نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 81 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 327 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 46 ہزار 231 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1897 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.10 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

کتاب کی اہمیت سے عاری معاشرہ

اولڈھم میں ہونے والا مشاعرہ بظاہر عام مشاعروں جیسا تھا۔ سامعین‘ شاعر‘ شعر اور داد۔ زوردار‘ درمیانہ یا ٹھنڈا ٹھار۔ باذوق اور سخن شناس سامع یا ذوق سے عاری اور حسِ شاعری سے محروم لوگوں کا مجمع۔ مشاعرہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ یہ ہماری ادبی اور ثقافتی تاریخ کا وہ پہلو ہے جس نے اردو زبان کو اور دنیا بھر میں اردو بولنے والوں کو اس کی وساطت سے ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ اولڈھم کا مشاعرہ اسی روایت کا تسلسل تھا اور عام مشاعروں جیسا ایک اور مشاعرہ تھا‘ لیکن میرے لیے اس مشاعرے میں ایک خاص اور علیحدہ کشش تھی۔ 
اولڈھم گریٹر مانچسٹر کا حصہ ہے۔ مانچسٹر سے دس بارہ میل کے فاصلے پر واقع ایک قصبہ جو کئی عشروں سے آباد پاکستانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کبھی یہاں کپڑے اور ٹیکسٹائل کی صنعت کا راج تھا۔ ملیں تیز آواز کے ساتھ چلتی تھیں اور اونچی چمنیوں سے دھواں نکلتا تھا۔ اب بھی درجنوں چمنیاں ایستادہ ہیں لیکن دھواں ندارد۔ کئی کئی منزلہ بلند ٹیکسٹائل ملوں کے پرانے ڈھانچے موجود ہیں مگر مشینوں کے شور سے محروم‘ خاموش۔ پرانے رہائشی اور بزرگ گئے وقتوں کی خوشحالی اور کئی پاکستانیوں کے عروج و زوال کی باتیں سناتے ہیں۔ پرانا حال سناتے ہیں جب گھروں میں باتھ روم نہیں ہوتے تھے۔ ٹوائلٹ نہیں تھے۔ لوگ صبح سویرے پبلک حمام اور پبلک ٹوائلٹس کے باہر قطاریں بنا کر کھڑے ہوتے تھے۔ سردیوں کا حال بہت بُرا ہوتا تھا۔ نہا کر نکلے ہیں۔ بال گیلے ہیں۔ برف پڑ رہی ہے اور تیز برفیلی ہوا تمام گرم کپڑوں کو چیرتی ہوئی بدن کو لرزا رہی ہے۔ بقول چودھری بشیر کے‘ ہم ہفتے ہفتے بعد نہاتے تھے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں سارا اولڈھم‘ آشٹن انڈر لائن‘ راچڈہل اور دیگر قصبے و شہر بھی ایسے ہی تھے۔ آشٹن انڈر لائن میں دو سڑکوں کے درمیان سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی ایک بڑی سی عمارت ویران کھڑی ہے۔ یہ یہاں کا پبلک حمام تھا۔ ابھی اس عمارت کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوا مگر سنتے ہیں کہ ٹائون کونسل اسے اپنا لوک ورثہ قرار دے کر محفوظ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پرانے بابے بتاتے ہیں کہ تب یہاں بلا کی سردی پڑتی تھی۔ اب تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں پڑتی۔ 
میرے لیے اب مشاعرے میں کوئی نیا پن نہیں رہا۔ لگی بندھی روٹین والی روٹین بن چکی۔ لیکن اولڈھم والے مشاعرے میں میرے لیے‘ صرف میرے لیے ایک علیحدہ کشش تھی۔ یہ مشاعرہ لائبریری میں ہو رہا تھا۔ اولڈھم لائبریری میں۔ خوبصورت‘ صاف و شفاف اور وسیع۔ جدید نمونے پر بنی ہوئی شیشے‘ کنکریٹ اور سٹیل سے تعمیر کردہ شاندار عمارت۔ اس لائبریری کے شو کیسوں میں کتابیں تو تھیں ہی لیکن درجنوں شو کیسوں میں آرائش‘ بنائو سنگھار اور گھریلو استعمال کی چیزوں کے علاوہ قدیم و جدید زیورات تھے۔ بچوں کی دلچسپی کے لیے بے شمار کھیل تھے۔ حنوط شدہ جانور تھے۔ درجنوں کمپیوٹر تھے۔ سمعی و بصری (Audio Visual) سیکشن تھا اور کمیونٹی ہال تھا۔ یہ مشاعرہ اسی کمیونٹی ہال میں تھا۔ میرے لیے اس لائبریری میں ہونے والے مشاعرے میں خاص بات یہی تھی کہ یہ مشاعرہ لائبریری میں ہو رہا تھا۔ جب میں ملتان جا کر والد صاحب کو یہ 
بتائوں گا کہ مشاعرہ لائبریری میں تھا تو ایمرسن کالج میں چوالیس سال کے لگ بھگ لائبریرین کے فرائض سرانجام دینے والے میرے ابا جان بہت ہی خوش ہوں گے۔ 
میرے اٹھاسی سالہ والد بزرگوار کو کالج سے ریٹائر ہوئے بھی اب چوبیس سال ہو گئے ہیں مگر وہ اس عمر میں بھی میرے گھر میں بنی ہوئی چھوٹی سی لائبریری کی ترتیب کے سلسلے میں مجھے ہدایات دیتے رہتے ہیں۔ کالجوں کے لائبریرینز کے مسائل کے حل کیلئے اب بھی نہ صرف یہ کہ انہیں مشورے دیتے رہتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ دو سال پہلے تک لاہور جا کر سول سیکرٹریٹ میں ان کے سروس سٹرکچر میں بہتری کیلئے بیوروکریسی سے لاحاصل ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں۔ کئی سال تک پنجاب کالج لائبریرین ایسوسی ایشن کے صدر رہنے والے جواں ہمت ضعیف والد صاحب کا اوڑھنا بچھونا اب بھی کتاب ہے۔ میں نے کتاب سے محبت انہی سے سیکھی۔ ملتان کے سارے لائبریرین انہیں اپنا پیرومرشد سمجھتے ہیں۔ کالجوں میں پڑھائے جانے والے لائبریری سائنس کے مضمون میں پوزیشن ہولڈرز کو ملتان لائبریری ایسوسی ایشن والد صاحب کے نام سے منسوب عبدالمجید خان ساجد گولڈ میڈل دیتی ہے۔ وہ لائبریرینز کے مسائل کے حل کیلئے اس عمر میں بھی کہیں جانے کیلئے تیار ہیں۔ ان کا پیشہ ان کا شوق تھا اور اب بھی یہ شوق جو شوق کی آخری حد جنون تک ہے قائم و دائم ہے۔
پاکستان میں ہم جب کبھی کتاب کی ناقدری، کم فروخت اور برباد ہوتی ہوئی لائبریریوں کی بات کرتے ہیں تو بعض نہایت عقلمند لوگ ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دراصل کتاب کی قدروقیمت کو کمپیوٹر نے متاثر کیا ہے۔ ان سمجھداروں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر نے کتاب کی اہمیت کم کر دی ہے۔ ان عقلمندوں کو معلوم ہی نہیںکہ یورپ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کمپیوٹر ہماری نسبت بہت زیادہ عام ہیں اور کمپیوٹر تک رسائی رکھنے والے افراد کی تعداد اور شرح فیصد ہماری نسبت کہیں زیادہ ہے لیکن مغرب میں آج بھی اچھی کتاب لاکھوں کی تعداد میں چھپتی اور فروخت ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ہزار کا ایڈیشن شائع ہو جائے تو مصنف خوشی سے چھلانگیں لگاتا ہے۔ میںجب ایسے لوگوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ جب ہمارے ہاں کمپیوٹر نہیں آیا تھا تب کتابوں کی فروخت کا کیا حال تھا تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔
بارہ تیرہ سال قبل میں برطانیہ کے قصبے ریڈنگ میں اپنے برادر نسبتی کو ملنے گیا جو وہاں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ دوپہر کو چلتے پھرتے میں تھوڑی دور گیا تو میری ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ یہ لائبریری تھی۔ کتابوں کا ''ٹھرک‘‘ مجھے اندر لے گیا۔ دنیا بھر کی کتابیں اس چھوٹے سے قصبے کی لائبریری میں تھیں۔ میں دو تین گھنٹے یہاں بیٹھ کر کتابیں پڑھتا رہا۔ کتاب بڑی دلچسپ تھی اور چھوڑنے کو دل نہیںچاہ رہا تھا۔ میں کتاب اٹھا کر کائونٹر پر گیا وہاں ایک گوری بیٹھی تھی۔ میں نے کہا کہ میں یہ کتاب ساتھ لے جانا چاہتا ہوں اور کل واپس کر دوں گا۔ اس نے مجھ سے میرا ممبر کارڈ مانگا۔ میں نے بتایا کہ میں ممبر نہیں ہوں۔ اس نے مجھ سے میری کوئی شناخت مانگی۔ میری جیب میں پاسپورٹ تھا۔ اس نے اس کے پہلے صفحے کی فوٹوکاپی کروائی۔ رجسٹر پر کتاب کا نام لکھا۔ تاریخ ڈالی میرے دستخط لئے اور کتاب مجھے پکڑا دی۔ پھر کہنے لگی اس ٹائون میں چار لائبریریاں ہیں۔ میں یہ کتاب اپنی آسانی کے مطابق کسی لائبریری میں بھی واپس کر دوں۔ میں نے پوچھا یہاں کتابوں کے گم ہونے کی شرح فیصد کیا ہے؟ وہ کہنے لگی دو فیصد سالانہ سے بھی کم ہے۔ مجھے اپنے شہر کی دو برباد اور خستہ حال لائبریریاں یاد آ گئیں۔ ان میں سے ایک سرکاری لائبریری ہے۔ یہاں آخری کتاب کئی سال پہلے خریدی گئی تھی۔ تمام اچھی اور مشہور مصنفوں کی کتابیں غائب ہیں۔ ان غائب شدہ کتابوں کی غالب تعداد ان اعلیٰ سرکاری افسروں کی نذر ہوئی ہے جو اس شہر سے ٹرانسفر ہو کر جاتے وقت یہ ساری کتابیں لائبریری میں واپس کرنے کے بجائے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لائبریری میں نہ کتابیں ہیں اور نہ قاری۔ چوری ہونے والی یا واپس نہ کی جانے والی کتابوں کی تعداد سالانہ خرید کی گئی کتابوں سے کہیں زیادہ ہے۔ نتیجتاً لائبریری ترقی معکوس پر گامزن ہے...کتاب کی اہمیت سے لاعلم معاشرہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا ہم دیکھ رہے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں