۔ کالم لکھنے کے لیے کاغذ قلم اٹھایا تو ذہن میں کئی موضوعات تھے مگر قرعہ فال وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کا نکلا۔ حالانکہ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بظاہر کچھ اور لکھنے کی گنجائش یا وجہ بھی نظر نہیں آ رہی تھی مگر درمیان میں ’’تزک نادری‘‘ میں درج اسباب حملہ ہند یاد آ گئے۔ آخری وجہ یہی لکھی تھی کہ ’’یوں بھی ان دنوں ہند پر حملے کا عام رواج ہے‘‘۔ لہٰذا اسی موضوع پر لکھنے کا سوچا۔ پھر اس وجہ کو کافی حد تک نامعقول خیال کرتے ہوئے کسی اور موضوع پر لکھنے کا سوچا لیکن پھر درمیان میں ’’تزک نادری‘‘ آن پڑی جہاں شفیق الرحمن نادر شاہ کے بارے میں ایسی ہی صورتحال پر لکھتے ہیں کہ ’’بعد میں ہم نے خود ان سے بہتر وجوہات سوچنے کی دیر تک کوشش کی‘‘۔ جب کامیابی نہ ہوئی تو خوش ہو کر فرمانبردار خان کو بحال فرمایا‘‘۔ اس عاجز کے پاس نہ تو کوئی فرمانبردار خان ہے اور نہ کسی قسم کی معطلی اور بحالی کے اختیارات۔ سو کالم لکھنے پر اکتفا کر رہا ہوں۔ حکمرانوں کے دورے پر لکھنا ایک بڑا مشکل اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ پیچیدہ اس طرح کہ لکھنے والوں کی غالب اکثریت دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی ناکامی اور کامیابی کا حساب لگا چکی ہوتی ہے۔ بھونپو حضرات مستقبل کے اس دورے کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اس کی یقینی کامیابی کے بارے میں اپنے پیشگی خیالات بلکہ الہامات سے قوم کو بروقت آگاہ کرنا شروع کر چکے ہوتے ہیں۔ دورے کے دوران اور اختتام پر اس دورے کی کامیابی کے لیے ایسے ایسے نکتے لاتے ہیں اور ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ ان کی صلاحیتوں پر رشک آتا ہے۔ حالانکہ ان کی تمام دلیلیں اور نکتے تقریباً تقریباً فرمانبردار خان کی مانند ہندوستان پر نادر شاہ کے حملے کی وجوہات جیسے نامعقول اور فضول ہوتے ہیں لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ ایسے دوروں پر ان کی کامیابی پر‘ اس سے بہتر لکھنا کسی صاحب ضمیر کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ایک بڑا مشکل کام ہے کہ آپ نے پہلے سے ہی سوچ رکھا ہو کہ دورہ کامیاب ہوگا اور آپ نے اس کامیابی کی پوری منظرکشی اپنے ذہن میں سوچ رکھی ہو اور دورہ ناکام‘ بلکہ بری طرح ناکام ہو جائے تو پھر بھی آپ اس دورے کی کامیابی کے اپنے موقف پر قائم رہیں اور بیان جاری فرماتے رہیں۔ دوسری طرف یہ بھی بڑا مشکل کام ہے کہ آپ زورو شور سے اس دورے کی ’’متوقع ناکامی‘‘ پر بیان جاری فرماتے رہیں اور ساری دنیا کے سمجھدار تو اس دورے کو کامیاب قرار دیں مگر آپ اسے بری طرح ناکام دورہ ثابت کرنے پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں۔ حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں کا حال بھی سرکاری جلسوں جیسا ہے۔ ان جلسوں کے شرکاء کی تعداد کا پتہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی ذرائع نے شرکاء کی تعداد دو لاکھ بتائی ہے۔ ایجنسیوں کے مطابق شرکاء کی تعداد پچاس سے ساٹھ ہزار کے درمیان تھی اور غیر جانبدار حلقوں کے مطابق شرکاء کی تعداد پچیس سے تیس ہزار کے درمیان تھی۔ اخبار میں یہ سب کچھ پڑھ کر جلسے کے شرکاء کی تعداد کا تو صحیح اندازہ نہیں ہوتا مگر اس بات سے ضرور آگاہی ہو جاتی ہے کہ قوم کی گنتی کافی خراب ہے۔ شوکت گجر نے مجھ سے پوچھا کہ میاں نوازشریف کے حالیہ دورہ امریکہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مجھے اس سوال پر پھر شفیق الرحمن یاد آ گئے۔ مضمون کا نام تو یاد نہیں اور پوری رقم بھی درست یاد نہیں مگر مفہوم یاد ہے۔ استاد نے شاگرد سے پوچھا کہ اگر ایک اُلو اٹھارہ روپے چار آنے کا خریدا جائے اور پندرہ روپے چودہ آنے میں فروخت کیا جائے تو کتنا نفع یا نقصان ہوگا۔ شاگرد نے ایک دو لمحے سوچنے کے بعد کہا کہ سر اس فروخت میں روپوں میں نقصان ہوا ہے تاہم آنوں میں فائدہ ہوا ہے۔ میاں نوازشریف کے حالیہ دورۂ امریکہ کا بھی یہی حال ہے کہ اس میں روپوں میں نقصان ہوا ہے اور آنوں میں نفع ہوا ہے۔ تمام بھونپو دورے کی کامیابی کا نعرہ مارتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امریکہ نے 2011ء سے پاکستان کے روکے ہوئے ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کردیا ہے۔ اس واحد نکتے کے علاوہ ان کے پاس بتانے کے لیے اور کچھ نہیں ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو امریکہ نے پاکستان کو Coalition Support Fund کے تحت ادا کرنا تھی مگر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی شہادت کے لیے کیے جانے والے آپریشن اور سہالہ چیک پوسٹ پر امریکی طیاروں کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی تلخی اور افغانستان میں امریکی فوج کی سپلائی روک دینے پر امریکہ نے منجمد کردی تھی۔ اس کے علاوہ ایک اور فائدے کی بات یہ ہوئی ہے کہ مشعل اوباما نے بیگم کلثوم نوازشریف کو کھانے کی دعوت دی اور ان کے ساتھ تصویر کھینچوائی۔ امریکہ سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا حصول‘ کشمیر پر ثالثی‘ افغانستان سے کی جانے والی مداخلت‘ عافیہ صدیقی کی رہائی‘ پاکستانی سرحدوں پر مسلسل ہندوستانی سرحدی خلاف ورزیاں‘ پاکستان دشمن عناصر کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے اور سب سے بڑھ کر ڈرون حملے۔ کسی بات پر نہ تو امریکہ نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کیا ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس وعدہ کیا ہے۔ نوازشریف کی جانب سے ایسے مطالبات کے جواب میں اوباما نے کہا: چھڈو جی! کوئی ہور گل کرو۔ مثلاً یہ کہ مجھے پاکستان کے کھانے‘ خصوصاً دال قیمہ ابھی تک یاد ہے۔ راوی خاموش ہے کہ دلچسپی کے اس مشترکہ موضوع پر میاں نوازشریف اور اوباما کی کیا گفتگو ہوئی مگر اس عاجز کو یقین ہے کہ اس موضوع پر میاں صاحب نے اوباما کو بری طرح ناک آئوٹ کردیا ہوگا۔ صرف اوباما ہی کیا۔ میاں صاحب اس موضوع پر کسی کو بھی ناک آئوٹ کر سکتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں