نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 81 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 327 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 46 ہزار 231 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1897 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.10 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

ابونواس‘ ملّا ریڈیو اور امریکہ

پرویز رشید نے ٹھیک کہا تھا کہ امریکہ نے ڈرون حملہ حکیم اللہ محسود پر نہیں بلکہ امن مذاکرات پر کیا ہے۔ اب اس حملے کا منفی نتیجہ نکل آیا ہے اور تحریک طالبان پاکستان نے ملّا فضل اللہ کو اپنا نیا امیر منتخب کر لیا ہے۔ لیکن پہلے میں آپ کو ابو نواس کا واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ ابو نواس عربی زبان کا بے مثل شاعر تھا۔ عرب باپ اور ایرانی ماں کے بطن سے پیدا ہونے والے اس شاعر کا پورا نام ابو نواس الحسن ابن ہانی الحکمی تھا۔ اس کی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کی جائے پیدائش بصرہ (عراق) کچھ دمشق (شام) کچھ بوسرا قرار دیتے ہیں؛ تاہم زیادہ محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ابو نواس کی جائے پیدائش اہواز (ایران) میں ہوئی۔ یہی حال اس کی تاریخ پیدائش کا ہے جو 747ء سے 762ء تک کے درمیان خیال کی جاتی ہے۔ ابو نواس عربی زبان کا ایسا شاعر تھا جس نے ایسے مضامین پر شعر کہے جن پر اس سے پہلے کسی نے طبع آزمائی نہیںکی تھی۔ ابو نواس نئے مضامین کے حوالے سے معتوب و مطعون بھی ہوا اور اس کی ستائش بھی کی گئی۔ اسمٰعیل بن نوبخت کہتا ہے کہ اس نے ابو نواس سے زیادہ صاحبِ مطالعہ شخص نہیں دیکھا اور اس سے بہتر یادداشت والا شخص اس کی نظر سے نہیں گزرا۔ اسی طرح اس کا ہم عصر ابو حاتم المکی اکثر یہ کہتا تھا کہ سوچ کے عمیق معانی ابھی دھرتی کی گہرائیوں میں پوشیدہ تھیِِ، حتیٰ کہ ابو نواس نے انہیں دریافت کیا۔ اپنی منفرد اور متنازعہ شاعری کے سبب ابو نواس کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور وہ بغداد سے فرار ہو کر مصر چلا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابو نواس نے بغداد میں رہتے ہوئے عباسی خلفاء کے منہ چڑھے لیکن بعد میں معتوب ہونے والے آل برامکہ کا قصیدہ لکھا تھا۔ تب ایرانی النسل برمکی خاندان خلیفہ ہارون الرشید کے عتاب کا شکار ہو چکا تھا۔ برمکیوں کا آغاز تب ہوا جب برامک کا بیٹا خالد برمکی پہلے عباسی خلیفہ السفاح کا وزیر اعظم بنا۔ اس کا بیٹا یحییٰ ہارون الرشید کا وزیر بنا اور اس کی سلطنت میں اس کے اپنے بعد طاقتور ترین شخص تھا۔ برمکیوں کا تذکرہ ’’الف لیلیٰ‘‘ کی بعض کہانیوں میں ملتا ہے۔ روایت ہے کہ ہارون الرشید اپنی بہن عباسہ اور جعفر بن یحییٰ برمکی کی صحبت میں بہت خوش رہتا تھا۔ انہیں ایک محفل میں یکجا کرنے کی صورت نکالنے کے لیے ہارون الرشید نے اپنی بہن عباسہ کا نکاح اس شرط پر جعفر برمکی سے کر دیا کہ وہ ہارون کی موجودگی کے سوا کبھی تنہائی میں نہیں ملیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ عباسہ جعفر کے بیٹے کی ماں بن گئی۔ ہارون الرشید نے حکم عدولی پر طیش میں آ کر جعفر کا سر قلم کروا دیا۔ یحییٰ کے بھائی محمد کے سوا باقی پورے خاندان کو قیدکر دیا، ان کی ساری جائیداد ضبط کر لی گئی؛ تاہم طبری اور الخلدون نے دیگر وجوہ لکھی ہیں۔ برمکیوں کا زوال 803ء میں ہوا۔ ابو نواس نے برمکیوں کی شان میں زبردست نظم لکھی تو ہارون الرشید ناراض ہوا۔ ابو نواس بغداد سے فرار ہو گیا اور 809ء میں ہارون الرشید کی موت کے بعد بغداد آیا۔ تب ہارون کا بیٹا امین تخت خلافت پر براجمان تھا۔ محمد الامین ابو نواس کا شاگرد تھا اور اس کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتا تھا۔ امین کا دورِ حکومت 809ء تا 819ء، ابو نواس کی شاعری کا سنہری دور تھا۔ مامون اپنے بھائی امین کا تختہ الٹ کر برسر اقتدار آیا۔ شراب پلا کر مدہوش کیے گئے ابو نواس سے گستاخانہ جملے منسوب کیے گئے جو جزوی طور پر ثابت بھی ہو گئے۔ ابو نواس قید ہوا، دوران قید اس نے اسلامی شاعری شروع کر دی اور اس میں بھی کمال کے درجے پر پہنچا۔ قید میں اسے زہر دیا گیا جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ لیکن معاف کیجیے گا اس تفصیل میں اصل قصہ رہ گیا ہے۔ عرب میں شاعری باعزت فن سمجھا جاتا تھا اور ابو نواس کی شاعری کا چرچا تھا، اس کی شاعری پر سر دھننے والوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ ابو نواس کا شہرہ دنیائے عرب کے کونے کونے میں تھا۔ کئی لوگ اسے پہچانتے نہ تھے مگر اس کے نام کا ڈنکا ہر طرف بجتا تھا۔ وہ ایک خوش حال اور خوش شکل آدمی تھا۔ تب امارت اور خوش حالی کی نشانیاں پجیرو یا لینڈ کروزر نہیں اونٹ ہوتا تھا۔۔۔ سرخ اونٹ‘ مہنگا اور اعلیٰ نسل کا۔ اسی طرح ریشمی لباس‘ قیمتی پوستین‘ سمرقند کی نفیس ٹوپی‘ اصفہان کی جوتی اور کشمیری پشمینے کی چادر۔۔۔ یہ امارت کی نشانیاں تھیں اور ابو نواس کے پاس ایسی ہر چیز تھی جو اس کی مالی آسودگی اور خوشحالی پر دلالت کرتی تھی۔ ابو نواس ایک قصبے سے گزر رہا تھا کہ اسے ایک نہایت حسین و جمیل خاتون نظر آئی۔ شاعر پیشہ‘حسن کا دلدادہ ابو نواس کا دل اس خاتون پر آ گیا اور اس نے آگے بڑھ کر خاتون سے اظہارِ محبت کر ڈالا۔ خاتون نے کہا: وہ شادی شدہ ہے۔ ابو نواس کہنے لگا: وہ کون سا اس سے شادی کا طلب گار ہے، وہ تو صرف اس کا بوسہ لینا چاہتا ہے۔ خاتون یہ سن کر ناراض ہوئی لیکن باتونی ابو نواس نے اسے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ٹھنڈا کیا اور اس سے کہا کہ وہ صرف ایک بوسے کے عوض اپنی ہزاروں درہم کی قیمتی کشمیری پشمینے کی شال اس کی نذر کر دے گا۔ یہ آفر سن کر خاتون کی رال ٹپک پڑی اور اس نے سوچا کہ اس قیمتی اور نایاب شال کے عوض ایک بوسہ دینے سے اس کا کیا بگڑ جائے گا۔ خاتون نے اس کی آرزو پوری کی‘ شال لی اور گھر چلی گئی۔ خاتون کے پیچھے پیچھے ابو نواس بھی اس کے گھر پہنچ گیا۔ خاتون اندر چلی گئی، ابو نواس باہر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، ملازم نے دروازہ کھولا، ابو نواس نے اپنا تعارف کرایا اور پانی مانگا۔ ابو نواس کا نام سن کر ملازم نے اسے قیمتی بلوریں گلاس میں پانی دیا۔ ابو نواس نے پانی پیتے ہوئے گلاس گرا کر توڑ دیا، اپنی لاپروائی پر معذرت کی اور بات ختم ہو گئی۔ ملازم اندر چلا گیا، ابو نواس گھر کے سامنے والے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ چند گھنٹوں کے بعد ایک شخص جو گھر کا مالک معلوم ہوتا تھا گھر میں داخل ہونے لگا۔ ابو نواس نے آواز دے کر اسے روکا اور اپنا تعارف کرایا۔ اس شخص نے ابو نواس کا نام سن کر اس سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا اور پھر اس سے وہاں بیٹھنے کی وجہ دریافت کی۔ ابو نواس نے اسے بتایا کہ اسے پیاس لگی تھی، اس نے اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر پانی مانگا، پانی پینے کے دوران اس سے قیمتی گلاس ٹوٹ گیا۔ گھر کی مالکہ نے اس کی قیمتی کشمیری چادر تاوان میں رکھ لی ہے۔ گھر کا مالک اندر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ وہ ابو نواس کی قیمتی چادر واپس کرے۔ یہ عرب مہمان نوازی اور اس کے گھر کی روایات کے منافی ہے کہ مہمان سے ہونے والے اتفاقیہ نقصان پر تاوان کے طور پر اس کی چادر اتروا لی جائے۔ خاتون کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ شال کی اپنے پاس موجودگی کی وجہ بیان کرتی۔ خاتون نے چادر اپنے شوہر کو دی، اس نے چادر ابو نواس کو واپس کی، بیوی کی زیادتی اور مہمان نوازی کے منافی رویے پر معافی مانگی، شرمندگی کا اظہار کیا اور ابو نواس کو چادر سمیت عزت و احترام سے رخصت کیا۔ امریکہ نے ہمارے ساتھ بالکل یہی کچھ کیا ہے۔ ہمارا بوسہ بھی لیا‘ ہمارا قیمتی گلاس بھی توڑا ہے اور اپنی چادر بھی واپس وصول کر لی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں بربادکیا، ہمیں معاشی اور عسکری طور پر کمزورکیا، ہم پر بداعتمادی کی، ہم پر الزامات لگائے، ہمارے دشمنوں کو مضبوط کیا، ہم سے اپنی جنگ لڑوائی اور ہم سے جنگ کرنے والوں کو وسائل بھی فراہم کیے۔ اپنے دشمنوں کو ہم سے مروایا اور ہمارے دشمنوں کو پناہ دی۔ ہم سے صلح صفائی پر آمادہ لوگوں کو ڈرون حملوں میں مارا اور پھر ہم سے برسرپیکار لوگوں کو ہماری گردن پر بٹھا دیا ہے۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے ملّا فضل اللہ عرف ملّا ریڈیو کی امارت تک کا سارا سفر امریکی منصوبہ سازوں کی طے شدہ چالیں ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اس عرب خاتون کی طرح سراسر نقصان میں ہیں جس نے بوسہ دیا، اپنا قیمتی گلاس تڑوایا اور چادر بھی واپس کی۔ اب مذاکرات کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے ہمارے ذمے ملّا ریڈیو ڈال دیا ہے، خود طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے اور اگلے سال واپس بھی جا رہا ہے۔ ساری مصیبتیں‘ مسائل‘ تباہی‘ بربادی اور جنگ، لامتناہی اور کبھی ختم نہ ہونے والی جنگ ہمارا مقدر ہے جو ہمیں اب ہر صورت لڑنی ہو گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں